محمد اسامہ سَرسَری کی ڈیجیٹل کتاب
ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔
ایک دن اس نے سوچا کہ مرغے کو ذبح کیا جائے, لیکن تھا کم بخت بامروت، سوچا کوئی بہانہ بنا کر ذبح کروں گا، سو اس نے مرغے سے کہا:
’’کل سے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
مرغے نے کہا: ’’ٹھیک ہے آقا! جو آپ کی مرضی۔‘‘
صبح اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پر زور زور سے پھڑپھڑا دیے۔
مالک نے اگلا فرمان جاری کیا:
’’کل سے پر بھی نہیں مارنے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
اگلی صبح مرغے نے حکم کی تعمیل کی۔ پر نہیں ہلائے، مگر عادت سے مجبور ہو کر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔
مالک نے اگلا حکم دیا: ’’کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے۔‘‘
اگلے دن اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش، مرغا بنا بیٹھا رہا۔
مالک نے سوچا، یہ تو بات نہیں بنی۔ اب اس نے ایک ایسی بات سوچی جو واقعی بے چارے مرغے کے بس کی نہ تھی۔
سو بولا: ’’کل صبح سے انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
اب مرغے کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی۔
وہ زار و قطار رونے لگا۔
مالک نے پوچھا: ’’کیا بات ہے؟ موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟‘‘
مرغے کا جواب بڑا کمال کا تھا:
’’نہیں… اس بات پر رو رہا ہوں کہ انڈے سے بہتر تھا اذان پر مرتا۔‘‘
سو جب مرنا ہی مقدر ہے تو مالک دو جہاں سے جنگ کرکے کیوں مرا جاوے،
سود اللہ رب العزت سے کھلی جنگ ہے۔
مولانا محمد علی جوہر کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لیے ہے
ہیں یوں تو فدا ابرِ سیہ پر سبھی مے کش
پر آج کی گھنگھور گھٹا میرے لیے ہے
کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
ایک دن اس نے سوچا کہ مرغے کو ذبح کیا جائے, لیکن تھا کم بخت بامروت، سوچا کوئی بہانہ بنا کر ذبح کروں گا، سو اس نے مرغے سے کہا:
’’کل سے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
مرغے نے کہا: ’’ٹھیک ہے آقا! جو آپ کی مرضی۔‘‘
صبح اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پر زور زور سے پھڑپھڑا دیے۔
مالک نے اگلا فرمان جاری کیا:
’’کل سے پر بھی نہیں مارنے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
اگلی صبح مرغے نے حکم کی تعمیل کی۔ پر نہیں ہلائے، مگر عادت سے مجبور ہو کر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔
مالک نے اگلا حکم دیا: ’’کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے۔‘‘
اگلے دن اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش، مرغا بنا بیٹھا رہا۔
مالک نے سوچا، یہ تو بات نہیں بنی۔ اب اس نے ایک ایسی بات سوچی جو واقعی بے چارے مرغے کے بس کی نہ تھی۔
سو بولا: ’’کل صبح سے انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
اب مرغے کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی۔
وہ زار و قطار رونے لگا۔
مالک نے پوچھا: ’’کیا بات ہے؟ موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟‘‘
مرغے کا جواب بڑا کمال کا تھا:
’’نہیں… اس بات پر رو رہا ہوں کہ انڈے سے بہتر تھا اذان پر مرتا۔‘‘
سو جب مرنا ہی مقدر ہے تو مالک دو جہاں سے جنگ کرکے کیوں مرا جاوے،
سود اللہ رب العزت سے کھلی جنگ ہے۔
مولانا محمد علی جوہر کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لیے ہے
ہیں یوں تو فدا ابرِ سیہ پر سبھی مے کش
پر آج کی گھنگھور گھٹا میرے لیے ہے
کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
اے آئی مواد کا چغل خور سسٹم:
یہ گوگل کی تیار کردہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعلی مواد کی پہچان کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس سسٹم کا نام "سنتھ آئی ڈی (SynthID)" ہے۔
یہ سسٹم تصاویر اور ویڈیوز کے بیک گراؤنڈ میں ایک ایسا پوشیدہ یا غیر مرئی واٹر مارک لگا دیتا ہے جسے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، جبکہ مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے اس کی موجودگی کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
گوگل اب تک 100 ارب سے زائد ڈیجیٹل مواد پر یہ واٹر مارک لگا چکا ہے، جبکہ اب اوپن اے آئی، مائیکروسافٹ اور این ویڈیا جیسے بڑے عالمی ادارے بھی اس نظام کو اپنا رہے ہیں تاکہ اسے انٹرنیٹ پر تصاویر اور ویڈیوز کی اصل پہچان کا ایک متفقہ عالمی معیار بنایا جا سکے۔
تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ ساتھ سنتھ آئی ڈی میں تحریر (ٹیکسٹ) کی شناخت کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب کوئی اے آئی ماڈل تحریر بناتا ہے تو وہ ہر اگلے لفظ کے انتخاب کے لیے کئی متبادل الفاظ کا ایک خاص حسابی اسکور نکالتا ہے۔ سنتھ آئی ڈی ایک خفیہ کلید کا استعمال کرتے ہوئے حتمی انتخاب سے ذرا پہلے ان اسکورز میں نہایت باریک تبدیلی کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے الفاظ کی ترتیب میں ایک خاص ریاضیاتی رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ حسابی تبدیلی اتنی خوبی سے ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کے لیے اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہوتا ہے اور جملوں کی روانی بالکل عام تحریر جیسی رہتی ہے، لیکن جب اس تحریر کو مخصوص اسکینر میں ڈالا جاتا ہے تو وہ اسکورز کا الٹا حساب لگا کر اس پوشیدہ ریاضیاتی پیٹرن کو اسکین کر لیتا ہے اور حتمی تصدیق کر دیتا ہے کہ یہ متن اے آئی نے ہی تیار کیا ہے۔
مارکیٹ میں موجود عام اے آئی ڈیٹیکٹرز اکثر انسانی تحریر کو بھی غلطی سے اے آئی قرار دے دیتے ہیں، لیکن سنتھ آئی ڈی کا یہ واٹر مارکنگ نظام محض اندازوں پر نہیں، بلکہ تحریر میں موجود ٹھوس حسابی ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے، چنانچہ اب اسی کو انڈسٹری کا سب سے مستند اور پروفیشنل حل مانا جا رہا ہے۔
یہ گوگل کی تیار کردہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعلی مواد کی پہچان کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس سسٹم کا نام "سنتھ آئی ڈی (SynthID)" ہے۔
یہ سسٹم تصاویر اور ویڈیوز کے بیک گراؤنڈ میں ایک ایسا پوشیدہ یا غیر مرئی واٹر مارک لگا دیتا ہے جسے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، جبکہ مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے اس کی موجودگی کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
گوگل اب تک 100 ارب سے زائد ڈیجیٹل مواد پر یہ واٹر مارک لگا چکا ہے، جبکہ اب اوپن اے آئی، مائیکروسافٹ اور این ویڈیا جیسے بڑے عالمی ادارے بھی اس نظام کو اپنا رہے ہیں تاکہ اسے انٹرنیٹ پر تصاویر اور ویڈیوز کی اصل پہچان کا ایک متفقہ عالمی معیار بنایا جا سکے۔
تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ ساتھ سنتھ آئی ڈی میں تحریر (ٹیکسٹ) کی شناخت کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب کوئی اے آئی ماڈل تحریر بناتا ہے تو وہ ہر اگلے لفظ کے انتخاب کے لیے کئی متبادل الفاظ کا ایک خاص حسابی اسکور نکالتا ہے۔ سنتھ آئی ڈی ایک خفیہ کلید کا استعمال کرتے ہوئے حتمی انتخاب سے ذرا پہلے ان اسکورز میں نہایت باریک تبدیلی کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے الفاظ کی ترتیب میں ایک خاص ریاضیاتی رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ حسابی تبدیلی اتنی خوبی سے ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کے لیے اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہوتا ہے اور جملوں کی روانی بالکل عام تحریر جیسی رہتی ہے، لیکن جب اس تحریر کو مخصوص اسکینر میں ڈالا جاتا ہے تو وہ اسکورز کا الٹا حساب لگا کر اس پوشیدہ ریاضیاتی پیٹرن کو اسکین کر لیتا ہے اور حتمی تصدیق کر دیتا ہے کہ یہ متن اے آئی نے ہی تیار کیا ہے۔
مارکیٹ میں موجود عام اے آئی ڈیٹیکٹرز اکثر انسانی تحریر کو بھی غلطی سے اے آئی قرار دے دیتے ہیں، لیکن سنتھ آئی ڈی کا یہ واٹر مارکنگ نظام محض اندازوں پر نہیں، بلکہ تحریر میں موجود ٹھوس حسابی ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے، چنانچہ اب اسی کو انڈسٹری کا سب سے مستند اور پروفیشنل حل مانا جا رہا ہے۔
طویل ترین تحریر اگر ادبی چاشنی اور علمی حوالہ جات سے خالی ہو تو کاپی کرکے اے آئی کو دیجیے اور کہیے کہ ٹو دی پوائنٹ خلاصہ کردیجیے۔ 🙂
میں صرف محبت کا طلب گار تھا لیکن
اس میں تو بہت کام اضافی نکل آئے
اس میں تو بہت کام اضافی نکل آئے
الحمدللہ ”اردوچہ“ کی برکت سے معیاری مطالعے کا بہترین سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اب میں مطالعے کے لیے سب سے پہلے اردوچہ کا رخ کرتا ہوں، احباب کو اللہ جزائے خیر عطا فرمائے کہ سینکڑوں تحریریں اب تک اپلوڈ ہوچکی ہیں، کام بھی آسان ہے کہ جب بھی اردوچہ کھولو تو وہی تحریریں سامنے آتی ہیں جن کا مطالعہ نہیں کیا۔
نوٹ: تحریر پر موجود ”مزید دیکھیں“ پر کلک کرنے یا ”مطالعہ کرلیا“ والے بٹن کو دبانے سے وہ تحریر مطالعہ کردہ کی فہرست میں شامل ہوجاتی ہے۔
نوٹ: تحریر پر موجود ”مزید دیکھیں“ پر کلک کرنے یا ”مطالعہ کرلیا“ والے بٹن کو دبانے سے وہ تحریر مطالعہ کردہ کی فہرست میں شامل ہوجاتی ہے۔
اے آئی ٹولز بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ہنر کی اصل ترقی کسی مخصوص ٹول کو سیکھنے میں نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ 🙂
کسی بھی ایک کہاوت کو استعمال کرتے ہوئے مزاحیہ سی مختصر تحریر لکھیں۔ 🙂
اپنا ایک نعتیہ شعر پیش کریں۔ دونوں مصرعے مقفی ہوں۔وزن کوئی بھی ہو۔نتائج کا اعلان ان شاء اللہ لائکس اور ادارے کی ٹیم کے غور و فکر کی روشنی میں کیا جائے گا۔
اگلا مشاعرہ ان شاء اللہ نعتیہ ہوگا۔احباب مشورہ دے دیں کہ کب رکھیں؟
مستفید: فائدہ اٹھانے والا
مستفیض: پھیلنے والی خبر
مستفیظ: موت کا متمنی
مستفیذ اور مستفیز مہمل ہیں۔ 🙂
مستفیض: پھیلنے والی خبر
مستفیظ: موت کا متمنی
مستفیذ اور مستفیز مہمل ہیں۔ 🙂
فلسفے کے طلبۂ کرام کے لیے پہلا سبق یہ ہے کہ چھ بنیادی ستون ہیں جن پر پورے فلسفے کی پوری عمارت کھڑی ہے:
(1) منطق (Logic):
یہ استدلال کا علم ہے۔ اس میں یہ بحث ہوتی ہے کہ صحیح اور غلط دلیل میں کیا فرق ہے اور درست نتیجہ کیسے نکالا جائے۔
(2) مابعد الطبیعیات (Metaphysics):
یہ کائنات، وجود، خدا، روح اور وقت جیسے موضوعات پر بحث کرتا ہے، یعنی وہ چیزیں جو ہمارے ظاہری حواس سے ماورا ہیں۔
(3) علمیات (Epistemology):
اس میں علم کی نوعیت پر بات ہوتی ہے کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ کیسے جانتے ہیں، علم حاصل کرنے کے ذرائع کیا ہیں اور انسانی علم کی حدود کیا ہیں۔
(4) اخلاقیات (Ethics):
یہ انسانی رویوں کا مطالعہ ہے کہ خیر اور شر کا معیار کیا ہے اور انسان کو کیسی زندگی گزارنی چاہیے۔
(5) جمالیات (Aesthetics):
یہ خوبصورتی، ذوق اور فنون لطیفہ (آرٹ) کی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ حسن کیا ہے اور اسے کیسے محسوس کیا جاتا ہے۔
(6) سیاسیات (Political Philosophy):
اس میں ریاست، قانون، انصاف اور حکومت کے ڈھانچے پر بحث ہوتی ہے کہ ایک مثالی معاشرہ کیسے قائم کیا جائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
(1) منطق (Logic):
یہ استدلال کا علم ہے۔ اس میں یہ بحث ہوتی ہے کہ صحیح اور غلط دلیل میں کیا فرق ہے اور درست نتیجہ کیسے نکالا جائے۔
(2) مابعد الطبیعیات (Metaphysics):
یہ کائنات، وجود، خدا، روح اور وقت جیسے موضوعات پر بحث کرتا ہے، یعنی وہ چیزیں جو ہمارے ظاہری حواس سے ماورا ہیں۔
(3) علمیات (Epistemology):
اس میں علم کی نوعیت پر بات ہوتی ہے کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ کیسے جانتے ہیں، علم حاصل کرنے کے ذرائع کیا ہیں اور انسانی علم کی حدود کیا ہیں۔
(4) اخلاقیات (Ethics):
یہ انسانی رویوں کا مطالعہ ہے کہ خیر اور شر کا معیار کیا ہے اور انسان کو کیسی زندگی گزارنی چاہیے۔
(5) جمالیات (Aesthetics):
یہ خوبصورتی، ذوق اور فنون لطیفہ (آرٹ) کی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ حسن کیا ہے اور اسے کیسے محسوس کیا جاتا ہے۔
(6) سیاسیات (Political Philosophy):
اس میں ریاست، قانون، انصاف اور حکومت کے ڈھانچے پر بحث ہوتی ہے کہ ایک مثالی معاشرہ کیسے قائم کیا جائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
سورۂ فجر کی ابتدائی چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کی چند اہم نشانیوں اور بابرکت اوقات کی قسم کھائی ہے۔
پہلی آیت "وَالْفَجْرِ" میں اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے۔ مفسرین کے اقوال کے مطابق اس سے مراد صبح صادق کی روشنی، فجر کی نماز یا مطلق دن کا وقت ہے۔
دوسری آیت "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ مفسرین کے ہاں اس حوالے سے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ بعض نے اسے محرم کا ابتدائی عشرہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مخصوص دس راتیں قرار دیا ہے جن سے ان کے چالیس دن مکمل ہوئے تھے، لیکن امام طبری اور جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد ذی الحج کی ابتدائی دس راتیں ہیں، کیونکہ احادیث کی رو سے یہ سال کے افضل ترین ایام ہیں۔
تیسری آیت "وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ" میں جفت اور طاق کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس کے متعدد مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔ ایک مشہور قول کے مطابق جفت سے مراد قربانی کا دن (دس ذج الحج) اور طاق سے مراد یومِ عرفہ (نو ذی الحج) ہے۔ ایک اور تفسیری رائے یہ ہے کہ جفت سے مراد کائنات کی تمام مخلوقات ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے جوڑوں میں پیدا کیا، جبکہ طاق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذاتِ وحدہٗ ہے۔ علاوہ ازیں اسے فرض نمازوں کی رکعات (یعنی فجر، ظہر، عصر و عشا جفت اور مغرب و وتر طاق) سے بھی تعبیر کیا گیا ہے، چنانچہ امام طبری کے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عموم کے ساتھ ہر طاق اور جفت چیز کی قسم کھائی ہے۔
چوتھی آیت "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" میں رات کے چلنے کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس سے مراد رات کا وہ وقت ہے جب وہ گزرنے اور رخصت ہونے لگے۔ بعض مفسرین نے اسے خصوصی طور پر حجاج کے لیے مزدلفہ کی رات سے بھی منسوب کیا ہے۔
اب غور کیجیے کہ ابھی جبکہ ذی الحج کا چاند ہوچکا ہے ہم ان چاروں آیات کے جزوی مصداق والے بابرکت لمحات میں یا ان کے آس پاس ہیں کہ اگلی نماز فجر ہے، آج ان دس میں سے پہلی رات ہے، یہ رات اکیلی دیکھیں تو بھی طاق ہے اور دس میں سے دیکھیں تو نمبر ایک بھی طاق عدد ہے، جبکہ دس کا عدد جفت ہے جوکہ ابھی شروع ہوچکا ہے اور چوتھی آیت میں قسم ہے اس رات کی جب وہ چل کھڑی ہو، یہ رات چل پڑی ہے، ہم میں سے کسی کی نیکیوں کے ساتھ اور کسی کی برائیوں کے ساتھ، مزید لطف کی بات یہ ہے کہ ان چار آیات میں ایک لوپ ہے کہ "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" کے بعد پھر سے "وَالْفَجْرِ" کا آغاز ہوجائے گا جو جفت اور طاق والی تمام چیزوں کے ساتھ "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں سے ایک پر ہمیں پھر پہنچا دے گی اور اس پر "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" پھر صادق آئے گا "وَالْفَجْرِ" تک۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
پہلی آیت "وَالْفَجْرِ" میں اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے۔ مفسرین کے اقوال کے مطابق اس سے مراد صبح صادق کی روشنی، فجر کی نماز یا مطلق دن کا وقت ہے۔
دوسری آیت "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ مفسرین کے ہاں اس حوالے سے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ بعض نے اسے محرم کا ابتدائی عشرہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مخصوص دس راتیں قرار دیا ہے جن سے ان کے چالیس دن مکمل ہوئے تھے، لیکن امام طبری اور جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد ذی الحج کی ابتدائی دس راتیں ہیں، کیونکہ احادیث کی رو سے یہ سال کے افضل ترین ایام ہیں۔
تیسری آیت "وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ" میں جفت اور طاق کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس کے متعدد مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔ ایک مشہور قول کے مطابق جفت سے مراد قربانی کا دن (دس ذج الحج) اور طاق سے مراد یومِ عرفہ (نو ذی الحج) ہے۔ ایک اور تفسیری رائے یہ ہے کہ جفت سے مراد کائنات کی تمام مخلوقات ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے جوڑوں میں پیدا کیا، جبکہ طاق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذاتِ وحدہٗ ہے۔ علاوہ ازیں اسے فرض نمازوں کی رکعات (یعنی فجر، ظہر، عصر و عشا جفت اور مغرب و وتر طاق) سے بھی تعبیر کیا گیا ہے، چنانچہ امام طبری کے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عموم کے ساتھ ہر طاق اور جفت چیز کی قسم کھائی ہے۔
چوتھی آیت "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" میں رات کے چلنے کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس سے مراد رات کا وہ وقت ہے جب وہ گزرنے اور رخصت ہونے لگے۔ بعض مفسرین نے اسے خصوصی طور پر حجاج کے لیے مزدلفہ کی رات سے بھی منسوب کیا ہے۔
اب غور کیجیے کہ ابھی جبکہ ذی الحج کا چاند ہوچکا ہے ہم ان چاروں آیات کے جزوی مصداق والے بابرکت لمحات میں یا ان کے آس پاس ہیں کہ اگلی نماز فجر ہے، آج ان دس میں سے پہلی رات ہے، یہ رات اکیلی دیکھیں تو بھی طاق ہے اور دس میں سے دیکھیں تو نمبر ایک بھی طاق عدد ہے، جبکہ دس کا عدد جفت ہے جوکہ ابھی شروع ہوچکا ہے اور چوتھی آیت میں قسم ہے اس رات کی جب وہ چل کھڑی ہو، یہ رات چل پڑی ہے، ہم میں سے کسی کی نیکیوں کے ساتھ اور کسی کی برائیوں کے ساتھ، مزید لطف کی بات یہ ہے کہ ان چار آیات میں ایک لوپ ہے کہ "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" کے بعد پھر سے "وَالْفَجْرِ" کا آغاز ہوجائے گا جو جفت اور طاق والی تمام چیزوں کے ساتھ "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں سے ایک پر ہمیں پھر پہنچا دے گی اور اس پر "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" پھر صادق آئے گا "وَالْفَجْرِ" تک۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اوپر سرچ خانے کے دائیں طرف شرکاء بٹن کلک کرنے پر جو اسکورنگ جدول ہے اس کے بارے میں رائے دیجیے کہ یہی صورت حال بہتر ہے یا پھر تحریر، عمدہ اور لائکس میں ہر شریک کی فقط وہ تحریرات شامل کریں جو اس کی اپنی تخلیق کردہ ہیں؟
میں راکھ تو ہوگیا تھا شاید
پھر بھی کہیں کچھ بچا پڑا تھا
اک شعلہء خوش بدن کا پرتَو
مجھ پر بھی ذرا ذرا پڑا تھا
جھونکا تھا بہار تھی کہ تم تھے
چھینٹا کسی لمس کا پڑا تھا
تکتا تھا میں اپنا عکس تم میں
اور سامنے آئنہ پڑا تھا
قربت بھی مٹا نہیں سکی تھی
جو بیچ میں فاصلہ پڑا تھا
رویا کئی بند توڑ کر میں
سیلاب کوئی رکا پڑا تھا
برکھا کی برستی برچھیوں میں
اس آگ کو بھیگنا پڑا تھا
وہ مینہ پڑا تھا پہلا پہلا
اور آخری مرتبہ پڑا تھا
پھر بھی کہیں کچھ بچا پڑا تھا
اک شعلہء خوش بدن کا پرتَو
مجھ پر بھی ذرا ذرا پڑا تھا
جھونکا تھا بہار تھی کہ تم تھے
چھینٹا کسی لمس کا پڑا تھا
تکتا تھا میں اپنا عکس تم میں
اور سامنے آئنہ پڑا تھا
قربت بھی مٹا نہیں سکی تھی
جو بیچ میں فاصلہ پڑا تھا
رویا کئی بند توڑ کر میں
سیلاب کوئی رکا پڑا تھا
برکھا کی برستی برچھیوں میں
اس آگ کو بھیگنا پڑا تھا
وہ مینہ پڑا تھا پہلا پہلا
اور آخری مرتبہ پڑا تھا
شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردہ میں بھی عریاں نکلا
یعنی مجنوں کی تصویر بھی کھنچتی ہے تو ننگی ہی کھنچتی ہے، اس حال میں بھی عشق دُشمن سر و سامان ہے، شوق سے مراد عشق ہے، ہر رنگ کے معنی ہر حال میں اور ہر طرح سے اگر یوں کہتے کہ شوق ہر طرح رقیب سر و ساماں نکلا جب بھی مصرع موزوں تھا، لیکن تصویر کے مناسبات میں سے رنگ کو سمجھ کر ہر رنگ کہا اور ہر طرح و بے طرح کو ترک کیا، مناسبات کے لئے محاورہ کا لفظ چھوڑ دینا اچھا نہیں اور رقیب کے معنی دُشمن کے لئے ہیں۔
زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا رب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
یعنی زخم دل نے بھی کچھ تنگی دل کی تدبیر نہ کی اور زخم سے بھی دلِ تنگی کی شکایت دفع نہ ہوئی کہ وہی تیر جس سے زخم لگا وہ میری تنگیِ دل سے ایسا سراسیمہ ہوا کہ پھڑکتا ہوا نکلا تیر کے پر ہوتے ہیں اور اُڑتا ہے، اس سبب سے پر افشانی جو کہ صفتِ مرغ ہے، تیر کے لئے بہت مناسب ہے، مصنف مرحوم لکھتے ہیں یہ ایک بات میں نے اپنی طبیعت سے نئی نکالی ہے، جیسا کہ اس شعر میں
نہیں ذریعۂ راحت جراحت پیکاں
وہ زخم تیغ ہے جس کو دل کشا کہئے
یعنی زخم تیر کی توہین بسبب ایک رخنہ ہونے کے اور تلوار کے زخم کی تحسین بسبب ایک طاق سا کھل جانے کے۔
بوئے گل نالۂ دل دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
یعنی تیری بزم سے نکلنا پریشانی کا باعث ہے، پہلے مصرع میں سے فعل اور حرفِ تردید محذوف ہے، یعنی پھولوں کی مہک ہو یا شمعوں کا دھُواں ہو یا عشاق کی فغاں ہو۔
دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بقدرِ لب و دنداں نکلا
یعنی جس میں جتنی قابلیت تھی اُس نے اُسی قدر مجھ سے لذتِ درد کو حاصل کیا، ورنہ یہاں کچھ کمی نہ تھی، کام کا لفظ لب و دنداں کے ضلع کا ہے۔
تھی نو آموز فنا ہمت دُشوار پسند
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
اے ہمت تو باوجود یہ کہ ابھی نو آموز فنا ہے، کس آسانی سے مرحلۂ فنا کو طے کر گئی، ہمت کو دُشوار پسند کہہ کر یہ مطلب ظاہر کرنا منظور ہے کہ میری ہمت خوف و خطر میں مبتلا ہونے کو لذت سمجھتی ہے۔ یہ کام اشارہ ہے فنا کی طرف یعنی ہم جانتے تھے کہ جان دینا بہت مشکل کام ہے مگر افسوس ہے کہ وہ بھی آساں نکلا۔
دل میں پھر گریہ نے اک شور اُٹھایا غالبؔ
آہ! جو قطرہ نہ نکلا، تھا سو طوفاں نکلا
یعنی جس گریہ پر میرا ضبط ایسا غالب تھا کہ میں اُسے قطرہ سے کم سمجھتا تھا، اب وہ طوفان بن کر مجھ پر غالب ہو گیا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ آنسو کا جو قطرہ کہ آنکھ سے نکلا نہ تھا وہ اب طوفان ہو گیا۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
قیس تصویر کے پردہ میں بھی عریاں نکلا
یعنی مجنوں کی تصویر بھی کھنچتی ہے تو ننگی ہی کھنچتی ہے، اس حال میں بھی عشق دُشمن سر و سامان ہے، شوق سے مراد عشق ہے، ہر رنگ کے معنی ہر حال میں اور ہر طرح سے اگر یوں کہتے کہ شوق ہر طرح رقیب سر و ساماں نکلا جب بھی مصرع موزوں تھا، لیکن تصویر کے مناسبات میں سے رنگ کو سمجھ کر ہر رنگ کہا اور ہر طرح و بے طرح کو ترک کیا، مناسبات کے لئے محاورہ کا لفظ چھوڑ دینا اچھا نہیں اور رقیب کے معنی دُشمن کے لئے ہیں۔
زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا رب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
یعنی زخم دل نے بھی کچھ تنگی دل کی تدبیر نہ کی اور زخم سے بھی دلِ تنگی کی شکایت دفع نہ ہوئی کہ وہی تیر جس سے زخم لگا وہ میری تنگیِ دل سے ایسا سراسیمہ ہوا کہ پھڑکتا ہوا نکلا تیر کے پر ہوتے ہیں اور اُڑتا ہے، اس سبب سے پر افشانی جو کہ صفتِ مرغ ہے، تیر کے لئے بہت مناسب ہے، مصنف مرحوم لکھتے ہیں یہ ایک بات میں نے اپنی طبیعت سے نئی نکالی ہے، جیسا کہ اس شعر میں
نہیں ذریعۂ راحت جراحت پیکاں
وہ زخم تیغ ہے جس کو دل کشا کہئے
یعنی زخم تیر کی توہین بسبب ایک رخنہ ہونے کے اور تلوار کے زخم کی تحسین بسبب ایک طاق سا کھل جانے کے۔
بوئے گل نالۂ دل دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
یعنی تیری بزم سے نکلنا پریشانی کا باعث ہے، پہلے مصرع میں سے فعل اور حرفِ تردید محذوف ہے، یعنی پھولوں کی مہک ہو یا شمعوں کا دھُواں ہو یا عشاق کی فغاں ہو۔
دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بقدرِ لب و دنداں نکلا
یعنی جس میں جتنی قابلیت تھی اُس نے اُسی قدر مجھ سے لذتِ درد کو حاصل کیا، ورنہ یہاں کچھ کمی نہ تھی، کام کا لفظ لب و دنداں کے ضلع کا ہے۔
تھی نو آموز فنا ہمت دُشوار پسند
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
اے ہمت تو باوجود یہ کہ ابھی نو آموز فنا ہے، کس آسانی سے مرحلۂ فنا کو طے کر گئی، ہمت کو دُشوار پسند کہہ کر یہ مطلب ظاہر کرنا منظور ہے کہ میری ہمت خوف و خطر میں مبتلا ہونے کو لذت سمجھتی ہے۔ یہ کام اشارہ ہے فنا کی طرف یعنی ہم جانتے تھے کہ جان دینا بہت مشکل کام ہے مگر افسوس ہے کہ وہ بھی آساں نکلا۔
دل میں پھر گریہ نے اک شور اُٹھایا غالبؔ
آہ! جو قطرہ نہ نکلا، تھا سو طوفاں نکلا
یعنی جس گریہ پر میرا ضبط ایسا غالب تھا کہ میں اُسے قطرہ سے کم سمجھتا تھا، اب وہ طوفان بن کر مجھ پر غالب ہو گیا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ آنسو کا جو قطرہ کہ آنکھ سے نکلا نہ تھا وہ اب طوفان ہو گیا۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
دل میں ذوقِ وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
یعنی رشک کی آگ ایسی تھی کہ معشوق کو دل سے بھلا دیا اور اس کا غیر سے ملنا دیکھ کر ذوقِ وصل جاتا رہا۔ گھر سے دل مراد ہے اور آگ سے رشکِ رقیب۔
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
مصنف کی غرض یہ ہے کہ میری نیستی و فنا یہاں تک پہنچی کہ اب میں عدم میں بھی نہیں ہوں اور اس سے آگے نکل گیا ہوں، ورنہ جب تک میں عدم میں تھا، جب تک میری آہ سے عنقا کا شہپر اکثر جل گیا ہے، عنقا ایک طائر معدوم کو کہتے ہیں اور جب وہ معدوم ہوا تو وہ بھی عدم میں ہوا اور ایک ہی میدان میں آہِ آتشیں و بالِ عنقا کا اجتماع ہوا، اسی سبب سے آہ سے شہپر عنقا جل گیا، لیکن مصنف کا یہ کہنا کہ میں عدم سے بھی باہر ہوں، اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میں نہ موجود ہوں، نہ معدوم ہوں اور نقیضین مجھ سے مرتفع ہیں، شاید ایسے ہی اشعار پر دلی میں لوگ کہا کرتے تھے کہ غالب شعر بے معنی کہا کرتے ہیں اور اُس کے جواب میں مصنف نے یہ شعر کہا
نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ :: گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
پرے کا لفظ اب متروک ہے، لکھنؤ میں ناسخؔ کے زمانہ سے روزمرہ میں عوام الناس کے بھی نہیں ہے، لیکن دلی میں ابھی تک بولا جاتا ہے اور نظم میں بھی لاتے ہیں، میں نے اس امر میں نواب مرزا خاں صاحب داغؔ سے تحقیق چاہی تھی، اُنھوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ لوگوں کی خاطر سے (یعنی لکھنؤ والوں کی خاطر سے) اس لفظ کو چھوڑ دیا، مگر یہ کہا کہ مومنؔ خاں صاحب کے اس شعر میں
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منھ:: اے شبِ ہجر تیرا کالا منھ
اگر پرے کی جگہ اُدھر کہیں تو برا معلوم ہوتا ہے، میں نے کہا کہ ’پرے ہٹ‘ بندھا ہوا محاورہ ہے، اس میں ’پرے‘ کی جگہ، ’اُدھر‘ کہنا محاورہ میں تصرف کرنا ہے، اس سبب سے برا معلوم ہوتا ہے، ورنہ پہلے جس محل پر ’چل پرے ہٹ‘ بولتے تھے اب اُسی محل پر دور بھی محاورہ ہو گیا ہے، اس توجیہ کو پسند کیا اور مصرع کو پڑھ کر الفاظ کی نشست کو غور سے دیکھا: ’دور بھی ہو مجھے نہ دکھلا منھ‘ اور تحسین کی۔
عرض کیجئے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
یعنی یہ کہاں ممکن ہے کہ اپنی طبیعت کی گرمی ظاہر کر سکوں فقط دشت نوردی کا ذرا خیال کیا کہ صحرا میں آگ لگ اُٹھی اور یہ مبالغہ غیر علوی ہے کہ طبیعت میں ایسی گرمی ہو کہ جس چیز کا خیال آئے وہ چیز جل جائے عرض کو لوگ جوہر کے ضلع کا لفظ سمجھتے ہیں حالاں کہ جوہر کے مناسبات میں سے عرض بہ تحریک ہے نہ بہ سکون۔
دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا
دل کو کارفرما بنایا ہے اور داغوں کو چراغاں لفظ چراغاں کو چراغ کی جمع نہ سمجھنا چاہئے۔
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب ؔکہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاک اہل دُنیا جل گیا
طرزِ تپاک سے تپاک ظاہری و نفاق باطنی مراد ہے اور افسردگی اور جلنا اس کے مناسبات سے ہیں۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
یعنی رشک کی آگ ایسی تھی کہ معشوق کو دل سے بھلا دیا اور اس کا غیر سے ملنا دیکھ کر ذوقِ وصل جاتا رہا۔ گھر سے دل مراد ہے اور آگ سے رشکِ رقیب۔
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
مصنف کی غرض یہ ہے کہ میری نیستی و فنا یہاں تک پہنچی کہ اب میں عدم میں بھی نہیں ہوں اور اس سے آگے نکل گیا ہوں، ورنہ جب تک میں عدم میں تھا، جب تک میری آہ سے عنقا کا شہپر اکثر جل گیا ہے، عنقا ایک طائر معدوم کو کہتے ہیں اور جب وہ معدوم ہوا تو وہ بھی عدم میں ہوا اور ایک ہی میدان میں آہِ آتشیں و بالِ عنقا کا اجتماع ہوا، اسی سبب سے آہ سے شہپر عنقا جل گیا، لیکن مصنف کا یہ کہنا کہ میں عدم سے بھی باہر ہوں، اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میں نہ موجود ہوں، نہ معدوم ہوں اور نقیضین مجھ سے مرتفع ہیں، شاید ایسے ہی اشعار پر دلی میں لوگ کہا کرتے تھے کہ غالب شعر بے معنی کہا کرتے ہیں اور اُس کے جواب میں مصنف نے یہ شعر کہا
نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ :: گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
پرے کا لفظ اب متروک ہے، لکھنؤ میں ناسخؔ کے زمانہ سے روزمرہ میں عوام الناس کے بھی نہیں ہے، لیکن دلی میں ابھی تک بولا جاتا ہے اور نظم میں بھی لاتے ہیں، میں نے اس امر میں نواب مرزا خاں صاحب داغؔ سے تحقیق چاہی تھی، اُنھوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ لوگوں کی خاطر سے (یعنی لکھنؤ والوں کی خاطر سے) اس لفظ کو چھوڑ دیا، مگر یہ کہا کہ مومنؔ خاں صاحب کے اس شعر میں
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منھ:: اے شبِ ہجر تیرا کالا منھ
اگر پرے کی جگہ اُدھر کہیں تو برا معلوم ہوتا ہے، میں نے کہا کہ ’پرے ہٹ‘ بندھا ہوا محاورہ ہے، اس میں ’پرے‘ کی جگہ، ’اُدھر‘ کہنا محاورہ میں تصرف کرنا ہے، اس سبب سے برا معلوم ہوتا ہے، ورنہ پہلے جس محل پر ’چل پرے ہٹ‘ بولتے تھے اب اُسی محل پر دور بھی محاورہ ہو گیا ہے، اس توجیہ کو پسند کیا اور مصرع کو پڑھ کر الفاظ کی نشست کو غور سے دیکھا: ’دور بھی ہو مجھے نہ دکھلا منھ‘ اور تحسین کی۔
عرض کیجئے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
یعنی یہ کہاں ممکن ہے کہ اپنی طبیعت کی گرمی ظاہر کر سکوں فقط دشت نوردی کا ذرا خیال کیا کہ صحرا میں آگ لگ اُٹھی اور یہ مبالغہ غیر علوی ہے کہ طبیعت میں ایسی گرمی ہو کہ جس چیز کا خیال آئے وہ چیز جل جائے عرض کو لوگ جوہر کے ضلع کا لفظ سمجھتے ہیں حالاں کہ جوہر کے مناسبات میں سے عرض بہ تحریک ہے نہ بہ سکون۔
دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا
دل کو کارفرما بنایا ہے اور داغوں کو چراغاں لفظ چراغاں کو چراغ کی جمع نہ سمجھنا چاہئے۔
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب ؔکہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاک اہل دُنیا جل گیا
طرزِ تپاک سے تپاک ظاہری و نفاق باطنی مراد ہے اور افسردگی اور جلنا اس کے مناسبات سے ہیں۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجئے ہم نے مدعا پایا
یعنی تمہاری چتون یہ کہہ رہی ہے کہ تیرا دل کہیں پڑا پائیں گے تو پھر ہم نہ دیں گے، یہاں دل ہی نہیں ہے جسے ہم کھوئیں اور تمہیں پڑا ہوا مل جائے، مگر اس لگاوٹ سے ہم سمجھ گئے دل تمہارے ہی پاس ہے۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
یعنی زیست میرے لئے ایک درد تھی کہ عشق اُس کی دوا ہو گیا اور خود وہ درد بے دوا ہے۔
دوست دارِ دُشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا
یعنی آہ میں اثر نہیں، نالہ میں رسائی نہیں، دل پر بھروسہ نہیں کہ وہ دُشمن کا دوست ہے۔
سادگی و پرکاری بے خودی و ہوشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
یعنی حسینوں کا تغافل کرنا اور عشاق کے حال سے بے خبر بننا یہ فقط عشاق کا دل دیکھنے کے لئے اور جرأت آزمانے کے واسطے ہے، اصل میں پرکاری و ہوشیاری ہے اور ظاہر میں سادگی و بے خبری ہے۔
غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
ایک عاشق بے دل غنچہ پر یہ گمان کرتا ہے کہ یہی میرا دل ہے جو مدت سے کھویا ہوا تھا۔
حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
ڈھونڈا اور پایا کا مفعول بہ دل ہے۔
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
’آپ‘ کا اشارہ ناصح کی طرف ہے اور اس میں تعظیم نکلتی ہے اور مقصود تشنیع ہے اور مزہ اور شور نمک کے مناسبات میں سے ہیں، مصنف نے ’مزہ‘ کو قافیہ کیا اور ہائے مختفی کو الف سے بدلا، اُردو کہنے والے اس طرح کے قافیہ کو جائز سمجھتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ قافیہ میں حروفِ ملفوظہ کا اعتبار ہے، جب یہ ’ہ‘ ملفوظہ نہیں بلکہ ’ز‘ کے اشباع سے الف پیدا ہوتا ہے تو پھر کون مانع ہے اُسے حرف روی قرار دینے سے، اسی طرح سے فوراً اور دُشمن قافیہ ہو جاتا ہے، گو رسم خط اس کے خلاف ہے، لیکن فارسی والے مزہ اور دوا کا قافیہ نہیں کرتے اور وجہ اُس کی یہ ہے کہ وہ ہائے مختفی کو کبھی حرف روی ہونے کے قابل نہیں جانتے۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
دل کہاں کہ گم کیجئے ہم نے مدعا پایا
یعنی تمہاری چتون یہ کہہ رہی ہے کہ تیرا دل کہیں پڑا پائیں گے تو پھر ہم نہ دیں گے، یہاں دل ہی نہیں ہے جسے ہم کھوئیں اور تمہیں پڑا ہوا مل جائے، مگر اس لگاوٹ سے ہم سمجھ گئے دل تمہارے ہی پاس ہے۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
یعنی زیست میرے لئے ایک درد تھی کہ عشق اُس کی دوا ہو گیا اور خود وہ درد بے دوا ہے۔
دوست دارِ دُشمن ہے اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا
یعنی آہ میں اثر نہیں، نالہ میں رسائی نہیں، دل پر بھروسہ نہیں کہ وہ دُشمن کا دوست ہے۔
سادگی و پرکاری بے خودی و ہوشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
یعنی حسینوں کا تغافل کرنا اور عشاق کے حال سے بے خبر بننا یہ فقط عشاق کا دل دیکھنے کے لئے اور جرأت آزمانے کے واسطے ہے، اصل میں پرکاری و ہوشیاری ہے اور ظاہر میں سادگی و بے خبری ہے۔
غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
ایک عاشق بے دل غنچہ پر یہ گمان کرتا ہے کہ یہی میرا دل ہے جو مدت سے کھویا ہوا تھا۔
حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
ڈھونڈا اور پایا کا مفعول بہ دل ہے۔
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
’آپ‘ کا اشارہ ناصح کی طرف ہے اور اس میں تعظیم نکلتی ہے اور مقصود تشنیع ہے اور مزہ اور شور نمک کے مناسبات میں سے ہیں، مصنف نے ’مزہ‘ کو قافیہ کیا اور ہائے مختفی کو الف سے بدلا، اُردو کہنے والے اس طرح کے قافیہ کو جائز سمجھتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ قافیہ میں حروفِ ملفوظہ کا اعتبار ہے، جب یہ ’ہ‘ ملفوظہ نہیں بلکہ ’ز‘ کے اشباع سے الف پیدا ہوتا ہے تو پھر کون مانع ہے اُسے حرف روی قرار دینے سے، اسی طرح سے فوراً اور دُشمن قافیہ ہو جاتا ہے، گو رسم خط اس کے خلاف ہے، لیکن فارسی والے مزہ اور دوا کا قافیہ نہیں کرتے اور وجہ اُس کی یہ ہے کہ وہ ہائے مختفی کو کبھی حرف روی ہونے کے قابل نہیں جانتے۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغِ جگر ہدیہ
مبارکباد اسدؔ غم خوارِ جانِ درد مند آیا
مشہور ہے کہ الماس کے کھا لینے سے دل و جگر زخمی ہو جاتے ہیں تو جو شخص کہ زخم دل و جگر کا شائق ہے، الماس اُس کے لئے ارمغاں ہے، یہ سارا شعر مبارکبادی کا مضمون ہے، کہتا ہے کہ ایسی ایسی نعمتیں اور ہدیے حسن و عشق نے مجھے دئیے، وہ میرا غم خوار ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ غم خوار سے ناصح مراد ہے اور مبارکباد تشنیع کی راہ سے ہے۔
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
یعنی ایک قیس کا نام تو صحرا نوردی میں ہو گیا، اس کے سوا کسی اور کی بہتری صحرائے حاسدِ چشم سے نہ دیکھی گئی، گویا کہ صحرا باوجود وسعتِ چشم حاسد کی سی تنگی رکھتا ہے، مگر یہاں شاید کے معنی رکھتا ہے۔
آشفتگی نے نقش سویدا کیا دُرست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
داغ سویدائے دل سے ہمیشہ دود آہ اُٹھ اُٹھ کر پھیلا کرتا ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ سویدائے دل کی خلقت آشفتگی سے ہے، معنوی تعقید اس شعر میں یہ ہو گئی ہے کہ پریشانی کی جگہ آشفتگی کہہ گئے ہیں، غرض یہ تھی کہ سویدائے دل سے دود پریشان اُٹھا کرتا ہے اور اس کا سرمایہ و حاصل جو کچھ ہے یہی دود آہ ہے جو ایک پریشان چیز ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ نقش سویدا خدا نے محض پریشانی ہی سے بنایا ہے اور یہ داغ دود آہ سے پیدا ہوا ہے، جبھی تو اس سے ہمیشہ دھُواں اُٹھا کرتا ہے۔
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
یعنی زمانہ عیش اس طرح گذر گیا جیسے خواب دیکھا تھا، نہ اب لطفِ وصل ہے، نہ صدمۂ ہجر کا مزہ ہے، یوں سمجھو کہ مصنف نے گویا اس شعر کو یوں کہا ہے: ’زمانہ عیش نہ تھا بلکہ تھا خواب میں خیال کو‘ الخ۔
پڑھتا ہوں مکتبِ غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
غم وہ کیفیتِ نفسانی ہے جو مطلوب کے فوت ہو جانے سے پیدا ہو، مطلب یہ ہے کہ مکتبِ غم میں میرا سبق یہ ہے کہ رفت گیا اور بود تھا، یعنی زمانہ عیش کبھی تھا اور اب جاتا رہا۔
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوب برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
یعنی مر جانے ہی سے عیبِ برہنگی مٹا نہیں تو ہر لباس میں میں ننگِ ہستی و وجود تھا، ننگِ وجود ہونے کو برہنگی سے تعبیر کیا ہے، فقط لفظ کا متشابہ مصنف کے ذہن کو اُدھر لے گیا۔
تیشہ بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
کوہ کن پر طعن ہے کہ رسم و راہ کی پابندی جو دیوانگی و آزادی کے خلاف ہے، اس قدر اس کو تھی کہ جب تیشہ سے سر پھوڑا تو کہیں مرا، اگر نشہ عشق کامل ہوتا تو بغیر سر پھوڑے مر گیا ہوتا، خمارِ نشہ اُترنے سے جو بے کیفیتی اور بے مزگی ہوتی ہے، اُسے کہتے ہیں رسوم و قیود کو بے مزہ و بے لطف ظاہر کرنے کے لئے اُسے خمار سے تشبیہ دی ہے۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
مبارکباد اسدؔ غم خوارِ جانِ درد مند آیا
مشہور ہے کہ الماس کے کھا لینے سے دل و جگر زخمی ہو جاتے ہیں تو جو شخص کہ زخم دل و جگر کا شائق ہے، الماس اُس کے لئے ارمغاں ہے، یہ سارا شعر مبارکبادی کا مضمون ہے، کہتا ہے کہ ایسی ایسی نعمتیں اور ہدیے حسن و عشق نے مجھے دئیے، وہ میرا غم خوار ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ غم خوار سے ناصح مراد ہے اور مبارکباد تشنیع کی راہ سے ہے۔
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
یعنی ایک قیس کا نام تو صحرا نوردی میں ہو گیا، اس کے سوا کسی اور کی بہتری صحرائے حاسدِ چشم سے نہ دیکھی گئی، گویا کہ صحرا باوجود وسعتِ چشم حاسد کی سی تنگی رکھتا ہے، مگر یہاں شاید کے معنی رکھتا ہے۔
آشفتگی نے نقش سویدا کیا دُرست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
داغ سویدائے دل سے ہمیشہ دود آہ اُٹھ اُٹھ کر پھیلا کرتا ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ سویدائے دل کی خلقت آشفتگی سے ہے، معنوی تعقید اس شعر میں یہ ہو گئی ہے کہ پریشانی کی جگہ آشفتگی کہہ گئے ہیں، غرض یہ تھی کہ سویدائے دل سے دود پریشان اُٹھا کرتا ہے اور اس کا سرمایہ و حاصل جو کچھ ہے یہی دود آہ ہے جو ایک پریشان چیز ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ نقش سویدا خدا نے محض پریشانی ہی سے بنایا ہے اور یہ داغ دود آہ سے پیدا ہوا ہے، جبھی تو اس سے ہمیشہ دھُواں اُٹھا کرتا ہے۔
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
یعنی زمانہ عیش اس طرح گذر گیا جیسے خواب دیکھا تھا، نہ اب لطفِ وصل ہے، نہ صدمۂ ہجر کا مزہ ہے، یوں سمجھو کہ مصنف نے گویا اس شعر کو یوں کہا ہے: ’زمانہ عیش نہ تھا بلکہ تھا خواب میں خیال کو‘ الخ۔
پڑھتا ہوں مکتبِ غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
غم وہ کیفیتِ نفسانی ہے جو مطلوب کے فوت ہو جانے سے پیدا ہو، مطلب یہ ہے کہ مکتبِ غم میں میرا سبق یہ ہے کہ رفت گیا اور بود تھا، یعنی زمانہ عیش کبھی تھا اور اب جاتا رہا۔
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوب برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
یعنی مر جانے ہی سے عیبِ برہنگی مٹا نہیں تو ہر لباس میں میں ننگِ ہستی و وجود تھا، ننگِ وجود ہونے کو برہنگی سے تعبیر کیا ہے، فقط لفظ کا متشابہ مصنف کے ذہن کو اُدھر لے گیا۔
تیشہ بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا
کوہ کن پر طعن ہے کہ رسم و راہ کی پابندی جو دیوانگی و آزادی کے خلاف ہے، اس قدر اس کو تھی کہ جب تیشہ سے سر پھوڑا تو کہیں مرا، اگر نشہ عشق کامل ہوتا تو بغیر سر پھوڑے مر گیا ہوتا، خمارِ نشہ اُترنے سے جو بے کیفیتی اور بے مزگی ہوتی ہے، اُسے کہتے ہیں رسوم و قیود کو بے مزہ و بے لطف ظاہر کرنے کے لئے اُسے خمار سے تشبیہ دی ہے۔
شاعر: غالب
شارح: نظم طباطبائی
اپنا اپنا حمدیہ شعر دوبارہ لکھیں، میری غلطی سے سارے اشعار ڈیلیٹ ہوگئے ہیں، مگر مجھے رزلٹ یاد، لیکن اشعار یاد نہیں ۔ 🙂
اردو چہ کیا ہے؟
یہ ایک ویب سائٹ ہے، جیسے فیس بک اور ٹوئٹر(ایکس) ویب سائٹس ہیں، اردوچہ میں آپ فقط اردو تحریر پوسٹ کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں وقتا فوقتاً مسابقت اور مشاعرے جیسے متفرق سلسلے بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
اس ویب سائٹ کی خوبی یہ ہے کہ یہاں پوسٹوں کی تعداد کئی لاکھ ہو جائے تب بھی آپ اس انبار میں سے اپنی مطلوبہ تحریر درج ذیل میں سے کسی بھی طریقے سے تلاش کرسکتے ہیں:
(1) اوپر سرچ خانے میں تحریر یا لکھاری کے مخصوص الفاظ لکھ کر
(2) سرچ خانے کے برابر میں بٹن ”شرکاء“ پر کلک کریں، کسی بھی فرد پر کلک کریں تو اس کی تمام پوسٹیں آپ کے سامنے آجائیں گی۔
(3) سرچ خانے کے نیچے چھ فلٹر بٹن ہیں، ان میں شرکاء تو وہی ہے جو نمبر 2 میں بتایا، فرق یہ ہے کہ اس بٹن سے آپ ایک وقت میں ایک سے زائد شرکاء کو کلک کرکے سب کی پوسٹیں بیک وقت دیکھ سکتے ہیں۔
(4) چھ میں سے دوسرا بٹن ”ادباء“ کا ہے، اس پر کلک کرنے سے تمام تخلیق کاروں کی فہرست آجائے گی، ان میں سے کسی بھی ایک یا زیادہ پر کلک کرنے سے ان کی تمام شعری و نثری تخلیقات آجائیں گی۔ شرکاء اور ادباء کا فرق ضرور ملحوظ رکھیے گا، شرکاء وہ ہیں جنھوں نے یہاں پوسٹیں کی ہیں اور ادباء وہ ہیں جن کی تحریریں ان پوسٹوں میں ہیں۔
(4) تاریخ فلٹر سے مطلوبہ تاریخوں کی پوسٹیں دیکھ سکتے ہیں۔
(5) کاوشیں فلٹر سے آپ یہ طے کرسکتے ہیں آپ کو فقط شعری کاوشیں دیکھنی ہیں یا فقط نثری یا دونوں؟
(6) اصناف فلٹر سے آپ ہیئتی اور موضوعی تمام اصناف میں سے مطلوبہ اصناف فلٹر کرسکتے ہیں۔
(7) مزید ترتیبیں فلٹر سب سے دلچسپ ہے، اس میں آپ اپنے مطالعے، اپنی پسند، ادارے کے مقرر کردہ معیار، جاری سلسلے، اشتہاری پوسٹیں، زیادہ پسندکی جانے والی پوسٹیں، سب فلٹر کرسکتے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
یہ ایک ویب سائٹ ہے، جیسے فیس بک اور ٹوئٹر(ایکس) ویب سائٹس ہیں، اردوچہ میں آپ فقط اردو تحریر پوسٹ کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں وقتا فوقتاً مسابقت اور مشاعرے جیسے متفرق سلسلے بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
اس ویب سائٹ کی خوبی یہ ہے کہ یہاں پوسٹوں کی تعداد کئی لاکھ ہو جائے تب بھی آپ اس انبار میں سے اپنی مطلوبہ تحریر درج ذیل میں سے کسی بھی طریقے سے تلاش کرسکتے ہیں:
(1) اوپر سرچ خانے میں تحریر یا لکھاری کے مخصوص الفاظ لکھ کر
(2) سرچ خانے کے برابر میں بٹن ”شرکاء“ پر کلک کریں، کسی بھی فرد پر کلک کریں تو اس کی تمام پوسٹیں آپ کے سامنے آجائیں گی۔
(3) سرچ خانے کے نیچے چھ فلٹر بٹن ہیں، ان میں شرکاء تو وہی ہے جو نمبر 2 میں بتایا، فرق یہ ہے کہ اس بٹن سے آپ ایک وقت میں ایک سے زائد شرکاء کو کلک کرکے سب کی پوسٹیں بیک وقت دیکھ سکتے ہیں۔
(4) چھ میں سے دوسرا بٹن ”ادباء“ کا ہے، اس پر کلک کرنے سے تمام تخلیق کاروں کی فہرست آجائے گی، ان میں سے کسی بھی ایک یا زیادہ پر کلک کرنے سے ان کی تمام شعری و نثری تخلیقات آجائیں گی۔ شرکاء اور ادباء کا فرق ضرور ملحوظ رکھیے گا، شرکاء وہ ہیں جنھوں نے یہاں پوسٹیں کی ہیں اور ادباء وہ ہیں جن کی تحریریں ان پوسٹوں میں ہیں۔
(4) تاریخ فلٹر سے مطلوبہ تاریخوں کی پوسٹیں دیکھ سکتے ہیں۔
(5) کاوشیں فلٹر سے آپ یہ طے کرسکتے ہیں آپ کو فقط شعری کاوشیں دیکھنی ہیں یا فقط نثری یا دونوں؟
(6) اصناف فلٹر سے آپ ہیئتی اور موضوعی تمام اصناف میں سے مطلوبہ اصناف فلٹر کرسکتے ہیں۔
(7) مزید ترتیبیں فلٹر سب سے دلچسپ ہے، اس میں آپ اپنے مطالعے، اپنی پسند، ادارے کے مقرر کردہ معیار، جاری سلسلے، اشتہاری پوسٹیں، زیادہ پسندکی جانے والی پوسٹیں، سب فلٹر کرسکتے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین! اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے: (1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی (2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن (3) سوشل میڈیا مارکیٹنگ (4) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے (5) اردوچہ کے تعارف میں تحریر لکھیں یا ویڈیو بنائیں۔ کمنٹ میں بتائیے کہ آپ ان میں سے کون سا تعاون کر سکتے ہیں۔
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہئے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
(غالب)
دم کے معنی سانس اور باڑھ اور یہاں دونوں معنی تعلق و مناسبت رکھتے ہیں کہ سینۂ شمشیر کہا ہے، مطلب یہ ہے کہ میرے اشتیاق قتل میں ایسا جذب و کشش ہے کہ تلوار کے سینہ سے اس کا دم باہر کھینچ آیا۔
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
(غالب)
یعنی میری تقریر کو جس قدر جی چاہے سنو، اُس کے مطلب کو پہنچنا محال ہے، اگر شوق آگہی نے صیاد بن کر شنیدن کا جال بچھایا بھی تو کیا، میری تقریر کا مطلب طائر عنقا ہے جو کبھی اسیر دام نہیں ہونے کا غرض یہ ہے کہ میرے اشعار سراسر اسرار ہیں۔
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
(غالب)
مضطرب اور بے تاب کو آتش زیر پا کہتے ہیں اور آتش جب دیرپا ہوئی تو زنجیر پا گویا موئے آتش دیدہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ بال آگ کو دیکھ کر پیچ دار ہو جاتا ہے اور حلقۂ زنجیر کی سی ہیئت پیدا کرتا ہے۔
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
(غالب)
دم کے معنی سانس اور باڑھ اور یہاں دونوں معنی تعلق و مناسبت رکھتے ہیں کہ سینۂ شمشیر کہا ہے، مطلب یہ ہے کہ میرے اشتیاق قتل میں ایسا جذب و کشش ہے کہ تلوار کے سینہ سے اس کا دم باہر کھینچ آیا۔
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
(غالب)
یعنی میری تقریر کو جس قدر جی چاہے سنو، اُس کے مطلب کو پہنچنا محال ہے، اگر شوق آگہی نے صیاد بن کر شنیدن کا جال بچھایا بھی تو کیا، میری تقریر کا مطلب طائر عنقا ہے جو کبھی اسیر دام نہیں ہونے کا غرض یہ ہے کہ میرے اشعار سراسر اسرار ہیں۔
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
(غالب)
مضطرب اور بے تاب کو آتش زیر پا کہتے ہیں اور آتش جب دیرپا ہوئی تو زنجیر پا گویا موئے آتش دیدہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ بال آگ کو دیکھ کر پیچ دار ہو جاتا ہے اور حلقۂ زنجیر کی سی ہیئت پیدا کرتا ہے۔
کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
(غالب)
کاوِ کاوِ کھودنا اور کریدنا مطلب یہ ہے کہ تنہائی و فراق میں سخت جانی کے چلتے اور دم نہ نکلنے کے ہاتھوں جیسی جیسی کاوشیں اور کاہشیں مجھ پر گذر جاتی ہیں اُسے کچھ نہ پوچھ رات کا کاٹنا اور صبح کرنا جوئے شیر کے لانے سے کم نہیں یعنی جس طرح جوئے شیر لانا فرہاد کے لئے دُشوار کام تھا، اسی طرح صبح کرنا مجھے بہت ہی دُشوار ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اپنے تئیں کوہکن اور اپنی سخت جانی شب ہجر کو کوہ اور سپیدۂ صبح کو جوئے شیر سے تشبیہ دی ہے۔
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
(غالب)
کاوِ کاوِ کھودنا اور کریدنا مطلب یہ ہے کہ تنہائی و فراق میں سخت جانی کے چلتے اور دم نہ نکلنے کے ہاتھوں جیسی جیسی کاوشیں اور کاہشیں مجھ پر گذر جاتی ہیں اُسے کچھ نہ پوچھ رات کا کاٹنا اور صبح کرنا جوئے شیر کے لانے سے کم نہیں یعنی جس طرح جوئے شیر لانا فرہاد کے لئے دُشوار کام تھا، اسی طرح صبح کرنا مجھے بہت ہی دُشوار ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اپنے تئیں کوہکن اور اپنی سخت جانی شب ہجر کو کوہ اور سپیدۂ صبح کو جوئے شیر سے تشبیہ دی ہے۔
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
(غالب)
مصنف مرحوم ایک خط میں خود اس مطلع کے معنی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں، ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، جیسے مشعل دن کو جلانا یا خون آلودہ کپڑا بانس پر لٹکا لے جانا، پس شاعر خیال کرتا ہے کہ نقش کس کی شوخی تحریر کا فریادی ہے کہ جو صورتِ تصویر ہے، اُس کا پیرہن کاغذی ہے، یعنی ہستی اگرچہ مثل ہستی تصاویر اعتبار محض ہو موجب رنج و ملال و آزار ہے، غرض مصنف کی یہ ہے کہ ہستی میں مبداء حقیقی سے جدائی و غیریت ہو جاتی ہے اور اس معشوق کی مفارقت ایسی شاق ہے کہ نقش تصویر تک اُس کا فریادی ہے اور پھر تصویر کی ہستی کوئی ہستی نہیں، مگر فنا فی اللہ ہونے کی اُسے بھی آرزو ہے کہ اپنی ہستی سے نالاں ہے، کاغذی پیرہن فریادی سے کنایہ فارسی میں بھی ہے اور اُردو میں، میر ممنونؔ کے کلام میں اور مومنؔ خاں کے کلام میں بھی میں نے دیکھا ہے، مگر مصنف کا یہ کہنا کہ ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، میں نے یہ ذکر نہ کہیں دیکھا نہ سنا، اس شعر میں جب تک کوئی ایسا لفظ نہ ہو جس سے فنا فی اللہ ہونے کا شوق اور ہستی اعتباری سے نفرت ظاہر ہو اس وقت تک اسے بامعنی نہیں کہہ سکتے، کوئی جان بوجھ کر تو بے معنی کہتا نہیں یہی ہوتا ہے کہ وزن و قافیہ کی تنگی سے بعض بعض ضروری لفظوں کی گنجائش نہ ہوئی اور شاعر سمجھا کہ مطلب ادا ہو گیا تو جتنے معنی کہ شاعر کے ذہن میں رہ گئے، اسی کو المعنی فی بطن الشاعر کہنا چاہئے، اس شعر میں مصنف کی غرض یہ تھی کہ نقش تصویر فریادی ہے، ہستی بے اعتبار و بے توقیر کا اور یہی سبب ہے کاغذی پیرہن ہونے کا ہستی بے اعتبار کی گنجائش نہ ہو سکی اس سبب سے کہ قافیہ مزاحم تھا اور مقصود تھا مطلع کہنا ہستی کے بدلے شوخی تحریر کہہ دیا اور اس سے کوئی قرینہ ہستی کے حذف پر نہیں پیدا ہوا آخر خود ان کے منہ پر لوگوں نے کہہ دیا کہ شعر بے معنی ہے۔
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
(غالب)
مصنف مرحوم ایک خط میں خود اس مطلع کے معنی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں، ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، جیسے مشعل دن کو جلانا یا خون آلودہ کپڑا بانس پر لٹکا لے جانا، پس شاعر خیال کرتا ہے کہ نقش کس کی شوخی تحریر کا فریادی ہے کہ جو صورتِ تصویر ہے، اُس کا پیرہن کاغذی ہے، یعنی ہستی اگرچہ مثل ہستی تصاویر اعتبار محض ہو موجب رنج و ملال و آزار ہے، غرض مصنف کی یہ ہے کہ ہستی میں مبداء حقیقی سے جدائی و غیریت ہو جاتی ہے اور اس معشوق کی مفارقت ایسی شاق ہے کہ نقش تصویر تک اُس کا فریادی ہے اور پھر تصویر کی ہستی کوئی ہستی نہیں، مگر فنا فی اللہ ہونے کی اُسے بھی آرزو ہے کہ اپنی ہستی سے نالاں ہے، کاغذی پیرہن فریادی سے کنایہ فارسی میں بھی ہے اور اُردو میں، میر ممنونؔ کے کلام میں اور مومنؔ خاں کے کلام میں بھی میں نے دیکھا ہے، مگر مصنف کا یہ کہنا کہ ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے، میں نے یہ ذکر نہ کہیں دیکھا نہ سنا، اس شعر میں جب تک کوئی ایسا لفظ نہ ہو جس سے فنا فی اللہ ہونے کا شوق اور ہستی اعتباری سے نفرت ظاہر ہو اس وقت تک اسے بامعنی نہیں کہہ سکتے، کوئی جان بوجھ کر تو بے معنی کہتا نہیں یہی ہوتا ہے کہ وزن و قافیہ کی تنگی سے بعض بعض ضروری لفظوں کی گنجائش نہ ہوئی اور شاعر سمجھا کہ مطلب ادا ہو گیا تو جتنے معنی کہ شاعر کے ذہن میں رہ گئے، اسی کو المعنی فی بطن الشاعر کہنا چاہئے، اس شعر میں مصنف کی غرض یہ تھی کہ نقش تصویر فریادی ہے، ہستی بے اعتبار و بے توقیر کا اور یہی سبب ہے کاغذی پیرہن ہونے کا ہستی بے اعتبار کی گنجائش نہ ہو سکی اس سبب سے کہ قافیہ مزاحم تھا اور مقصود تھا مطلع کہنا ہستی کے بدلے شوخی تحریر کہہ دیا اور اس سے کوئی قرینہ ہستی کے حذف پر نہیں پیدا ہوا آخر خود ان کے منہ پر لوگوں نے کہہ دیا کہ شعر بے معنی ہے۔
بغیر نقطے والی اردو کو ”اردوئے معراء“ کہتے ہیں، اس مسابقے میں آپ کو اردوئے معراء میں اللہ تعالیٰ کی تعریف لکھنی ہے، واضح رہے کہ آپ کے جواب میں ایک بھی ایسا حرف نہ ہو جس میں نقطہ ہو اور بات بھی بالکل مکمل ہو۔
تبصرہ خانے میں اردوچہ کے بارے میں اپنی قیمتی رائے سے نوازیں،آپ کو یہ کیسا لگا اور آپ اس میں مزید کیا کچھ چاہتے ہیں؟ 🙂
غم شکوۂ حال تک نہ آیا
اس کا تو خیال تک نہ آیا
آقاؤں کی مملکت تھی دنیا
سورج کو زوال تک نہ آیا
ٹوٹا ہوں کچھ اس طرح اچانک
پہلے کوئی بال تک نہ آیا
محفل میں نظر چرالی اس نے
ہم کو یہ کمال تک نہ آیا
یوں ختم کیا فسانہ ہم نے
لہجے میں ملال تک نہ آیا
اس کا تو خیال تک نہ آیا
آقاؤں کی مملکت تھی دنیا
سورج کو زوال تک نہ آیا
ٹوٹا ہوں کچھ اس طرح اچانک
پہلے کوئی بال تک نہ آیا
محفل میں نظر چرالی اس نے
ہم کو یہ کمال تک نہ آیا
یوں ختم کیا فسانہ ہم نے
لہجے میں ملال تک نہ آیا
شمع و پروانہ
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے؟
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تری برق نگاہ کا؟
آزار موت میں اسے آرام جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگی جاوداں ہے کیا؟
غم خانہ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
گرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھے سے دل میں لذت سوز و گداز ہے
کچھ اس میں جوش عاشق حسن قدیم ہے
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم ہے
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا ، اور تمنائے روشنی!
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے؟
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تری برق نگاہ کا؟
آزار موت میں اسے آرام جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگی جاوداں ہے کیا؟
غم خانہ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
گرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھے سے دل میں لذت سوز و گداز ہے
کچھ اس میں جوش عاشق حسن قدیم ہے
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم ہے
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا ، اور تمنائے روشنی!
خفتگان خاک سے استفسار
مہر روشن چھپ گیا ، اٹھی نقاب روئے شام
شانہ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گیسوئے شام
یہ سیہ پوشی کی تیاری کس کے غم میں ہے
محفل قدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر
ساحر شب کی نظر ہے دیدہ بیدار پر
غوطہ زن دریاے خاموشی میں ہے موج ہوا
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا
دل کہ ہے بے تابی الفت میں دنیا سے نفور
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامہ عالم سے دور
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں میں
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم
وہ بھی حیرت خانہ امروز و فردا ہے کوئی؟
اور پیکار عناصر کا تماشا ہے کوئی؟
آدمی واں بھی حصار غم میں ہے محصور کیا؟
اس ولا یت میں بھی ہے انساں کا دل مجبور کیا؟
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کیا؟
اس چمن میں بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کیا؟
یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
شعر کی گر می سے کیا واں بھی پگل جاتاہے دل؟
رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں
اس گلستاں میں بھی کیا ایسے نکیلے خار ہیں؟
اس جہاں میں اک معیشت اور سو افتاد ہے
روح کیا اس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟
کیا وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟
قافلے والے بھی ہیں ، اندیشہ رہزن بھی ہے؟
تنکے چنتے ہیں و ہاں بھی آ شیاں کے واسطے؟
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟
واں بھی انساں اپنی اصلیت سے بیگانے ہیں کیا؟
امتیاز ملت و آئیں کے دیوانے ہیں کیا؟
واں بھی کیا فریاد بلبل پر چمن روتا نہیں؟
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہیں؟
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟
یا رخ بے پردہ حسن ازل کا نام ہے؟
کیا جہنم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے؟
آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصد تادیب ہے؟
کیا عوض رفتار کے اس دیس میں پرواز ہے؟
موت کہتے ہیں جسے اہل زمیں ، کیا راز ہے ؟
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے
علم انساں اس ولایت میں بھی کیا محدود ہے؟
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟
'لن ترانی' کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طور بھی؟
جستجو میں ہے وہاں بھی روح کو آرام کیا؟
واں بھی انساں ہے قتیل ذوق استفہام کیا؟
آہ! وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور ہے؟
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں میں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں میں ہے
مہر روشن چھپ گیا ، اٹھی نقاب روئے شام
شانہ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گیسوئے شام
یہ سیہ پوشی کی تیاری کس کے غم میں ہے
محفل قدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر
ساحر شب کی نظر ہے دیدہ بیدار پر
غوطہ زن دریاے خاموشی میں ہے موج ہوا
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا
دل کہ ہے بے تابی الفت میں دنیا سے نفور
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامہ عالم سے دور
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں میں
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم
وہ بھی حیرت خانہ امروز و فردا ہے کوئی؟
اور پیکار عناصر کا تماشا ہے کوئی؟
آدمی واں بھی حصار غم میں ہے محصور کیا؟
اس ولا یت میں بھی ہے انساں کا دل مجبور کیا؟
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کیا؟
اس چمن میں بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کیا؟
یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
شعر کی گر می سے کیا واں بھی پگل جاتاہے دل؟
رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں
اس گلستاں میں بھی کیا ایسے نکیلے خار ہیں؟
اس جہاں میں اک معیشت اور سو افتاد ہے
روح کیا اس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟
کیا وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟
قافلے والے بھی ہیں ، اندیشہ رہزن بھی ہے؟
تنکے چنتے ہیں و ہاں بھی آ شیاں کے واسطے؟
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟
واں بھی انساں اپنی اصلیت سے بیگانے ہیں کیا؟
امتیاز ملت و آئیں کے دیوانے ہیں کیا؟
واں بھی کیا فریاد بلبل پر چمن روتا نہیں؟
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہیں؟
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟
یا رخ بے پردہ حسن ازل کا نام ہے؟
کیا جہنم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے؟
آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصد تادیب ہے؟
کیا عوض رفتار کے اس دیس میں پرواز ہے؟
موت کہتے ہیں جسے اہل زمیں ، کیا راز ہے ؟
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے
علم انساں اس ولایت میں بھی کیا محدود ہے؟
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟
'لن ترانی' کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طور بھی؟
جستجو میں ہے وہاں بھی روح کو آرام کیا؟
واں بھی انساں ہے قتیل ذوق استفہام کیا؟
آہ! وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور ہے؟
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں میں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں میں ہے
پر ندے کی فر یاد
( بچو ں کے لیے )
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم
شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا
وہ پیاری پیاری صورت ، وہ کامنی سی مورت
آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا
آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں
ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں!
کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہیں وطن میں ، میں قید میں پڑا ہوں
آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں
میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں
اس قید کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں
ڈر ہے یہیں قفسں میں میں غم سے مر نہ جاؤں
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے
آزاد مجھ کو کر دے ، او قید کرنے والے!
میں بے زباں ہوں قیدی ، تو چھوڑ کر دعا لے
( بچو ں کے لیے )
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم
شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا
وہ پیاری پیاری صورت ، وہ کامنی سی مورت
آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا
آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں
ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں!
کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہیں وطن میں ، میں قید میں پڑا ہوں
آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں
میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں
اس قید کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں
ڈر ہے یہیں قفسں میں میں غم سے مر نہ جاؤں
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے
آزاد مجھ کو کر دے ، او قید کرنے والے!
میں بے زباں ہوں قیدی ، تو چھوڑ کر دعا لے
ماں کا خواب
(بچوں کے لیے )
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا
کہا میں نے پہچان کر ، میری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
(بچوں کے لیے )
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا
کہا میں نے پہچان کر ، میری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
ہمد ر د ی
( بچوں کے لیے )
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
( بچوں کے لیے )
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
کب تک گھاس چرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
کتنی بحث کرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
کتنا بولو گے ہم مرنے والوں پر؟
اک دن تم بھی مرو گے، چھوڑو، جانے دو
کیوں رہ چلتوں کو تم چھیڑتے رہتے ہو
آخر کب سدھرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
”ہم ہیں بہادر“ بزدل کہتے رہتے ہیں
کتنا اور ڈرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
آبرو پانی پانی، دامن آلودہ
خاک سجو سنورو گے، چھوڑو، جانے دو
اترے چہرے سے بس اتنا کہنا ہے
دل سے نہیں اترو گے، چھوڑو، جانے دو
سَرسَری سا سب کہہ کے گیا ہے اسامہ یہ
کیا کھسرو پھسرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
کتنی بحث کرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
کتنا بولو گے ہم مرنے والوں پر؟
اک دن تم بھی مرو گے، چھوڑو، جانے دو
کیوں رہ چلتوں کو تم چھیڑتے رہتے ہو
آخر کب سدھرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
”ہم ہیں بہادر“ بزدل کہتے رہتے ہیں
کتنا اور ڈرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
آبرو پانی پانی، دامن آلودہ
خاک سجو سنورو گے، چھوڑو، جانے دو
اترے چہرے سے بس اتنا کہنا ہے
دل سے نہیں اترو گے، چھوڑو، جانے دو
سَرسَری سا سب کہہ کے گیا ہے اسامہ یہ
کیا کھسرو پھسرو گے؟ چھوڑو، جانے دو
بچے کی دعا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا !میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب !
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب !
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو، اس رہ پہ چلانا مجھ کو
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا !میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب !
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب !
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو، اس رہ پہ چلانا مجھ کو
دشمن کی فوج کو چاروں طرف سے ایسے گھیر لینا کہ فرار کا کوئی راستہ نہ رہ جائے۔ ایک عام آدمی کے لیے یہی کامل فتح ہے، لیکن جنگی امور کے عظیم دانشور کہتے ہیں ہمیشہ فرار کا ایک راستہ دشمن کے لیے چھوڑ کر رکھو۔ ورنہ تم جنگ ہار جاؤ گے۔
عظیم رومی جنگی مفکر وجیٹیس اور چینی مفکر سن زی دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں، کیونکہ وہ کہتے ہیں گھیرے سے پہلے دشمن فوج مقاصد کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہے۔ گھیرے کے بعد یہ مایوسی اور بقا کی جنگ بن جاتی ہے۔ مایوسی اور زندگی کی جبلت پھر ایسی بہادری دیتی ہے جو بظاہر ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہے۔
فرار کا یہ ایک راستہ طاقتور سے طاقتور فوج اور اس کی تربیت کو انتشار کا شکار بنا لیتی ہے۔ فوج ہجوم بن جاتی ہے۔ وہ اپنا بوجھ یعنی ہتھیار پھینک کر اس ایک راستے کی طرف دوڑ لگا لیتے ہیں۔ ان نہتے اور زندگی کی خواہش میں دوڑتے ہجوم کو پھر شکار بنانا بہت آسان ہوتا ہے۔
ہم جب زندگی جینے کی جنگ میں حالات کے گھیرے میں آجائیں تو ہمارا دماغ بھی فرار کا یہی ایک راستہ ڈھونڈتا ہے۔ جن کو یہ راستہ مل جائے وہ پھر زندگی بھر دوڑتے رہتے ہیں۔ جن کو نہ ملے، مایوسی اور بقا کی جبلت پھر ان سے وہ ناممکن ممکن بنا دیتی ہے دنیا کے لیے جو مثال بن جاتی ہے۔
عظیم رومی جنگی مفکر وجیٹیس اور چینی مفکر سن زی دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں، کیونکہ وہ کہتے ہیں گھیرے سے پہلے دشمن فوج مقاصد کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہے۔ گھیرے کے بعد یہ مایوسی اور بقا کی جنگ بن جاتی ہے۔ مایوسی اور زندگی کی جبلت پھر ایسی بہادری دیتی ہے جو بظاہر ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہے۔
فرار کا یہ ایک راستہ طاقتور سے طاقتور فوج اور اس کی تربیت کو انتشار کا شکار بنا لیتی ہے۔ فوج ہجوم بن جاتی ہے۔ وہ اپنا بوجھ یعنی ہتھیار پھینک کر اس ایک راستے کی طرف دوڑ لگا لیتے ہیں۔ ان نہتے اور زندگی کی خواہش میں دوڑتے ہجوم کو پھر شکار بنانا بہت آسان ہوتا ہے۔
ہم جب زندگی جینے کی جنگ میں حالات کے گھیرے میں آجائیں تو ہمارا دماغ بھی فرار کا یہی ایک راستہ ڈھونڈتا ہے۔ جن کو یہ راستہ مل جائے وہ پھر زندگی بھر دوڑتے رہتے ہیں۔ جن کو نہ ملے، مایوسی اور بقا کی جبلت پھر ان سے وہ ناممکن ممکن بنا دیتی ہے دنیا کے لیے جو مثال بن جاتی ہے۔
ایک چینی سے پوچھا گیا چین ہر چیز خود کیوں بنانا چاہتا ہے؟ اسکا جواب سادہ تھا کیونکہ چین غریب لوگوں کا ملک ہے۔
اُس نے بتایا میرے بچپن میں سارے گاوں میں بس ایک ہی ٹی وی تھا. یہ جاپان کا پینا سونک ٹی وی تھا. سارے گاوں میں شام کی یہ واحد تفریح تھی جس کے سامنے بچے بوڑھے مرد و خواتین شام کو بیٹھ جاتے. پھر اس کی پکچر ٹیوب خراب ہوگئی۔
گاوں والوں نے پتہ کرایا تو پتہ چلا یہ دستیاب نہیں بلکہ منگوائی جاتی ہے. اور اس کی قیمت 18 سو یوان ہے. یہ پیسے گاوں کے کسی ایک اچھے گھر کے دو سال کی بچت تھی. وہ ٹی وی دوبارہ نہیں چلا. یہی حال ہر امپورٹڈ آئٹم کا تھا کے سب کی قیمتیں بلند تھیں۔
چینی مارکیٹ نے اس بہت بڑی آبادی کیلئے مینو فیکچرنگ شروع کی. اور وہ پھر ہر چیز بناتے چلے گئے. اُس کم قیمت میں جس پر ان کی مارکیٹ یہ خرید سکے. اسی سوچ نے زیادہ پیداوار کم قیمت کی اپروچ بنائی اور ساری دُنیا کی غریب مڈل کلاس کو وہ سب کچھ کم قیمت میں دستیاب کرا دیا پہلے جو صرف متمول لوگ استعمال کرتے تھے۔
ہماری عوام چینی مائینڈ سیٹ پر کنفیوز رہتی ہے. ہم سمجھتے ہیں جیسا امریکی یا روسی مزاج ہے یہی سپر پاور کا مزاج ہوتا ہے. یعنی سپر پاور علاقے کا چوہدری ہونا چاہئے. چین جبکہ علاقے کا بزنس مین ہے. اُس کی سوچ اپنے اور اپنے کاروبار کے دفاع کے گرد گھوم رہی ہوتی۔
البتہ اپنے اور اپنے کاروبار کے دفاع میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے. کیونکہ چین ڈیڑھ ارب آبادی کا ملک ہے۔
اُس نے بتایا میرے بچپن میں سارے گاوں میں بس ایک ہی ٹی وی تھا. یہ جاپان کا پینا سونک ٹی وی تھا. سارے گاوں میں شام کی یہ واحد تفریح تھی جس کے سامنے بچے بوڑھے مرد و خواتین شام کو بیٹھ جاتے. پھر اس کی پکچر ٹیوب خراب ہوگئی۔
گاوں والوں نے پتہ کرایا تو پتہ چلا یہ دستیاب نہیں بلکہ منگوائی جاتی ہے. اور اس کی قیمت 18 سو یوان ہے. یہ پیسے گاوں کے کسی ایک اچھے گھر کے دو سال کی بچت تھی. وہ ٹی وی دوبارہ نہیں چلا. یہی حال ہر امپورٹڈ آئٹم کا تھا کے سب کی قیمتیں بلند تھیں۔
چینی مارکیٹ نے اس بہت بڑی آبادی کیلئے مینو فیکچرنگ شروع کی. اور وہ پھر ہر چیز بناتے چلے گئے. اُس کم قیمت میں جس پر ان کی مارکیٹ یہ خرید سکے. اسی سوچ نے زیادہ پیداوار کم قیمت کی اپروچ بنائی اور ساری دُنیا کی غریب مڈل کلاس کو وہ سب کچھ کم قیمت میں دستیاب کرا دیا پہلے جو صرف متمول لوگ استعمال کرتے تھے۔
ہماری عوام چینی مائینڈ سیٹ پر کنفیوز رہتی ہے. ہم سمجھتے ہیں جیسا امریکی یا روسی مزاج ہے یہی سپر پاور کا مزاج ہوتا ہے. یعنی سپر پاور علاقے کا چوہدری ہونا چاہئے. چین جبکہ علاقے کا بزنس مین ہے. اُس کی سوچ اپنے اور اپنے کاروبار کے دفاع کے گرد گھوم رہی ہوتی۔
البتہ اپنے اور اپنے کاروبار کے دفاع میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے. کیونکہ چین ڈیڑھ ارب آبادی کا ملک ہے۔
ایک گائے اور بکری
( ماخوذ - بچوں کے لیے )
اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں
تھی سراپا بہار جس کی زمیں
کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں
ہر طرف صاف ندیاں تھیں رواں
تھے اناروں کے بے شمار درخت
اور پیپل کے سایہ دار درخت
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں
طائروں کی صدائیں آتی تھیں
کسی ندی کے پاس اک بکری
چرتے چرتے کہیں سے آ نکلی
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا
پاس اک گائے کو کھڑے پایا
پہلے جھک کر اسے سلام کیا
پھر سلیقے سے یوں کلام کیا
کیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں
گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی
ہے مصیبت میں زندگی اپنی
جان پر آ بنی ہے ، کیا کہیے
اپنی قسمت بری ہے ، کیا کہیے
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو میں
رو رہی ہوں بروں کی جان کو میں
زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لکھا نصیبوں کا
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے
ہوں جو دبلی تو بیچ کھاتا ہے
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے
کن فریبوں سے رام کرتا ہے
اس کے بچوں کو پالتی ہوں میں
دودھ سے جان ڈالتی ہوں میں
بدلے نیکی کے یہ برائی ہے
میرے اللہ! تری دہائی ہے
سن کے بکری یہ ماجرا سارا
بولی ، ایسا گلہ نہیں اچھا
بات سچی ہے بے مزا لگتی
میں کہوں گی مگر خدا لگتی
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
یہ ہری گھاس اور یہ سایا
ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں!
یہ مزے آدمی کے دم سے ہیں
لطف سارے اسی کے دم سے ہیں
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی
قید ہم کو بھلی ، کہ آزادی!
سو طرح کا بنوں میں ہے کھٹکا
واں کی گزران سے بچائے خدا
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا
ہم کو زیبا نہیں گلا اس کا
قدر آرام کی اگر سمجھو
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو
گائے سن کر یہ بات شرمائی
آدمی کے گلے سے پچھتائی
دل میں پرکھا بھلا برا اس نے
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
( ماخوذ - بچوں کے لیے )
اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں
تھی سراپا بہار جس کی زمیں
کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں
ہر طرف صاف ندیاں تھیں رواں
تھے اناروں کے بے شمار درخت
اور پیپل کے سایہ دار درخت
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں
طائروں کی صدائیں آتی تھیں
کسی ندی کے پاس اک بکری
چرتے چرتے کہیں سے آ نکلی
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا
پاس اک گائے کو کھڑے پایا
پہلے جھک کر اسے سلام کیا
پھر سلیقے سے یوں کلام کیا
کیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں
گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی
ہے مصیبت میں زندگی اپنی
جان پر آ بنی ہے ، کیا کہیے
اپنی قسمت بری ہے ، کیا کہیے
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو میں
رو رہی ہوں بروں کی جان کو میں
زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لکھا نصیبوں کا
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے
ہوں جو دبلی تو بیچ کھاتا ہے
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے
کن فریبوں سے رام کرتا ہے
اس کے بچوں کو پالتی ہوں میں
دودھ سے جان ڈالتی ہوں میں
بدلے نیکی کے یہ برائی ہے
میرے اللہ! تری دہائی ہے
سن کے بکری یہ ماجرا سارا
بولی ، ایسا گلہ نہیں اچھا
بات سچی ہے بے مزا لگتی
میں کہوں گی مگر خدا لگتی
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
یہ ہری گھاس اور یہ سایا
ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں!
یہ مزے آدمی کے دم سے ہیں
لطف سارے اسی کے دم سے ہیں
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی
قید ہم کو بھلی ، کہ آزادی!
سو طرح کا بنوں میں ہے کھٹکا
واں کی گزران سے بچائے خدا
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا
ہم کو زیبا نہیں گلا اس کا
قدر آرام کی اگر سمجھو
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو
گائے سن کر یہ بات شرمائی
آدمی کے گلے سے پچھتائی
دل میں پرکھا بھلا برا اس نے
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
ایک پہا ڑ اور گلہری
( ماخوذ از ایمرسن - بچوں کے لیے)
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چیز ہے ، اس پر غرور ، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا کہنا!
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
جو بات مجھ میں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا
جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کیا تجھ میں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
( ماخوذ از ایمرسن - بچوں کے لیے)
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چیز ہے ، اس پر غرور ، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا کہنا!
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
جو بات مجھ میں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا
جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کیا تجھ میں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
علامہ اقبال کے کرافٹ وغیرہ پر بحث چل رہی ہے۔ یہ اہل فن کا کام ہے۔ اپنی نہایت محدود صلاحیت نے اس نکتے کو پایا ہے کہ ان کے کلام میں جو سوز اور درد ہے اور معرفت کی جو چاشنی ہے وہ کم ہی کسی شاعر یا ادیب کے نصیب میں آئی ہے، البتہ انھیں احساس تھا کہ اس متاع کے حاملین اس معمورے میں تھوڑے ہیں۔ زبور عجم یا پیام مشرق میں کہتے ہیں :
نصیبے نیست از سوز درونم مرز و بومم را
زدم اکسیر را بر خاک صحرا باطل افتاد است
کہ میرے وطن کے لوگوں نے میرے داخلی درد کا کچھ حصہ نہ پایا۔ میں نے اکسیر کو صحرا کی خاک پر گرایا اور وہ بے کار چلی گئی۔
اسی طرح کہتے ہیں کہ :
یہاں کا لالہ بے سوز جگر ہے
یہ مضمون ان کے شعر میں اور جگہ بھی ملتا ہے۔
یہ متاع انھیں اس قدر عزیز ہے کہ وہ اسے مقام بندگی کہتے ہیں اور اس کو دے کر شان خداوندی لینے کو تیار نہیں۔
متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی
یہ درد و سوز انھیں قرآن اور رومی کی صحبت سے ملا اور ان کے کلام سے درد آشنا دلوں کو اس کی کسک صاف محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ عنصر ان کے کلام کو وہ رفعت بخش دیتا ہے کہ لفظوں سے کھیلنے والے اس معراج کو نہیں پہنچ سکتے۔ ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.
نصیبے نیست از سوز درونم مرز و بومم را
زدم اکسیر را بر خاک صحرا باطل افتاد است
کہ میرے وطن کے لوگوں نے میرے داخلی درد کا کچھ حصہ نہ پایا۔ میں نے اکسیر کو صحرا کی خاک پر گرایا اور وہ بے کار چلی گئی۔
اسی طرح کہتے ہیں کہ :
یہاں کا لالہ بے سوز جگر ہے
یہ مضمون ان کے شعر میں اور جگہ بھی ملتا ہے۔
یہ متاع انھیں اس قدر عزیز ہے کہ وہ اسے مقام بندگی کہتے ہیں اور اس کو دے کر شان خداوندی لینے کو تیار نہیں۔
متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی
یہ درد و سوز انھیں قرآن اور رومی کی صحبت سے ملا اور ان کے کلام سے درد آشنا دلوں کو اس کی کسک صاف محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ عنصر ان کے کلام کو وہ رفعت بخش دیتا ہے کہ لفظوں سے کھیلنے والے اس معراج کو نہیں پہنچ سکتے۔ ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.
اشتہاری پوسٹ ناظرین کے سامنے مسلسل آتی ہے۔
اپنی پوسٹ کو اشتہاری پوسٹ بنانے کے لیے اس واٹس ایپ پر تشریف لائیں:
03332837628
اپنی پوسٹ کو اشتہاری پوسٹ بنانے کے لیے اس واٹس ایپ پر تشریف لائیں:
03332837628
ایک مکڑا اور مکھی
(ماخوذ - بچوں کے لیے)
اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا
غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے
اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا
آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری
وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا
اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے
جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا ، پھر نہیں اترا
مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے
تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا!
اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے
دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے
ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا
مکھی نے کہا خیر ، یہ سب ٹھیک ہے لیکن
میں آپ کے گھر آؤں ، یہ امید نہ رکھنا
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا
مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی !
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجی
بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
(ماخوذ - بچوں کے لیے)
اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا
غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے
اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا
آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری
وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا
اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے
جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا ، پھر نہیں اترا
مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے
تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا!
اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے
دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے
ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا
مکھی نے کہا خیر ، یہ سب ٹھیک ہے لیکن
میں آپ کے گھر آؤں ، یہ امید نہ رکھنا
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا
مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی !
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجی
بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟
ازقلم: مولانا زاہدالراشدی صاحب
جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے، خدانخواستہ اس کو کچھ ہوگیا تو اس خطہ کے مسلمانوں کو سمندر بھی پناہ نہیں دے گا۔
اس وقت تو میں نے جنوبی ایشیا کے حوالہ سے بات کی مگر بعد میں جب سوچا تو معروضی حقائق کا ایک نیا نقشہ سامنے آیا کہ بات صرف جنوبی ایشیا کی نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مشرق بعید کے سنگم میں واقع یہ اسلامی ریاست ان تمام خطوں کے مسلمانوں کی امیدوں کا آخری مرکز بن گئی ہے جو روس، بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اس تکونی استعمار کے مذموم عزائم کی تکمیل کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ جبکہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں امریکی عزائم اور پروگرام کی راہ میں حائل ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان کی نظریاتی اور عسکری قوت ناقابل برداشت ہوتی چلی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے وجود اور جغرافیائی وحدت یا کم از کم اس کی نظریاتی و عسکری قوت کو توڑنے پر ان سب قوتوں کا درپردہ اتفاق محسوس ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے جہاں پاکستان میں علاقائی، نسلی اور لسانی عصبیتوں کو ایک کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے وہاں مذہبی حلقوں کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ نفسیاتی وار بے کار ثابت نہیں ہوگا کہ چونکہ ان کے بڑے بزرگوں نے پاکستان کے قیام اور برصغیر کی تقسیم کی مخالفت کی تھی اس لیے پاکستان کے منتشر ہوجانے سے ان بزرگوں کی سیاسی بصیرت کا اظہار ہوگا اور ان کا موقف تاریخ کے میزان پر درست ثابت ہو جائے گا۔
میں نہیں سمجھتا کہ کوئی باشعور شخص یا حلقہ صرف اتنی سی ’’نفسیاتی تسکین‘‘ کے لیے پاکستان کی جغرافیائی سالمیت اور قومی وحدت کو داؤ پر لگانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جائے گا لیکن کسی بھی طبقہ میں ایسے جذباتی اور ظاہر بین لوگوں کی کمی نہیں ہوتی جو بزرگوں کے نام اور ان کے ساتھ عقیدت کے حوالہ سے بے وقوف بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس لیے اس موقع پر اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جن بڑی دینی شخصیات اور بزرگوں نے برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی انہوں نے پاکستان بننے کے ساتھ ہی اپنا اختلاف ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور پاکستان کے وجود اور استحکام کو ملت اسلامیہ کے مفاد میں ضروری قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو اس کی بقا و استحکام کے لیے محنت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی تھی۔
قیام پاکستان کی مخالفت میں جن علمی و دینی شخصیات کے نام لیے جاتے ہیں ان میں تین بزرگ سب سے زیادہ نمایاں اور سرفہرست ہیں۔ امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ۔ یہ تین بزرگ وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اسے مسلمانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے قیام کو روکنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیا لیکن پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان کے بارے میں ان بزرگوں کا طرز عمل کیا تھا؟ اس کے لیے چند تاریخی حوالوں کو سامنے لانا مناسب نظر آتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزادؒ کے بارے میں پاکستان کی پولیس اور انٹیلی جنس کے ایک اہم سابق عہدیدار راؤ عبد الرشید کی مطبوعہ یادداشتوں کے حوالہ سے یہ بات قومی پریس کے ریکارڈ میں آچکی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی تقسیم کا فیصلہ ہوجانے کے بعد جب ریاستوں کو ان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار ملا تو بلوچستان کی ریاست قلات کے نواب احمد یار خان مرحوم نے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور اپنے وزیر دربار میر غوث بخش بزنجو مرحوم کو اس سلسلہ میں کانگریسی لیڈروں سے بات چیت کے لیے دہلی بھیجا۔ وہاں حسن اتفاق سے ان کی پہلی ملاقات مولانا ابوالکلام آزادؒ سے ہوئی جنہوں نے اس فیصلہ کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے میر غوث بخش بزنجو کو دوسرے کانگریسی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنے سے روک دیا اور قلات واپس جا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے اور اسے مستحکم بنانے کی تلقین کی۔
اس سلسلہ میں ایک اور تاریخی شہادت کا تذکرہ ممتاز مسلم لیگی راہنما سید احمد سعید کرمانی نے اپنے حالیہ تفصیلی انٹرویو میں کیا ہے جو روزنامہ جنگ نے ۲۲ جولائی ۲۰۰۱ء کے سنڈے میگزین میں شائع کیا ہے، اس میں کرمانی صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’میں ابوالکلام آزادؒ کی قبر پر جانا چاہتا ہوں وہ اس لیے کہ نو اگست (۱۹۴۷ء) کو لیاقت علی خان نے مولانا آزاد کو فون کیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ ۱۴ اگست کو پاکستان بننا تھا، انہوں نے کہا کہ آجاؤ، وہ نشتر اور غضنفر کو ساتھ لے گئے۔ جب بیٹھے تو لیاقت علی خان نے کہا کہ میں کل جا رہا ہوں کیونکہ ۱۳ تاریخ کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی پہنچنا ہے اور ملک آزاد ہونا ہے، آپ نے یہاں رہنا ہے اس لیے ماضی میں کوئی غلطی یا کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کر دیں۔ ابوالکلام آزاد نے کہا کہ جن حالات سے ہم گزرے ہیں ان میں ایسی باتیں ہو ہی جاتی ہیں۔ جب وہ واپس آنے لگے تو ابوالکلام آزاد نے ایک بات اور کہہ دی۔ ان کا تکیہ کلام تھا میرے بھائی۔ انہوں نے کہا کہ میرے بھائی ذرا بات سننا۔ وہ واپس آگئے تو کہا کہ میرے بھائی لیاقت مجھے یہ ڈر ہے کہ تقسیم کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستان میں مسلمان نہ رہیں اور پاکستان میں اسلام نہ رہے۔ پاکستان بننے کے بعد ایک آدمی مولانا کے پاس گیا اور پوچھا کہ میں مولانا میں پاکستان چلا جاؤں؟ مولانا نے کہا کہ آپ ضرور جائیں، پاکستان کو آپ جیسے اچھے لوگوں کی ضرورت ہے، پاکستان بنانا غلطی تھی لیکن اب پاکستان کو غیر مستحکم بنانا اس سے بڑی غلطی ہوگی۔‘‘
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی سے قیام پاکستان کے بعد جب ان کے پاکستان میں رہ جانے والے عقیدت مندوں نے اپنے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے تحریری خط میں جواب دیا کہ انہیں اب پاکستان کے استحکام اور اسے ایک صحیح اسلامی ریاست بنانے کے لیے خلوص و محنت سے کام کرنا چاہیے۔ حضرت مدنی نے اس سلسلہ میں ایک بڑی خوبصورت مثال دی کہ کسی جگہ مسجد بنانے کے بارے میں یہ اختلاف تو ہو سکتا ہے کہ کتنی جگہ پر بنائی جائے، کہاں بنائی جائے اور اس کا نقشہ کیسا ہو؟ لیکن جب اختلاف میں ایک فریق غالب آجائے اور دوسرے فریق کی رائے کو نظر انداز کر کے مسجد تعمیر کر لے تو اب وہ سب کی مشترکہ مسجد ہے اور اس کا ادب و احترام اور اس کی حفاظت وہاں کے سب مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حضرت مدنی کا یہ مکتوب گرامی حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ آف اٹک نے حضرت مدنی کے حالات زندگی پر اپنی کتاب ’’چراغ محمدؐ‘‘ میں شائع کیا ہے۔
اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے تو قیام پاکستان کے بعد نہ صرف مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی اختلاف ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ ’’دفاع پاکستان کانفرنسیں‘‘ منعقد کر کے لوگوں کو استحکام پاکستان کی جنگ لڑنے کے لیے تیار کیا۔ اور ۱۲، ۱۳، ۱۴ جنوری ۱۹۴۹ء کو دہلی دروازہ لاہور میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام ’’دفاع پاکستان کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت نے اپنا موقف یوں پیش کیا کہ:
’’مسلم لیگ سے ہمارا اختلاف صرف یہ تھا کہ ملک کا نقشہ کس طرح بنے، یہ نہیں کہ ملک نہ بنے بلکہ یہ کہ اس کا نقشہ کیوں کر ہو۔ یہ کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا۔ نہ حلال و حرام کا، نہ گناہ و ثواب کا اور نہ مذہب کا۔ وہ تو ایک نظریے کا اختلاف تھا، ہم چاہتے تھے کہ پورے چھ صوبے ملیں اور مسلم لیگ بھی چاہتی تھی۔ ہمارا اختلاف صرف مرکز کی علیحدگی پر تھا۔ مسلم لیگ بھی فرقہ وارانہ جماعت تھی اور مجلس احرار بھی۔ مسلم لیگ میں بھی کوئی غیر مسلم شامل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ احرار میں کوئی غیر مسلم شامل ہو سکتا ہے۔ بس اختلاف تھا تو اتنا کہ ہم کہتے تھے آزادی مل جائے، سنبھل لیں اور اس کے دس سال بعد مرکز سے بھی علیحدہ ہو جائیں گے مگر لیگ کہتی تھی کہ نہیں مرکز کے ساتھ ہمارا کوئی الحاق نہیں رہ سکتا۔ وگرنہ تقسیم ملک کے ہم بھی قائل تھے۔ کرپس فارمولا اب بھی موجود ہے، اس میں تقسیم ملک ہی کا قصہ درج ہے، ہم پورے چھ صوبوں پر مصر تھے لیکن کانگرنس نے تقسیم در تقسیم کو قبول کر لیا اور گائے کا قیمہ کر کے اس کے کوفتے بنا دیے۔
پس! اب ہمارا مسلم لیگ سے کوئی اختلاف نہیں، نہ پہلے ہمارے اور ان کے درمیان مذہبی اختلاف تھا، نہ خدا کا، نہ رسولؐ کا، نہ ہم ولی ہیں اور نہ لیگ والے قطب۔ اگر لیگ والے گنہگار ہیں تو ہم کون سا ولی اللہ ہیں؟ ہمارا اور ان کا اختلاف صرف مرکز سے علیحدگی پر تھا اور داغ کے الفاظ میں یوں کہنا چاہیے:
مدت سے میری ان کی قیامت کی ہے تکرار
بات اتنی ہے وہ کل کہتے ہیں میں آج
ہمارا اور لیگ کا اختلاف کوئی کفر اور ایمان کا اختلاف تو نہ تھا یہ تو بالکل سطحی اختلاف تھا۔ بھائی حسام الدین نے آپ کے سامنے جو قرارداد پیش کی ہے وہ مجلس احرار کی آئندہ پالیسی کی آئینہ دار ہے، ہم نے اپنی تیس سال کی کمائی حکومت اور مسلم لیگ کے حوالہ کر دی ہے۔
سپردم بنو مایہ خویش را
امیر شریعت کا یہ تفصیلی خطاب جانباز مرزا مرحوم نے ’’حیات امیر شریعت‘‘ میں نقل کیا ہے اور وہیں سے ہم نے یہ اقتباس حاصل کیا ہے۔ جبکہ جانباز مرزا مرحوم نے حضرت شاہ جیؒ کا ایک مکتوب بھی نقل کیا ہے جس میں امیر شریعت فرماتے ہیں:
’’میری آخری رائے اب بھی یہی ہے کہ ہر مسلمان کو پاکستان کی فلاح و بہبود کی راہیں سوچنی چاہئیں اور اس کے لیے عملی اقدام اٹھانا چاہیے۔ مجلس احرار کو ہر نیک کام میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور خلاف شرع کام سے اجتناب۔ اصلاح احوال کے لیے ایک دوسرے سے مل کر ’’الدین النصیحہ‘‘ پر عمل ہونا چاہیے، یہ ارشاد ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا۔‘‘
حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ان ارشادات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے فضا میں خطرے کی بو سونگھ رہا ہوں اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اس استعماری منصوبہ بندی میں بعض حلقوں کی ’’نفسیاتی تسکین‘‘ کے لیے ان بزرگوں کا نام بھی استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان بزرگوں کا موقف پاکستان کو توڑنے اور اس کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کا نہیں بلکہ اس کے وجود کی حفاظت اور اسے مستحکم سے مستحکم تر کرنے کا ہے۔ کسی کا دل اس کے خلاف جانے کو چاہے تو سو دفعہ جائے یہ اس کے اپنے ضمیر کی بات ہے مگر اس کے لیے ان بزرگوں کا نام استعمال کرنا بد دیانتی ہوگی۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۲ ستمبر ۲۰۰۱ء)
ازقلم: مولانا زاہدالراشدی صاحب
جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے، خدانخواستہ اس کو کچھ ہوگیا تو اس خطہ کے مسلمانوں کو سمندر بھی پناہ نہیں دے گا۔
اس وقت تو میں نے جنوبی ایشیا کے حوالہ سے بات کی مگر بعد میں جب سوچا تو معروضی حقائق کا ایک نیا نقشہ سامنے آیا کہ بات صرف جنوبی ایشیا کی نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مشرق بعید کے سنگم میں واقع یہ اسلامی ریاست ان تمام خطوں کے مسلمانوں کی امیدوں کا آخری مرکز بن گئی ہے جو روس، بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ اور اس تکونی استعمار کے مذموم عزائم کی تکمیل کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ جبکہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں امریکی عزائم اور پروگرام کی راہ میں حائل ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان کی نظریاتی اور عسکری قوت ناقابل برداشت ہوتی چلی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے وجود اور جغرافیائی وحدت یا کم از کم اس کی نظریاتی و عسکری قوت کو توڑنے پر ان سب قوتوں کا درپردہ اتفاق محسوس ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے جہاں پاکستان میں علاقائی، نسلی اور لسانی عصبیتوں کو ایک کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے وہاں مذہبی حلقوں کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ نفسیاتی وار بے کار ثابت نہیں ہوگا کہ چونکہ ان کے بڑے بزرگوں نے پاکستان کے قیام اور برصغیر کی تقسیم کی مخالفت کی تھی اس لیے پاکستان کے منتشر ہوجانے سے ان بزرگوں کی سیاسی بصیرت کا اظہار ہوگا اور ان کا موقف تاریخ کے میزان پر درست ثابت ہو جائے گا۔
میں نہیں سمجھتا کہ کوئی باشعور شخص یا حلقہ صرف اتنی سی ’’نفسیاتی تسکین‘‘ کے لیے پاکستان کی جغرافیائی سالمیت اور قومی وحدت کو داؤ پر لگانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جائے گا لیکن کسی بھی طبقہ میں ایسے جذباتی اور ظاہر بین لوگوں کی کمی نہیں ہوتی جو بزرگوں کے نام اور ان کے ساتھ عقیدت کے حوالہ سے بے وقوف بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس لیے اس موقع پر اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جن بڑی دینی شخصیات اور بزرگوں نے برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی انہوں نے پاکستان بننے کے ساتھ ہی اپنا اختلاف ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور پاکستان کے وجود اور استحکام کو ملت اسلامیہ کے مفاد میں ضروری قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو اس کی بقا و استحکام کے لیے محنت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی تھی۔
قیام پاکستان کی مخالفت میں جن علمی و دینی شخصیات کے نام لیے جاتے ہیں ان میں تین بزرگ سب سے زیادہ نمایاں اور سرفہرست ہیں۔ امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ۔ یہ تین بزرگ وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اسے مسلمانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے قیام کو روکنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیا لیکن پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان کے بارے میں ان بزرگوں کا طرز عمل کیا تھا؟ اس کے لیے چند تاریخی حوالوں کو سامنے لانا مناسب نظر آتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزادؒ کے بارے میں پاکستان کی پولیس اور انٹیلی جنس کے ایک اہم سابق عہدیدار راؤ عبد الرشید کی مطبوعہ یادداشتوں کے حوالہ سے یہ بات قومی پریس کے ریکارڈ میں آچکی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی تقسیم کا فیصلہ ہوجانے کے بعد جب ریاستوں کو ان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار ملا تو بلوچستان کی ریاست قلات کے نواب احمد یار خان مرحوم نے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور اپنے وزیر دربار میر غوث بخش بزنجو مرحوم کو اس سلسلہ میں کانگریسی لیڈروں سے بات چیت کے لیے دہلی بھیجا۔ وہاں حسن اتفاق سے ان کی پہلی ملاقات مولانا ابوالکلام آزادؒ سے ہوئی جنہوں نے اس فیصلہ کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے میر غوث بخش بزنجو کو دوسرے کانگریسی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنے سے روک دیا اور قلات واپس جا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے اور اسے مستحکم بنانے کی تلقین کی۔
اس سلسلہ میں ایک اور تاریخی شہادت کا تذکرہ ممتاز مسلم لیگی راہنما سید احمد سعید کرمانی نے اپنے حالیہ تفصیلی انٹرویو میں کیا ہے جو روزنامہ جنگ نے ۲۲ جولائی ۲۰۰۱ء کے سنڈے میگزین میں شائع کیا ہے، اس میں کرمانی صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’میں ابوالکلام آزادؒ کی قبر پر جانا چاہتا ہوں وہ اس لیے کہ نو اگست (۱۹۴۷ء) کو لیاقت علی خان نے مولانا آزاد کو فون کیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ ۱۴ اگست کو پاکستان بننا تھا، انہوں نے کہا کہ آجاؤ، وہ نشتر اور غضنفر کو ساتھ لے گئے۔ جب بیٹھے تو لیاقت علی خان نے کہا کہ میں کل جا رہا ہوں کیونکہ ۱۳ تاریخ کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی پہنچنا ہے اور ملک آزاد ہونا ہے، آپ نے یہاں رہنا ہے اس لیے ماضی میں کوئی غلطی یا کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کر دیں۔ ابوالکلام آزاد نے کہا کہ جن حالات سے ہم گزرے ہیں ان میں ایسی باتیں ہو ہی جاتی ہیں۔ جب وہ واپس آنے لگے تو ابوالکلام آزاد نے ایک بات اور کہہ دی۔ ان کا تکیہ کلام تھا میرے بھائی۔ انہوں نے کہا کہ میرے بھائی ذرا بات سننا۔ وہ واپس آگئے تو کہا کہ میرے بھائی لیاقت مجھے یہ ڈر ہے کہ تقسیم کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستان میں مسلمان نہ رہیں اور پاکستان میں اسلام نہ رہے۔ پاکستان بننے کے بعد ایک آدمی مولانا کے پاس گیا اور پوچھا کہ میں مولانا میں پاکستان چلا جاؤں؟ مولانا نے کہا کہ آپ ضرور جائیں، پاکستان کو آپ جیسے اچھے لوگوں کی ضرورت ہے، پاکستان بنانا غلطی تھی لیکن اب پاکستان کو غیر مستحکم بنانا اس سے بڑی غلطی ہوگی۔‘‘
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی سے قیام پاکستان کے بعد جب ان کے پاکستان میں رہ جانے والے عقیدت مندوں نے اپنے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے تحریری خط میں جواب دیا کہ انہیں اب پاکستان کے استحکام اور اسے ایک صحیح اسلامی ریاست بنانے کے لیے خلوص و محنت سے کام کرنا چاہیے۔ حضرت مدنی نے اس سلسلہ میں ایک بڑی خوبصورت مثال دی کہ کسی جگہ مسجد بنانے کے بارے میں یہ اختلاف تو ہو سکتا ہے کہ کتنی جگہ پر بنائی جائے، کہاں بنائی جائے اور اس کا نقشہ کیسا ہو؟ لیکن جب اختلاف میں ایک فریق غالب آجائے اور دوسرے فریق کی رائے کو نظر انداز کر کے مسجد تعمیر کر لے تو اب وہ سب کی مشترکہ مسجد ہے اور اس کا ادب و احترام اور اس کی حفاظت وہاں کے سب مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حضرت مدنی کا یہ مکتوب گرامی حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ آف اٹک نے حضرت مدنی کے حالات زندگی پر اپنی کتاب ’’چراغ محمدؐ‘‘ میں شائع کیا ہے۔
اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے تو قیام پاکستان کے بعد نہ صرف مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی اختلاف ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ ’’دفاع پاکستان کانفرنسیں‘‘ منعقد کر کے لوگوں کو استحکام پاکستان کی جنگ لڑنے کے لیے تیار کیا۔ اور ۱۲، ۱۳، ۱۴ جنوری ۱۹۴۹ء کو دہلی دروازہ لاہور میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام ’’دفاع پاکستان کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت نے اپنا موقف یوں پیش کیا کہ:
’’مسلم لیگ سے ہمارا اختلاف صرف یہ تھا کہ ملک کا نقشہ کس طرح بنے، یہ نہیں کہ ملک نہ بنے بلکہ یہ کہ اس کا نقشہ کیوں کر ہو۔ یہ کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا۔ نہ حلال و حرام کا، نہ گناہ و ثواب کا اور نہ مذہب کا۔ وہ تو ایک نظریے کا اختلاف تھا، ہم چاہتے تھے کہ پورے چھ صوبے ملیں اور مسلم لیگ بھی چاہتی تھی۔ ہمارا اختلاف صرف مرکز کی علیحدگی پر تھا۔ مسلم لیگ بھی فرقہ وارانہ جماعت تھی اور مجلس احرار بھی۔ مسلم لیگ میں بھی کوئی غیر مسلم شامل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ احرار میں کوئی غیر مسلم شامل ہو سکتا ہے۔ بس اختلاف تھا تو اتنا کہ ہم کہتے تھے آزادی مل جائے، سنبھل لیں اور اس کے دس سال بعد مرکز سے بھی علیحدہ ہو جائیں گے مگر لیگ کہتی تھی کہ نہیں مرکز کے ساتھ ہمارا کوئی الحاق نہیں رہ سکتا۔ وگرنہ تقسیم ملک کے ہم بھی قائل تھے۔ کرپس فارمولا اب بھی موجود ہے، اس میں تقسیم ملک ہی کا قصہ درج ہے، ہم پورے چھ صوبوں پر مصر تھے لیکن کانگرنس نے تقسیم در تقسیم کو قبول کر لیا اور گائے کا قیمہ کر کے اس کے کوفتے بنا دیے۔
پس! اب ہمارا مسلم لیگ سے کوئی اختلاف نہیں، نہ پہلے ہمارے اور ان کے درمیان مذہبی اختلاف تھا، نہ خدا کا، نہ رسولؐ کا، نہ ہم ولی ہیں اور نہ لیگ والے قطب۔ اگر لیگ والے گنہگار ہیں تو ہم کون سا ولی اللہ ہیں؟ ہمارا اور ان کا اختلاف صرف مرکز سے علیحدگی پر تھا اور داغ کے الفاظ میں یوں کہنا چاہیے:
مدت سے میری ان کی قیامت کی ہے تکرار
بات اتنی ہے وہ کل کہتے ہیں میں آج
ہمارا اور لیگ کا اختلاف کوئی کفر اور ایمان کا اختلاف تو نہ تھا یہ تو بالکل سطحی اختلاف تھا۔ بھائی حسام الدین نے آپ کے سامنے جو قرارداد پیش کی ہے وہ مجلس احرار کی آئندہ پالیسی کی آئینہ دار ہے، ہم نے اپنی تیس سال کی کمائی حکومت اور مسلم لیگ کے حوالہ کر دی ہے۔
سپردم بنو مایہ خویش را
امیر شریعت کا یہ تفصیلی خطاب جانباز مرزا مرحوم نے ’’حیات امیر شریعت‘‘ میں نقل کیا ہے اور وہیں سے ہم نے یہ اقتباس حاصل کیا ہے۔ جبکہ جانباز مرزا مرحوم نے حضرت شاہ جیؒ کا ایک مکتوب بھی نقل کیا ہے جس میں امیر شریعت فرماتے ہیں:
’’میری آخری رائے اب بھی یہی ہے کہ ہر مسلمان کو پاکستان کی فلاح و بہبود کی راہیں سوچنی چاہئیں اور اس کے لیے عملی اقدام اٹھانا چاہیے۔ مجلس احرار کو ہر نیک کام میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور خلاف شرع کام سے اجتناب۔ اصلاح احوال کے لیے ایک دوسرے سے مل کر ’’الدین النصیحہ‘‘ پر عمل ہونا چاہیے، یہ ارشاد ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا۔‘‘
حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ان ارشادات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے فضا میں خطرے کی بو سونگھ رہا ہوں اور یوں محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اس استعماری منصوبہ بندی میں بعض حلقوں کی ’’نفسیاتی تسکین‘‘ کے لیے ان بزرگوں کا نام بھی استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان بزرگوں کا موقف پاکستان کو توڑنے اور اس کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کا نہیں بلکہ اس کے وجود کی حفاظت اور اسے مستحکم سے مستحکم تر کرنے کا ہے۔ کسی کا دل اس کے خلاف جانے کو چاہے تو سو دفعہ جائے یہ اس کے اپنے ضمیر کی بات ہے مگر اس کے لیے ان بزرگوں کا نام استعمال کرنا بد دیانتی ہوگی۔
(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۲ ستمبر ۲۰۰۱ء)
مہنگے پٹرول کا سستا حل
کالم سعود عثمانی
جمعرات 14 مئی 2026
روزنامہ دنیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہنگے پٹرول کا سستا حل
417 روپے لٹر پٹرول ڈلوا کر پمپ سے نکلا تو خون کھول رہا تھا۔ گرمی کے دن کا آغاز اس سرگرمی سے ہو تو سارا دن تو موڈ خراب رہنا ہی ہے۔ غور کر رہا تھا کہ اس مہینے اب تک میرا کتنا پٹرول خرچ ہوا ہے اور کتنا مزید خرچ ہوگا۔ خون جلنے کی اب تک کوئی قیمت طے نہیں ہوئی ورنہ لاکھوں میں پہنچتی۔ پمپ سے نکل کر سڑک پر آیا تو ایک تیز رفتار موٹر سائیکل والا میری گاڑی سے بالکل رگڑتا ہوا گزر گیا۔ گاڑی سے بلبلانے کی آوازیں آئیں۔ موٹر سائیکل والا کچھ لڑکھڑایا، لیکن سنبھل کر مزید تیز رفتاری سے بھاگتا چلا گیا۔ اسے پکڑنا محال تھا۔ اتر کر دیکھا تو گاڑی کی دائیں طرف کا کچھ حصہ اندر جاچکا تھا اور رنگ بھی اتر چکا تھا۔ میرے اشتعال میں اضافہ ہوگیا، لیکن یہ غصہ کس پر نکالوں۔ اس کمینے کو برا بھلا کہتا میں پھر روانہ ہوگیا۔ راستے میں میرے مکینک نے گاڑی کا معائنہ کیا اور خوش خبری سنائی کہ کم از کم 25 ہزار روپے کا خرچ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ ناگہانی خرچ آپڑے ہوں۔ گاڑی کے خرچ تو نکلتے ہی رہتے تھے اور انھیں بھگتتے بھگتتے ادھ موا ہوچکا تھا۔ خرچ کے ساتھ ایک دن گاڑی بھی مکینک کے پاس چھوڑنی تھی، اس لیے آج کے باقی سب پروگرام کینسل۔
رات کو گھر پر رکشہ سے اتر رہا تھا کہ خواجہ بدر نظر آگئے۔ بولے، ”عثمانی صاحب! خیریت۔ گاڑی کہاں ہے؟“ میں بھرا ہوا تھا۔ ساری روداد تفصیل کے ساتھ سنائی۔ اس لیے بھی کہ خواجہ بدر کو میں خواجہ خضر کہتا ہوں۔ ریٹائرڈ، تجربے کار اور تیر بہدف ٹوٹکوں کے سب سے بڑے خزانچی ہیں۔ میں نے کہا خواجہ صاحب! پٹرول اور گاڑی کا خرچ میری برداشت سے باہر ہوچکا ہے۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں؟ سوچ رہا ہوں سائیکل لے لوں، لیکن گھاٹیاں اتر کر پھر اوپر چڑھنا مجھ دل کے مریض کے لیے ایک الگ مسئلہ ہے۔ خواجہ صاحب کہنے لگے، ”عثمانی صاحب! کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ تاریخ پر غور کریں غور۔ یہیں سارے مسائل کا حل چھپا ہوا ہے۔“ میرا چہرہ سوالیہ نشان بنا دیکھ کر بولے، ”یہ بتائیں جب گاڑیاں نہیں تھیں اور پٹرول دریافت نہیں ہوا تھا تو لوگ کیسے سفر کرتے تھے؟“ میں نے کہا، ”خواجہ صاحب! خدا کا نام لیں۔ میں اس عمر میں بیل گاڑی پر سفر کرتا اچھا لگوں گا؟ ہاتھی اور اونٹ کہاں ملتے ہیں پتہ نہیں۔ اور ان پر بیٹھا کیسے جائے گا۔ ایک لمبی سیڑھی الگ سے چاہیے۔ اور اونٹ ہاتھی کا سٹئیرنگ کس طرف ہوتا ہے؟ ان کے گئیر کیسے لگتے ہیں؟ ایک ڈرائیور بھی تو چاہیے ان کے لیے۔ پھر ہاتھی اور اونٹ کہاں باندھوں گا۔ ان کے لیے گنے اور چارہ کہاں سے آئے گا۔ آپ مشکلات کا حل بتا رہے ہیں یا مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔“ خواجہ صاحب ہنستے رہے۔ میں خاموش ہوا تو بولے، ”یہی تو مسئلہ ہے آپ کا۔ ہمیشہ شاہی سواریوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ نیچے اترتے ہی نہیں۔ 70 سی سی موٹر سائیکل چلا لیں گے، 600 سی سی گاڑی رکھ لیں گے، لیکن سوچیں گے ہمیشہ ہاتھی اور اونٹ کے بارے میں۔ بھائی! میں شاہی اور وزیروں کی سواریوں کی بات نہیں کر رہا۔ عام آدمی کیسے سفر کرتے تھے اس زمانے میں آسانی کے ساتھ۔ یہ پوچھ رہا ہوں۔“
میں نے پھر ذہن میں تاریخ کے صفحات گھمائے۔ بات سمجھ آنے لگی تھی، لیکن نہیں۔ بہت مشکل تھا یہ بھی۔ ”خواجہ صاحب! گھوڑا مجھ سے نہیں سنبھلے گا۔ جانے کہاں لے جاکر پٹخ دے۔ جست لگا کر سوار ہونا اس عمر میں بہت مشکل ہے۔ البتہ چھوٹا سا پیڈسٹل بنوایا جاسکتا ہے۔ جہاں گھوڑا آکر کھڑا ہوجائے اور میں اس پر سوار ہوجاؤں۔ لیکن گھوڑا تو کھاتا بھی بہت ہے۔ دانہ پانی کا کیا ہوگا؟ یہ بھی کافی خرچہ ہے۔“ خواجہ صاحب سن کر بولے، ”پھر وہی شاہی سواری۔ گھوڑا بھی شہنشاہی سواری ہے جناب۔ ذرا نیچے اتر آئیے گھوڑے سے۔ گھوڑا بھی مہنگا پڑے گا۔ عوامی سواری سوچیے۔ آپ سب کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ سوچتے نہیں۔ اللہ نے ہر مشکل کا حل بنایا ہے۔ کبھی گدھے کا نام سنا ہے؟ کیسا مسکین سا بے ضرر جانور ہے۔ نہ سیڑھی کی ضرورت نہ پیڈسٹل کی۔ میری مانیے۔ موٹر سائیکلیں، گاڑیاں بیچ دیجیے اور چھوٹے قد کے مضبوط 100 سی سی گدھے خرید لیجیے۔ سارا گھر انھی پر سفر کرے۔ واپس آکر گھر کے سامنے باندھ دیجیے یا گیراج میں۔ ان کی کھرلیاں بھی بن سکتی ہیں۔ گاڑیاں تو ہوں گی نہیں، جگہ خالی ہوگی۔ ایک گاڑی کی جگہ تین گدھے بندھ سکتے ہیں۔ نہ پٹرول کا خرچہ، نہ چالان کا ڈر، نہ مکینک کی جھک جھک۔ آپ تو بھولے بادشاہ ہیں۔ آپ کو کہاں پتہ ہوگا کہ نہ گدھے میں موبل آئل ڈلتا ہے نہ نہ رنگ پسٹن۔ ساری مصیبتوں سے آزادی ہے۔ پھر گدھا گھوڑے کی نسبت بہت کم کھاتا ہے۔ کسی گھسیارے سے بات کر لیجیے۔ دو تین سو کی گھاس ڈال دیا کرے روز ان کو۔ صبح اٹھے، کک ماری، گدھا سٹارٹ کیا اور چل سو چل۔ انڈر پاسز سے اتریں چڑھیں، کوئی محنت نہیں، شارٹ کٹ سے جائیں گے تو آدھ گھنٹے میں دفتر پہنچ جائیں گے۔ وہاں بھی ان کا بندوبست ہوسکتا ہے۔ گاڑی کی جگہ گدھا کھڑا کردیں اور اوپر کپڑا ڈال دیں، تاکہ مٹی سے محفوظ رہے۔“ میں خوش ہوگیا۔ بات سمجھ آنے لگی تھی۔ میں نے کہا، ”خواجہ صاحب! بہت عمدہ بات ہے۔ اللہ جزائے خیر دے۔ میرے دادا موٹر سائیکل کو مشینی گدھا کہتے تھے۔ تو کیا حرج ہے مشینی نہ سہی، اصلی گدھا سہی، زیادہ سے زیادہ آدمی شیخ چلی لگے گا، لیکن ایک دفعہ لوگوں کو فائدے پتہ لگ گئے تو بہت سارے شیخ چلی گدھوں پر صبح اکٹھے نکلا کریں گے، شام کو واپس اکٹھے آیا کریں گے۔ بہت اچھا لگے گا۔ جیسے اب موٹر سائیکلوں کی الگ لین ہوتی ہے ایسی ہی ایک کھوتا لین ہوجائے تو بڑا اچھا ہوجائے۔ لیکن یہ بتائیں گدھے میں سکیورٹی سسٹم لگ سکتا ہے؟ ایسا نہ ہو کوئی بھی گدھا سٹارٹ کرے اور لے جائے۔ آپ ٹاپتے رہ جائیں۔“ خواجہ صاحب کہنے لگے، ”ویسے تو گدھا اپنے مالک کو پہچانتا ہے، لیکن اس کی ٹانگوں میں سٹیرنگ لاک لگا بھی سکتے ہیں۔ یہ تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔“ مجھے گدھے میں سکیورٹی سسٹم نصب کرنے کے کئی آئیڈئیے آنے لگے، لیکن بات کرتے کرتے مجھے ایک اور خیال آیا۔ ”خواجہ صاحب! گدھوں کی ٹکر ہوجائے تو کیا ہوتا ہے۔ گدھوں میں ائیر بیگ ہوتے ہیں؟ یا ہیلمٹ لگانا بہتر رہے گا؟“ ”ہیلمٹ لگا لیں احتیاطاً کوئی حرج نہیں۔ لیکن گدھے ٹکرا بھی جائیں تو کون سا بمپر ٹوٹنا ہے؟ جہاں تک مجھے پتہ ہے، ٹکر لگنے کے بعد ان کی باڈی کا رنگ بھی نہیں خراب ہوتا۔ سو ڈینٹنگ پینٹنگ بھی نہیں۔ مسئلہ ان کا نہیں، ان پر بیٹھے ہوئے جانوروں کا ہوگا وہ نہ لڑیں تو کوئی دقت نہیں۔“ یہ مسئلہ بھی حل ہوا تو میری رگوں میں خوشی تیزی سے دوڑنے لگی۔ مکینک کا چہرہ سامنے آگیا جو ہر ماہ پندرہ بیس ہزار کی اسامی نکل جانے پر افسردہ کھڑا تھا۔ یہ تو نری بچت تھی نری بچت۔ پٹرول کی ایک دن کی بچت ایک ہزار بھی لگائیں تو زیادہ سے زیادہ تین چار سو کی گھاس کھالیں گے گدھے۔ زیادہ بھی کھالیں تو مکینک اور چالان کے خرچ تو بہرحال بچے۔ میرا دل خواجہ صاحب کے لیے احساس تشکر سے چھلکنے لگا۔ ”خواجہ صاحب! بہت مہربانی آپ کی۔ میں کل ہی گاڑی اور موٹر سائیکل کے لیے گاہک تلاش کرتا ہوں۔ آپ مہربانی کرکے کوئی اچھے سے، کم چلے ہوئے، یا زیرو میٹر گدھے ڈھونڈ دیجیے۔ تین کافی ہیں پورے گھر کے لیے۔ اور ہاں! محلے میں کسی کو یہ تجویز نہ بتائیے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ پوری شان سے محلے میں سب سے پہلے میں گدھے پر نکلوں اور جل ککڑ مجھے دیکھ دیکھ کر جلتے رہیں۔“ خواجہ بولے، ”فکر ہی نہ کریں۔ پہلے آپ کے گھر میں گدھا آئے گا۔ باقی گھر بعد میں گدھا چال چلیں گے۔ لیکن دو باتوں کا دھیان بہت ضروری ہے، بعد میں نہ کہیے گا خواجہ صاحب نے بتایا نہیں۔ ایک تو گدھے دولتیاں مارا کرتے ہیں، انھیں ہر جگہ اس طرح پارک کرنا ہے کہ منہ سامنے ہو۔ پیچھے کی طرف سے ہرگز سوار نہ ہوں ورنہ ہڈیوں کا خرچ مہنگا بہت ہے۔ دوسرے گدھے بہت زور سے بولتے ہیں۔ لیکن پیسے بچانے ہیں تو یہ برداشت کرنا تو ہوگا۔ اس کا بھی حل ہے میرے پاس، کچھ دن ٹی وی شوز، وزیروں کے بیانات اور سوشل میڈیا بند کر دیجیے۔ گدھوں کی آوازیں بہتر لگنے لگیں گی۔“
کالم سعود عثمانی
جمعرات 14 مئی 2026
روزنامہ دنیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہنگے پٹرول کا سستا حل
417 روپے لٹر پٹرول ڈلوا کر پمپ سے نکلا تو خون کھول رہا تھا۔ گرمی کے دن کا آغاز اس سرگرمی سے ہو تو سارا دن تو موڈ خراب رہنا ہی ہے۔ غور کر رہا تھا کہ اس مہینے اب تک میرا کتنا پٹرول خرچ ہوا ہے اور کتنا مزید خرچ ہوگا۔ خون جلنے کی اب تک کوئی قیمت طے نہیں ہوئی ورنہ لاکھوں میں پہنچتی۔ پمپ سے نکل کر سڑک پر آیا تو ایک تیز رفتار موٹر سائیکل والا میری گاڑی سے بالکل رگڑتا ہوا گزر گیا۔ گاڑی سے بلبلانے کی آوازیں آئیں۔ موٹر سائیکل والا کچھ لڑکھڑایا، لیکن سنبھل کر مزید تیز رفتاری سے بھاگتا چلا گیا۔ اسے پکڑنا محال تھا۔ اتر کر دیکھا تو گاڑی کی دائیں طرف کا کچھ حصہ اندر جاچکا تھا اور رنگ بھی اتر چکا تھا۔ میرے اشتعال میں اضافہ ہوگیا، لیکن یہ غصہ کس پر نکالوں۔ اس کمینے کو برا بھلا کہتا میں پھر روانہ ہوگیا۔ راستے میں میرے مکینک نے گاڑی کا معائنہ کیا اور خوش خبری سنائی کہ کم از کم 25 ہزار روپے کا خرچ ہے۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ ناگہانی خرچ آپڑے ہوں۔ گاڑی کے خرچ تو نکلتے ہی رہتے تھے اور انھیں بھگتتے بھگتتے ادھ موا ہوچکا تھا۔ خرچ کے ساتھ ایک دن گاڑی بھی مکینک کے پاس چھوڑنی تھی، اس لیے آج کے باقی سب پروگرام کینسل۔
رات کو گھر پر رکشہ سے اتر رہا تھا کہ خواجہ بدر نظر آگئے۔ بولے، ”عثمانی صاحب! خیریت۔ گاڑی کہاں ہے؟“ میں بھرا ہوا تھا۔ ساری روداد تفصیل کے ساتھ سنائی۔ اس لیے بھی کہ خواجہ بدر کو میں خواجہ خضر کہتا ہوں۔ ریٹائرڈ، تجربے کار اور تیر بہدف ٹوٹکوں کے سب سے بڑے خزانچی ہیں۔ میں نے کہا خواجہ صاحب! پٹرول اور گاڑی کا خرچ میری برداشت سے باہر ہوچکا ہے۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں؟ سوچ رہا ہوں سائیکل لے لوں، لیکن گھاٹیاں اتر کر پھر اوپر چڑھنا مجھ دل کے مریض کے لیے ایک الگ مسئلہ ہے۔ خواجہ صاحب کہنے لگے، ”عثمانی صاحب! کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ تاریخ پر غور کریں غور۔ یہیں سارے مسائل کا حل چھپا ہوا ہے۔“ میرا چہرہ سوالیہ نشان بنا دیکھ کر بولے، ”یہ بتائیں جب گاڑیاں نہیں تھیں اور پٹرول دریافت نہیں ہوا تھا تو لوگ کیسے سفر کرتے تھے؟“ میں نے کہا، ”خواجہ صاحب! خدا کا نام لیں۔ میں اس عمر میں بیل گاڑی پر سفر کرتا اچھا لگوں گا؟ ہاتھی اور اونٹ کہاں ملتے ہیں پتہ نہیں۔ اور ان پر بیٹھا کیسے جائے گا۔ ایک لمبی سیڑھی الگ سے چاہیے۔ اور اونٹ ہاتھی کا سٹئیرنگ کس طرف ہوتا ہے؟ ان کے گئیر کیسے لگتے ہیں؟ ایک ڈرائیور بھی تو چاہیے ان کے لیے۔ پھر ہاتھی اور اونٹ کہاں باندھوں گا۔ ان کے لیے گنے اور چارہ کہاں سے آئے گا۔ آپ مشکلات کا حل بتا رہے ہیں یا مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔“ خواجہ صاحب ہنستے رہے۔ میں خاموش ہوا تو بولے، ”یہی تو مسئلہ ہے آپ کا۔ ہمیشہ شاہی سواریوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ نیچے اترتے ہی نہیں۔ 70 سی سی موٹر سائیکل چلا لیں گے، 600 سی سی گاڑی رکھ لیں گے، لیکن سوچیں گے ہمیشہ ہاتھی اور اونٹ کے بارے میں۔ بھائی! میں شاہی اور وزیروں کی سواریوں کی بات نہیں کر رہا۔ عام آدمی کیسے سفر کرتے تھے اس زمانے میں آسانی کے ساتھ۔ یہ پوچھ رہا ہوں۔“
میں نے پھر ذہن میں تاریخ کے صفحات گھمائے۔ بات سمجھ آنے لگی تھی، لیکن نہیں۔ بہت مشکل تھا یہ بھی۔ ”خواجہ صاحب! گھوڑا مجھ سے نہیں سنبھلے گا۔ جانے کہاں لے جاکر پٹخ دے۔ جست لگا کر سوار ہونا اس عمر میں بہت مشکل ہے۔ البتہ چھوٹا سا پیڈسٹل بنوایا جاسکتا ہے۔ جہاں گھوڑا آکر کھڑا ہوجائے اور میں اس پر سوار ہوجاؤں۔ لیکن گھوڑا تو کھاتا بھی بہت ہے۔ دانہ پانی کا کیا ہوگا؟ یہ بھی کافی خرچہ ہے۔“ خواجہ صاحب سن کر بولے، ”پھر وہی شاہی سواری۔ گھوڑا بھی شہنشاہی سواری ہے جناب۔ ذرا نیچے اتر آئیے گھوڑے سے۔ گھوڑا بھی مہنگا پڑے گا۔ عوامی سواری سوچیے۔ آپ سب کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ سوچتے نہیں۔ اللہ نے ہر مشکل کا حل بنایا ہے۔ کبھی گدھے کا نام سنا ہے؟ کیسا مسکین سا بے ضرر جانور ہے۔ نہ سیڑھی کی ضرورت نہ پیڈسٹل کی۔ میری مانیے۔ موٹر سائیکلیں، گاڑیاں بیچ دیجیے اور چھوٹے قد کے مضبوط 100 سی سی گدھے خرید لیجیے۔ سارا گھر انھی پر سفر کرے۔ واپس آکر گھر کے سامنے باندھ دیجیے یا گیراج میں۔ ان کی کھرلیاں بھی بن سکتی ہیں۔ گاڑیاں تو ہوں گی نہیں، جگہ خالی ہوگی۔ ایک گاڑی کی جگہ تین گدھے بندھ سکتے ہیں۔ نہ پٹرول کا خرچہ، نہ چالان کا ڈر، نہ مکینک کی جھک جھک۔ آپ تو بھولے بادشاہ ہیں۔ آپ کو کہاں پتہ ہوگا کہ نہ گدھے میں موبل آئل ڈلتا ہے نہ نہ رنگ پسٹن۔ ساری مصیبتوں سے آزادی ہے۔ پھر گدھا گھوڑے کی نسبت بہت کم کھاتا ہے۔ کسی گھسیارے سے بات کر لیجیے۔ دو تین سو کی گھاس ڈال دیا کرے روز ان کو۔ صبح اٹھے، کک ماری، گدھا سٹارٹ کیا اور چل سو چل۔ انڈر پاسز سے اتریں چڑھیں، کوئی محنت نہیں، شارٹ کٹ سے جائیں گے تو آدھ گھنٹے میں دفتر پہنچ جائیں گے۔ وہاں بھی ان کا بندوبست ہوسکتا ہے۔ گاڑی کی جگہ گدھا کھڑا کردیں اور اوپر کپڑا ڈال دیں، تاکہ مٹی سے محفوظ رہے۔“ میں خوش ہوگیا۔ بات سمجھ آنے لگی تھی۔ میں نے کہا، ”خواجہ صاحب! بہت عمدہ بات ہے۔ اللہ جزائے خیر دے۔ میرے دادا موٹر سائیکل کو مشینی گدھا کہتے تھے۔ تو کیا حرج ہے مشینی نہ سہی، اصلی گدھا سہی، زیادہ سے زیادہ آدمی شیخ چلی لگے گا، لیکن ایک دفعہ لوگوں کو فائدے پتہ لگ گئے تو بہت سارے شیخ چلی گدھوں پر صبح اکٹھے نکلا کریں گے، شام کو واپس اکٹھے آیا کریں گے۔ بہت اچھا لگے گا۔ جیسے اب موٹر سائیکلوں کی الگ لین ہوتی ہے ایسی ہی ایک کھوتا لین ہوجائے تو بڑا اچھا ہوجائے۔ لیکن یہ بتائیں گدھے میں سکیورٹی سسٹم لگ سکتا ہے؟ ایسا نہ ہو کوئی بھی گدھا سٹارٹ کرے اور لے جائے۔ آپ ٹاپتے رہ جائیں۔“ خواجہ صاحب کہنے لگے، ”ویسے تو گدھا اپنے مالک کو پہچانتا ہے، لیکن اس کی ٹانگوں میں سٹیرنگ لاک لگا بھی سکتے ہیں۔ یہ تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔“ مجھے گدھے میں سکیورٹی سسٹم نصب کرنے کے کئی آئیڈئیے آنے لگے، لیکن بات کرتے کرتے مجھے ایک اور خیال آیا۔ ”خواجہ صاحب! گدھوں کی ٹکر ہوجائے تو کیا ہوتا ہے۔ گدھوں میں ائیر بیگ ہوتے ہیں؟ یا ہیلمٹ لگانا بہتر رہے گا؟“ ”ہیلمٹ لگا لیں احتیاطاً کوئی حرج نہیں۔ لیکن گدھے ٹکرا بھی جائیں تو کون سا بمپر ٹوٹنا ہے؟ جہاں تک مجھے پتہ ہے، ٹکر لگنے کے بعد ان کی باڈی کا رنگ بھی نہیں خراب ہوتا۔ سو ڈینٹنگ پینٹنگ بھی نہیں۔ مسئلہ ان کا نہیں، ان پر بیٹھے ہوئے جانوروں کا ہوگا وہ نہ لڑیں تو کوئی دقت نہیں۔“ یہ مسئلہ بھی حل ہوا تو میری رگوں میں خوشی تیزی سے دوڑنے لگی۔ مکینک کا چہرہ سامنے آگیا جو ہر ماہ پندرہ بیس ہزار کی اسامی نکل جانے پر افسردہ کھڑا تھا۔ یہ تو نری بچت تھی نری بچت۔ پٹرول کی ایک دن کی بچت ایک ہزار بھی لگائیں تو زیادہ سے زیادہ تین چار سو کی گھاس کھالیں گے گدھے۔ زیادہ بھی کھالیں تو مکینک اور چالان کے خرچ تو بہرحال بچے۔ میرا دل خواجہ صاحب کے لیے احساس تشکر سے چھلکنے لگا۔ ”خواجہ صاحب! بہت مہربانی آپ کی۔ میں کل ہی گاڑی اور موٹر سائیکل کے لیے گاہک تلاش کرتا ہوں۔ آپ مہربانی کرکے کوئی اچھے سے، کم چلے ہوئے، یا زیرو میٹر گدھے ڈھونڈ دیجیے۔ تین کافی ہیں پورے گھر کے لیے۔ اور ہاں! محلے میں کسی کو یہ تجویز نہ بتائیے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ پوری شان سے محلے میں سب سے پہلے میں گدھے پر نکلوں اور جل ککڑ مجھے دیکھ دیکھ کر جلتے رہیں۔“ خواجہ بولے، ”فکر ہی نہ کریں۔ پہلے آپ کے گھر میں گدھا آئے گا۔ باقی گھر بعد میں گدھا چال چلیں گے۔ لیکن دو باتوں کا دھیان بہت ضروری ہے، بعد میں نہ کہیے گا خواجہ صاحب نے بتایا نہیں۔ ایک تو گدھے دولتیاں مارا کرتے ہیں، انھیں ہر جگہ اس طرح پارک کرنا ہے کہ منہ سامنے ہو۔ پیچھے کی طرف سے ہرگز سوار نہ ہوں ورنہ ہڈیوں کا خرچ مہنگا بہت ہے۔ دوسرے گدھے بہت زور سے بولتے ہیں۔ لیکن پیسے بچانے ہیں تو یہ برداشت کرنا تو ہوگا۔ اس کا بھی حل ہے میرے پاس، کچھ دن ٹی وی شوز، وزیروں کے بیانات اور سوشل میڈیا بند کر دیجیے۔ گدھوں کی آوازیں بہتر لگنے لگیں گی۔“
آبنائے ہرمز کس کے نام پر ہے؟
سوشل میڈیا کے موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ لکھنے والے لوگوں نے اب پڑھنا اور تحقیق کرنا چھوڑ دیا ہے اور صرف کسٹمرز کی خواہش پہ تحریری آرڈر تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کی تازہ مثال آبنائے ہُرمز کی وجۂ تسمیہ کا شوشہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مشہور عراقی حاکم ہُرمز کے نام پر ہے، جو ساسانی سلطنت کا ایک جرنیل تھا اور عربوں کے عراق پر پہلے حملے میں جنگِ ذات السلاسل میں حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حالاں کہ آبنائے ہُرمز کا اُس ہُرمز سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہُرمز فارسی کا مشہور لفظ ہے ۔ لغت نامہ دھخدا کے مطابق یہ خدا کا ایک نام ہے، زرتشتی خدائے واحد کو اہورامزدا کہتے تھے، اسی لفظ کی ایک تخفیف ہُرمز بھی ہے۔ نیز یہ لفظ خدا کے علاوہ نیک بختی کے ستارے مشتری، مہینے کے پہلے دن (جسے مبارک سمجھا جاتا) اور جمعرات کے معنی میں استعمال ہواہے۔ فارس میں جگہوں اور اشخاص کے ناموں میں یہ ہمیشہ استعمال ہوتا آیا ہے یہی وجہ ہے کہ ساسانی بادشاہوں کا مشہور و معروف نام رہا ہے۔ اسلام سے پہلے تیسری صدی عیسوی سے ساتویں صدی عیسوی تک ایران میں ہُرمز نام کے پانچ بادشاہ گزرے ہیں اور اُنھوں نے بھی اپنے ناموں پر بعض شہر آباد کیے۔ ”المحدث الفاصل“ نامی اصولِ حدیث کی معروف کتاب لکھنے والے محدث، انھی بادشاہوں کے آبادہ کردہ ایرانی شہر رام ہُرمز کی نسبت سے ، رامہرمزی کہلاتے ہیں۔
ہُرمز بن ماہان نامی مشہور صحابی بھی ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتۂ ولا کی بنا پر اہلِ بیت میں سے قرار دیا اور صدقہ لینے سے منع فرمایا۔ (دیکھیے: اسم ہرمز، اسد الغابہ از ابن اثیر اور الاصابہ از ابن حجر) بعد میں بھی یہ نام مسلمانوں میں رائج رہا اور حدیث کے بعض راویوں کا نام بھی ہُرمز ملتا ہے۔(دیکھیے تقریب التہذیب از ابن حجر)۔ ابن ہرمز کے لقب سے شہرت پانے والے ایک تابعی مدینہ کے معروف فقہاء میں سے ہوگزرے ہیں جو امام مالک کے اساتذہ میں سے تھے۔
اب آجائیے آبنائے ہُرمز کی طرف، اس کے نام کے پیچھے ایک پوری عربی سلطنت کی تاریخ کھڑی ہے، جو آج تاریخ سے حرفِ غلط کی طرح مٹ چکی ہے۔ ایران کے جنوب میں موجودہ شہر میناب کے پاس ایک”ہُرمز“ نام کی بندرگاہ تھی، جہاں سکندرِ اعظم بھی لنگر انداز ہوا تھا ۔ بی بی فارسی کے مطابق اِس نام کی قدامت کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے سائرسِ اعظم ہی کے زمانے سے یعنی 600 قبل مسیح سے ہُرمز کہا جاتا ہے، جب کہ دوسری روایت کے مطابق اسے ساسانی عہد میں پانچ ہُرمز نامی بادشاہوں کے عہد میں ہُرمز کہا جانے لگا۔ کیوں کہ تب یہ اہم تجارتی مرکز بن گیا تھا۔
ابن خرداذبہ تیسری صدی ہجری کا جغرافیہ دان ہے، تب سندھ تک پورا خطہ عربوں کے اقتدار میں تھا، اس نے تب بھی اس شہر کا نام ہرمز ہی ذکر کیا۔ ادریسی نے نزهة المشتاق میں ہرمز نام کے متعدد شہر گنوائے ہیں اور ساحلی ہرمز کا مفصل حال بیان کیا ہے۔
اسلامی فتوحات کے بعد بارھویں صدی عیسوی میں یہاں ایک عرب سردار نے سلطنت قائم کی۔ جو خلیج میں عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت تک پھیل گئی۔ اس کا دار الحکومت یہی ہُرمز شہر تھا۔ یہ عربی سنی بادشاہت تھی جو تقریبا چار سو سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی، اور تاریخ میں مملكة هرمز کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کے بادشاہوں کو مُلوکِ ہُرمز کہا جاتا تھا۔ چودھویں صدی میں منگولوں کے حملوں کی وجہ سے اس ساحلی شہر ہُرمز کو چھوڑ کر آبادی آبنائے میں موجود جزیرے میں آباد ہو گئی اور اس جزیرے کا نام ہُرمز رکھ دیا۔ یہی جزیرہ ازاں بعد دار الحکومت بنا اور تاریخی، ثقافتی اور تجارتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ سولھویں صدی میں پرتگالی استعمار کے ہاتھوں سلاطینِ ہُرمز کی اس سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ (دیکھیے ابراہیم بشمی کی کتاب: مملكة هرمز)
ہرمز کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دنیا اگر انگوٹھی ہے تو ہرمز اس کا نگینہ، مارکوپولو نے اپنے سفر نامے میں اسے مشرق کے تین اہم ترین خطوں میں شمار کیا۔ ہرمز کی فراوانی اور مال و دولت کے چرچے قرونِ وسطی کے یورپ میں اتنے مقبول تھے کہ جان ملٹن نے "فردوسِ گم گشتہ" میں ہندوستان اور ہرمز کی دولت کو بطور ضرب المثال بیان کیا: The wealth of Ormus and of Ind
مکرر یاد دہانی کہ یہ ایک عربی سنی سلطنت تھی جس کا نام مملکتِ ہرمزیہ تھا، اور اس کے دار الحکومت کا نام ہُرمز تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اس جزیرے میں موجود اس شہر کی ساری آبادی آج بھی سنی ہے اور عربی، بلوچی اور فارسی زبان بولتی ہے۔ اسی سلطنت اور اس کے مشہور شہر کی وجہ سے آبنائے ہُرمز کا نام ہُرمز پڑا۔ اس کا اُس ساسانی عراقی ہُرمز سے ایسے ہی کوئی تعلق نہیں جیسے عبد الرحمن الداخل کا عبد الرحمن بن ملجم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
برصغیر کے لوگوں کو دین تو اپنی سادہ عربی میں پسند نہیں آ سکا اور سینکڑوں سالوں کے تسلسل میں مسلسل اسے سناتنی رسوم سے رنگین کرتے رہے، حتی کہ ذات پات اور مطلقہ و بیوہ خواتین کے تاحیات تجرد جیسی غیر انسانی رسوم تک کو وسیع پیمانے پر قبول کر لیا اور آج تک ان کے اثر سے خود کو مکمل طور پر آزاد نہیں کر پائے لیکن انھیں علاقوں اور جگہوں کے ناموں کے ختنے کرنے کا شدید شوق ہے۔
ان کے خیال میں اعتقادی، اخلاقی اور سماجی سطح پر عہدِ جاہلیت کی مشرکانہ رسوم باقی رہیں تو اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن مٹی اور پتھروں میں ماضی کا کوئی نقش سلامت نہیں رہنا چاہیے، تاریخ کو مکمل سپاٹ بنا دیا جائے اور ماضی کو ہماری خواہش کے مطابق ڈھالا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بامیان میں بدھا کے ہزاروں سالہ پرانے یادگاری مجسمے گرنے پہ خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں اور مصر میں میوزیم کھلنے پہ سر پیٹتے ہیں۔بی جے پی کی طرح ان کی نظر میں علاقوں کے نام بدلنا بڑا کارنامہ ہوتا ہے، آپ بے شک آبنائے ہرمز کو کل سے آبنائے مادھو لال یا آبنائے ٹرمپ کہنا شروع کر دیں۔
سوشل میڈیا کے موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ لکھنے والے لوگوں نے اب پڑھنا اور تحقیق کرنا چھوڑ دیا ہے اور صرف کسٹمرز کی خواہش پہ تحریری آرڈر تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کی تازہ مثال آبنائے ہُرمز کی وجۂ تسمیہ کا شوشہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مشہور عراقی حاکم ہُرمز کے نام پر ہے، جو ساسانی سلطنت کا ایک جرنیل تھا اور عربوں کے عراق پر پہلے حملے میں جنگِ ذات السلاسل میں حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حالاں کہ آبنائے ہُرمز کا اُس ہُرمز سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہُرمز فارسی کا مشہور لفظ ہے ۔ لغت نامہ دھخدا کے مطابق یہ خدا کا ایک نام ہے، زرتشتی خدائے واحد کو اہورامزدا کہتے تھے، اسی لفظ کی ایک تخفیف ہُرمز بھی ہے۔ نیز یہ لفظ خدا کے علاوہ نیک بختی کے ستارے مشتری، مہینے کے پہلے دن (جسے مبارک سمجھا جاتا) اور جمعرات کے معنی میں استعمال ہواہے۔ فارس میں جگہوں اور اشخاص کے ناموں میں یہ ہمیشہ استعمال ہوتا آیا ہے یہی وجہ ہے کہ ساسانی بادشاہوں کا مشہور و معروف نام رہا ہے۔ اسلام سے پہلے تیسری صدی عیسوی سے ساتویں صدی عیسوی تک ایران میں ہُرمز نام کے پانچ بادشاہ گزرے ہیں اور اُنھوں نے بھی اپنے ناموں پر بعض شہر آباد کیے۔ ”المحدث الفاصل“ نامی اصولِ حدیث کی معروف کتاب لکھنے والے محدث، انھی بادشاہوں کے آبادہ کردہ ایرانی شہر رام ہُرمز کی نسبت سے ، رامہرمزی کہلاتے ہیں۔
ہُرمز بن ماہان نامی مشہور صحابی بھی ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتۂ ولا کی بنا پر اہلِ بیت میں سے قرار دیا اور صدقہ لینے سے منع فرمایا۔ (دیکھیے: اسم ہرمز، اسد الغابہ از ابن اثیر اور الاصابہ از ابن حجر) بعد میں بھی یہ نام مسلمانوں میں رائج رہا اور حدیث کے بعض راویوں کا نام بھی ہُرمز ملتا ہے۔(دیکھیے تقریب التہذیب از ابن حجر)۔ ابن ہرمز کے لقب سے شہرت پانے والے ایک تابعی مدینہ کے معروف فقہاء میں سے ہوگزرے ہیں جو امام مالک کے اساتذہ میں سے تھے۔
اب آجائیے آبنائے ہُرمز کی طرف، اس کے نام کے پیچھے ایک پوری عربی سلطنت کی تاریخ کھڑی ہے، جو آج تاریخ سے حرفِ غلط کی طرح مٹ چکی ہے۔ ایران کے جنوب میں موجودہ شہر میناب کے پاس ایک”ہُرمز“ نام کی بندرگاہ تھی، جہاں سکندرِ اعظم بھی لنگر انداز ہوا تھا ۔ بی بی فارسی کے مطابق اِس نام کی قدامت کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے سائرسِ اعظم ہی کے زمانے سے یعنی 600 قبل مسیح سے ہُرمز کہا جاتا ہے، جب کہ دوسری روایت کے مطابق اسے ساسانی عہد میں پانچ ہُرمز نامی بادشاہوں کے عہد میں ہُرمز کہا جانے لگا۔ کیوں کہ تب یہ اہم تجارتی مرکز بن گیا تھا۔
ابن خرداذبہ تیسری صدی ہجری کا جغرافیہ دان ہے، تب سندھ تک پورا خطہ عربوں کے اقتدار میں تھا، اس نے تب بھی اس شہر کا نام ہرمز ہی ذکر کیا۔ ادریسی نے نزهة المشتاق میں ہرمز نام کے متعدد شہر گنوائے ہیں اور ساحلی ہرمز کا مفصل حال بیان کیا ہے۔
اسلامی فتوحات کے بعد بارھویں صدی عیسوی میں یہاں ایک عرب سردار نے سلطنت قائم کی۔ جو خلیج میں عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت تک پھیل گئی۔ اس کا دار الحکومت یہی ہُرمز شہر تھا۔ یہ عربی سنی بادشاہت تھی جو تقریبا چار سو سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی، اور تاریخ میں مملكة هرمز کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کے بادشاہوں کو مُلوکِ ہُرمز کہا جاتا تھا۔ چودھویں صدی میں منگولوں کے حملوں کی وجہ سے اس ساحلی شہر ہُرمز کو چھوڑ کر آبادی آبنائے میں موجود جزیرے میں آباد ہو گئی اور اس جزیرے کا نام ہُرمز رکھ دیا۔ یہی جزیرہ ازاں بعد دار الحکومت بنا اور تاریخی، ثقافتی اور تجارتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ سولھویں صدی میں پرتگالی استعمار کے ہاتھوں سلاطینِ ہُرمز کی اس سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ (دیکھیے ابراہیم بشمی کی کتاب: مملكة هرمز)
ہرمز کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دنیا اگر انگوٹھی ہے تو ہرمز اس کا نگینہ، مارکوپولو نے اپنے سفر نامے میں اسے مشرق کے تین اہم ترین خطوں میں شمار کیا۔ ہرمز کی فراوانی اور مال و دولت کے چرچے قرونِ وسطی کے یورپ میں اتنے مقبول تھے کہ جان ملٹن نے "فردوسِ گم گشتہ" میں ہندوستان اور ہرمز کی دولت کو بطور ضرب المثال بیان کیا: The wealth of Ormus and of Ind
مکرر یاد دہانی کہ یہ ایک عربی سنی سلطنت تھی جس کا نام مملکتِ ہرمزیہ تھا، اور اس کے دار الحکومت کا نام ہُرمز تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اس جزیرے میں موجود اس شہر کی ساری آبادی آج بھی سنی ہے اور عربی، بلوچی اور فارسی زبان بولتی ہے۔ اسی سلطنت اور اس کے مشہور شہر کی وجہ سے آبنائے ہُرمز کا نام ہُرمز پڑا۔ اس کا اُس ساسانی عراقی ہُرمز سے ایسے ہی کوئی تعلق نہیں جیسے عبد الرحمن الداخل کا عبد الرحمن بن ملجم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
برصغیر کے لوگوں کو دین تو اپنی سادہ عربی میں پسند نہیں آ سکا اور سینکڑوں سالوں کے تسلسل میں مسلسل اسے سناتنی رسوم سے رنگین کرتے رہے، حتی کہ ذات پات اور مطلقہ و بیوہ خواتین کے تاحیات تجرد جیسی غیر انسانی رسوم تک کو وسیع پیمانے پر قبول کر لیا اور آج تک ان کے اثر سے خود کو مکمل طور پر آزاد نہیں کر پائے لیکن انھیں علاقوں اور جگہوں کے ناموں کے ختنے کرنے کا شدید شوق ہے۔
ان کے خیال میں اعتقادی، اخلاقی اور سماجی سطح پر عہدِ جاہلیت کی مشرکانہ رسوم باقی رہیں تو اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن مٹی اور پتھروں میں ماضی کا کوئی نقش سلامت نہیں رہنا چاہیے، تاریخ کو مکمل سپاٹ بنا دیا جائے اور ماضی کو ہماری خواہش کے مطابق ڈھالا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بامیان میں بدھا کے ہزاروں سالہ پرانے یادگاری مجسمے گرنے پہ خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں اور مصر میں میوزیم کھلنے پہ سر پیٹتے ہیں۔بی جے پی کی طرح ان کی نظر میں علاقوں کے نام بدلنا بڑا کارنامہ ہوتا ہے، آپ بے شک آبنائے ہرمز کو کل سے آبنائے مادھو لال یا آبنائے ٹرمپ کہنا شروع کر دیں۔
اخذ و استفادہ، اثر پذیری اور سرقہ (حصۂ اول)
شعری مطالعات میں سرقے کا موضوع ہر موسم میں تازہ رہتا ہے، اور ذوقِ تحقیق کی تسکین، مضمون کی ہوا باندھنے یا ناظر کی توجہ کھینچنے کے لیے ہر چھوٹے بڑے دیوان پہ سرقے کا لیبل چسپاں ہوا ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ جعفر زٹلی اور چرکین کے علاوہ شاید ہی کوئی سرقے کی تہمت سے بری رہ پایا ہو۔ اردو خواں اور اردو داں اپنے معاصرین اور مرحومین کے کلام کی ”سرقہ تلاشی“ تو عموماً کرتے ہی رہتے ہیں۔ انیس بہشت جلیس نے بھی کہا تھا: خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو ۔ شاید دبیر کی چٹکی لے رہے ہوں۔
اردو میں فارسی اثرات کا معرکہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ گرم رہا ہے۔ جون نے شوخی میں کہا: ”ہمارا غالبِ اعظم تھا چور آقائے بیدل کا“۔ جون نے فیض سے کہا تھا کہ ”دستِ صبا“ کی ترکیب آپ کو مصحفی نے دی ہے، اور مصحفی نے فارسیوں سے لی ہے۔ فیض صاحب! میری اور آپ کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے قارئین اور سامعین کو فارسی نہیں آتی۔
پھر خود فارسیوں پر عربی شعر کا نقش بہت نمایاں ہے۔ فارسی شعرا نے آپ بھی عربی زبان و ادب کی کبریائی اور فضیلت کو تسلیم کیا ہے۔ حافظ کا یہ شعر تو ضرب المثل ہے:
اگرچہ عرضِ ہنر پیشِ یار بی ادبیست
زبان خموش ولیکن دہان پر از عربیست
(اگرچہ یار کے حضور کوئی ہنر پیش کرنا بے ادبی ہے، زبان خاموش ہے لیکن منھ عربی سے پُر ہے۔)
خصوصاً عربی کے عظیم شاعر ابو الطیب متنبی کا اثر فارسی ادبیات میں بہت زیادہ محسوس کیا جاتا ہے۔ بڑے بڑے اساتذہ نے متنبی کے اشعار کا سیدھا سیدھا فارسی ترجمہ تک کر دیا۔ مثلاً متنبی کہتا ہے:
وما كنت ممن يدخل العشق قلبه
ولكن من يبصر جفونك يعشق
(میں ایسا شخص نہ تھا کہ عشق میرے دل میں راہ پاتا، لیکن بات یہ ہے کہ جو تیری پلکوں (آنکھوں) کو دیکھتا ہے، وہ عشق میں پڑ جاتا ہے۔)
اب ذرا شیخ سعدی کو دیکھیے:
عشق بازی نہ طریقِ حکما بود ولی
چشمِ بیمارِ تو دل می برد از دستِ حکیم
(عشق بازی حکما کا طریقہ نہیں ہے، لیکن تیری نیم باز آنکھ حکیم کے ہاتھوں سے دل لے جاتی ہے۔)
نیز متنبی کہتا ہے:
أنا الذي نظر الأعمى إلى أدبي
وأسمعت كلماتي من به صمم
(میں وہ ہوں کہ میرے ادب کو اندھے نے دیکھا، اور میں نے اپنے کلمات اسے سنائے جو بہرا تھا۔)
اب ظہیر الدین فاریابی کو سنیے:
کمال و دانشِ من کور دید و کر بشنید
بنظم و نثر چہ در پارسی چہ در تازی
(فارسی اور عربی نظم و نثر میں میرے کمال اور دانش کو اندھے نے دیکھا اور بہرے نے سنا۔)
مزید مثالیں انورکاکوروی کی کتاب ”ابو نواس اور متنبی“ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ علامہ اسیر ادروی کہتے ہیں: ”آج متنبی کی سینکڑوں تشبیہات و تمثیلات فارسی میں ڈھل کر اردو میں منتقل ہو گئیں، اور مورثِ اعلیٰ کا نام لیے بغیر سرمایہ تقسیم کر لیا گیا۔“ وہ ایک مثال لاتے ہیں کہ متنبی نے کہا:
قرب المزار ولا مزار وإنما
يغدو الجنانَ فنلتقي ونروح
(دید کی جگہ قریب ہی ہے، اصل میں دید کی کوئی خارجی جگہ نہیں، بس وہ دل میں آتا ہے، ہم ملتے ہیں اور پھر وہ چلا جاتا ہے۔)
مصحفی کے شاگرد نے اسی مضمون کو اردو میں یوں باندھا:
دل کے آئینہ میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
متنبی نے تو خود بھی کہا تھا:
وما الدهر إلا من رُواة قصائدي
إذا قلت شعرا أصبح الدهر منشدا
(زمانہ میرے قصیدوں کا راوی ہی تو ہے، میں ایک شعر کیا کہتا ہوں، زمانہ (اس کے اتباع میں) نظمیں کہنے لگتا ہے۔) بالفاظِ دیگر: بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں۔
بات اردو کے متاخرین سے متقدمین، متقدمین سے فارسی، اور فارسی سے عربی پر رک جاتی تب بھی خیر تھی، لیکن خود متنبی کے ”سرقات“ (یہی عنوان ہوتا ہے) پر پوری پوری کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ متنبی کے معاصرین سے لے کر موجودہ شارحین تک سب اس مسئلے کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔ متنبی کے اخلاق و حکمت کے اشعار بہت زیادہ مقبول ہیں۔ عموماً یہ بھی کہا جاتا ہے کہ متنبی کا تصورِ اخلاق ارسطو کی اخلاقیات سے شدید تاثر پذیر ہے، اور اس میں originality کی قلت ہے۔
لیکن سچائی یہ ہے کہ متقدمین سے لے کر متاخرین تک سرقہ سرقہ دہرانے والے لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہر مماثلت سرقہ ہی ہو۔ دنیا میں اخذ و استفادے کی روش بھی موجود ہے، توارد بھی ہے، اور سب سے بڑھ کر غیر ارادی طور پر سابقہ مطالعے کے حاصلات کا تخلیق کا حصہ بن جانا بھی ایک عام سی بات ہے۔ شاعر جس روایت میں پروان چڑھتا ہے، جس زبان میں پھلتا پھولتا ہے، جن مفکرین، ادیبوں اور شاعروں کو پڑھتا ہے، اور جن نظریات و افکار سے رد یا قبول کا رشتہ استوار کرتا ہے، وہ سب اس پر اپنا محسوس اور غیر محسوس اثر چھوڑتے ہیں۔ بسا اوقات انسان کو یاد بھی نہیں رہتا کہ اس نے کیا کچھ پڑھ رکھا ہے! فکر و فن کی اَن گنت بزم آرائیاں نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو جاتی ہیں، اور پھر تخلیق کی شب آتے ہی یہ بنات النعش نسیان کے پردے سے نکل کر غزل کے جھروکے میں عریاں ہو جاتی ہیں۔ شاعر کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ وہ سنی ہوئی بات دہرا رہا ہے اور پڑھی ہوئی سطر لکھ رہا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم چیز موضوعات، اظہار کے قرینوں، تشبیہات و استعارات اور علامتوں کی یکسانیت ہے: وہی عشق کا نیاز ہے، وہی حسن کی کج ادائی ہے، وہی پنکھڑی لب ہیں اور وہی نرگسی آنکھ۔ ایسے میں شاعر بارہ پندرہ ہزار شعر کہے تو ہر شعر میں نیا مضمون کہاں سے لائے؟ وہ تلمیذُ الرحمٰن ضرور ہے، لیکن ہر صبح ہاتفِ غیبی سے تازہ کلام تو وصول نہیں کرتا۔ شاعر اپنی فضا سے، اپنے مطالعاتی حاصلات سے، اپنی ادبی روایت کے اقتباسات سے اور رائج اسالیب کے اتباع سے کیوں کر روگردانی کر سکتا ہے؟ پھر جن سے خطاب کرنا ہے، وہ لاکھوں نئے معانی کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟ انھیں تو جانی پہچانی باتوں کے درمیان کچھ نئی باتیں سننی ہیں۔ ورنہ آپ جن لوگوں کے دو چار ”سرقے“ تلاش کر کے لائے ہیں یہ تو وہ ہیں جن کے سامنے الفاظ ہاتھ باندھ کر کھڑے تھے اور معانی ان کے اشارۂ ابرو کے منتظر تھے۔
متنبی کے سرقات پہ شائع ہونے والے رسائل کے ایک مجموعے کے شروع میں محقق نے بہت خوب صورت بات لکھی کہ جس" سرقے" کو ناقد نے بہ سہولت تلاش کر لیا ہے متنبی جیسا قادر الکلام چاہتا تو اسے بہ آسانی چھپا سکتا تھا، لیکن وہ خود بتا رہا ہے کہ یہاں میں پہلے سے تراشے گئے مجسمے سے حسن و جمال کی مزید پرتیں نمودار کر کے دکھا رہا ہوں۔ وہ تو خود یہ دکھانا چاہتا ہے کہ مضمون بشار بن بُرد سے اُس تک پہنچ کر کتنے آسمان قطع کر لیتا ہے۔
شعری مطالعات میں سرقے کا موضوع ہر موسم میں تازہ رہتا ہے، اور ذوقِ تحقیق کی تسکین، مضمون کی ہوا باندھنے یا ناظر کی توجہ کھینچنے کے لیے ہر چھوٹے بڑے دیوان پہ سرقے کا لیبل چسپاں ہوا ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ جعفر زٹلی اور چرکین کے علاوہ شاید ہی کوئی سرقے کی تہمت سے بری رہ پایا ہو۔ اردو خواں اور اردو داں اپنے معاصرین اور مرحومین کے کلام کی ”سرقہ تلاشی“ تو عموماً کرتے ہی رہتے ہیں۔ انیس بہشت جلیس نے بھی کہا تھا: خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو ۔ شاید دبیر کی چٹکی لے رہے ہوں۔
اردو میں فارسی اثرات کا معرکہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ گرم رہا ہے۔ جون نے شوخی میں کہا: ”ہمارا غالبِ اعظم تھا چور آقائے بیدل کا“۔ جون نے فیض سے کہا تھا کہ ”دستِ صبا“ کی ترکیب آپ کو مصحفی نے دی ہے، اور مصحفی نے فارسیوں سے لی ہے۔ فیض صاحب! میری اور آپ کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے قارئین اور سامعین کو فارسی نہیں آتی۔
پھر خود فارسیوں پر عربی شعر کا نقش بہت نمایاں ہے۔ فارسی شعرا نے آپ بھی عربی زبان و ادب کی کبریائی اور فضیلت کو تسلیم کیا ہے۔ حافظ کا یہ شعر تو ضرب المثل ہے:
اگرچہ عرضِ ہنر پیشِ یار بی ادبیست
زبان خموش ولیکن دہان پر از عربیست
(اگرچہ یار کے حضور کوئی ہنر پیش کرنا بے ادبی ہے، زبان خاموش ہے لیکن منھ عربی سے پُر ہے۔)
خصوصاً عربی کے عظیم شاعر ابو الطیب متنبی کا اثر فارسی ادبیات میں بہت زیادہ محسوس کیا جاتا ہے۔ بڑے بڑے اساتذہ نے متنبی کے اشعار کا سیدھا سیدھا فارسی ترجمہ تک کر دیا۔ مثلاً متنبی کہتا ہے:
وما كنت ممن يدخل العشق قلبه
ولكن من يبصر جفونك يعشق
(میں ایسا شخص نہ تھا کہ عشق میرے دل میں راہ پاتا، لیکن بات یہ ہے کہ جو تیری پلکوں (آنکھوں) کو دیکھتا ہے، وہ عشق میں پڑ جاتا ہے۔)
اب ذرا شیخ سعدی کو دیکھیے:
عشق بازی نہ طریقِ حکما بود ولی
چشمِ بیمارِ تو دل می برد از دستِ حکیم
(عشق بازی حکما کا طریقہ نہیں ہے، لیکن تیری نیم باز آنکھ حکیم کے ہاتھوں سے دل لے جاتی ہے۔)
نیز متنبی کہتا ہے:
أنا الذي نظر الأعمى إلى أدبي
وأسمعت كلماتي من به صمم
(میں وہ ہوں کہ میرے ادب کو اندھے نے دیکھا، اور میں نے اپنے کلمات اسے سنائے جو بہرا تھا۔)
اب ظہیر الدین فاریابی کو سنیے:
کمال و دانشِ من کور دید و کر بشنید
بنظم و نثر چہ در پارسی چہ در تازی
(فارسی اور عربی نظم و نثر میں میرے کمال اور دانش کو اندھے نے دیکھا اور بہرے نے سنا۔)
مزید مثالیں انورکاکوروی کی کتاب ”ابو نواس اور متنبی“ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ علامہ اسیر ادروی کہتے ہیں: ”آج متنبی کی سینکڑوں تشبیہات و تمثیلات فارسی میں ڈھل کر اردو میں منتقل ہو گئیں، اور مورثِ اعلیٰ کا نام لیے بغیر سرمایہ تقسیم کر لیا گیا۔“ وہ ایک مثال لاتے ہیں کہ متنبی نے کہا:
قرب المزار ولا مزار وإنما
يغدو الجنانَ فنلتقي ونروح
(دید کی جگہ قریب ہی ہے، اصل میں دید کی کوئی خارجی جگہ نہیں، بس وہ دل میں آتا ہے، ہم ملتے ہیں اور پھر وہ چلا جاتا ہے۔)
مصحفی کے شاگرد نے اسی مضمون کو اردو میں یوں باندھا:
دل کے آئینہ میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
متنبی نے تو خود بھی کہا تھا:
وما الدهر إلا من رُواة قصائدي
إذا قلت شعرا أصبح الدهر منشدا
(زمانہ میرے قصیدوں کا راوی ہی تو ہے، میں ایک شعر کیا کہتا ہوں، زمانہ (اس کے اتباع میں) نظمیں کہنے لگتا ہے۔) بالفاظِ دیگر: بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں۔
بات اردو کے متاخرین سے متقدمین، متقدمین سے فارسی، اور فارسی سے عربی پر رک جاتی تب بھی خیر تھی، لیکن خود متنبی کے ”سرقات“ (یہی عنوان ہوتا ہے) پر پوری پوری کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ متنبی کے معاصرین سے لے کر موجودہ شارحین تک سب اس مسئلے کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔ متنبی کے اخلاق و حکمت کے اشعار بہت زیادہ مقبول ہیں۔ عموماً یہ بھی کہا جاتا ہے کہ متنبی کا تصورِ اخلاق ارسطو کی اخلاقیات سے شدید تاثر پذیر ہے، اور اس میں originality کی قلت ہے۔
لیکن سچائی یہ ہے کہ متقدمین سے لے کر متاخرین تک سرقہ سرقہ دہرانے والے لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہر مماثلت سرقہ ہی ہو۔ دنیا میں اخذ و استفادے کی روش بھی موجود ہے، توارد بھی ہے، اور سب سے بڑھ کر غیر ارادی طور پر سابقہ مطالعے کے حاصلات کا تخلیق کا حصہ بن جانا بھی ایک عام سی بات ہے۔ شاعر جس روایت میں پروان چڑھتا ہے، جس زبان میں پھلتا پھولتا ہے، جن مفکرین، ادیبوں اور شاعروں کو پڑھتا ہے، اور جن نظریات و افکار سے رد یا قبول کا رشتہ استوار کرتا ہے، وہ سب اس پر اپنا محسوس اور غیر محسوس اثر چھوڑتے ہیں۔ بسا اوقات انسان کو یاد بھی نہیں رہتا کہ اس نے کیا کچھ پڑھ رکھا ہے! فکر و فن کی اَن گنت بزم آرائیاں نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو جاتی ہیں، اور پھر تخلیق کی شب آتے ہی یہ بنات النعش نسیان کے پردے سے نکل کر غزل کے جھروکے میں عریاں ہو جاتی ہیں۔ شاعر کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ وہ سنی ہوئی بات دہرا رہا ہے اور پڑھی ہوئی سطر لکھ رہا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم چیز موضوعات، اظہار کے قرینوں، تشبیہات و استعارات اور علامتوں کی یکسانیت ہے: وہی عشق کا نیاز ہے، وہی حسن کی کج ادائی ہے، وہی پنکھڑی لب ہیں اور وہی نرگسی آنکھ۔ ایسے میں شاعر بارہ پندرہ ہزار شعر کہے تو ہر شعر میں نیا مضمون کہاں سے لائے؟ وہ تلمیذُ الرحمٰن ضرور ہے، لیکن ہر صبح ہاتفِ غیبی سے تازہ کلام تو وصول نہیں کرتا۔ شاعر اپنی فضا سے، اپنے مطالعاتی حاصلات سے، اپنی ادبی روایت کے اقتباسات سے اور رائج اسالیب کے اتباع سے کیوں کر روگردانی کر سکتا ہے؟ پھر جن سے خطاب کرنا ہے، وہ لاکھوں نئے معانی کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟ انھیں تو جانی پہچانی باتوں کے درمیان کچھ نئی باتیں سننی ہیں۔ ورنہ آپ جن لوگوں کے دو چار ”سرقے“ تلاش کر کے لائے ہیں یہ تو وہ ہیں جن کے سامنے الفاظ ہاتھ باندھ کر کھڑے تھے اور معانی ان کے اشارۂ ابرو کے منتظر تھے۔
متنبی کے سرقات پہ شائع ہونے والے رسائل کے ایک مجموعے کے شروع میں محقق نے بہت خوب صورت بات لکھی کہ جس" سرقے" کو ناقد نے بہ سہولت تلاش کر لیا ہے متنبی جیسا قادر الکلام چاہتا تو اسے بہ آسانی چھپا سکتا تھا، لیکن وہ خود بتا رہا ہے کہ یہاں میں پہلے سے تراشے گئے مجسمے سے حسن و جمال کی مزید پرتیں نمودار کر کے دکھا رہا ہوں۔ وہ تو خود یہ دکھانا چاہتا ہے کہ مضمون بشار بن بُرد سے اُس تک پہنچ کر کتنے آسمان قطع کر لیتا ہے۔
ابر کوہسار
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن میرا
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن میرا
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے درافشاں ہونا
ناقۂ شاہدِ رحمت کا حدی خواں ہونا
غم زدائے دلِ افسردۂ دہقاں ہونا
رونقِ بزمِ جوانانِ گلستاں ہونا
بن کے گیسو رخِ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں
دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سیر کرتا ہوا جس دم لبِ جو آتا ہوں
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں
سبزۂ مزرعِ نوخیز کی امید ہوں میں
زادۂ بحر ہوں، پروردۂ خورشید ہوں میں
چشمۂ کوہ کو دی شورشِ قلزم میں نے
اور پرندوں کو کیا محوِ ترنم میں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم میں نے
غنچۂ گل کو دیا ذوقِ تبسم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامنِ کہسار میں دہقانوں کے
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن میرا
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن میرا
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے درافشاں ہونا
ناقۂ شاہدِ رحمت کا حدی خواں ہونا
غم زدائے دلِ افسردۂ دہقاں ہونا
رونقِ بزمِ جوانانِ گلستاں ہونا
بن کے گیسو رخِ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں
دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سیر کرتا ہوا جس دم لبِ جو آتا ہوں
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں
سبزۂ مزرعِ نوخیز کی امید ہوں میں
زادۂ بحر ہوں، پروردۂ خورشید ہوں میں
چشمۂ کوہ کو دی شورشِ قلزم میں نے
اور پرندوں کو کیا محوِ ترنم میں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم میں نے
غنچۂ گل کو دیا ذوقِ تبسم میں نے
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامنِ کہسار میں دہقانوں کے
مرزا غالب
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچہ دلی گل شیراز پر
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزی پروانہ ہے
اے جہان آباد ، اے گہوارہ علم و ہنر
ہیں سراپا نالہ خاموش تیرے بام و در
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمں و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچہ دلی گل شیراز پر
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزی پروانہ ہے
اے جہان آباد ، اے گہوارہ علم و ہنر
ہیں سراپا نالہ خاموش تیرے بام و در
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمں و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
اپنے نوعمروں کے رسالے کے لیے ایک اداریہ
دیکھیے آپ کی جھلک تو نہیں اس میں؟ 😉
٭٭٭
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مبارک ہو! آپ نے باقاعدہ ایک آلو کی صورت اختیار کر لی ہے!
اور وہ بھی کوئی عام آلو نہیں، بلکہ وہ ”صوفہ پوٹیٹو“ جس کا ارتقائی سفر بیڈ سے کرسی اور کرسی سے صوفے تک آ کر ایک ایسے سنگِ میل پر رک گیا ہے جہاں حرکت کرنا جرمِ عظیم سمجھا جاتا ہے۔
جی ہاں! آج کسی عجائب گھر کو اگر ایک زندہ و جاوید ”کاہل“ کا مجسمہ درکار ہو تو اسے سنگِ مرمر تراشنے کی کوئی ضرورت نہیں، بس کسی بھی گھر کے کونے میں موجود اس صوفے کا رخ کرے جہاں ایک عدد نوجوان اپنی گردن کو سوالیہ نشان بنائے، آنکھوں میں اسکرین کی نیلی روشنی سموئے، دنیا سے بے خبر ساکت و جامد بیٹھا پایا جائے گا۔
سچی بات ہے کہ کبھی کبھی دیوار پر لگی تصویریں بھی شرمندہ ہو جاتی ہوں گی کہ بھئی اتنی ساکت تو ہم بھی نہیں، جتنا یہ جیتا جاگتا ”نو“ جوان ہے۔
لگتا ہے ہمارے ان شہزادوں اور شہزادیوں کے نزدیک ورزش کا واحد تصور اسمارٹ فون کی اسکرین کو اوپر نیچے اسکرول کرنا رہ گیا ہے۔ اس میں ان کے انگوٹھے تو شاید اولمپک کی سطح کی تربیت حاصل کر چکے ہیں، مگر باقی سارا جسم کسی پرانی بوری کی طرح ایک جگہ پڑا سڑ رہا ہے۔
سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، بس موبائل ہے اور یہ شہزادے ہیں۔ ہم تو کبھی سوچتے ہیں کہ کچھ بعید نہیں، ایک دن ان کا موبائل اچانک ہاتھ جوڑتے ہوئے کہہ اٹھے:
”بھائی جان! ذرا آپ بھی چارج ہو جایا کریں، آخر ہر وقت میں ہی کیوں؟“
اور شہزادہ حیرت سے اسے دیکھے کہ یہ چھوٹا سا کھلونا بھی آج طعنے دیتا ابا بن گیا۔
بات اسکرین تک محدود رہتی تو شاید ہم اس کاہلی کو اسکرین کے نشے کا نام دے لیتے، مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ اگر کسی پڑھاکو کو مطالعے جیسا صحت مندانہ شوق بھی چڑھا ہے تو وہ بھی اس طرح کہ کتاب میز پر نہیں، بلکہ سینے پر دھری ہو اور صاحب کسی نیم دراز پوزیشن میں اس طرح پڑے ہوں جیسے وہ کوئی شہزادہ سلیم ہیں جنھیں سلطنت کی خبریں سنائی جا رہی ہوں۔
اس آرام طلبی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بدن نے اب پھیلنا شروع کر دیا ہے اور یہ پھیلاؤ اس قدر خود اعتماد ہے کہ اسے کسی حد کا احساس ہی نہیں رہا۔ وہ پیٹ جو کبھی کسی ڈسپلن کا پابند ہوا کرتا تھا، اب آہستہ آہستہ ایک ”پرسنل ڈیسک“ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس پر آپ چاہیں تو چپس کی پلیٹ رکھ لیں یا ریموٹ کنٹرول، وہ بڑی وفاداری سے اسے سنبھال لے گا۔
کسی زمانے میں عوام موٹاپے کو امارت کی علامت سمجھتے تھے، مگر موٹاپا تو سراسر کاہلی کا تمغا ہے جو ہم نے خود اپنے وجود پر سجا لیا ہے۔ موٹاپا صرف بے ڈھنگا لگنے کا مسئلہ نہیں، یہ صحت کا معاملہ ہے۔ جسم پر غیر ضروری وزن بڑھ جائے تو تھکن کندھوں پر آ بیٹھتی ہے، سانس قابو میں نہیں رہتی اور بالآخر بیماریاں چمٹ جاتی ہیں۔ پھر شہزادے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ایک دن آئینے سے پوچھتے ہیں کہ میں بھلا ایسا کیسے ہو گیا؟ جواب آئینہ نہیں دیتا، جواب میں چپس کے خالی پیکٹ، لمبی لمبی نشستیں، رات گئے اسکرین اور ”کل سے ورزش شروع کروں گا“ والے جھوٹے وعدے چپکے چپکے مسکرا رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے بچوں نے چلنا پھرنا تو جیسے کسی قدیم تہذیب کی نشانی سمجھ کر ترک کر دیا ہے۔ باورچی خانے تک کا سفر ان کے لیے کسی ”ہجرت“ کے برابر ہے۔ حضور کھڑے ہوتے ہیں تو جسم کے جوڑ جوڑ سے ایسی آوازیں آتی ہیں جیسے کسی پرانے قلعے کا زنگ آلود دروازہ مدتوں بعد کھولا جا رہا ہو اور اگر اتفاق سے سیڑھیاں چڑھنی پڑ جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی کوہ پیما کی آخری سانسیں اکھڑ رہی ہوں۔ یہ جسمانی جمود صرف چربی اور گوشت کا ڈھیر نہیں بڑھا رہا، بلکہ انسانی مشینری کو زنگ آلود کر رہا ہے۔ اسکرین کے سامنے گھنٹوں بت بنے بیٹھے رہنے سے آنکھیں تو دھنس ہی رہی ہیں، مگر وہ جو ایک تیزی و طراری جوانی کا خاصہ ہوا کرتی تھی، اب چربی کی دبیز تہوں کے نیچے دب کر رہ گئی ہے۔
اچھا، مزے کی بات یہ ہے کہ اس کاہلی کے جواز میں ہم نے سوشل میڈیا پر ایک جگہ یہ تک پڑھا کہ بیٹھ کر گھنٹوں سوچتے رہنے سے، جسے وہ مراقبہ کہتے ہیں، تخلیقی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔
حضور! تھوڑا رحم کیجیے۔ اگر بیٹھ کر سوچتے رہنے ہی سے ترقی ہوتی تو کچھوے اور الو آج دنیا کے حکمران ہوتے۔
ارے چندا! جسم کو پسینے کی حدت چاہیے۔ اسے دوڑتے ہوئے لہو کی گردش درکار ہے، ورنہ بدن سفید ہاتھی بن کر آپ کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ دودھ والے کی دکان تک جانے کے لیے بھی موٹر سائیکل پر جانا، ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے کے لیے کسی کو پکارنا کہ ”میرا فون پکڑا دینا“… یہ وہ علامات ہیں جو بتاتی ہیں کہ آپ نے اپنی ٹانگوں کو صرف نمائش کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔
ہمارا مقصد ہرگز کسی بھتیجے بھانجے کا دل دکھانا نہیں، بلکہ اس سوئے ہوئے شیر کو جگانا ہے جو صوفے کے غلاف میں چھپا خود کو گوشت کے پہاڑ میں بدل رہا ہے۔ تو شاباش میرے لال! ذرا اٹھو، اس حصار کو توڑو، اسکرین کی قید سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لو اور اپنے پیروں کو یاد دلاؤ کہ ان کا کام افقی حالت میں پڑے رہنا نہیں، زمین کو ناپنا بھی ہے۔ مبادا ایسا ہو کہ جب کبھی تم واقعی جاگنا چاہو تو تمھارا اپنا جسم تمھارا ساتھ دینے سے انکار کر دے اور تم خدانخواستہ ایک ایسی مشین بن کر رہ جاؤ جس کا سوئچ تو آن ہے، مگر پرزے سب جام ہو چکے۔
یاد رکھو، جوانی نام ہے تلاطم کا۔ چیتے پن کا، نہ کہ بھینس پن کا۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ تمھارا ”بیلی فیٹ“ (توند) تمھاری شخصیت کا واحد تعارف بن جائے، تھوڑی سی جنبش کر لو بچے!
چلتے رہو جیتے رہو!
والسلام
تمھارا اسمارٹ و ایکٹو چاچو ماموں 😁🥰
دیکھیے آپ کی جھلک تو نہیں اس میں؟ 😉
٭٭٭
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مبارک ہو! آپ نے باقاعدہ ایک آلو کی صورت اختیار کر لی ہے!
اور وہ بھی کوئی عام آلو نہیں، بلکہ وہ ”صوفہ پوٹیٹو“ جس کا ارتقائی سفر بیڈ سے کرسی اور کرسی سے صوفے تک آ کر ایک ایسے سنگِ میل پر رک گیا ہے جہاں حرکت کرنا جرمِ عظیم سمجھا جاتا ہے۔
جی ہاں! آج کسی عجائب گھر کو اگر ایک زندہ و جاوید ”کاہل“ کا مجسمہ درکار ہو تو اسے سنگِ مرمر تراشنے کی کوئی ضرورت نہیں، بس کسی بھی گھر کے کونے میں موجود اس صوفے کا رخ کرے جہاں ایک عدد نوجوان اپنی گردن کو سوالیہ نشان بنائے، آنکھوں میں اسکرین کی نیلی روشنی سموئے، دنیا سے بے خبر ساکت و جامد بیٹھا پایا جائے گا۔
سچی بات ہے کہ کبھی کبھی دیوار پر لگی تصویریں بھی شرمندہ ہو جاتی ہوں گی کہ بھئی اتنی ساکت تو ہم بھی نہیں، جتنا یہ جیتا جاگتا ”نو“ جوان ہے۔
لگتا ہے ہمارے ان شہزادوں اور شہزادیوں کے نزدیک ورزش کا واحد تصور اسمارٹ فون کی اسکرین کو اوپر نیچے اسکرول کرنا رہ گیا ہے۔ اس میں ان کے انگوٹھے تو شاید اولمپک کی سطح کی تربیت حاصل کر چکے ہیں، مگر باقی سارا جسم کسی پرانی بوری کی طرح ایک جگہ پڑا سڑ رہا ہے۔
سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، بس موبائل ہے اور یہ شہزادے ہیں۔ ہم تو کبھی سوچتے ہیں کہ کچھ بعید نہیں، ایک دن ان کا موبائل اچانک ہاتھ جوڑتے ہوئے کہہ اٹھے:
”بھائی جان! ذرا آپ بھی چارج ہو جایا کریں، آخر ہر وقت میں ہی کیوں؟“
اور شہزادہ حیرت سے اسے دیکھے کہ یہ چھوٹا سا کھلونا بھی آج طعنے دیتا ابا بن گیا۔
بات اسکرین تک محدود رہتی تو شاید ہم اس کاہلی کو اسکرین کے نشے کا نام دے لیتے، مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ اگر کسی پڑھاکو کو مطالعے جیسا صحت مندانہ شوق بھی چڑھا ہے تو وہ بھی اس طرح کہ کتاب میز پر نہیں، بلکہ سینے پر دھری ہو اور صاحب کسی نیم دراز پوزیشن میں اس طرح پڑے ہوں جیسے وہ کوئی شہزادہ سلیم ہیں جنھیں سلطنت کی خبریں سنائی جا رہی ہوں۔
اس آرام طلبی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بدن نے اب پھیلنا شروع کر دیا ہے اور یہ پھیلاؤ اس قدر خود اعتماد ہے کہ اسے کسی حد کا احساس ہی نہیں رہا۔ وہ پیٹ جو کبھی کسی ڈسپلن کا پابند ہوا کرتا تھا، اب آہستہ آہستہ ایک ”پرسنل ڈیسک“ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس پر آپ چاہیں تو چپس کی پلیٹ رکھ لیں یا ریموٹ کنٹرول، وہ بڑی وفاداری سے اسے سنبھال لے گا۔
کسی زمانے میں عوام موٹاپے کو امارت کی علامت سمجھتے تھے، مگر موٹاپا تو سراسر کاہلی کا تمغا ہے جو ہم نے خود اپنے وجود پر سجا لیا ہے۔ موٹاپا صرف بے ڈھنگا لگنے کا مسئلہ نہیں، یہ صحت کا معاملہ ہے۔ جسم پر غیر ضروری وزن بڑھ جائے تو تھکن کندھوں پر آ بیٹھتی ہے، سانس قابو میں نہیں رہتی اور بالآخر بیماریاں چمٹ جاتی ہیں۔ پھر شہزادے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ایک دن آئینے سے پوچھتے ہیں کہ میں بھلا ایسا کیسے ہو گیا؟ جواب آئینہ نہیں دیتا، جواب میں چپس کے خالی پیکٹ، لمبی لمبی نشستیں، رات گئے اسکرین اور ”کل سے ورزش شروع کروں گا“ والے جھوٹے وعدے چپکے چپکے مسکرا رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے بچوں نے چلنا پھرنا تو جیسے کسی قدیم تہذیب کی نشانی سمجھ کر ترک کر دیا ہے۔ باورچی خانے تک کا سفر ان کے لیے کسی ”ہجرت“ کے برابر ہے۔ حضور کھڑے ہوتے ہیں تو جسم کے جوڑ جوڑ سے ایسی آوازیں آتی ہیں جیسے کسی پرانے قلعے کا زنگ آلود دروازہ مدتوں بعد کھولا جا رہا ہو اور اگر اتفاق سے سیڑھیاں چڑھنی پڑ جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی کوہ پیما کی آخری سانسیں اکھڑ رہی ہوں۔ یہ جسمانی جمود صرف چربی اور گوشت کا ڈھیر نہیں بڑھا رہا، بلکہ انسانی مشینری کو زنگ آلود کر رہا ہے۔ اسکرین کے سامنے گھنٹوں بت بنے بیٹھے رہنے سے آنکھیں تو دھنس ہی رہی ہیں، مگر وہ جو ایک تیزی و طراری جوانی کا خاصہ ہوا کرتی تھی، اب چربی کی دبیز تہوں کے نیچے دب کر رہ گئی ہے۔
اچھا، مزے کی بات یہ ہے کہ اس کاہلی کے جواز میں ہم نے سوشل میڈیا پر ایک جگہ یہ تک پڑھا کہ بیٹھ کر گھنٹوں سوچتے رہنے سے، جسے وہ مراقبہ کہتے ہیں، تخلیقی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔
حضور! تھوڑا رحم کیجیے۔ اگر بیٹھ کر سوچتے رہنے ہی سے ترقی ہوتی تو کچھوے اور الو آج دنیا کے حکمران ہوتے۔
ارے چندا! جسم کو پسینے کی حدت چاہیے۔ اسے دوڑتے ہوئے لہو کی گردش درکار ہے، ورنہ بدن سفید ہاتھی بن کر آپ کے لیے وبال جان بن جائے گا۔ دودھ والے کی دکان تک جانے کے لیے بھی موٹر سائیکل پر جانا، ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے کے لیے کسی کو پکارنا کہ ”میرا فون پکڑا دینا“… یہ وہ علامات ہیں جو بتاتی ہیں کہ آپ نے اپنی ٹانگوں کو صرف نمائش کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔
ہمارا مقصد ہرگز کسی بھتیجے بھانجے کا دل دکھانا نہیں، بلکہ اس سوئے ہوئے شیر کو جگانا ہے جو صوفے کے غلاف میں چھپا خود کو گوشت کے پہاڑ میں بدل رہا ہے۔ تو شاباش میرے لال! ذرا اٹھو، اس حصار کو توڑو، اسکرین کی قید سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لو اور اپنے پیروں کو یاد دلاؤ کہ ان کا کام افقی حالت میں پڑے رہنا نہیں، زمین کو ناپنا بھی ہے۔ مبادا ایسا ہو کہ جب کبھی تم واقعی جاگنا چاہو تو تمھارا اپنا جسم تمھارا ساتھ دینے سے انکار کر دے اور تم خدانخواستہ ایک ایسی مشین بن کر رہ جاؤ جس کا سوئچ تو آن ہے، مگر پرزے سب جام ہو چکے۔
یاد رکھو، جوانی نام ہے تلاطم کا۔ چیتے پن کا، نہ کہ بھینس پن کا۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ تمھارا ”بیلی فیٹ“ (توند) تمھاری شخصیت کا واحد تعارف بن جائے، تھوڑی سی جنبش کر لو بچے!
چلتے رہو جیتے رہو!
والسلام
تمھارا اسمارٹ و ایکٹو چاچو ماموں 😁🥰
عجب فراق تھا کیفیت ِ وصال میں بھی
سلگ رہا تھا کوئی زخم اندمال میں بھی
ابھی تو آنکھ کھلی بھی نہ تھی کہ در آئے
ترے ہی خواب کے منظر ترے خیال میں بھی
وہ ایک غم بڑی تابانیوں سے روشن ہے
غبار ِ درد میں بھی، گردِ ماہ و سال میں بھی
خیال رکھ کہ یہاں بے گماں نکلتا ہے
ترے عروج کا رستہ ترے زوال میں بھی
مری کمند ہی نے قید کرلیا تھا مجھے
عجیب طرح کی شوخی تھی اس غزال میں بھی
وہ دکھ ہے چاند کے مانند ساتھ ساتھ سعود
طرب کے شہرمیں بھی ، قریۂ ملال میں بھی
سلگ رہا تھا کوئی زخم اندمال میں بھی
ابھی تو آنکھ کھلی بھی نہ تھی کہ در آئے
ترے ہی خواب کے منظر ترے خیال میں بھی
وہ ایک غم بڑی تابانیوں سے روشن ہے
غبار ِ درد میں بھی، گردِ ماہ و سال میں بھی
خیال رکھ کہ یہاں بے گماں نکلتا ہے
ترے عروج کا رستہ ترے زوال میں بھی
مری کمند ہی نے قید کرلیا تھا مجھے
عجیب طرح کی شوخی تھی اس غزال میں بھی
وہ دکھ ہے چاند کے مانند ساتھ ساتھ سعود
طرب کے شہرمیں بھی ، قریۂ ملال میں بھی
تو نہیں جانتا کیا جان کنی ہے مجھ میں
مت ادھر آ کہ بہت ناگ پھنی ہے مجھ میں
کار دنیا کبھی فرصت نہیں دیتا صاحب
عشق اور رزق کی ہر لمحہ ٹھنی ہے مجھ میں
یہ جو میں کھوجتا رہتا ہوں ستاروں کے جہاں
کتنے قرنوں کی غریب الوطنی ہے مجھ میں
مت ادھر آ کہ بہت ناگ پھنی ہے مجھ میں
کار دنیا کبھی فرصت نہیں دیتا صاحب
عشق اور رزق کی ہر لمحہ ٹھنی ہے مجھ میں
یہ جو میں کھوجتا رہتا ہوں ستاروں کے جہاں
کتنے قرنوں کی غریب الوطنی ہے مجھ میں
کچھ اس طرح مری چھاؤں مرا ہنر کر دے
چلوں تو ابر، رکوں تو مجھے شجر کر دے
وہ غم ہے اب بھی کسی بادشاہ گر کی طرح
گدائے عشق جسے چاہے تاج ور کر دے
یہ اک ہنر تو ازل سے ہوا کے ہاتھ میں ہے
کہ مُشتِ خاک پہ گزرے تو مُشتِ پر کر دے
میاں! یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
کسی کو خاک بنا دے، کسی کو زر کر دے
تری تلاش کا یہ وصف بھی کمال کا تھا
کہ گھر میں رکھ کے بھی لوگوں کو دربدر کر دے
سکوتِ جاں کسی معمار کی تلاش میں ہے
یہ وقت ہے کہ مرے دشت کو نگر کر دے
شجر کی بےثمری کب سے انتظار میں ہے
لگا وہ زخم کہ شاخوں کو بار ور کر دے
بہت سے غم ترے غم میں بدلنا چاہتا ہوں
خوشا وہ درد کہ ہر درد بےاثر کر دے
زمیں کے چاک پہ مَیں خاک کی طرح ہوں سعود
نہ جانے کب مجھے کیا دستِ کوزہ گر کر دے
چلوں تو ابر، رکوں تو مجھے شجر کر دے
وہ غم ہے اب بھی کسی بادشاہ گر کی طرح
گدائے عشق جسے چاہے تاج ور کر دے
یہ اک ہنر تو ازل سے ہوا کے ہاتھ میں ہے
کہ مُشتِ خاک پہ گزرے تو مُشتِ پر کر دے
میاں! یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
کسی کو خاک بنا دے، کسی کو زر کر دے
تری تلاش کا یہ وصف بھی کمال کا تھا
کہ گھر میں رکھ کے بھی لوگوں کو دربدر کر دے
سکوتِ جاں کسی معمار کی تلاش میں ہے
یہ وقت ہے کہ مرے دشت کو نگر کر دے
شجر کی بےثمری کب سے انتظار میں ہے
لگا وہ زخم کہ شاخوں کو بار ور کر دے
بہت سے غم ترے غم میں بدلنا چاہتا ہوں
خوشا وہ درد کہ ہر درد بےاثر کر دے
زمیں کے چاک پہ مَیں خاک کی طرح ہوں سعود
نہ جانے کب مجھے کیا دستِ کوزہ گر کر دے
یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے
اداسی روح تک برسا گیا ہے
ذرا یہ برف کا کہسار دیکھو
کہ جیسے آئنہ پتھرا گیا ہے
ذرا یہ سوختہ اشجار دیکھو
کوئی غم ہے جو ان کو کھا گیا ہے
بس اب یہ دوستی ہے عمر بھر کی
وہ مجھ سے ہی مجھے ملوا گیا ہے
اداسی روح تک برسا گیا ہے
ذرا یہ برف کا کہسار دیکھو
کہ جیسے آئنہ پتھرا گیا ہے
ذرا یہ سوختہ اشجار دیکھو
کوئی غم ہے جو ان کو کھا گیا ہے
بس اب یہ دوستی ہے عمر بھر کی
وہ مجھ سے ہی مجھے ملوا گیا ہے
قبا کی جیب سے، دامن سے، آستینوں سے
لگی ہے دیدۂ پرنم کو آس تینوں سے
لگی ہے دیدۂ پرنم کو آس تینوں سے
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے:
(1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی
(2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن
(3) ویب سائٹ کی نگرانی کے لیے ماہر شاعر و ادیب کا وقت
(4) سوشل میڈیا مارکیٹنگ
(5) اخبارات و رسائل کے اشتہارات
(6) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے
(7) لکھنے والے اس کے بارے میں لکھیں۔
(8) یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز اس پر ویڈیو بنائیں۔
(9) پوسٹ میں دی گئی تفصیلات اپنے اپنے واٹس ایپ گروپس میں شئیر کریں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے:
(1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی
(2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن
(3) ویب سائٹ کی نگرانی کے لیے ماہر شاعر و ادیب کا وقت
(4) سوشل میڈیا مارکیٹنگ
(5) اخبارات و رسائل کے اشتہارات
(6) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے
(7) لکھنے والے اس کے بارے میں لکھیں۔
(8) یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز اس پر ویڈیو بنائیں۔
(9) پوسٹ میں دی گئی تفصیلات اپنے اپنے واٹس ایپ گروپس میں شئیر کریں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
ارتقاء، جوابات اور ان کی خامیاں
میری گزشتہ ارتقاء سے متعلق تحریر میں جو اشکالات تھے ان کے کچھ علمی جوابات عمیر صاحب نے تحریر فرمائے ہیں۔ اللہ پاک انہیں جزائے خیر دیں۔ آپس کی گفتگو سے ہی علم بڑھتا ہے اور راستے کھلتے ہیں۔ ان جوابات پر گفتگو اس تحریر میں ہم کرتے ہیں۔
کوشش رہے گی کہ سب سے پہلے اشکال کو ذکر کیا جائے، پھر اس کے جواب کو اور پھر اس کا جواب الجواب ہو۔ لیکن اس سے پہلے ایک اصولی بات عرض کر دوں کہ یہ تحریر تو امید ہے طویل ہو جائے گی اور حصے بنانے پڑیں گے، یہ ان کے لیے ہی مفید ہوگی جنہیں اس سے دلچسپی ہو:
نظریہ ارتقاء (یعنی انسان کا ارتقاء) جسے ہائیپوتھیسس کہنا چاہیے، ایک سائنسی نظریہ ہے۔ لیکن چونکہ اس نظریے کے مطابق بھی انسان کا ارتقاء کوئی دو ڈھائی لاکھ سال یا اس سے بھی زیادہ پہلے ہوا ہے اور اسے دیکھنے والا کوئی اس وقت موجود نہیں تھا، اس لیے اسے ثابت فلسفے والے انداز سے عقلی دلائل سے کیا جاتا ہے۔ اس کا تجربہ کرنا ممکن نہیں۔
اب جب ایک چیز کو عقلی دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے تو اس پر اشکالات بھی اسی طرح شواہد کی روشنی میں عقلی دلائل سے ہوتے ہیں۔ چونکہ بات سائنس کی ہے تو یہاں "کیوں" اور "کیسے" کی بات ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ماننے کی بات کرنا مذہب کا ڈومین ہے اور سائنس مذہب نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد ہم اپنے ٹاپک کی جانب چلتے ہیں:
پہلا اشکال: "دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے جس کے جینز میں ”ہومو سیپئن“ نہ ہوں اور وہ صرف ”نینڈرتھل“ وغیرہ سے بنا ہو۔ یعنی موجودہ انسانوں کے تمام جینز میں ”ہومو سیپئن“ (جسے ہم انسان کہتے ہیں) ضرور موجود ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نینڈرتھل، صرف ڈینی سووین یا نیڈرتھل اور ڈینی سووین کے مجموعے نے ارتقاء نہیں کیا اور باقی نہیں رہے۔ صرف ہومو سیپئن باقی رہے ہیں۔ اگر ارتقاء اسی طرح ہو رہا تھا جیسے بیان کیا جاتا ہے تو ان تینوں مخلوقات میں نظر آنا چاہیے تھا۔ یہ صرف ہومو سیپئن میں کیوں ہوا ہے اور باقیوں میں کیوں نہیں؟"
عمیر صاحب کا جواب:
"سب سے پہلے یہ سوال آتا ہے کہ اگر ارتقاء درست ہے تو صرف ہومو سیپینز ہی کیوں باقی رہ گئے جبکہ نیندرتھل، ڈینیسوون اور دیگر انسانی انواع کیوں ختم ہو گئیں۔ اس اعتراض کا بنیادی جواب یہ ہے کہ ارتقاء کا عمل کسی سیدھی لکیر کی طرح نہیں ہوتا بلکہ ایک درخت کی طرح ہوتا ہے جس میں مختلف شاخیں نکلتی ہیں۔ کچھ شاخیں وقت کے ساتھ باقی رہتی ہیں جبکہ کچھ ختم ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈائناسور کی تقریباً تمام انواع ختم ہو گئیں لیکن ان کی ایک شاخ ارتقاء کے ذریعے پرندوں کی صورت میں آج تک باقی ہے۔ اسی طرح انسانی خاندان میں بھی مختلف انواع موجود تھیں جیسے ہومو ہیبیلس، ہومو ایریکٹس، نیندرتھل، ڈینیسوون، ہومو فلوریسیئنسیس اور ہومو سیپینز۔ وقت کے ساتھ مختلف ماحولیاتی، سماجی اور حیاتیاتی عوامل کی وجہ سے ان میں سے صرف ہومو سیپینز باقی رہ گئے۔ اس کے ممکنہ اسباب میں بہتر سماجی تعاون، زیادہ پیچیدہ زبان، بہتر اوزار اور ٹیکنالوجی، اور نسبتاً بڑی آبادی شامل ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بقاء صرف جسمانی طاقت پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ سماجی اور ثقافتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔"
جواب الجواب:
یہاں سب سے پہلے تو میں یہ وضاحت کر دوں کہ ابتدائی طور پر مجھے جو جواب بھیجا گیا تھا وہ اپنے اسٹرکچر سے اے آئی جنریٹڈ لگتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اے آئی کی خصوصیات اپنی جگہ لیکن اس میں ابھی بہت کمی ہے، جس کی وضاحت آگے جواب سے ہو جائے گی۔
ارتقاء کے حوالے سے ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی یہ نہیں جانتے کہ اس کی فوسلز کے لحاظ سے کیا ترتیب ہے۔ میں آسان الفاظ میں کچھ واضح کرتا ہوں۔
سب سے پہلے تو ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم یعنی ماڈرن انسان "ہومو سپیپئین" کہلاتے ہیں۔ ہومو سیپئین کی ایک اہم خصوصیت ان کے سر کی ساخت یا شیپ ہے جس میں ان کا دماغ گول ہوتا ہے۔ یہ گول دماغ انہیں سوچنے کی زبردست طاقت دیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان میں سننے اور دیکھنے وغیرہ کی صلاحیتوں کو کچھ کم کرتا ہے۔
ارتقاء کے ٹری میں ہم بنیادی طور پر یہاں یورپ اور افریقہ کی بات کر رہے ہیں۔ دونوں میں ایسی مخلوقات رہیں جو انسان سے ملتی جلتی تھیں لیکن ان کے سر کی ساخت انسان سے مختلف تھی۔
یورپ: یہاں ابتدا ہوئی ہومو ایریکٹس سے۔ اس پر کوئی واضح فوسل تو نہیں ہے لیکن اگر ہومو ایریکٹس کو لاکھوں سال پر مشتمل ایک وسیع کیٹیگری مان لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں۔ ان سے بنے "ہومو اینٹیسیسر"، ان سے بنے "ہومو ہائیڈل برگینسس" اور ان سے بنے نیندر تھلز۔ یعنی:
ہومو ایریکٹس ٹائپ مخلوق - ہومو انٹیسیسر - ہومو ہائیڈل برگینسس - نیندر تھلز۔۔۔۔ نیندر تھلز سے آگے نسل نہیں چل سکی۔
افریقہ: ہومو ہیبیلس سے ابتدا ہوئی، ان سے بنے ہومو ایریکٹس، ان سے "افریقن آرکیاک ہومو" اور ان سے "ہومو سیپئین"۔ یعنی:
ہومو ایریکٹس - افریقن آرکیاک ہومو - ہومو سیپئین۔۔۔۔ ہومو سیپئین آج تک موجود ہیں۔
اگر آپ دیکھیں تو ہومو ایریکٹس ٹائپ مخلوق سے یورپ میں بہت زبردست ارتقاء ہوا ہے اور نیندر تھلز تک مخلوقات کامیابی سے رہی ہیں۔ یہ نیندر تھلز غالباً کوئی چالیس ہزار سال قبل مسیح تک دنیا میں رہے ہیں۔ اس مخلوق کو یہاں تک ارتقاء میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ان کے سر لمبوترے ہوتے تھے۔ لمبوترے سر کی وجہ سے ان کی جسمانی صلاحیت زیادہ ہوتی تھی۔
اسی طرح ایشیا میں ڈینیسوون تھے جنہوں نے مکمل ارتقاء کیا اور انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ان کا مکمل فوسل تو کوئی نہیں ہے لیکن اندازہ یہی ہے کہ ان کا سر بھی لمبوترا ہوتا تھا۔
ان ہی دونوں کی طرح افریقہ میں افریقن آرکیاک ہومو تھے جو لمبوترا سر رکھتے تھے۔ یہ بھی ایک وسیع کیٹیگری ہے جس میں ایک سے زیادہ افراد آتے ہیں۔ اس کیٹیگری کے آخری افراد ہمارے پاس فوسل کی شکل میں "جبل ارہود" تین لاکھ سال پرانا اور "ہرٹو" ڈیڑھ لاکھ سال پرانا ہے۔ یعنی افریقہ میں یہ ارتقاء ڈیڑھ لاکھ سال پرانے وقت تک چل رہا تھا۔
اس دوران اچانک افریقہ میں ان دونوں کے درمیان میں ایک گول سر والا فرد نکل آتا ہے جسے "اومو 1" کہتے ہیں۔ یہ تقریبا دو سے ڈھائی لاکھ سال پرانا ہے اور اس کا سر گول ہے۔ یہ وہ مخلوق ہے جو ہومو سیپئین سے بہت زیادہ ملتی ہے اور غالباً یہ جدید انسان ہی ہوگا جس کی ساخت میں معمولی سا فرق ہے جیسے زمانے کے ساتھ ہوتا ہے۔
اب ایک تو یہ ہومو سیپئین افریقن آرکائک ہومو کے درمیان ترتیب سے فٹ نہیں ہوتا لیکن فی الحال ہم اسے اسی سے مان لیتے ہیں۔ تو افریقہ میں آرکائک ہومو اور ہومو سیپئین دونوں تھے۔
دنیا میں آئس ایج چل رہی تھی۔ یہ آئس ایج تقریباً دس سے بارہ ہزار سال قبل ختم ہوئی۔ دنیا میں شمالی حصوں میں برف تھی اور یورپ شمالی علاقہ ہے۔ یورپ میں برف بارہ ہزار سال سے بیس ہزار سال قبل پگھلی۔ یعنی اسے ختم ہونے میں تقریباً آٹھ ہزار سال لگے۔ نیندرتھلز اسی آئس ایج میں یورپ میں تھے اور چالیس ہزار سال قبل ختم ہوئے۔
ترتیب بنائیں:
دنیا میں آئس ایج تھی۔ یورپ میں ہر طرف برف تھی۔ اس برف میں دو مخلوقات تھیں: نیندرتھل اور ہومو سیپئین۔ ہومو سیپئن افریقہ کے گرم علاقوں سے گئے تھے۔
نیندتھل کا جسم چھوٹا اور چوڑا تھا، ناک بڑی تھی، عضلات مضبوط تھے، کھال کا استعمال کرتے تھے، آگ جلاتے تھے۔ شکار میں ماہر تھے۔ ضرورت کے بقدر آلات بھی بنا لیتے تھے۔ یہ برف کے لیے بالکل مناسب تھے۔ یہی معاملہ ڈینیسوونز کا تھا۔
ہوموسیپئین صرف آگ جلا سکتے تھے اور جانوروں کی کھال استعمال کر سکتے تھے۔ برف کے جانوروں کا شکار بھی ان کے لیے دوسروں سے مختلف تھا۔ کھیت تو نکلنے سے رہے۔
"سروائیول آف دی فٹسٹ" کے لحاظ سے کون فٹ تھا؟ ارتقاء کی تھیوری کے بنیادی اصول کے مطابق کسے باقی رہنا چاہیے تھا؟ ظاہر ہے کہ نیندرتھلز اور ڈینیسوونز کو۔ باقی کون رہا؟ ہوموسیپئین!
اب آئیے بنیادی اشکال کی جانب۔ اگر ارتقاء کی تھیوری درست ہے تو یورپ اور سائیبیریا جیسے علاقوں میں ہوموسیپئن کسی بھی صورت میں نیندرتھل اور ڈینیسووا سے آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ پھر بھی وہ ختم ہو گئے اور یہ بچ گئے؟ "کیوں" اور "کیسے"؟
یہ سب تاویلات ہیں کہ بہتر سماجی تعاون، بہتر اوزار اور پیچیدہ زبان نے ہوموسیپئن کو تو اس برف میں زندہ رکھا اور نیندرتھل کو مار دیا جو لاکھوں سال سے اسی برف میں تھے، اسی میں انہوں نے ارتقاء کیا تھا اور اسی کے لیے وہ "فٹسٹ" تھے۔ یہاں سماجی تعاون اور زبان انہیں زندہ ہی نہیں رکھ سکتی تھی اور ارتقاء کے مطابق اوزار بنانے میں وقت لگتا ہے۔
اس میں حقیقت صرف یہ ہے کہ ہومو سیپئن باقی ہیں اور نیندرتھل ختم ہو گئے، لیکن اس کی وجہ اگر ارتقاء ہے تو یہ ناممکن ہے!
۔ ۔ ۔
ارتقاء کا نظریہ ایک فلاپ ہائیپوتھیسس ہے اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی جدید تحقیق ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ یہ نظریہ اپنی ابتدائی شکل میں آج سے کوئی پچیس سو سال قبل یونانیوں نے پیش کیا تھا۔
یہ تو قدیم انسان جانتا ہی تھا کہ زمین میں انسان سے پہلے انسان سے ملتی جلتی مخلوقات رہتی تھیں۔ یونانی فلسفیوں نے اس پر تکا لگایا کہ یہ مخلوقات آہستہ آہستہ کر کے انسان بن گئی ہوں گی۔ 1859 میں ڈارون نے اسی مکھی پر بڑی یعنی تفصیلی مکھی مار لی۔ بعد کے سائنسدانوں کو قدیم مخلوق کے ڈھانچے ملے تو انہوں نے بھی اسی ترتیب پر کڑیاں ملا لیں کہ فلاں سے فلاں بنا ہے۔
یہ تو واضح ہے کہ قدیم مخلوقات میں ہوموسیپئن یعنی انسانوں نے نیندر تھلز اور ڈینیسووا، بلکہ مزید مخلوقوں سے بھی جنسی ملاپ کیا ہے اور ان سے اولاد بھی ہوئی ہے۔ آج کے انسانوں میں بڑی تعداد میں نیندرتھل کے ایک دو فیصد جینز ملتے ہیں اور ڈینیسووا کے بھی جینز ملتے ہیں۔ بلکہ پرانے فوسلز میں نیندرتھل اور ڈینیسووا کا ملاپ بھی ملتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہوموسیپئن "بنے" ان سے، بلکہ وہ موجود تھے تو انہوں نے ملاپ کیا۔
خیر! چلتے ہیں اشکال کی جانب:
"”ہومو سیپئن“ کے آباء و اجداد ”ہومو ایریکٹس“ تھے لیکن ان کا ڈی این اے ریکارڈ فی الحال موجود ہی نہیں ہے جس سے یہ کہا جا سکے کہ وہ واقعی تمام ہوموسیپئن میں پائے جاتے ہیں۔ ایک پراسرار جینز ہمیں ملتا ہے لیکن وہ تمام ہومو سیپئنز میں نہیں ہے۔
بغیر ریکارڈ اور ڈیٹا کے یہ کہہ دینا کہ “ہومو ایریکٹس” سے ارتقاء کر کے “ہومو سیپئن” بنے ہیں، ایک بلا دلیل دعوی اور فرضی قیاس ہے۔ یہ ارتقاء کسی نے دیکھا تو ہے نہیں کہ کوئی مشاہداتی دلیل اس پر ہو، پھر یہ دعوی بھلا کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟"
عمیر صاحب کا جواب:
"دوسرا سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ہومو ایریکٹس کا ڈی این اے ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم ڈی این اے کے کچھ نمونے آج ہمارے پاس موجود ہیں جیسے نیندرتھل ڈی این اے اور ڈینیسوون ڈی این اے، اور ہومو ایریکٹس کے جینوم کے کچھ حصے بھی حاصل کیے جا چکے ہیں۔ تاہم یہاں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہومو ایریکٹس بہت قدیم نوع ہے جو تقریباً اٹھارہ لاکھ سال پہلے ظاہر ہوئی تھی، اور گرم علاقوں میں ڈی این اے بہت جلد خراب ہو جاتا ہے، اس لیے مکمل جینوم کا محفوظ رہنا مشکل ہوتا ہے۔
اس کے باوجود سائنسدانوں کے پاس
تین بڑے شواہد موجود ہیں۔
پہلا فوسل تسلسل ہے جس میں ہمیں ہومو ہیبیلس سے ہومو ایریکٹس اور پھر قدیم ہومو سیپینز تک ایک مسلسل تبدیلی نظر آتی ہے۔
دوسرا جسمانی خصوصیات کا تسلسل ہے جس میں دماغ کا حجم بتدریج بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ہومو ہیبیلس کا دماغ تقریباً چھ سو سی سی، ہومو ایریکٹس کا تقریباً نو سو سی سی اور جدید انسان کا تقریباً تیرہ سو پچاس سی سی تک پہنچ جاتا ہے۔
تیسرا ثبوت جینیاتی موازنہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جدید انسان افریقہ میں تقریباً دو سے تین لاکھ سال پہلے ایک مشترکہ آباء سے نکلے۔ اس نظریے کو آؤٹ آف افریقہ ماڈل کہا جاتا ہے۔"
جواب الجواب:
ارتقاء کی فلاپ تھیوری کا کمال دیکھیے! جس چیز کا ڈی این اے ہی کبھی نہیں ملا اس سے نسل جوڑ دی ہے۔ کیوں جوڑ دی ہے؟ اس لیے کہ ایک مخصوص شکل کی نسل میں تبدیلی ملتی رہی اور پھر ایک دم ایک بڑی تبدیلی والی شکل بھی اسی علاقے میں ملی تو اسے پچھلی سے جوڑ دیا۔ کیوں جوڑ دیا؟ یہی تو تکا ہے!
اب تینوں شواہد دیکھیے:
پہلے کا مطلب یہ ہے کہ ہوموپیبیلس کا دماغ چھوٹا اور سر لمبوترا تھا، ہومو ایریکٹس کا تھوڑا بڑا دماغ اور سر کم لمبوترا تھا، آرکائک ہومو میں سر مزید کم لمبوترا تھا اور سیپئن میں گول ہے، لہذا ہم ترتیب کے مطابق سیپئن کو اسی نسل سے مانیں گے۔
اس میں دو بڑے مسائل ہیں:
اول: جیسا کہ گزشتہ حصے میں ذکر ہوا کہ گول سر والا اومو 1 ہمیں لمبے سر والے ہرٹو سے کوئی پیسٹھ ستر ہزار سال پہلے ملتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ لمبے سر والے ترتیب وار گول سر والوں میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں بلکہ جب گول سر والے دنیا میں تھے تو لمبے سر والے بھی موجود تھے۔
پھر ہم یہ کیوں نہیں کہیں کہ گول سر والے الگ سے مخلوق تھے اور لمبے سر والے ہرٹو کی مخلوق نیندرتھلز کی طرح چل رہی تھی جو بعد میں ان ہی کی طرح ختم ہو گئی؟
دوم: جو فوسلز ہمیں ملتے ہیں ان میں ہزاروں سے لاکھوں سالوں کے گیپس ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک علاقے میں ہومو ایریکٹس رہے، پھر ان کی ایک جدید نسل یا ان سے ملتی جلتی ایک نسل رہی، پھر انسان رہے تو ان تینوں کے فوسل آپ کو مل جائیں گے اور الگ الگ زمانے کے۔ ان سے یہ ثابت ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ تینوں آپس میں کوئی تعلق رکھتے تھے۔ یہ تو فرضی بات ہو گئی۔
شواہد میں دوسرا کہتا ہے کہ ہمیں ان کھوپڑیوں میں دماغ کا سائز بڑھتا نظر آتا ہے۔ چنانچہ ہومو ایریکٹس میں نو سو سی سی اور ہوموسیپئن یعنی جدید انسان میں ساڑھے تیرہ سو سی سی ہے۔
اس چیز پر الگ سے اشکال کیا گیا ہے کہ ابتدائی جدید انسان کے دماغ کا سائز پندرہ سے سولہ سو سی سی تھا اور موجودہ کا سائز اس سے چھوٹا یعنی ساڑھے تیرہ سو سی سی ہے۔ یوں یہ الٹا ارتقاء ہے۔ یہاں دماغ کے سائز کے حساب سے ارتقاء ہونے والی تھیوری بالکل غلط معلوم ہوتی ہے۔ اس کی وجوہات بیان کی جاتی ہیں لیکن وہ تاویلات ہی ہیں۔
شواہد میں تیسرا کہتا ہے کہ تمام جدید انسان ایک مشترکہ باپ سے نکلے۔ اس سے تو ہمیں اتفاق ہے کہ سب انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں لیکن وہ مذہب کی بنیاد پر ہے۔ ڈی این اے کی غیر موجودگی میں سائنس بھلا یہ دعوی بغیر کسی دلیل کے کیسے کر سکتی ہے؟ ایسا کون سا جینیاتی موازنہ ہے جو یہ بتائے؟
چنانچہ ہمارا اشکال اپنی جگہ باقی ہے کہ بغیر ریکارڈ اور ڈیٹا کے یہ کہہ دینا کہ “ہومو ایریکٹس” سے ارتقاء کر کے “ہومو سیپئن” بنے ہیں، ایک بلا دلیل دعوی اور فرضی قیاس ہے۔
۔ ۔ ۔
تیسرے حصے کو ہم مختصر رکھیں گے۔ لیکن اس سے پہلے مذہب کا ارتقاء کے حوالے سے نکتہ نظر سمجھ لیجیے۔ انسان کے علاوہ کسی جاندار کے ارتقاء سے اسلام کی بنیادی نصوص نے انکار نہیں کیا ہے۔ اس لیے یہ بالکل ممکن ہے جانوروں میں ارتقاء ہوا ہو۔
انسان میں مائکرو لیول کے ارتقاء سے بھی مذہب نے انکار نہیں کیا ہے۔ یعنی انسان سیکھتا ہے، سمجھتا ہے، نتائج نکالتا ہے اور زمانے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ البتہ یہاں تاریخی طور پر ہمیں ایسی چیزیں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بعض زمانوں میں دوسرے زمانوں سے جدید رہا ہے اور اس نے اہرام جیسی چیزیں بنائی ہیں۔
شاید بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں کہ اہرام مصر کے سوال بھی قدیم انسانوں نے ایسی کئی تعمیرات کی ہیں جن کے علوم کے بارے میں آج یہ سوچنا مشکل ہے کہ یہ اس زمانے میں کیسے موجود تھے؟ ان میں ایک مقام (Göbekli Tepe) تو ساڑھے گیارہ ہزار سال پرانا ہے جب ہمارے "ارتقاء دانوں" کے مطابق انسان زیادہ تر شکار کر کے اور پھل توڑ کر کھاتا تھا۔ یہ تو تعمیرات ہیں جو باقی رہ گئیں، علوم تو اور بھی ہوں گے جو استعمال ہوئے اور یہاں کوئی کام بھی ہوتے ہوں گے۔
مذہب نے انسان کے دوسری مخلوقات سے ارتقاء کو رد کیا ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ آدم کو مٹی سے بنایا اور پھر روح پھونکی، پھر اسماء کی شکل میں علوم کی بنیاد ڈالی اور پھر زمین پر اتارا۔ اسے اس ننھی منی سائنس سے ثابت کرنا ممکن نہیں ہے جس کو ابھی تک زمین پر موجود کئی چیزوں کی وجہ اور ٹیکنیک ہی معلوم نہیں ہوئی۔
مذہب کہتا ہے کہ آدم علیہ السلام کے بعد انبیاء آئے جو لوگوں کو ہر دور کی ضرورت کے مطابق علوم سکھاتے تھے۔ میں نے گزشتہ حصوں میں سوال و جواب کے دوران عمیر صاحب سے یہ پوچھا تھا کہ انسان پینتالیس ہزار سال قبل یورپ میں برف میں گیا تو ارتقاء کے مطابق تو اسے سیکھنے کی ضرورت تھی۔ وہ اس سیکھنے کے دوران زندہ کیسے رہا؟ اسے یہ عقل کہاں سے ملی؟ مذہب کے پاس اس کا جواب بھی ہے اور اہرام مصر جیسی چیزوں کا بھی، لیکن وہ ارتقاء کی فلاپ تھیوری کے مطابق سیٹ نہیں ہوتا۔
خیر! چلتے ہیں اشکال کی جانب:
"ہومو سیپئین یعنی جدید انسانوں کے آباؤ اجداد “ہومو ایریکٹس” نے بھی افریقہ سے ہجرت کی تھی اور نینڈرتھل، ڈینی-سووینز کے علاقوں میں آئے تھے اور وہاں ایک لاکھ دس ہزار سال قبل تک رہے۔ نیندرتھلز کا زمانہ چار لاکھ سال سے چالیس ہزار سال قبل تک کا ہے۔ یعنی درمیان کے ستر ہزار سال کے علاوہ باقی وقت دونوں ساتھ رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ایسے انسان موجود نہیں ہیں جن کے جینز صرف ان دو سے مل کر بنے ہوں اور ہومو سیپئینز ان میں نہ ہوں۔ اگر ارتقاء کا سلسلہ درست ہے تو نیڈرتھلز اور ہومو ایریکٹس کے ملاپ سے ایسی مخلوق لازماً پیدا ہونی چاہئیے تھی جو “فٹسٹ” ہوتی اور سروائیول کرتی۔ صرف ہومو سیپئینز ہی کیوں نظر آتے ہیں؟"
عمیر صاحب کا جواب:
"تیسرا اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ارتقاء درست ہے تو ہومو ایریکٹس اور نیندرتھل کے ملاپ سے کوئی الگ نسل کیوں پیدا نہیں ہوئی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ نیندرتھل دراصل ہومو ایریکٹس کی ہی ایک یورپی شاخ تھے۔ یعنی ہومو ایریکٹس سے ہی مختلف شاخیں نکلیں جن میں نیندرتھل اور ڈینیسوون شامل تھے۔ اس لیے یہ بالکل الگ انواع نہیں بلکہ ایک ہی خاندان کی مختلف شاخیں تھیں۔ مزید یہ کہ ان کا ملاپ واقعی ہوا تھا اور اس کا ثبوت آج کے انسانوں کے ڈی این اے میں موجود ہے۔ یورپ اور ایشیا کے انسانوں میں تقریباً ایک سے دو فیصد نیندرتھل ڈی این اے پایا جاتا ہے جبکہ کچھ ایشیائی اور میلانیشیائی آبادیوں میں ڈینیسوون ڈی این اے بھی موجود ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مختلف انسانی انواع کے درمیان جینیاتی تبادلہ ہوا تھا۔ تاہم نیندرتھل اور ڈینیسوون کی آبادی بہت کم تھی جبکہ ہومو سیپینز کی آبادی زیادہ تھی، اس لیے وقت کے ساتھ جینیاتی طور پر ہومو سیپینز غالب آ گئے۔ "
جواب الجواب:
اس جواب میں کچھ چیزوں کو گڈ مڈ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ حصوں میں کہا کہ جواب اے آئی جنریٹڈ معلوم ہوتا ہے اور اے آئی کے بس کی بات نہیں تھی اس اشکال کو سمجھنا اور جواب دینا۔
ذرا بیک گراؤنڈ سمجھیے۔ زمین پر انسان نما مخلوقات کی ابتدا افریقہ میں نظر آتی ہے جن میں فرض کیجیے کہ پہلا ہے "ہومو ہیبیلس" اور دوسرا ہے "ہومو ایریکٹس"۔ ہومو ایریکٹس افریقہ سے یورپ گئے، لیکن یہ صرف کچھ اوزاروں سے پتا چلتا ہے۔ ان کے فوسل تاحال نہیں ملتے۔
ان کے بعد افریقہ اور یورپ، دونوں میں ایسی نسلیں ملتی ہیں جو نیندرتھلز اور ہوموسیپئن (جدید انسان) سے اوپر کی تھیں۔ یہاں تک معاملہ ٹھیک ہے۔ پھر آئے نیندرتھلز اور ہوموسیپئن۔ یہاں سے پیچیدگی شروع ہوتی ہے کیوں کہ دنیا میں اس وقت پچھلی نسل بھی موجود تھی جیسے "ہرٹو"۔
جب ہم آج کے دور کے انسان کا ڈی این اے لیتے ہیں تو اس میں ہمیں یہ ملتا ہے:
صرف ہوموسیپئن، ہوموسیپئن اور نیندرتھل، ہوموسیپئن اور ڈینیسووا، ہومو سیپئن اور نامعلوم جین وغیرہ۔ ہمیں ایسا کوئی ایک انسان بھی نہیں ملتا جس میں ہوموسیپئن کا جین نہ ہو۔ کیوں؟
دنیا بھر میں جانور موجود ہیں جن کے جینز انسان سے تھوڑے الگ ہیں۔ کچھ کے معمولی سے الگ ہیں جیسے چمپینزی، اس کی اور انسان کی مماثلت ساڑھے اٹھانوے فیصد ہے۔ کچھ کے زیادہ الگ ہیں جیسے چوہے اور انسان کی مماثلت پچاسی فیصد تک ہے۔ کچھ کے اور زیادہ الگ ہیں جیسے بعض مچھلیوں کی مماثلت ستر فیصد تک ہے۔ ہم اس مماثلت پر الگ بات کریں گے ان شاء اللہ۔
سردست سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب جانور آج زندہ نہیں ہیں؟ کیا ارتقاء کی تھیوری کے مطابق انہوں نے ہر زمانے میں خود کو ڈھال کر زندہ نہیں رکھا؟ کیا ان سب جانوروں میں انسان جیسی عقل ہے؟ اگر نہیں تو بھی یہ زندہ ہیں؟ یعنی زندگی کا تعلق انسان جیسی عقل سے نہیں ہے؟
اب نیندرتھل اور ڈینیسووا کو دیکھیے! ان کی اور انسان کی مماثلت 99.7 فیصد ہے۔ صرف 0.3 فیصد دونوں میں فرق ہے۔ یہ دونوں کافی حد تک عقل بھی رکھتے تھے، آگ استعمال کر لیتے تھے، شکار کر لیتے تھے اور شکار کی کھال بھی استعمال کر لیتے تھے۔ ان کے جسم سردی اور بلندی کے حساب سے موزوں تھے، دماغ کے وہ حصے بڑے تھے جو شکار وغیرہ میں مدد دیتے تھے۔
اگر انسان زندہ ہے اور ڈھائی لاکھ سال میں ارتقاء کو برداشت کرتا آ رہا ہے، اگر ستر فیصد مماثلت والی مچھلی زندہ ہے، پچاسی فیصد والا چوہا زندہ ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ 99.7 فیصد مماثلت والا نیندرتھل ارتقاء نہیں کر سکا؟
نیندر تھل کے آباؤ اجداد لاکھوں سال سے زمین پر ارتقاء کرتے آ رہے تھے، نیندرتھل "فٹسٹ" تھا، لیکن وہ ارتقاء نہیں کر سکا۔ نیندرتھل سے ہوموسیپئن یعنی انسان نے ملاپ کیا تو اس کے کچھ جینز انسانوں میں رہ گئے۔ انسان باقی رہ گیا، چمپینزی رہ گیا لیکن نیندرتھل ختم ہو گیا جو کئی چیزوں میں انسان سے بہتر تھا اور چپمپینزی سے تو تھا ہی۔
آخر کیوں؟ یہاں مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں کہ ان کی آبادی کم تھی، آپس میں بریڈنگ زیادہ تھی، جینیاتی تنوع کم تھا، انسانوں سے مقابلہ ہوا، موسم میں شدید تبدیلی آئی وغیرہ۔ میں ان تمام وجوہات کو مانتا ہوں۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ ایسا کیوں؟ ارتقاء کے اصول نے لاکھوں سال بعد یہاں کام کیوں چھوڑ دیا؟
یاد رہے کہ ہمیں "ڈینی" کا فوسل بھی مل چکا ہے جس میں پچاس فیصد نیندرتھل اور پچاس فصد ڈینیسووا کا ڈی این اے ہے۔ یعنی وہ لڑکی ایک ڈینیسوون باپ اور ایک نیندرتھل ماں کی اندازاً تیرہ سالہ لڑکی تھی۔ یہ فوسل نوے ہزار سال پرانا ہے یعنی ابھی دنیا میں ان مخلوقات نے پچاس ہزار سال چلنا تھا۔
وہ اندازاً تیرہ سال تک زندہ رہی، یعنی ملاپ کی وجہ سے پیدائش کے فوراً بعد موت نہیں ہوئی۔ اس کے باپ کے جینوم میں بھی نیندرتھل موجود تھا یعنی اس لڑکی کے دادا یا دادی (یا اوپر نسل) میں سے کوئی نیندرتھل تھا اور وہ نسل آگے چلی۔ لیکن پھر ایسی تمام نسلیں رک گئیں۔ آخر کیوں؟ ارتقاء کیوں کام نہیں کر پایا؟
میرا اشکال اپنی جگہ برقرار ہے: "ایسے انسان موجود نہیں ہیں جن کے جینز صرف ان دو سے مل کر بنے ہوں اور ہومو سیپئینز ان میں نہ ہوں۔ اگر ارتقاء کا سلسلہ درست ہے تو نیڈرتھلز اور ہومو ایریکٹس کے ملاپ سے ایسی مخلوق لازماً پیدا ہونی چاہئیے تھی جو “فٹسٹ” ہوتی اور سروائیول کرتی۔ صرف ہومو سیپئینز ہی کیوں نظر آتے ہیں؟"
میری گزشتہ ارتقاء سے متعلق تحریر میں جو اشکالات تھے ان کے کچھ علمی جوابات عمیر صاحب نے تحریر فرمائے ہیں۔ اللہ پاک انہیں جزائے خیر دیں۔ آپس کی گفتگو سے ہی علم بڑھتا ہے اور راستے کھلتے ہیں۔ ان جوابات پر گفتگو اس تحریر میں ہم کرتے ہیں۔
کوشش رہے گی کہ سب سے پہلے اشکال کو ذکر کیا جائے، پھر اس کے جواب کو اور پھر اس کا جواب الجواب ہو۔ لیکن اس سے پہلے ایک اصولی بات عرض کر دوں کہ یہ تحریر تو امید ہے طویل ہو جائے گی اور حصے بنانے پڑیں گے، یہ ان کے لیے ہی مفید ہوگی جنہیں اس سے دلچسپی ہو:
نظریہ ارتقاء (یعنی انسان کا ارتقاء) جسے ہائیپوتھیسس کہنا چاہیے، ایک سائنسی نظریہ ہے۔ لیکن چونکہ اس نظریے کے مطابق بھی انسان کا ارتقاء کوئی دو ڈھائی لاکھ سال یا اس سے بھی زیادہ پہلے ہوا ہے اور اسے دیکھنے والا کوئی اس وقت موجود نہیں تھا، اس لیے اسے ثابت فلسفے والے انداز سے عقلی دلائل سے کیا جاتا ہے۔ اس کا تجربہ کرنا ممکن نہیں۔
اب جب ایک چیز کو عقلی دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے تو اس پر اشکالات بھی اسی طرح شواہد کی روشنی میں عقلی دلائل سے ہوتے ہیں۔ چونکہ بات سائنس کی ہے تو یہاں "کیوں" اور "کیسے" کی بات ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ماننے کی بات کرنا مذہب کا ڈومین ہے اور سائنس مذہب نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد ہم اپنے ٹاپک کی جانب چلتے ہیں:
پہلا اشکال: "دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے جس کے جینز میں ”ہومو سیپئن“ نہ ہوں اور وہ صرف ”نینڈرتھل“ وغیرہ سے بنا ہو۔ یعنی موجودہ انسانوں کے تمام جینز میں ”ہومو سیپئن“ (جسے ہم انسان کہتے ہیں) ضرور موجود ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نینڈرتھل، صرف ڈینی سووین یا نیڈرتھل اور ڈینی سووین کے مجموعے نے ارتقاء نہیں کیا اور باقی نہیں رہے۔ صرف ہومو سیپئن باقی رہے ہیں۔ اگر ارتقاء اسی طرح ہو رہا تھا جیسے بیان کیا جاتا ہے تو ان تینوں مخلوقات میں نظر آنا چاہیے تھا۔ یہ صرف ہومو سیپئن میں کیوں ہوا ہے اور باقیوں میں کیوں نہیں؟"
عمیر صاحب کا جواب:
"سب سے پہلے یہ سوال آتا ہے کہ اگر ارتقاء درست ہے تو صرف ہومو سیپینز ہی کیوں باقی رہ گئے جبکہ نیندرتھل، ڈینیسوون اور دیگر انسانی انواع کیوں ختم ہو گئیں۔ اس اعتراض کا بنیادی جواب یہ ہے کہ ارتقاء کا عمل کسی سیدھی لکیر کی طرح نہیں ہوتا بلکہ ایک درخت کی طرح ہوتا ہے جس میں مختلف شاخیں نکلتی ہیں۔ کچھ شاخیں وقت کے ساتھ باقی رہتی ہیں جبکہ کچھ ختم ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈائناسور کی تقریباً تمام انواع ختم ہو گئیں لیکن ان کی ایک شاخ ارتقاء کے ذریعے پرندوں کی صورت میں آج تک باقی ہے۔ اسی طرح انسانی خاندان میں بھی مختلف انواع موجود تھیں جیسے ہومو ہیبیلس، ہومو ایریکٹس، نیندرتھل، ڈینیسوون، ہومو فلوریسیئنسیس اور ہومو سیپینز۔ وقت کے ساتھ مختلف ماحولیاتی، سماجی اور حیاتیاتی عوامل کی وجہ سے ان میں سے صرف ہومو سیپینز باقی رہ گئے۔ اس کے ممکنہ اسباب میں بہتر سماجی تعاون، زیادہ پیچیدہ زبان، بہتر اوزار اور ٹیکنالوجی، اور نسبتاً بڑی آبادی شامل ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بقاء صرف جسمانی طاقت پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ سماجی اور ثقافتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔"
جواب الجواب:
یہاں سب سے پہلے تو میں یہ وضاحت کر دوں کہ ابتدائی طور پر مجھے جو جواب بھیجا گیا تھا وہ اپنے اسٹرکچر سے اے آئی جنریٹڈ لگتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اے آئی کی خصوصیات اپنی جگہ لیکن اس میں ابھی بہت کمی ہے، جس کی وضاحت آگے جواب سے ہو جائے گی۔
ارتقاء کے حوالے سے ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی یہ نہیں جانتے کہ اس کی فوسلز کے لحاظ سے کیا ترتیب ہے۔ میں آسان الفاظ میں کچھ واضح کرتا ہوں۔
سب سے پہلے تو ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم یعنی ماڈرن انسان "ہومو سپیپئین" کہلاتے ہیں۔ ہومو سیپئین کی ایک اہم خصوصیت ان کے سر کی ساخت یا شیپ ہے جس میں ان کا دماغ گول ہوتا ہے۔ یہ گول دماغ انہیں سوچنے کی زبردست طاقت دیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان میں سننے اور دیکھنے وغیرہ کی صلاحیتوں کو کچھ کم کرتا ہے۔
ارتقاء کے ٹری میں ہم بنیادی طور پر یہاں یورپ اور افریقہ کی بات کر رہے ہیں۔ دونوں میں ایسی مخلوقات رہیں جو انسان سے ملتی جلتی تھیں لیکن ان کے سر کی ساخت انسان سے مختلف تھی۔
یورپ: یہاں ابتدا ہوئی ہومو ایریکٹس سے۔ اس پر کوئی واضح فوسل تو نہیں ہے لیکن اگر ہومو ایریکٹس کو لاکھوں سال پر مشتمل ایک وسیع کیٹیگری مان لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں۔ ان سے بنے "ہومو اینٹیسیسر"، ان سے بنے "ہومو ہائیڈل برگینسس" اور ان سے بنے نیندر تھلز۔ یعنی:
ہومو ایریکٹس ٹائپ مخلوق - ہومو انٹیسیسر - ہومو ہائیڈل برگینسس - نیندر تھلز۔۔۔۔ نیندر تھلز سے آگے نسل نہیں چل سکی۔
افریقہ: ہومو ہیبیلس سے ابتدا ہوئی، ان سے بنے ہومو ایریکٹس، ان سے "افریقن آرکیاک ہومو" اور ان سے "ہومو سیپئین"۔ یعنی:
ہومو ایریکٹس - افریقن آرکیاک ہومو - ہومو سیپئین۔۔۔۔ ہومو سیپئین آج تک موجود ہیں۔
اگر آپ دیکھیں تو ہومو ایریکٹس ٹائپ مخلوق سے یورپ میں بہت زبردست ارتقاء ہوا ہے اور نیندر تھلز تک مخلوقات کامیابی سے رہی ہیں۔ یہ نیندر تھلز غالباً کوئی چالیس ہزار سال قبل مسیح تک دنیا میں رہے ہیں۔ اس مخلوق کو یہاں تک ارتقاء میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ان کے سر لمبوترے ہوتے تھے۔ لمبوترے سر کی وجہ سے ان کی جسمانی صلاحیت زیادہ ہوتی تھی۔
اسی طرح ایشیا میں ڈینیسوون تھے جنہوں نے مکمل ارتقاء کیا اور انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ان کا مکمل فوسل تو کوئی نہیں ہے لیکن اندازہ یہی ہے کہ ان کا سر بھی لمبوترا ہوتا تھا۔
ان ہی دونوں کی طرح افریقہ میں افریقن آرکیاک ہومو تھے جو لمبوترا سر رکھتے تھے۔ یہ بھی ایک وسیع کیٹیگری ہے جس میں ایک سے زیادہ افراد آتے ہیں۔ اس کیٹیگری کے آخری افراد ہمارے پاس فوسل کی شکل میں "جبل ارہود" تین لاکھ سال پرانا اور "ہرٹو" ڈیڑھ لاکھ سال پرانا ہے۔ یعنی افریقہ میں یہ ارتقاء ڈیڑھ لاکھ سال پرانے وقت تک چل رہا تھا۔
اس دوران اچانک افریقہ میں ان دونوں کے درمیان میں ایک گول سر والا فرد نکل آتا ہے جسے "اومو 1" کہتے ہیں۔ یہ تقریبا دو سے ڈھائی لاکھ سال پرانا ہے اور اس کا سر گول ہے۔ یہ وہ مخلوق ہے جو ہومو سیپئین سے بہت زیادہ ملتی ہے اور غالباً یہ جدید انسان ہی ہوگا جس کی ساخت میں معمولی سا فرق ہے جیسے زمانے کے ساتھ ہوتا ہے۔
اب ایک تو یہ ہومو سیپئین افریقن آرکائک ہومو کے درمیان ترتیب سے فٹ نہیں ہوتا لیکن فی الحال ہم اسے اسی سے مان لیتے ہیں۔ تو افریقہ میں آرکائک ہومو اور ہومو سیپئین دونوں تھے۔
دنیا میں آئس ایج چل رہی تھی۔ یہ آئس ایج تقریباً دس سے بارہ ہزار سال قبل ختم ہوئی۔ دنیا میں شمالی حصوں میں برف تھی اور یورپ شمالی علاقہ ہے۔ یورپ میں برف بارہ ہزار سال سے بیس ہزار سال قبل پگھلی۔ یعنی اسے ختم ہونے میں تقریباً آٹھ ہزار سال لگے۔ نیندرتھلز اسی آئس ایج میں یورپ میں تھے اور چالیس ہزار سال قبل ختم ہوئے۔
ترتیب بنائیں:
دنیا میں آئس ایج تھی۔ یورپ میں ہر طرف برف تھی۔ اس برف میں دو مخلوقات تھیں: نیندرتھل اور ہومو سیپئین۔ ہومو سیپئن افریقہ کے گرم علاقوں سے گئے تھے۔
نیندتھل کا جسم چھوٹا اور چوڑا تھا، ناک بڑی تھی، عضلات مضبوط تھے، کھال کا استعمال کرتے تھے، آگ جلاتے تھے۔ شکار میں ماہر تھے۔ ضرورت کے بقدر آلات بھی بنا لیتے تھے۔ یہ برف کے لیے بالکل مناسب تھے۔ یہی معاملہ ڈینیسوونز کا تھا۔
ہوموسیپئین صرف آگ جلا سکتے تھے اور جانوروں کی کھال استعمال کر سکتے تھے۔ برف کے جانوروں کا شکار بھی ان کے لیے دوسروں سے مختلف تھا۔ کھیت تو نکلنے سے رہے۔
"سروائیول آف دی فٹسٹ" کے لحاظ سے کون فٹ تھا؟ ارتقاء کی تھیوری کے بنیادی اصول کے مطابق کسے باقی رہنا چاہیے تھا؟ ظاہر ہے کہ نیندرتھلز اور ڈینیسوونز کو۔ باقی کون رہا؟ ہوموسیپئین!
اب آئیے بنیادی اشکال کی جانب۔ اگر ارتقاء کی تھیوری درست ہے تو یورپ اور سائیبیریا جیسے علاقوں میں ہوموسیپئن کسی بھی صورت میں نیندرتھل اور ڈینیسووا سے آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ پھر بھی وہ ختم ہو گئے اور یہ بچ گئے؟ "کیوں" اور "کیسے"؟
یہ سب تاویلات ہیں کہ بہتر سماجی تعاون، بہتر اوزار اور پیچیدہ زبان نے ہوموسیپئن کو تو اس برف میں زندہ رکھا اور نیندرتھل کو مار دیا جو لاکھوں سال سے اسی برف میں تھے، اسی میں انہوں نے ارتقاء کیا تھا اور اسی کے لیے وہ "فٹسٹ" تھے۔ یہاں سماجی تعاون اور زبان انہیں زندہ ہی نہیں رکھ سکتی تھی اور ارتقاء کے مطابق اوزار بنانے میں وقت لگتا ہے۔
اس میں حقیقت صرف یہ ہے کہ ہومو سیپئن باقی ہیں اور نیندرتھل ختم ہو گئے، لیکن اس کی وجہ اگر ارتقاء ہے تو یہ ناممکن ہے!
۔ ۔ ۔
ارتقاء کا نظریہ ایک فلاپ ہائیپوتھیسس ہے اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی جدید تحقیق ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ یہ نظریہ اپنی ابتدائی شکل میں آج سے کوئی پچیس سو سال قبل یونانیوں نے پیش کیا تھا۔
یہ تو قدیم انسان جانتا ہی تھا کہ زمین میں انسان سے پہلے انسان سے ملتی جلتی مخلوقات رہتی تھیں۔ یونانی فلسفیوں نے اس پر تکا لگایا کہ یہ مخلوقات آہستہ آہستہ کر کے انسان بن گئی ہوں گی۔ 1859 میں ڈارون نے اسی مکھی پر بڑی یعنی تفصیلی مکھی مار لی۔ بعد کے سائنسدانوں کو قدیم مخلوق کے ڈھانچے ملے تو انہوں نے بھی اسی ترتیب پر کڑیاں ملا لیں کہ فلاں سے فلاں بنا ہے۔
یہ تو واضح ہے کہ قدیم مخلوقات میں ہوموسیپئن یعنی انسانوں نے نیندر تھلز اور ڈینیسووا، بلکہ مزید مخلوقوں سے بھی جنسی ملاپ کیا ہے اور ان سے اولاد بھی ہوئی ہے۔ آج کے انسانوں میں بڑی تعداد میں نیندرتھل کے ایک دو فیصد جینز ملتے ہیں اور ڈینیسووا کے بھی جینز ملتے ہیں۔ بلکہ پرانے فوسلز میں نیندرتھل اور ڈینیسووا کا ملاپ بھی ملتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہوموسیپئن "بنے" ان سے، بلکہ وہ موجود تھے تو انہوں نے ملاپ کیا۔
خیر! چلتے ہیں اشکال کی جانب:
"”ہومو سیپئن“ کے آباء و اجداد ”ہومو ایریکٹس“ تھے لیکن ان کا ڈی این اے ریکارڈ فی الحال موجود ہی نہیں ہے جس سے یہ کہا جا سکے کہ وہ واقعی تمام ہوموسیپئن میں پائے جاتے ہیں۔ ایک پراسرار جینز ہمیں ملتا ہے لیکن وہ تمام ہومو سیپئنز میں نہیں ہے۔
بغیر ریکارڈ اور ڈیٹا کے یہ کہہ دینا کہ “ہومو ایریکٹس” سے ارتقاء کر کے “ہومو سیپئن” بنے ہیں، ایک بلا دلیل دعوی اور فرضی قیاس ہے۔ یہ ارتقاء کسی نے دیکھا تو ہے نہیں کہ کوئی مشاہداتی دلیل اس پر ہو، پھر یہ دعوی بھلا کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟"
عمیر صاحب کا جواب:
"دوسرا سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ہومو ایریکٹس کا ڈی این اے ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم ڈی این اے کے کچھ نمونے آج ہمارے پاس موجود ہیں جیسے نیندرتھل ڈی این اے اور ڈینیسوون ڈی این اے، اور ہومو ایریکٹس کے جینوم کے کچھ حصے بھی حاصل کیے جا چکے ہیں۔ تاہم یہاں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہومو ایریکٹس بہت قدیم نوع ہے جو تقریباً اٹھارہ لاکھ سال پہلے ظاہر ہوئی تھی، اور گرم علاقوں میں ڈی این اے بہت جلد خراب ہو جاتا ہے، اس لیے مکمل جینوم کا محفوظ رہنا مشکل ہوتا ہے۔
اس کے باوجود سائنسدانوں کے پاس
تین بڑے شواہد موجود ہیں۔
پہلا فوسل تسلسل ہے جس میں ہمیں ہومو ہیبیلس سے ہومو ایریکٹس اور پھر قدیم ہومو سیپینز تک ایک مسلسل تبدیلی نظر آتی ہے۔
دوسرا جسمانی خصوصیات کا تسلسل ہے جس میں دماغ کا حجم بتدریج بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ہومو ہیبیلس کا دماغ تقریباً چھ سو سی سی، ہومو ایریکٹس کا تقریباً نو سو سی سی اور جدید انسان کا تقریباً تیرہ سو پچاس سی سی تک پہنچ جاتا ہے۔
تیسرا ثبوت جینیاتی موازنہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جدید انسان افریقہ میں تقریباً دو سے تین لاکھ سال پہلے ایک مشترکہ آباء سے نکلے۔ اس نظریے کو آؤٹ آف افریقہ ماڈل کہا جاتا ہے۔"
جواب الجواب:
ارتقاء کی فلاپ تھیوری کا کمال دیکھیے! جس چیز کا ڈی این اے ہی کبھی نہیں ملا اس سے نسل جوڑ دی ہے۔ کیوں جوڑ دی ہے؟ اس لیے کہ ایک مخصوص شکل کی نسل میں تبدیلی ملتی رہی اور پھر ایک دم ایک بڑی تبدیلی والی شکل بھی اسی علاقے میں ملی تو اسے پچھلی سے جوڑ دیا۔ کیوں جوڑ دیا؟ یہی تو تکا ہے!
اب تینوں شواہد دیکھیے:
پہلے کا مطلب یہ ہے کہ ہوموپیبیلس کا دماغ چھوٹا اور سر لمبوترا تھا، ہومو ایریکٹس کا تھوڑا بڑا دماغ اور سر کم لمبوترا تھا، آرکائک ہومو میں سر مزید کم لمبوترا تھا اور سیپئن میں گول ہے، لہذا ہم ترتیب کے مطابق سیپئن کو اسی نسل سے مانیں گے۔
اس میں دو بڑے مسائل ہیں:
اول: جیسا کہ گزشتہ حصے میں ذکر ہوا کہ گول سر والا اومو 1 ہمیں لمبے سر والے ہرٹو سے کوئی پیسٹھ ستر ہزار سال پہلے ملتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ لمبے سر والے ترتیب وار گول سر والوں میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں بلکہ جب گول سر والے دنیا میں تھے تو لمبے سر والے بھی موجود تھے۔
پھر ہم یہ کیوں نہیں کہیں کہ گول سر والے الگ سے مخلوق تھے اور لمبے سر والے ہرٹو کی مخلوق نیندرتھلز کی طرح چل رہی تھی جو بعد میں ان ہی کی طرح ختم ہو گئی؟
دوم: جو فوسلز ہمیں ملتے ہیں ان میں ہزاروں سے لاکھوں سالوں کے گیپس ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک علاقے میں ہومو ایریکٹس رہے، پھر ان کی ایک جدید نسل یا ان سے ملتی جلتی ایک نسل رہی، پھر انسان رہے تو ان تینوں کے فوسل آپ کو مل جائیں گے اور الگ الگ زمانے کے۔ ان سے یہ ثابت ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ تینوں آپس میں کوئی تعلق رکھتے تھے۔ یہ تو فرضی بات ہو گئی۔
شواہد میں دوسرا کہتا ہے کہ ہمیں ان کھوپڑیوں میں دماغ کا سائز بڑھتا نظر آتا ہے۔ چنانچہ ہومو ایریکٹس میں نو سو سی سی اور ہوموسیپئن یعنی جدید انسان میں ساڑھے تیرہ سو سی سی ہے۔
اس چیز پر الگ سے اشکال کیا گیا ہے کہ ابتدائی جدید انسان کے دماغ کا سائز پندرہ سے سولہ سو سی سی تھا اور موجودہ کا سائز اس سے چھوٹا یعنی ساڑھے تیرہ سو سی سی ہے۔ یوں یہ الٹا ارتقاء ہے۔ یہاں دماغ کے سائز کے حساب سے ارتقاء ہونے والی تھیوری بالکل غلط معلوم ہوتی ہے۔ اس کی وجوہات بیان کی جاتی ہیں لیکن وہ تاویلات ہی ہیں۔
شواہد میں تیسرا کہتا ہے کہ تمام جدید انسان ایک مشترکہ باپ سے نکلے۔ اس سے تو ہمیں اتفاق ہے کہ سب انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں لیکن وہ مذہب کی بنیاد پر ہے۔ ڈی این اے کی غیر موجودگی میں سائنس بھلا یہ دعوی بغیر کسی دلیل کے کیسے کر سکتی ہے؟ ایسا کون سا جینیاتی موازنہ ہے جو یہ بتائے؟
چنانچہ ہمارا اشکال اپنی جگہ باقی ہے کہ بغیر ریکارڈ اور ڈیٹا کے یہ کہہ دینا کہ “ہومو ایریکٹس” سے ارتقاء کر کے “ہومو سیپئن” بنے ہیں، ایک بلا دلیل دعوی اور فرضی قیاس ہے۔
۔ ۔ ۔
تیسرے حصے کو ہم مختصر رکھیں گے۔ لیکن اس سے پہلے مذہب کا ارتقاء کے حوالے سے نکتہ نظر سمجھ لیجیے۔ انسان کے علاوہ کسی جاندار کے ارتقاء سے اسلام کی بنیادی نصوص نے انکار نہیں کیا ہے۔ اس لیے یہ بالکل ممکن ہے جانوروں میں ارتقاء ہوا ہو۔
انسان میں مائکرو لیول کے ارتقاء سے بھی مذہب نے انکار نہیں کیا ہے۔ یعنی انسان سیکھتا ہے، سمجھتا ہے، نتائج نکالتا ہے اور زمانے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ البتہ یہاں تاریخی طور پر ہمیں ایسی چیزیں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بعض زمانوں میں دوسرے زمانوں سے جدید رہا ہے اور اس نے اہرام جیسی چیزیں بنائی ہیں۔
شاید بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں کہ اہرام مصر کے سوال بھی قدیم انسانوں نے ایسی کئی تعمیرات کی ہیں جن کے علوم کے بارے میں آج یہ سوچنا مشکل ہے کہ یہ اس زمانے میں کیسے موجود تھے؟ ان میں ایک مقام (Göbekli Tepe) تو ساڑھے گیارہ ہزار سال پرانا ہے جب ہمارے "ارتقاء دانوں" کے مطابق انسان زیادہ تر شکار کر کے اور پھل توڑ کر کھاتا تھا۔ یہ تو تعمیرات ہیں جو باقی رہ گئیں، علوم تو اور بھی ہوں گے جو استعمال ہوئے اور یہاں کوئی کام بھی ہوتے ہوں گے۔
مذہب نے انسان کے دوسری مخلوقات سے ارتقاء کو رد کیا ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ آدم کو مٹی سے بنایا اور پھر روح پھونکی، پھر اسماء کی شکل میں علوم کی بنیاد ڈالی اور پھر زمین پر اتارا۔ اسے اس ننھی منی سائنس سے ثابت کرنا ممکن نہیں ہے جس کو ابھی تک زمین پر موجود کئی چیزوں کی وجہ اور ٹیکنیک ہی معلوم نہیں ہوئی۔
مذہب کہتا ہے کہ آدم علیہ السلام کے بعد انبیاء آئے جو لوگوں کو ہر دور کی ضرورت کے مطابق علوم سکھاتے تھے۔ میں نے گزشتہ حصوں میں سوال و جواب کے دوران عمیر صاحب سے یہ پوچھا تھا کہ انسان پینتالیس ہزار سال قبل یورپ میں برف میں گیا تو ارتقاء کے مطابق تو اسے سیکھنے کی ضرورت تھی۔ وہ اس سیکھنے کے دوران زندہ کیسے رہا؟ اسے یہ عقل کہاں سے ملی؟ مذہب کے پاس اس کا جواب بھی ہے اور اہرام مصر جیسی چیزوں کا بھی، لیکن وہ ارتقاء کی فلاپ تھیوری کے مطابق سیٹ نہیں ہوتا۔
خیر! چلتے ہیں اشکال کی جانب:
"ہومو سیپئین یعنی جدید انسانوں کے آباؤ اجداد “ہومو ایریکٹس” نے بھی افریقہ سے ہجرت کی تھی اور نینڈرتھل، ڈینی-سووینز کے علاقوں میں آئے تھے اور وہاں ایک لاکھ دس ہزار سال قبل تک رہے۔ نیندرتھلز کا زمانہ چار لاکھ سال سے چالیس ہزار سال قبل تک کا ہے۔ یعنی درمیان کے ستر ہزار سال کے علاوہ باقی وقت دونوں ساتھ رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ایسے انسان موجود نہیں ہیں جن کے جینز صرف ان دو سے مل کر بنے ہوں اور ہومو سیپئینز ان میں نہ ہوں۔ اگر ارتقاء کا سلسلہ درست ہے تو نیڈرتھلز اور ہومو ایریکٹس کے ملاپ سے ایسی مخلوق لازماً پیدا ہونی چاہئیے تھی جو “فٹسٹ” ہوتی اور سروائیول کرتی۔ صرف ہومو سیپئینز ہی کیوں نظر آتے ہیں؟"
عمیر صاحب کا جواب:
"تیسرا اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ارتقاء درست ہے تو ہومو ایریکٹس اور نیندرتھل کے ملاپ سے کوئی الگ نسل کیوں پیدا نہیں ہوئی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ نیندرتھل دراصل ہومو ایریکٹس کی ہی ایک یورپی شاخ تھے۔ یعنی ہومو ایریکٹس سے ہی مختلف شاخیں نکلیں جن میں نیندرتھل اور ڈینیسوون شامل تھے۔ اس لیے یہ بالکل الگ انواع نہیں بلکہ ایک ہی خاندان کی مختلف شاخیں تھیں۔ مزید یہ کہ ان کا ملاپ واقعی ہوا تھا اور اس کا ثبوت آج کے انسانوں کے ڈی این اے میں موجود ہے۔ یورپ اور ایشیا کے انسانوں میں تقریباً ایک سے دو فیصد نیندرتھل ڈی این اے پایا جاتا ہے جبکہ کچھ ایشیائی اور میلانیشیائی آبادیوں میں ڈینیسوون ڈی این اے بھی موجود ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مختلف انسانی انواع کے درمیان جینیاتی تبادلہ ہوا تھا۔ تاہم نیندرتھل اور ڈینیسوون کی آبادی بہت کم تھی جبکہ ہومو سیپینز کی آبادی زیادہ تھی، اس لیے وقت کے ساتھ جینیاتی طور پر ہومو سیپینز غالب آ گئے۔ "
جواب الجواب:
اس جواب میں کچھ چیزوں کو گڈ مڈ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ حصوں میں کہا کہ جواب اے آئی جنریٹڈ معلوم ہوتا ہے اور اے آئی کے بس کی بات نہیں تھی اس اشکال کو سمجھنا اور جواب دینا۔
ذرا بیک گراؤنڈ سمجھیے۔ زمین پر انسان نما مخلوقات کی ابتدا افریقہ میں نظر آتی ہے جن میں فرض کیجیے کہ پہلا ہے "ہومو ہیبیلس" اور دوسرا ہے "ہومو ایریکٹس"۔ ہومو ایریکٹس افریقہ سے یورپ گئے، لیکن یہ صرف کچھ اوزاروں سے پتا چلتا ہے۔ ان کے فوسل تاحال نہیں ملتے۔
ان کے بعد افریقہ اور یورپ، دونوں میں ایسی نسلیں ملتی ہیں جو نیندرتھلز اور ہوموسیپئن (جدید انسان) سے اوپر کی تھیں۔ یہاں تک معاملہ ٹھیک ہے۔ پھر آئے نیندرتھلز اور ہوموسیپئن۔ یہاں سے پیچیدگی شروع ہوتی ہے کیوں کہ دنیا میں اس وقت پچھلی نسل بھی موجود تھی جیسے "ہرٹو"۔
جب ہم آج کے دور کے انسان کا ڈی این اے لیتے ہیں تو اس میں ہمیں یہ ملتا ہے:
صرف ہوموسیپئن، ہوموسیپئن اور نیندرتھل، ہوموسیپئن اور ڈینیسووا، ہومو سیپئن اور نامعلوم جین وغیرہ۔ ہمیں ایسا کوئی ایک انسان بھی نہیں ملتا جس میں ہوموسیپئن کا جین نہ ہو۔ کیوں؟
دنیا بھر میں جانور موجود ہیں جن کے جینز انسان سے تھوڑے الگ ہیں۔ کچھ کے معمولی سے الگ ہیں جیسے چمپینزی، اس کی اور انسان کی مماثلت ساڑھے اٹھانوے فیصد ہے۔ کچھ کے زیادہ الگ ہیں جیسے چوہے اور انسان کی مماثلت پچاسی فیصد تک ہے۔ کچھ کے اور زیادہ الگ ہیں جیسے بعض مچھلیوں کی مماثلت ستر فیصد تک ہے۔ ہم اس مماثلت پر الگ بات کریں گے ان شاء اللہ۔
سردست سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب جانور آج زندہ نہیں ہیں؟ کیا ارتقاء کی تھیوری کے مطابق انہوں نے ہر زمانے میں خود کو ڈھال کر زندہ نہیں رکھا؟ کیا ان سب جانوروں میں انسان جیسی عقل ہے؟ اگر نہیں تو بھی یہ زندہ ہیں؟ یعنی زندگی کا تعلق انسان جیسی عقل سے نہیں ہے؟
اب نیندرتھل اور ڈینیسووا کو دیکھیے! ان کی اور انسان کی مماثلت 99.7 فیصد ہے۔ صرف 0.3 فیصد دونوں میں فرق ہے۔ یہ دونوں کافی حد تک عقل بھی رکھتے تھے، آگ استعمال کر لیتے تھے، شکار کر لیتے تھے اور شکار کی کھال بھی استعمال کر لیتے تھے۔ ان کے جسم سردی اور بلندی کے حساب سے موزوں تھے، دماغ کے وہ حصے بڑے تھے جو شکار وغیرہ میں مدد دیتے تھے۔
اگر انسان زندہ ہے اور ڈھائی لاکھ سال میں ارتقاء کو برداشت کرتا آ رہا ہے، اگر ستر فیصد مماثلت والی مچھلی زندہ ہے، پچاسی فیصد والا چوہا زندہ ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ 99.7 فیصد مماثلت والا نیندرتھل ارتقاء نہیں کر سکا؟
نیندر تھل کے آباؤ اجداد لاکھوں سال سے زمین پر ارتقاء کرتے آ رہے تھے، نیندرتھل "فٹسٹ" تھا، لیکن وہ ارتقاء نہیں کر سکا۔ نیندرتھل سے ہوموسیپئن یعنی انسان نے ملاپ کیا تو اس کے کچھ جینز انسانوں میں رہ گئے۔ انسان باقی رہ گیا، چمپینزی رہ گیا لیکن نیندرتھل ختم ہو گیا جو کئی چیزوں میں انسان سے بہتر تھا اور چپمپینزی سے تو تھا ہی۔
آخر کیوں؟ یہاں مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں کہ ان کی آبادی کم تھی، آپس میں بریڈنگ زیادہ تھی، جینیاتی تنوع کم تھا، انسانوں سے مقابلہ ہوا، موسم میں شدید تبدیلی آئی وغیرہ۔ میں ان تمام وجوہات کو مانتا ہوں۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ ایسا کیوں؟ ارتقاء کے اصول نے لاکھوں سال بعد یہاں کام کیوں چھوڑ دیا؟
یاد رہے کہ ہمیں "ڈینی" کا فوسل بھی مل چکا ہے جس میں پچاس فیصد نیندرتھل اور پچاس فصد ڈینیسووا کا ڈی این اے ہے۔ یعنی وہ لڑکی ایک ڈینیسوون باپ اور ایک نیندرتھل ماں کی اندازاً تیرہ سالہ لڑکی تھی۔ یہ فوسل نوے ہزار سال پرانا ہے یعنی ابھی دنیا میں ان مخلوقات نے پچاس ہزار سال چلنا تھا۔
وہ اندازاً تیرہ سال تک زندہ رہی، یعنی ملاپ کی وجہ سے پیدائش کے فوراً بعد موت نہیں ہوئی۔ اس کے باپ کے جینوم میں بھی نیندرتھل موجود تھا یعنی اس لڑکی کے دادا یا دادی (یا اوپر نسل) میں سے کوئی نیندرتھل تھا اور وہ نسل آگے چلی۔ لیکن پھر ایسی تمام نسلیں رک گئیں۔ آخر کیوں؟ ارتقاء کیوں کام نہیں کر پایا؟
میرا اشکال اپنی جگہ برقرار ہے: "ایسے انسان موجود نہیں ہیں جن کے جینز صرف ان دو سے مل کر بنے ہوں اور ہومو سیپئینز ان میں نہ ہوں۔ اگر ارتقاء کا سلسلہ درست ہے تو نیڈرتھلز اور ہومو ایریکٹس کے ملاپ سے ایسی مخلوق لازماً پیدا ہونی چاہئیے تھی جو “فٹسٹ” ہوتی اور سروائیول کرتی۔ صرف ہومو سیپئینز ہی کیوں نظر آتے ہیں؟"
نظریہ ارتقا
اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کو سجدہ کریں۔ شیطان فرشتوں کی صف میں تھا اور یہ اس کی خصوصیت تھی۔ اس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا کہ میں اس سے افضل ہوں، آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے بنی مادی مخلوق ہے۔ میں ہزاروں کلو میٹر لمحوں میں پار کر جاتا ہوں اور سمندر پر اپنا تخت لگا سکتا ہوں، یہ خشکی پر پیدل چل کر لمبے سفر طے کرے گا اور سمندر کنارے رک کر اس کی وسعت سے عاجز آ جائے گا۔ میں آسمانوں میں اڑتا ہوں، یہ زمین میں کھڑے ہو کر لاچار اوپر دیکھا کرے گا۔ وہ یہ سب اندازے ”مٹی“ یعنی مادے کو دیکھ کر لگا رہا تھا: ”تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے“ اور ”کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی کی شکل میں بنایا ہے؟“
فرشتوں نے حکم ملتے ہی سجدہ کر لیا۔ حضرات مفسرین کرام نے اس پر گفتگو کی ہے کہ سجدے کا کیا مطلب تھا اور کیا سب نے کیا تھا یا بعض نے؟ قرآن کریم کے الفاظ واضح ہیں کہ سب نے سجدہ کیا تھا۔ شیطان جانتا تھا کہ یہ سجدہ صرف سجدہ نہیں ہے، یہ آدم کی تعظیم ہے اور آدم کی تعظیم کا مطلب ہے میری چودھراہٹ کا اختتام۔ لیکن جب فرشتوں نے سجدہ کیا تو شاید اسے یہ سمجھ تو آ گئی کہ یہ مخلوق الگ چیز ہے، ڈائریکٹ میرے کنٹرول میں نہیں آئے گی۔ اسے مجھے گمراہ کرنا ہوگا۔ اس لیے اس نے اس کے بعد گمراہ کرنے کا ہی ذکر کیا ہے۔ اللہ پاک ہماری اس سے حفاظت فرمائیں۔ آمین
نظریہ ارتقاء اور اس میں مسائل
تخلیق آدمؑ کے اس سارے قضیے میں ”ارتقاء“ کا نظریہ کہیں فٹ ہوتا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ارتقاء کا نظریہ نہ تو اس قرآنی قصے کے مطابق ہے اور نہ ہی عقل کے۔ یاد رہے کہ نظریہ ارتقاء در اصل ایک ہائپوتھیسس ہے جسے کسی نے دیکھا نہیں ہے، اس پر اگلے حصے میں گفتگو کریں گے۔
نظریہ ارتقاء کہتا ہے کہ زمین پر انسان جیسی مخلوقات آباد تھیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کر رہی تھیں۔ ہر دور میں جو مخلوق اس دور کے حالات کے مطابق ہوتی تھی وہ باقی رہ جاتی تھی اور باقی ختم ہو جاتی تھیں۔ یوں ہی آپس کی جنگوں میں جو زیادہ فٹ ہوتے تھے وہ بچ جاتے تھے۔
یہ سسٹم یوں ہی چلتا ہوا غیر افریقہ میں ”نیندرتھل“ اور ”ڈینی سووین“ تک اور افریقہ میں ”ہومو ایریکٹس“ تک پہنچا جن کی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے جسم سردی کے خلاف مزاحمت کر سکتے تھے، ان کے دماغ نسبتاً زیادہ کام کرتے تھے، وہ پتھر کے اوزار بنا لیتے تھے اور آگ کا استعمال کر لیتے تھے۔ البتہ ان میں اس سے زیادہ صلاحیت نہیں تھی۔
افریقہ میں ”ہومو ایریکٹس“ اپنے سے پہلے موجود ”ہومو ہیبیلس“ سے ارتقاء کر کے بنے تھے جن کا دماغ چھوٹا ہوتا تھا۔ ”ہومو ایریکٹس“ کا دماغ ان سے بڑا تھا تو ان کی دماغی صلاحیتیں بھی زیادہ تھیں جب کہ ”ہومو سیپئن“ یا جدید انسانوں کا دماغ ان سے بھی بڑا تھا جس نے انہیں جدید صلاحیتیں دیں۔
غیر افریقہ میں ارتقاء کا سلسلہ مزید آگے نہیں بڑھ سکا۔ افریقہ سے ”ہومو سیپئن (جدید انسان)“ نے ایشیا اور دیگر جگہوں پر ہجرت کی اور وہاں موجود نینڈرتھلوں اور ڈینی سووینوں سے ملاپ کیا۔ چنانچہ وہاں بھی انسانی نسل آگے بڑھی اور وہاں کے کچھ لوگوں میں آج بھی نیندرتھل یا ڈینی سووین کے کچھ جینز پائے جاتے ہیں۔
اب یہاں کچھ گڑبڑ ہے:
اول: دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے جس کے جینز میں ”ہومو سیپئن“ نہ ہوں اور وہ صرف ”نینڈرتھل“ وغیرہ سے بنا ہو۔ یعنی موجودہ انسانوں کے تمام جینز میں ”ہومو سیپئن“ (جسے ہم انسان کہتے ہیں) ضرور موجود ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نینڈرتھل، صرف ڈینی سووین یا نیڈرتھل اور ڈینی سووین کے مجموعے نے ارتقاء نہیں کیا اور باقی نہیں رہے۔ صرف ہومو سیپئن باقی رہے ہیں۔ اگر ارتقاء اسی طرح ہو رہا تھا جیسے بیان کیا جاتا ہے تو ان تینوں مخلوقات میں نظر آنا چاہیے تھا۔ یہ صرف ہومو سیپئن میں کیوں ہوا ہے اور باقیوں میں کیوں نہیں؟
دوم: ”ہومو سیپئن“ کے آباء و اجداد ”ہومو ایریکٹس“ تھے لیکن ان کا ڈی این اے ریکارڈ فی الحال موجود ہی نہیں ہے جس سے یہ کہا جا سکے کہ وہ واقعی تمام ہوموسیپئن میں پائے جاتے ہیں۔ ایک پراسرار جینز ہمیں ملتا ہے لیکن وہ تمام ہومو سیپئنز میں نہیں ہے۔
بغیر ریکارڈ اور ڈیٹا کے یہ کہہ دینا کہ “ہومو ایریکٹس” سے ارتقاء کر کے “ہومو سیپئن” بنے ہیں، ایک بلا دلیل دعوی اور فرضی قیاس ہے۔ یہ ارتقاء کسی نے دیکھا تو ہے نہیں کہ کوئی مشاہداتی دلیل اس پر ہو، پھر یہ دعوی بھلا کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
سوم: ہومو سیپئین یعنی جدید انسانوں کے آباؤ اجداد “ہومو ایریکٹس” نے بھی افریقہ سے ہجرت کی تھی اور نینڈرتھل، ڈینی-سووینز کے علاقوں میں آئے تھے اور وہاں ایک لاکھ دس ہزار سال قبل تک رہے۔ نیندرتھلز کا زمانہ چار لاکھ سال سے چالیس ہزار سال قبل تک کا ہے۔ یعنی درمیان کے ستر ہزار سال کے علاوہ باقی وقت دونوں ساتھ رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ایسے انسان موجود نہیں ہیں جن کے جینز صرف ان دو سے مل کر بنے ہوں اور ہومو سیپئینز ان میں نہ ہوں۔ اگر ارتقاء کا سلسلہ درست ہے تو نیڈرتھلز اور ہومو ایریکٹس کے ملاپ سے ایسی مخلوق لازماً پیدا ہونی چاہئیے تھی جو “فٹسٹ” ہوتی اور سروائیول کرتی۔ صرف ہومو سیپئینز ہی کیوں نظر آتے ہیں؟
چہارم: ارتقاء کے نظریے کے مطابق ”ہوموسیپئن“ بنے ہیں “ہومو ایریکٹس” سے، جن کا دماغ “ہومو سیپئین” سے چھوٹا تھا اور وہ بنے ہیں “ہومو ہیبیلس” سے جن کا دماغ ان سے بھی چھوٹا تھا۔ یعنی جیسے جیسے دماغ بڑھتا رہا ویسے ویسے جدید انسان بنتا گیا۔
لیکن حیرت انگیز طور پر جدید انسان یعنی ہومو سیپئن کی جدید نسل کا دماغ قدیم جتنا ہی یا اس سے چھوٹا ہے جب کہ صلاحیتیں قدیم سے ہزار گنا زیادہ (نظریہ ارتقاء کے مطابق) ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جدید انسان میں ارتقاء قدیم کی طرح ہو ہی نہیں رہا بلکہ یہ الٹ یا معکوس ارتقاء ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ارتقاء کا سلسلہ ایک دم الٹ گیا ہے؟ اور اگر نظریہ ارتقاء درست ہے تو دماغ چھوٹا ہونے پر صلاحیتوں میں کمی کیوں نہیں ہو رہی؟
پنجم: جس وقت یہ تمام سلسلہ چل رہا تھا اس وقت دنیا میں برفانی دور یا ”آئس ایج“ جاری تھا۔ نیندرتھلز اور ڈینی-سوینز اس ”آئس ایج“ کے لیے جسمانی طور پر زیادہ موزوں تھے۔ ہوموسیپئین افریقہ کے تھے جہاں آئس ایج کا اتنا اثر نہیں تھا۔
بہترین کے باقی رہنے کے اصول کے مطابق نیندرتھلز اور ڈینیسوینز کو باقی رہنا چاہیے تھا اور سرد علاقوں میں ہوموسیپئین کے جینز کو ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ خصوصاً اس دور میں جب انسان کی ضروریات سادہ تھیں اور نیندرتھلز کا دماغ ان ضروریات کے لیے بہت موزوں تھا (ان کے دماغ میں سوچ سمجھ کم اور بصارت، سماعت وغیرہ زیادہ تھیں)۔
جب نیندرتھلز کا جسم مضبوط تھا، ضروریات سادہ تھیں اور دماغ ان ضروریات کے لیے کافی تو ہوموسپئن کے بجائے وہ “فٹسٹ” تھے اور سروائیول انہیں کرنا چاہیے تھا۔ یا کم سے کم ہوموسیپئن کے ساتھ سروائیول کرنا چاہیے تھا اور موجود رہنا چاہیے تھا۔
یہ سب چیزیں مل کر کیا نتیجہ نکالتی ہیں؟ نیندرتھلز سے تو جدید انسان قطعی طور پر نہیں بنا (ڈی این اے واضح ہے) اور ہوموایریکٹس سے بننے کا نہ تو ثبوت ہے اور نہ ہی ارتقائی انداز اس جیسا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جدید انسان ایک الگ سے مخلوق ہے۔ اس مخلوق نے آگے چل کر بعض اوقات نیندرتھلز یا ڈینی-سوینز سے ملاپ کیا جس سے ان کے جینز ان میں سے بعض میں آئے لیکن اس کی پشت مکمل طور پر ان تینوں سے آتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس کے لیے بے شمار تاویلیں کی جائیں تب ہی یہ ممکن ہے کہ اسے ان کی ہی اولاد کہا جائے۔ نظریہ ارتقاء یہاں ہمیں فیل نظر آتا ہے۔
نظریہ ارتقاء کی تائید میں اشکالات:
اول: سائنس میں “نظریہ” محض رائے نہیں ہوتا، بلکہ وہ مشاہدات اور تجربات کے تسلسل سے جنم لیتا ہے۔ اب اگر نظریہ ارتقاء مشاہدات سے ثابت نظریہ ہے تو اسے صرف سوالات سے رد کیسے کیا جا سکتا ہے؟
جواب: ارتقاء کئی لیولز یا سطح پر ہوتا ہے۔ مثلاً
مائکرو ارتقاء (Micro Evolution): جیسے کسی نسل میں رنگ یا قد میں معمولی فرق۔ یہ قابل مشاہدہ ہے اور قابل قبول بھی۔
میکرو ارتقاء (Macro Evolution): ایک مخلوق سے دوسری مخلوق کا وجود۔ یہ ابھی صرف قیاس ہے، مشاہدہ یا تجربہ نہیں۔ لیکن جانوروں میں اسے پھر بھی کسی حد تک تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
انسان کا ارتقاء: یہ سب سے نازک دعویٰ ہے کیونکہ یہاں صرف جسمانی نہیں بلکہ شعوری، اخلاقی اور روحانی پہلو بھی شامل ہیں۔ اور یہی پہلو اسے حیوانات سے الگ کرتے ہیں۔ ہر چیز میں اتنا زیادہ ارتقاء ہونا کہ سب کچھ بدل جائے، اس کا مشاہدہ تو ظاہر ہے کہ نہیں ہے۔ کسی نے یہ عمل ہوتے نہیں دیکھا ہے۔
صرف قیاسات ہیں اور قیاسات کا رد ان پر ہونے والے اشکالات کی بنا پر ہی ہوتا ہے۔ آپ اگر اوپر اشکالات دیکھیں تو ان میں کوئی بھی کمزور اشکال نہیں ہے۔ ایک تھیوری بناتے وقت ان سب کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔
دوم: انسان اور چمپینزی کے اٹھانوے سے ننانوے فیصد جینز ایک جیسے ہیں۔ کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انسان کبھی نہ کبھی چمپینزی سے ارتقاء کر کے بنا ہے؟
جواب: یہاں بھی کچھ چیزیں سمجھنے کی ہیں:
1۔ انسان کے جینز بہت سی چیزوں سے مشترک ملتے ہیں۔ مثلاً کیلے اور انسان کے ساٹھ فیصد جینز ایک جیسے ہیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ انسان کیلے سے ارتقاء کر کے بنا ہو۔ بظاہر وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ تمام کسی نہ کسی لیول پر زمین اور مٹی سے نکلے ہیں لہذا ان کے جینز آپس میں مشترک ہیں۔ جس کے زیادہ مشترک ہیں (جیسے چمپینزی) تو اس کی مماثلت بھی زیادہ ہے اور جس کے کم مشترک ہیں تو مماثلت بھی کم ہے۔
2۔ جین کے اشتراک میں جس طرح یہ ممکن ہے کہ انسان نے چمپینزی سے ارتقاء کیا ہو اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ چمپینزی نے انسان سے تنزلی کی ہو۔ انسانوں نے کسی ایسی مخلوق سے ملاپ کیا ہو جس سے چمپینزی بنے ہوں۔ بغیر کسی دلیل کے یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ یہاں ارتقاء ہی ہوا ہے اور تنزلی نہیں۔ آخر ہم نے انسان کو آخری مخلوق کیوں مان لیا ہے؟
3۔ ارتقاء کا نظریہ ایک طویل سلسلہ بیان کرتا ہے جس میں چمپینزی سے ہومو ہیبیلس تک اور وہاں سے ہومو سیپئن یعنی جدید انسان تک کئی مخلوقات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر چمپینزی بھی سروائیول کے لیے فٹ تھا اور ہوموسیپئن بھی تو درمیان کی مخلوقات جنہوں نے چمپینزی سے ارتقاء کیا تھا، یعنی ان کی صلاحیتیں چمپینزی سے زیادہ تھیں، وہ کیوں باقی نہیں رہے؟ انہیں بھی پھر موجود ہونا چاہیے تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسان اور چمپینزی کی مماثلت دیگر بہت سی چیزوں کی طرح ہے، یہ ارتقاء کی دلیل نہیں ہے۔
سوم: ایک دلیل جینیات میں جو دی جاتی ہے وہ انسانوں کے جین میں کچھ وائرسز (ای آر وی) کی باقیات ہیں جو دیگر مخلوقات کے جین میں بھی ہو بہو موجود ہیں۔ اب تک جینیاتی سائنس کے مطابق وائرس کی باقیات کا جینز کے ایک ہی حصے میں موجود ہونے کا امکان صرف اس صورت میں ہے جب یہ نسل در نسل اولاد میں ٹرانسفر ہوا ہو۔
جواب: یہ درست ہے کہ انسانوں اور دیگر مخلوقات کی جینز میں ایسے وائرسز کی باقیات ہیں جو ایک جیسی ہیں، لیکن یہ کہنا محل نظر ہے کہ یہ صرف توالد کے نتیجے میں ہی ممکن ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وائرس کے پائے جانے کے جتنے امکانات ہو سکتے ہیں وہ ہمارے سامنے نہیں ہیں، یہ ایک بے انتہا طویل پراسس ہے اور ہمارا مشاہدہ پورے پراسس کا نہیں ہے تو ہم نے صرف ایک امکان “توالد” کو لے لیا ہے۔
مثلاً “ای آر وی ایف سی” انسانوں میں اور بے شمار ممالیوں میں پایا جاتا ہے جن میں چوہے بھی ہیں۔ ارتقاء کے ٹری میں چوہے کے اجداد کو بھی شامل کیا گیا ہے لیکن یہ صرف تھیوری میں ہے، عملاً اس کا ہونا بہت پیچیدہ ہے۔
ہم اسے اپنی وحی کی معلومات کی روشنی میں پرکھیں تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ جانوروں اور انسان کا ابتدائی مادہ مٹی ہے اور روایات میں آتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق کے لیے کئی علاقوں کی مٹی لی گئی تو اس لیے ایک جیسی یہ چیزیں بھی موجود ہیں۔
اب یہ کس طرح ہیں تو ہمیں اس کا مشاہداتی علم ہے نہیں اور ممکن بھی نہیں ہے، تو ہم مختلف اندازے لگا رہے ہیں۔ ان اندازوں کی بنا پر جو نتائج ہم نکال رہے ہیں ان پر پھر اوپر مذکور اشکالات ہوتے ہیں۔
قرآن کریم کے انداز کو دیکھیں تو یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسا طویل ارتقائی سلسلہ جاری ہو اور پھر اس سے ایک دن ایک ایسا کامل انسان بنے جسے آسمان پر اٹھایا جائے، فرشتوں سے سجدہ کروایا جائے اور جنت میں بھیج دیا جائے جہاں سے وہ واپس اسی زمین پر آئے جس پر پہلے ہی اس کے بھائی بند رہتے ہوں لیکن وہ پھر بھی اس زمین پر تنہا ہو۔ یہ ساری باتیں آپس میں ملتی ہی نہیں ہیں۔
لہذا سیدھی اور واضح چیز یہی ہے کہ آدمؑ کی پیدائش وہاں ہوئی جہاں فرشتے رہتے تھے۔ ان سے اماں حوا کی پیدائش ہوئی۔ زمین پر آنے کے بعد ان دونوں سے آگے نسل چلی۔ انبیاء آتے رہے جو دنیا میں رہنے کا طریقہ اور جدید علوم سکھاتے رہے۔ دوسری نسلوں سے ٹکر ہوئی تو انہوں نے اپنی عقل اور علم کا سہارا لے کر انہیں شکست دی اور خود کو بڑھاتے رہے۔
پھر جب ان میں گڑبڑ پیدا ہوئی تو طوفان نوح آیا جس کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہوا کہ یہ دنیا میں پھیل گئے۔ یہاں ان میں سے بعض نے دوسری مخلوقات سے جنسی ملاپ بھی کیا جو یقیناً ایک ناقابل قبول چیز تھی۔ جو نسل آئی ان میں سے کچھ انسان پر گئے تو ان میں دوسروں کے جینز رہ گئے، اور جو انسان پر نہیں گئے وہ دوسروں کے ساتھ ختم ہو گئے۔
اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کو سجدہ کریں۔ شیطان فرشتوں کی صف میں تھا اور یہ اس کی خصوصیت تھی۔ اس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا کہ میں اس سے افضل ہوں، آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے بنی مادی مخلوق ہے۔ میں ہزاروں کلو میٹر لمحوں میں پار کر جاتا ہوں اور سمندر پر اپنا تخت لگا سکتا ہوں، یہ خشکی پر پیدل چل کر لمبے سفر طے کرے گا اور سمندر کنارے رک کر اس کی وسعت سے عاجز آ جائے گا۔ میں آسمانوں میں اڑتا ہوں، یہ زمین میں کھڑے ہو کر لاچار اوپر دیکھا کرے گا۔ وہ یہ سب اندازے ”مٹی“ یعنی مادے کو دیکھ کر لگا رہا تھا: ”تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے“ اور ”کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی کی شکل میں بنایا ہے؟“
فرشتوں نے حکم ملتے ہی سجدہ کر لیا۔ حضرات مفسرین کرام نے اس پر گفتگو کی ہے کہ سجدے کا کیا مطلب تھا اور کیا سب نے کیا تھا یا بعض نے؟ قرآن کریم کے الفاظ واضح ہیں کہ سب نے سجدہ کیا تھا۔ شیطان جانتا تھا کہ یہ سجدہ صرف سجدہ نہیں ہے، یہ آدم کی تعظیم ہے اور آدم کی تعظیم کا مطلب ہے میری چودھراہٹ کا اختتام۔ لیکن جب فرشتوں نے سجدہ کیا تو شاید اسے یہ سمجھ تو آ گئی کہ یہ مخلوق الگ چیز ہے، ڈائریکٹ میرے کنٹرول میں نہیں آئے گی۔ اسے مجھے گمراہ کرنا ہوگا۔ اس لیے اس نے اس کے بعد گمراہ کرنے کا ہی ذکر کیا ہے۔ اللہ پاک ہماری اس سے حفاظت فرمائیں۔ آمین
نظریہ ارتقاء اور اس میں مسائل
تخلیق آدمؑ کے اس سارے قضیے میں ”ارتقاء“ کا نظریہ کہیں فٹ ہوتا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ارتقاء کا نظریہ نہ تو اس قرآنی قصے کے مطابق ہے اور نہ ہی عقل کے۔ یاد رہے کہ نظریہ ارتقاء در اصل ایک ہائپوتھیسس ہے جسے کسی نے دیکھا نہیں ہے، اس پر اگلے حصے میں گفتگو کریں گے۔
نظریہ ارتقاء کہتا ہے کہ زمین پر انسان جیسی مخلوقات آباد تھیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کر رہی تھیں۔ ہر دور میں جو مخلوق اس دور کے حالات کے مطابق ہوتی تھی وہ باقی رہ جاتی تھی اور باقی ختم ہو جاتی تھیں۔ یوں ہی آپس کی جنگوں میں جو زیادہ فٹ ہوتے تھے وہ بچ جاتے تھے۔
یہ سسٹم یوں ہی چلتا ہوا غیر افریقہ میں ”نیندرتھل“ اور ”ڈینی سووین“ تک اور افریقہ میں ”ہومو ایریکٹس“ تک پہنچا جن کی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے جسم سردی کے خلاف مزاحمت کر سکتے تھے، ان کے دماغ نسبتاً زیادہ کام کرتے تھے، وہ پتھر کے اوزار بنا لیتے تھے اور آگ کا استعمال کر لیتے تھے۔ البتہ ان میں اس سے زیادہ صلاحیت نہیں تھی۔
افریقہ میں ”ہومو ایریکٹس“ اپنے سے پہلے موجود ”ہومو ہیبیلس“ سے ارتقاء کر کے بنے تھے جن کا دماغ چھوٹا ہوتا تھا۔ ”ہومو ایریکٹس“ کا دماغ ان سے بڑا تھا تو ان کی دماغی صلاحیتیں بھی زیادہ تھیں جب کہ ”ہومو سیپئن“ یا جدید انسانوں کا دماغ ان سے بھی بڑا تھا جس نے انہیں جدید صلاحیتیں دیں۔
غیر افریقہ میں ارتقاء کا سلسلہ مزید آگے نہیں بڑھ سکا۔ افریقہ سے ”ہومو سیپئن (جدید انسان)“ نے ایشیا اور دیگر جگہوں پر ہجرت کی اور وہاں موجود نینڈرتھلوں اور ڈینی سووینوں سے ملاپ کیا۔ چنانچہ وہاں بھی انسانی نسل آگے بڑھی اور وہاں کے کچھ لوگوں میں آج بھی نیندرتھل یا ڈینی سووین کے کچھ جینز پائے جاتے ہیں۔
اب یہاں کچھ گڑبڑ ہے:
اول: دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے جس کے جینز میں ”ہومو سیپئن“ نہ ہوں اور وہ صرف ”نینڈرتھل“ وغیرہ سے بنا ہو۔ یعنی موجودہ انسانوں کے تمام جینز میں ”ہومو سیپئن“ (جسے ہم انسان کہتے ہیں) ضرور موجود ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نینڈرتھل، صرف ڈینی سووین یا نیڈرتھل اور ڈینی سووین کے مجموعے نے ارتقاء نہیں کیا اور باقی نہیں رہے۔ صرف ہومو سیپئن باقی رہے ہیں۔ اگر ارتقاء اسی طرح ہو رہا تھا جیسے بیان کیا جاتا ہے تو ان تینوں مخلوقات میں نظر آنا چاہیے تھا۔ یہ صرف ہومو سیپئن میں کیوں ہوا ہے اور باقیوں میں کیوں نہیں؟
دوم: ”ہومو سیپئن“ کے آباء و اجداد ”ہومو ایریکٹس“ تھے لیکن ان کا ڈی این اے ریکارڈ فی الحال موجود ہی نہیں ہے جس سے یہ کہا جا سکے کہ وہ واقعی تمام ہوموسیپئن میں پائے جاتے ہیں۔ ایک پراسرار جینز ہمیں ملتا ہے لیکن وہ تمام ہومو سیپئنز میں نہیں ہے۔
بغیر ریکارڈ اور ڈیٹا کے یہ کہہ دینا کہ “ہومو ایریکٹس” سے ارتقاء کر کے “ہومو سیپئن” بنے ہیں، ایک بلا دلیل دعوی اور فرضی قیاس ہے۔ یہ ارتقاء کسی نے دیکھا تو ہے نہیں کہ کوئی مشاہداتی دلیل اس پر ہو، پھر یہ دعوی بھلا کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
سوم: ہومو سیپئین یعنی جدید انسانوں کے آباؤ اجداد “ہومو ایریکٹس” نے بھی افریقہ سے ہجرت کی تھی اور نینڈرتھل، ڈینی-سووینز کے علاقوں میں آئے تھے اور وہاں ایک لاکھ دس ہزار سال قبل تک رہے۔ نیندرتھلز کا زمانہ چار لاکھ سال سے چالیس ہزار سال قبل تک کا ہے۔ یعنی درمیان کے ستر ہزار سال کے علاوہ باقی وقت دونوں ساتھ رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ایسے انسان موجود نہیں ہیں جن کے جینز صرف ان دو سے مل کر بنے ہوں اور ہومو سیپئینز ان میں نہ ہوں۔ اگر ارتقاء کا سلسلہ درست ہے تو نیڈرتھلز اور ہومو ایریکٹس کے ملاپ سے ایسی مخلوق لازماً پیدا ہونی چاہئیے تھی جو “فٹسٹ” ہوتی اور سروائیول کرتی۔ صرف ہومو سیپئینز ہی کیوں نظر آتے ہیں؟
چہارم: ارتقاء کے نظریے کے مطابق ”ہوموسیپئن“ بنے ہیں “ہومو ایریکٹس” سے، جن کا دماغ “ہومو سیپئین” سے چھوٹا تھا اور وہ بنے ہیں “ہومو ہیبیلس” سے جن کا دماغ ان سے بھی چھوٹا تھا۔ یعنی جیسے جیسے دماغ بڑھتا رہا ویسے ویسے جدید انسان بنتا گیا۔
لیکن حیرت انگیز طور پر جدید انسان یعنی ہومو سیپئن کی جدید نسل کا دماغ قدیم جتنا ہی یا اس سے چھوٹا ہے جب کہ صلاحیتیں قدیم سے ہزار گنا زیادہ (نظریہ ارتقاء کے مطابق) ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جدید انسان میں ارتقاء قدیم کی طرح ہو ہی نہیں رہا بلکہ یہ الٹ یا معکوس ارتقاء ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ارتقاء کا سلسلہ ایک دم الٹ گیا ہے؟ اور اگر نظریہ ارتقاء درست ہے تو دماغ چھوٹا ہونے پر صلاحیتوں میں کمی کیوں نہیں ہو رہی؟
پنجم: جس وقت یہ تمام سلسلہ چل رہا تھا اس وقت دنیا میں برفانی دور یا ”آئس ایج“ جاری تھا۔ نیندرتھلز اور ڈینی-سوینز اس ”آئس ایج“ کے لیے جسمانی طور پر زیادہ موزوں تھے۔ ہوموسیپئین افریقہ کے تھے جہاں آئس ایج کا اتنا اثر نہیں تھا۔
بہترین کے باقی رہنے کے اصول کے مطابق نیندرتھلز اور ڈینیسوینز کو باقی رہنا چاہیے تھا اور سرد علاقوں میں ہوموسیپئین کے جینز کو ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ خصوصاً اس دور میں جب انسان کی ضروریات سادہ تھیں اور نیندرتھلز کا دماغ ان ضروریات کے لیے بہت موزوں تھا (ان کے دماغ میں سوچ سمجھ کم اور بصارت، سماعت وغیرہ زیادہ تھیں)۔
جب نیندرتھلز کا جسم مضبوط تھا، ضروریات سادہ تھیں اور دماغ ان ضروریات کے لیے کافی تو ہوموسپئن کے بجائے وہ “فٹسٹ” تھے اور سروائیول انہیں کرنا چاہیے تھا۔ یا کم سے کم ہوموسیپئن کے ساتھ سروائیول کرنا چاہیے تھا اور موجود رہنا چاہیے تھا۔
یہ سب چیزیں مل کر کیا نتیجہ نکالتی ہیں؟ نیندرتھلز سے تو جدید انسان قطعی طور پر نہیں بنا (ڈی این اے واضح ہے) اور ہوموایریکٹس سے بننے کا نہ تو ثبوت ہے اور نہ ہی ارتقائی انداز اس جیسا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جدید انسان ایک الگ سے مخلوق ہے۔ اس مخلوق نے آگے چل کر بعض اوقات نیندرتھلز یا ڈینی-سوینز سے ملاپ کیا جس سے ان کے جینز ان میں سے بعض میں آئے لیکن اس کی پشت مکمل طور پر ان تینوں سے آتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس کے لیے بے شمار تاویلیں کی جائیں تب ہی یہ ممکن ہے کہ اسے ان کی ہی اولاد کہا جائے۔ نظریہ ارتقاء یہاں ہمیں فیل نظر آتا ہے۔
نظریہ ارتقاء کی تائید میں اشکالات:
اول: سائنس میں “نظریہ” محض رائے نہیں ہوتا، بلکہ وہ مشاہدات اور تجربات کے تسلسل سے جنم لیتا ہے۔ اب اگر نظریہ ارتقاء مشاہدات سے ثابت نظریہ ہے تو اسے صرف سوالات سے رد کیسے کیا جا سکتا ہے؟
جواب: ارتقاء کئی لیولز یا سطح پر ہوتا ہے۔ مثلاً
مائکرو ارتقاء (Micro Evolution): جیسے کسی نسل میں رنگ یا قد میں معمولی فرق۔ یہ قابل مشاہدہ ہے اور قابل قبول بھی۔
میکرو ارتقاء (Macro Evolution): ایک مخلوق سے دوسری مخلوق کا وجود۔ یہ ابھی صرف قیاس ہے، مشاہدہ یا تجربہ نہیں۔ لیکن جانوروں میں اسے پھر بھی کسی حد تک تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
انسان کا ارتقاء: یہ سب سے نازک دعویٰ ہے کیونکہ یہاں صرف جسمانی نہیں بلکہ شعوری، اخلاقی اور روحانی پہلو بھی شامل ہیں۔ اور یہی پہلو اسے حیوانات سے الگ کرتے ہیں۔ ہر چیز میں اتنا زیادہ ارتقاء ہونا کہ سب کچھ بدل جائے، اس کا مشاہدہ تو ظاہر ہے کہ نہیں ہے۔ کسی نے یہ عمل ہوتے نہیں دیکھا ہے۔
صرف قیاسات ہیں اور قیاسات کا رد ان پر ہونے والے اشکالات کی بنا پر ہی ہوتا ہے۔ آپ اگر اوپر اشکالات دیکھیں تو ان میں کوئی بھی کمزور اشکال نہیں ہے۔ ایک تھیوری بناتے وقت ان سب کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔
دوم: انسان اور چمپینزی کے اٹھانوے سے ننانوے فیصد جینز ایک جیسے ہیں۔ کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انسان کبھی نہ کبھی چمپینزی سے ارتقاء کر کے بنا ہے؟
جواب: یہاں بھی کچھ چیزیں سمجھنے کی ہیں:
1۔ انسان کے جینز بہت سی چیزوں سے مشترک ملتے ہیں۔ مثلاً کیلے اور انسان کے ساٹھ فیصد جینز ایک جیسے ہیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ انسان کیلے سے ارتقاء کر کے بنا ہو۔ بظاہر وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ تمام کسی نہ کسی لیول پر زمین اور مٹی سے نکلے ہیں لہذا ان کے جینز آپس میں مشترک ہیں۔ جس کے زیادہ مشترک ہیں (جیسے چمپینزی) تو اس کی مماثلت بھی زیادہ ہے اور جس کے کم مشترک ہیں تو مماثلت بھی کم ہے۔
2۔ جین کے اشتراک میں جس طرح یہ ممکن ہے کہ انسان نے چمپینزی سے ارتقاء کیا ہو اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ چمپینزی نے انسان سے تنزلی کی ہو۔ انسانوں نے کسی ایسی مخلوق سے ملاپ کیا ہو جس سے چمپینزی بنے ہوں۔ بغیر کسی دلیل کے یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ یہاں ارتقاء ہی ہوا ہے اور تنزلی نہیں۔ آخر ہم نے انسان کو آخری مخلوق کیوں مان لیا ہے؟
3۔ ارتقاء کا نظریہ ایک طویل سلسلہ بیان کرتا ہے جس میں چمپینزی سے ہومو ہیبیلس تک اور وہاں سے ہومو سیپئن یعنی جدید انسان تک کئی مخلوقات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر چمپینزی بھی سروائیول کے لیے فٹ تھا اور ہوموسیپئن بھی تو درمیان کی مخلوقات جنہوں نے چمپینزی سے ارتقاء کیا تھا، یعنی ان کی صلاحیتیں چمپینزی سے زیادہ تھیں، وہ کیوں باقی نہیں رہے؟ انہیں بھی پھر موجود ہونا چاہیے تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ انسان اور چمپینزی کی مماثلت دیگر بہت سی چیزوں کی طرح ہے، یہ ارتقاء کی دلیل نہیں ہے۔
سوم: ایک دلیل جینیات میں جو دی جاتی ہے وہ انسانوں کے جین میں کچھ وائرسز (ای آر وی) کی باقیات ہیں جو دیگر مخلوقات کے جین میں بھی ہو بہو موجود ہیں۔ اب تک جینیاتی سائنس کے مطابق وائرس کی باقیات کا جینز کے ایک ہی حصے میں موجود ہونے کا امکان صرف اس صورت میں ہے جب یہ نسل در نسل اولاد میں ٹرانسفر ہوا ہو۔
جواب: یہ درست ہے کہ انسانوں اور دیگر مخلوقات کی جینز میں ایسے وائرسز کی باقیات ہیں جو ایک جیسی ہیں، لیکن یہ کہنا محل نظر ہے کہ یہ صرف توالد کے نتیجے میں ہی ممکن ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وائرس کے پائے جانے کے جتنے امکانات ہو سکتے ہیں وہ ہمارے سامنے نہیں ہیں، یہ ایک بے انتہا طویل پراسس ہے اور ہمارا مشاہدہ پورے پراسس کا نہیں ہے تو ہم نے صرف ایک امکان “توالد” کو لے لیا ہے۔
مثلاً “ای آر وی ایف سی” انسانوں میں اور بے شمار ممالیوں میں پایا جاتا ہے جن میں چوہے بھی ہیں۔ ارتقاء کے ٹری میں چوہے کے اجداد کو بھی شامل کیا گیا ہے لیکن یہ صرف تھیوری میں ہے، عملاً اس کا ہونا بہت پیچیدہ ہے۔
ہم اسے اپنی وحی کی معلومات کی روشنی میں پرکھیں تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ جانوروں اور انسان کا ابتدائی مادہ مٹی ہے اور روایات میں آتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق کے لیے کئی علاقوں کی مٹی لی گئی تو اس لیے ایک جیسی یہ چیزیں بھی موجود ہیں۔
اب یہ کس طرح ہیں تو ہمیں اس کا مشاہداتی علم ہے نہیں اور ممکن بھی نہیں ہے، تو ہم مختلف اندازے لگا رہے ہیں۔ ان اندازوں کی بنا پر جو نتائج ہم نکال رہے ہیں ان پر پھر اوپر مذکور اشکالات ہوتے ہیں۔
قرآن کریم کے انداز کو دیکھیں تو یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسا طویل ارتقائی سلسلہ جاری ہو اور پھر اس سے ایک دن ایک ایسا کامل انسان بنے جسے آسمان پر اٹھایا جائے، فرشتوں سے سجدہ کروایا جائے اور جنت میں بھیج دیا جائے جہاں سے وہ واپس اسی زمین پر آئے جس پر پہلے ہی اس کے بھائی بند رہتے ہوں لیکن وہ پھر بھی اس زمین پر تنہا ہو۔ یہ ساری باتیں آپس میں ملتی ہی نہیں ہیں۔
لہذا سیدھی اور واضح چیز یہی ہے کہ آدمؑ کی پیدائش وہاں ہوئی جہاں فرشتے رہتے تھے۔ ان سے اماں حوا کی پیدائش ہوئی۔ زمین پر آنے کے بعد ان دونوں سے آگے نسل چلی۔ انبیاء آتے رہے جو دنیا میں رہنے کا طریقہ اور جدید علوم سکھاتے رہے۔ دوسری نسلوں سے ٹکر ہوئی تو انہوں نے اپنی عقل اور علم کا سہارا لے کر انہیں شکست دی اور خود کو بڑھاتے رہے۔
پھر جب ان میں گڑبڑ پیدا ہوئی تو طوفان نوح آیا جس کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہوا کہ یہ دنیا میں پھیل گئے۔ یہاں ان میں سے بعض نے دوسری مخلوقات سے جنسی ملاپ بھی کیا جو یقیناً ایک ناقابل قبول چیز تھی۔ جو نسل آئی ان میں سے کچھ انسان پر گئے تو ان میں دوسروں کے جینز رہ گئے، اور جو انسان پر نہیں گئے وہ دوسروں کے ساتھ ختم ہو گئے۔
جودی
اللہ پاک نے قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کیا مسائل تھے؟ قوم پر طوفان کا عذاب کیسے آیا اور نوح اور ان کے ماننے والوں کو ایک کشتی میں کیسے نجات دی گئی؟ یہ قصہ اہل مکہ کو معلوم نہیں تھا۔ خود قرآن نے یہ کہا اور اہل مکہ نے انکار نہیں کیا کہ ہم تو جانتے تھے۔
بائبل میں نوح علیہ السلام کا قصہ موجود ہے۔ اس میں تفصیل سے ہے کہ کشتی نوح جب پانی اترا تو ارارات کے پہاڑوں میں رکی۔ ارارات ایک پہاڑی سلسلہ ہے اور اس سلسلے کا ایک پہاڑ ہے "جودی"۔ یہ آرمینیا کے پاس ہے۔ قرآن نے وضاحت کی ہے کہ کشتی اس پہاڑ پر آ کر رکی تھی۔
شامی مسیحی عالم افرائم نے چوتھی صدی عیسوی میں (نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل) اس بات کی وضاحت کی کہ کشتی نوح اس پہاڑ پر رکی تھی۔ انہوں نے اس کا نام "قردو" ذکر کیا۔ یہ تشریح یہاں سے مسیحی حلقوں میں پھیل گئی۔ یہاں تک تو بات عام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس پہاڑ کا نام کیا ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں جب کوئی نام ایک زبان سے دوسری زبان میں جاتا ہے تو اس میں تھوڑی تبدیلی ہوتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اس میں کوئی ایسا لفظ ہو جو دوسری زبان میں نہ ہو۔
کوہ جودی کا نام ہمیں قدیم متون میں دو طرح نظر آتا ہے: گاف کے ساتھ گوردی (گوردوینے، گوردویا) اور قاف یا کاف کے ساتھ قردو (قردو، کورڈوینے، کورڈوینی)۔
کوہ جودی کا قدیم ترین حوالہ ہمیں آشوری کتبوں اور زینوفون یونانی کے پاس چوتھی صدی قبل مسیح میں ملتا ہے۔ زینوفون کہتا ہے: "وہ کاردوخوی کے ملک میں داخل ہوئے" اور "کاردوخوی ایک جنگجو اور آزاد قوم تھی"۔
اس کے بعد اسٹرابو اور بطلیموس یونانی نے پہلی صدی قبل مسیح اور دوسری صدی عیسوی میں اس پہاڑ کا نام "گورڈیینے" ذکر کیا۔ اس دوران دنیا میں اس کا دوسرا نام بھی معروف رہا جو "ک" یا "ق" سے تھا۔ اگلی دو تین صدیوں میں اس کا گاف والا تلفظ غائب ہو گیا اور اس کے بعد صرف چھٹی صدی میں اسٹیفنس یونانی نے ذکر کیا۔
اب ان میں آپ ایک مزے کی چیز دیکھیے کہ ان میں جو جغرافیہ دان ہیں، جن کا کام علاقوں کی تفصیل بتانا ہے انہوں نے یہاں گاف کا تلفظ اختیار کیا ہے جیسے اسٹرابو، بطلیموس اور اسٹیفنس۔ یہ تینوں جغرافیہ دان ہیں اور تینوں یونان کے ہیں۔
اور جو تاریخ اور دیگر چیزوں کے عالم ہیں انہوں نے کاف کے تلفظ کے ساتھ لکھا ہے اور غالباً اس علاقے میں موجود قوم کی وجہ سے لکھا ہے جیسے زینوفون نے قوم کا ذکر کیا ہے۔
اب جب قرآن اترا تو قریش تو ویسے ہی نوح علیہ السلام کے قصے سے واقف نہیں تھے۔ عیسائی جانتے تھے لیکن ان کے یہاں اول تو ارارات نام تھا، مزید کوئی تحقیقی بندہ تھا تو اس کے یہاں پہاڑ کا "قردو" نام تھا۔ عمومی معروف بھی یہی قردو اور کورڈین تھا۔
صرف یونان کے قدیم جغرافیہ دان گاف کا تلفظ استعمال کرتے تھے اور ان کے کاموں تک نبی کریم ﷺ کی رسائی ناممکن تھی۔ اسٹیفنس آپ کے دور کا ہی تھا لیکن اس تک بھی رسائی ممکن نہیں تھی۔ ایسے میں جب قرآن نے اس پہاڑ کا نام لیا ہے تو واضح طور پر کہا ہے:
و استوت علی الجودی (کشتی جودی پہاڑ پر رکی)
عربی میں ک اور ق موجود ہیں، انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن گ عربی میں نہیں ہے اور اسے ج سے تبدیل کیا جاتا ہے، خصوصاً جغرافیے میں جیسے گرگان سے جرجان اور گیلان سے جیلان۔
اسی انداز میں قرآن نے "گوردی" کے روٹ ورڈ کو لیا ہے اور اسے عربی میں بدلا ہے: جودی۔ اس میں "ر" نہیں ہے لیکن زبانوں کی تبدیلی میں ایسا چھوٹا موٹا فرق ہو جاتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عربی میں واؤ اور را ایک ساتھ ساکن نہیں آ سکتے۔
قرآن نے کہا ہے:
و استوت علی الجودی
یہ نہیں کہا:
و استوت علی الکودی / و استوت علی القردو
کیا کسی بھی طرح وحی کے بغیر یہ ممکن تھا کہ محمد عربی ﷺ، جو پڑھے لکھے بھی نہیں تھے، یونانی جغرافیہ دانوں کا تلفظ جان لیتے؟ وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ ان کی قوم کو اس واقعے کا ہی علم نہیں تھا؟ ہرگز نہیں! صرف وحی ہی اس کا راستہ تھی اور بس یہ قرآن کے معجزات ہیں جو اس میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں!
اللہ پاک نے قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کیا مسائل تھے؟ قوم پر طوفان کا عذاب کیسے آیا اور نوح اور ان کے ماننے والوں کو ایک کشتی میں کیسے نجات دی گئی؟ یہ قصہ اہل مکہ کو معلوم نہیں تھا۔ خود قرآن نے یہ کہا اور اہل مکہ نے انکار نہیں کیا کہ ہم تو جانتے تھے۔
بائبل میں نوح علیہ السلام کا قصہ موجود ہے۔ اس میں تفصیل سے ہے کہ کشتی نوح جب پانی اترا تو ارارات کے پہاڑوں میں رکی۔ ارارات ایک پہاڑی سلسلہ ہے اور اس سلسلے کا ایک پہاڑ ہے "جودی"۔ یہ آرمینیا کے پاس ہے۔ قرآن نے وضاحت کی ہے کہ کشتی اس پہاڑ پر آ کر رکی تھی۔
شامی مسیحی عالم افرائم نے چوتھی صدی عیسوی میں (نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل) اس بات کی وضاحت کی کہ کشتی نوح اس پہاڑ پر رکی تھی۔ انہوں نے اس کا نام "قردو" ذکر کیا۔ یہ تشریح یہاں سے مسیحی حلقوں میں پھیل گئی۔ یہاں تک تو بات عام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس پہاڑ کا نام کیا ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں جب کوئی نام ایک زبان سے دوسری زبان میں جاتا ہے تو اس میں تھوڑی تبدیلی ہوتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اس میں کوئی ایسا لفظ ہو جو دوسری زبان میں نہ ہو۔
کوہ جودی کا نام ہمیں قدیم متون میں دو طرح نظر آتا ہے: گاف کے ساتھ گوردی (گوردوینے، گوردویا) اور قاف یا کاف کے ساتھ قردو (قردو، کورڈوینے، کورڈوینی)۔
کوہ جودی کا قدیم ترین حوالہ ہمیں آشوری کتبوں اور زینوفون یونانی کے پاس چوتھی صدی قبل مسیح میں ملتا ہے۔ زینوفون کہتا ہے: "وہ کاردوخوی کے ملک میں داخل ہوئے" اور "کاردوخوی ایک جنگجو اور آزاد قوم تھی"۔
اس کے بعد اسٹرابو اور بطلیموس یونانی نے پہلی صدی قبل مسیح اور دوسری صدی عیسوی میں اس پہاڑ کا نام "گورڈیینے" ذکر کیا۔ اس دوران دنیا میں اس کا دوسرا نام بھی معروف رہا جو "ک" یا "ق" سے تھا۔ اگلی دو تین صدیوں میں اس کا گاف والا تلفظ غائب ہو گیا اور اس کے بعد صرف چھٹی صدی میں اسٹیفنس یونانی نے ذکر کیا۔
اب ان میں آپ ایک مزے کی چیز دیکھیے کہ ان میں جو جغرافیہ دان ہیں، جن کا کام علاقوں کی تفصیل بتانا ہے انہوں نے یہاں گاف کا تلفظ اختیار کیا ہے جیسے اسٹرابو، بطلیموس اور اسٹیفنس۔ یہ تینوں جغرافیہ دان ہیں اور تینوں یونان کے ہیں۔
اور جو تاریخ اور دیگر چیزوں کے عالم ہیں انہوں نے کاف کے تلفظ کے ساتھ لکھا ہے اور غالباً اس علاقے میں موجود قوم کی وجہ سے لکھا ہے جیسے زینوفون نے قوم کا ذکر کیا ہے۔
اب جب قرآن اترا تو قریش تو ویسے ہی نوح علیہ السلام کے قصے سے واقف نہیں تھے۔ عیسائی جانتے تھے لیکن ان کے یہاں اول تو ارارات نام تھا، مزید کوئی تحقیقی بندہ تھا تو اس کے یہاں پہاڑ کا "قردو" نام تھا۔ عمومی معروف بھی یہی قردو اور کورڈین تھا۔
صرف یونان کے قدیم جغرافیہ دان گاف کا تلفظ استعمال کرتے تھے اور ان کے کاموں تک نبی کریم ﷺ کی رسائی ناممکن تھی۔ اسٹیفنس آپ کے دور کا ہی تھا لیکن اس تک بھی رسائی ممکن نہیں تھی۔ ایسے میں جب قرآن نے اس پہاڑ کا نام لیا ہے تو واضح طور پر کہا ہے:
و استوت علی الجودی (کشتی جودی پہاڑ پر رکی)
عربی میں ک اور ق موجود ہیں، انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن گ عربی میں نہیں ہے اور اسے ج سے تبدیل کیا جاتا ہے، خصوصاً جغرافیے میں جیسے گرگان سے جرجان اور گیلان سے جیلان۔
اسی انداز میں قرآن نے "گوردی" کے روٹ ورڈ کو لیا ہے اور اسے عربی میں بدلا ہے: جودی۔ اس میں "ر" نہیں ہے لیکن زبانوں کی تبدیلی میں ایسا چھوٹا موٹا فرق ہو جاتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عربی میں واؤ اور را ایک ساتھ ساکن نہیں آ سکتے۔
قرآن نے کہا ہے:
و استوت علی الجودی
یہ نہیں کہا:
و استوت علی الکودی / و استوت علی القردو
کیا کسی بھی طرح وحی کے بغیر یہ ممکن تھا کہ محمد عربی ﷺ، جو پڑھے لکھے بھی نہیں تھے، یونانی جغرافیہ دانوں کا تلفظ جان لیتے؟ وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ ان کی قوم کو اس واقعے کا ہی علم نہیں تھا؟ ہرگز نہیں! صرف وحی ہی اس کا راستہ تھی اور بس یہ قرآن کے معجزات ہیں جو اس میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں!
و البحر المسجور (سورۂ طور)
(قسم ہے ایسے سمندر کی جسے بھڑکایا گیا ہے)
سمندر تو ٹھنڈا ہوتا ہے۔ پانی، ہوا، مچھلیاں، کچھ موجیں اور اس میں چلتی کچھ بادبانی کشتیاں۔ زمانہ قدیم میں یہی کچھ سمندر کا تصور تھا۔ اور سچ کہوں توآج بھی اس تصور میں صرف کشتیاں بدل گئی ہیں اور برف آ گئی ہے۔ عام طور پر ہم اتنا ہی جانتے ہیں۔
ایسے میں قرآن نے لفظ "مسجور" کا ذکر کیا ہے جس کے تین معروف معانی ہیں:
1. بھڑکایا ہوا
2. بھرا ہوا
3. جوش مارتا ہوا یا موجوں والا
دوسرا اور تیسرا معنی تو عام فہم ہے لیکن اصل یہ لفظ پہلے معنی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ تو آخر سمندر میں بھڑکایا ہوا کیا ہے؟
قرآن کے نازل ہونے کے تقریباً بارہ سو سال کے بعد سائنس نے پہلی بار جانا کہ سمندر کی زمین ہموار نہیں ہوتی اور اس میں بہت کچھ اور بھی ہوتا ہے۔ پھر اس کے بھی سو، ڈیڑھ سو برس کے بعد معلوم ہوا:
1. سمندر کے نیچے آتش فشاں موجود ہیں۔ سمندر کے نیچے ایک لمبی پٹی ہوتی ہے جسے "مڈ اوشین رج" کہتے ہیں۔ یہاں آتش فشاں پھٹتے ہیں اور گرم لاوا باہر نکلتا ہے۔ خشکی سے زیادہ آتش فشاں سمندر کے نیچے ہی ہیں۔
2. سمندر کی گہرائی میں ایسے چشمے ہوتے ہیں جہاں زمین کا گرم پانی باہر نکلتا ہے۔ ان چشموں کو "ہائیڈرو تھرمل وینٹس" کہتے ہیں اور ان کے پانی کا درجہ حرارت چار سو ڈگری تک جاتا ہے، یعنی جس درجہ حرارت پر پانی ابل جاتا ہے اس کا چار گنا۔
اب ذرا تصور کیجیے کہ کیا دنیا میں کوئی طریقہ ممکن تھا کہ عرب کے ریگستانی پہاڑوں میں موجود ایک انسان کو سمندر کی گہرائی کا یہ علم ہو سکتا جو باقی دنیا کو بھی تیرہ چودہ سو سال بعد ہوا؟ یہ اس کے سوا بھلا کون جان سکتا تھا جس نے اس سمندر کو بنایا؟
و البحر المسجور
قسم ہے بھڑکائے گئے سمندر کی!
(قسم ہے ایسے سمندر کی جسے بھڑکایا گیا ہے)
سمندر تو ٹھنڈا ہوتا ہے۔ پانی، ہوا، مچھلیاں، کچھ موجیں اور اس میں چلتی کچھ بادبانی کشتیاں۔ زمانہ قدیم میں یہی کچھ سمندر کا تصور تھا۔ اور سچ کہوں توآج بھی اس تصور میں صرف کشتیاں بدل گئی ہیں اور برف آ گئی ہے۔ عام طور پر ہم اتنا ہی جانتے ہیں۔
ایسے میں قرآن نے لفظ "مسجور" کا ذکر کیا ہے جس کے تین معروف معانی ہیں:
1. بھڑکایا ہوا
2. بھرا ہوا
3. جوش مارتا ہوا یا موجوں والا
دوسرا اور تیسرا معنی تو عام فہم ہے لیکن اصل یہ لفظ پہلے معنی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ تو آخر سمندر میں بھڑکایا ہوا کیا ہے؟
قرآن کے نازل ہونے کے تقریباً بارہ سو سال کے بعد سائنس نے پہلی بار جانا کہ سمندر کی زمین ہموار نہیں ہوتی اور اس میں بہت کچھ اور بھی ہوتا ہے۔ پھر اس کے بھی سو، ڈیڑھ سو برس کے بعد معلوم ہوا:
1. سمندر کے نیچے آتش فشاں موجود ہیں۔ سمندر کے نیچے ایک لمبی پٹی ہوتی ہے جسے "مڈ اوشین رج" کہتے ہیں۔ یہاں آتش فشاں پھٹتے ہیں اور گرم لاوا باہر نکلتا ہے۔ خشکی سے زیادہ آتش فشاں سمندر کے نیچے ہی ہیں۔
2. سمندر کی گہرائی میں ایسے چشمے ہوتے ہیں جہاں زمین کا گرم پانی باہر نکلتا ہے۔ ان چشموں کو "ہائیڈرو تھرمل وینٹس" کہتے ہیں اور ان کے پانی کا درجہ حرارت چار سو ڈگری تک جاتا ہے، یعنی جس درجہ حرارت پر پانی ابل جاتا ہے اس کا چار گنا۔
اب ذرا تصور کیجیے کہ کیا دنیا میں کوئی طریقہ ممکن تھا کہ عرب کے ریگستانی پہاڑوں میں موجود ایک انسان کو سمندر کی گہرائی کا یہ علم ہو سکتا جو باقی دنیا کو بھی تیرہ چودہ سو سال بعد ہوا؟ یہ اس کے سوا بھلا کون جان سکتا تھا جس نے اس سمندر کو بنایا؟
و البحر المسجور
قسم ہے بھڑکائے گئے سمندر کی!
نیند، نیند اور نیند
محمد اویس پراچہ
==============
قائد نے فرمایا تھا: "کام، کام اور کام"۔ لیکن قائد نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب قائد کی عمر کافی گزر چکی تھی۔ پھر بھی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قائد آخری عمر میں شدید بیمار ہوئے۔ خیر! موت کا بہانہ تو کچھ بھی بن جاتا ہے۔
نیند لینا انسانی جسم کے لیے ایک انتہائی اہم فعل ہے۔ نیند کے دوران دماغ "گلمفیٹک سسٹم" کے ذریعے اپنی صفائی کرتا ہے، یاد داشت مینج ہوتی ہے، پٹھوں اور خلیوں کی مرمت ہوتی ہے، امیون سسٹم بہتر ہوتا ہے، ہارمونز سیٹ ہوتے ہیں اور جسم کا غیر ضروری بلڈ پریشر کنٹرول میں آتا ہے۔
ہمارا مسئلہ کیا ہے کہ ہم بلاوجہ رات کو دیر سے سوتے ہیں۔ صبح وقت پر اٹھنا اکثر ہماری مجبوری ہوتا ہے۔ یوں درمیان میں سونے کا وقت ہمارا کم بچتا ہے۔ یہ وقت کم نہ بھی ہو اور ہم دن میں دیر سے اٹھیں تب بھی ہم ایک اور کام کر رہے ہوتے ہیں جسے کہتے ہیں "سکارڈین کلاک خراب کرنا"۔
انسانی جسم میں اللہ پاک نے ہارمونز کی ایک گھڑی لگائی ہوئی ہے۔ اندھیرا ہوتے ہی نیند پیدا کرنے والا ہارمون (میلاٹونن) جسم میں بننا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ہارمون رات کو بارہ سے تین تک پیک پر ہوتا ہے۔ جسم اس دوران گہری نیند سوتا ہے اور دیگر ہارمونز اور سسٹمز اپنا کام کرتے ہیں یعنی مرمت اور مینجمنٹ وغیرہ۔
صبح روشنی نکلتے ہی ایک اور ہارمون "کورٹیسول" بننا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کو جگاتا ہے تاکہ انسان اپنے کام کر سکے۔ یوں ایک صحت مند گھڑی انسان کے جسم کو ترتیب میں رکھتی ہے۔
ہم یہ کرتے ہیں کہ رات کو دو بجے سونے جاتے ہیں جب میلاٹونن ریٹائر ہونے والا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہم آرٹیفیشل روشنیوں میں رہتے ہیں جو اسے کام نہیں کرنے دیتیں۔ پھر ہم فجر پڑھ کر یا بغیر پڑھے کورٹیسول کی موجودگی میں سوتے رہتے ہیں۔ جسم کے باقی اعضاء پریشان رہتے ہیں کہ ہم اپنا کام کب کریں؟
نتیجہ جو ہمارے یہاں نئی جنریشن میں اسی نوے فیصد تک ہو چکا ہے، یہ نکلتا ہے کہ سب سے پہلے اعصاب کمزور ہوتے ہیں۔ پھر وہ جسم کے باقی حصوں کو متاثر کرتے ہیں جن میں ہاضمہ بھی ہوتا ہے۔ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے تو جسم کو خوراک سے وہ سب ملنا کم ہو جاتا ہے جس سے اس نے خود کو چلانا ہوتا ہے۔ یوں سپلائی چین متاثر ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف دماغ نے سونے کے دوران اپنی صفائی کرنی ہوتی ہے جو وہ نہیں کر پاتا۔ اس میں زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے یادداشت کو ترتیب دینا ہوتا ہے جو نہیں ہوتا اور ضروری اور غیر ضروری چیزیں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ اس سے ڈپریشن اور انزائٹی کی بنیاد پڑتی ہے۔
اعصاب جنہوں نے ان مشکل حالات میں جسم کو سنبھالنا ہوتا ہے اور صحت کی جانب واپس لے جانا ہوتا ہے، وہ کمزور ہوتے ہیں اور سپلائی چین سے انہیں ضروریات مل نہیں رہی ہوتیں۔ یوں انسان ایک گٹ برین لوپ میں پھنس جاتا ہے جہاں وہ معدے کا علاج کرے تو بھی ٹھیک نہیں ہوتا، اعصاب کا علاج کرے تو معدہ اور خراب ہو جاتا ہے اور سونے کی کوشش کرے تو نیند نہیں آتی۔
اس لیے پیارے دوستو! قائد کا فرمان سر آنکھوں پر لیکن آج کے حساب سے جناب محمد اویس پراچہ کا فرمان ہے: نیند، نیند اور نیند۔ نیند ٹھیک کر لیجیے قبل اس کے کہ لوپ اسٹارٹ ہو جائے اور پھر روکے نہ رکے۔ ایک عام انسان کے لیے چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند ضروری ہے جس میں بڑا وقت رات کے صحیح اوقات میں ہو اور دن میں چھوٹا سا قیلولہ (نیپ) ہو۔
اگر گٹ برین لوپ شروع ہو چکا ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ معدے کی دوا کسی حکیم سے لیجیے، ساتھ میں اگر آپ ریکی ہیلر ہیں تو سونے سے پہلے اپنی سیلف ہیلنگ کیجیے۔ کچھ وقت مشکل گزرے گا لیکن ان شاء اللہ سیٹنگ ہو جائے گی۔ اگر ریکی ہیلر نہیں ہیں اور میرے ڈیلی ہیلنگ فریز گروپ میں شامل ہیں تو سونے سے پہلے وہ فریز پڑھا کیجیے۔
اور ہاں! نبی کریم ﷺ کا بتایا ہوا تسبیح فاطمی (تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر) سونے سے قبل پڑھنا ہرگز نہ بھولیں!
محمد اویس پراچہ
==============
قائد نے فرمایا تھا: "کام، کام اور کام"۔ لیکن قائد نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب قائد کی عمر کافی گزر چکی تھی۔ پھر بھی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قائد آخری عمر میں شدید بیمار ہوئے۔ خیر! موت کا بہانہ تو کچھ بھی بن جاتا ہے۔
نیند لینا انسانی جسم کے لیے ایک انتہائی اہم فعل ہے۔ نیند کے دوران دماغ "گلمفیٹک سسٹم" کے ذریعے اپنی صفائی کرتا ہے، یاد داشت مینج ہوتی ہے، پٹھوں اور خلیوں کی مرمت ہوتی ہے، امیون سسٹم بہتر ہوتا ہے، ہارمونز سیٹ ہوتے ہیں اور جسم کا غیر ضروری بلڈ پریشر کنٹرول میں آتا ہے۔
ہمارا مسئلہ کیا ہے کہ ہم بلاوجہ رات کو دیر سے سوتے ہیں۔ صبح وقت پر اٹھنا اکثر ہماری مجبوری ہوتا ہے۔ یوں درمیان میں سونے کا وقت ہمارا کم بچتا ہے۔ یہ وقت کم نہ بھی ہو اور ہم دن میں دیر سے اٹھیں تب بھی ہم ایک اور کام کر رہے ہوتے ہیں جسے کہتے ہیں "سکارڈین کلاک خراب کرنا"۔
انسانی جسم میں اللہ پاک نے ہارمونز کی ایک گھڑی لگائی ہوئی ہے۔ اندھیرا ہوتے ہی نیند پیدا کرنے والا ہارمون (میلاٹونن) جسم میں بننا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ہارمون رات کو بارہ سے تین تک پیک پر ہوتا ہے۔ جسم اس دوران گہری نیند سوتا ہے اور دیگر ہارمونز اور سسٹمز اپنا کام کرتے ہیں یعنی مرمت اور مینجمنٹ وغیرہ۔
صبح روشنی نکلتے ہی ایک اور ہارمون "کورٹیسول" بننا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کو جگاتا ہے تاکہ انسان اپنے کام کر سکے۔ یوں ایک صحت مند گھڑی انسان کے جسم کو ترتیب میں رکھتی ہے۔
ہم یہ کرتے ہیں کہ رات کو دو بجے سونے جاتے ہیں جب میلاٹونن ریٹائر ہونے والا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہم آرٹیفیشل روشنیوں میں رہتے ہیں جو اسے کام نہیں کرنے دیتیں۔ پھر ہم فجر پڑھ کر یا بغیر پڑھے کورٹیسول کی موجودگی میں سوتے رہتے ہیں۔ جسم کے باقی اعضاء پریشان رہتے ہیں کہ ہم اپنا کام کب کریں؟
نتیجہ جو ہمارے یہاں نئی جنریشن میں اسی نوے فیصد تک ہو چکا ہے، یہ نکلتا ہے کہ سب سے پہلے اعصاب کمزور ہوتے ہیں۔ پھر وہ جسم کے باقی حصوں کو متاثر کرتے ہیں جن میں ہاضمہ بھی ہوتا ہے۔ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے تو جسم کو خوراک سے وہ سب ملنا کم ہو جاتا ہے جس سے اس نے خود کو چلانا ہوتا ہے۔ یوں سپلائی چین متاثر ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف دماغ نے سونے کے دوران اپنی صفائی کرنی ہوتی ہے جو وہ نہیں کر پاتا۔ اس میں زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے یادداشت کو ترتیب دینا ہوتا ہے جو نہیں ہوتا اور ضروری اور غیر ضروری چیزیں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ اس سے ڈپریشن اور انزائٹی کی بنیاد پڑتی ہے۔
اعصاب جنہوں نے ان مشکل حالات میں جسم کو سنبھالنا ہوتا ہے اور صحت کی جانب واپس لے جانا ہوتا ہے، وہ کمزور ہوتے ہیں اور سپلائی چین سے انہیں ضروریات مل نہیں رہی ہوتیں۔ یوں انسان ایک گٹ برین لوپ میں پھنس جاتا ہے جہاں وہ معدے کا علاج کرے تو بھی ٹھیک نہیں ہوتا، اعصاب کا علاج کرے تو معدہ اور خراب ہو جاتا ہے اور سونے کی کوشش کرے تو نیند نہیں آتی۔
اس لیے پیارے دوستو! قائد کا فرمان سر آنکھوں پر لیکن آج کے حساب سے جناب محمد اویس پراچہ کا فرمان ہے: نیند، نیند اور نیند۔ نیند ٹھیک کر لیجیے قبل اس کے کہ لوپ اسٹارٹ ہو جائے اور پھر روکے نہ رکے۔ ایک عام انسان کے لیے چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند ضروری ہے جس میں بڑا وقت رات کے صحیح اوقات میں ہو اور دن میں چھوٹا سا قیلولہ (نیپ) ہو۔
اگر گٹ برین لوپ شروع ہو چکا ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ معدے کی دوا کسی حکیم سے لیجیے، ساتھ میں اگر آپ ریکی ہیلر ہیں تو سونے سے پہلے اپنی سیلف ہیلنگ کیجیے۔ کچھ وقت مشکل گزرے گا لیکن ان شاء اللہ سیٹنگ ہو جائے گی۔ اگر ریکی ہیلر نہیں ہیں اور میرے ڈیلی ہیلنگ فریز گروپ میں شامل ہیں تو سونے سے پہلے وہ فریز پڑھا کیجیے۔
اور ہاں! نبی کریم ﷺ کا بتایا ہوا تسبیح فاطمی (تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر) سونے سے قبل پڑھنا ہرگز نہ بھولیں!
سحر جدید
یہی ذرا کچھ عرصہ پیچھے چلے جائیں تو ہمارے آباؤ اجداد میں بہت سے خاندانوں میں ہمیں بہت سی خواتین جادو کرتی اور کرواتی نظر آتی ہیں۔ اب بھی ایسی خواتین موجود ہیں لیکن نئی نسل میں یہ حرکات اب کم ہو گئی ہیں۔
میں نے یہاں "خواتین" کا ذکر کیا، مردوں کا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو مرد ان معاملات میں کم پڑتے ہیں اور دوسرا خواتین میں دو چیزیں زیادہ ہوتی ہیں:
1۔ حسد، جو انہیں جادو پر ابھارتا ہے۔
2۔ انرجی ورک کی فطری صلاحیت۔ جادو ایک انرجی ورک ہے، منفی اور شیطانی انرجی کا حملہ۔ خواتین میں اچھی اور بری، دونوں طرح کی انرجی صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ ہیلر بھی وہ زیادہ ہوتی ہیں اور قرآن کریم میں سورہ فلق میں "گرہوں میں پھونک مارنے والیوں" کا بھی ذکر آیا ہے۔
خیر! میری آج کی تحریر کا ٹاپک فی الحال یہ نہیں ہے۔ زمانہ قدیم میں جو جادو کیے جاتے تھے وہ کئی بار نہایت طاقتور اور سخت ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ دیگر چیزوں کی طرح جادوگر بھی کم اور کمزور ہوئے ہیں۔
ان کا علاج بھی بہت عجیب اور سخت کیا جاتا تھا جس میں بعض اوقات جنات کی انوالومنٹ بھی ہوتی تھی۔ میری تیسری پشت میں ایک خاتون کا علاج جب ان کے پیر صاحب نے کیا تو جادو کروانے والی خاتون (اللہ پاک ان کی بھی مغفرت فرمائیں) ان کے پاؤں پڑ گئی تھیں کہ میں مر جاؤں گی۔
لیکن اس زمانے میں ایک چیز عموماً دیکھنے کو ملتی تھی۔ عامل جادو کاٹ دیتا تھا اور مریض اس کے بعد خود ہی کچھ عرصے میں ٹھیک ہو جاتا تھا۔ بات ختم ہو جاتی تھی۔ اس کی وجہ تھی سادہ زندگی، صحت مند لائف اسٹائل اور اچھی غذا۔
ہمارے یہاں معاملہ تھوڑا مختلف ہے اور یہ بات آج کے کئی جادوگر بخوبی سمجھتے ہیں۔ ہمارا رہن سہن، کھانا پینا، سونا جاگنا، کام کاج، سب کچھ صحت کے خلاف ہیں۔ جو کمی رہ جاتی ہے وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پوری کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے جسم میں جو نیگیٹو تبدیلی آتی ہے وہ ختم ہونے کے بجائے بڑھتی رہتی ہے۔
فرض کیجیے کہ اگر ایک جادوگر نے کسی شخص پر جادو کرنا ہے جو بہت زیادہ سخت نہیں کر سکتا۔ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ دوسرے شخص کے اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ مثلاً وہ ریڑھ کی ہڈی میں ڈوری باندھ دیتا ہے۔
عام حالات میں کوئی شخص اتنی آسانی سے جادو سے متاثر نہیں ہو جاتا۔ لیکن ہم فرض کر رہے ہیں کہ یہ شخص کسی عامل یا دوست کی باتوں میں آنے کی وجہ سے جادو کے وہم میں ہے۔ جادو کا وہم اور خوف جادو کا راستہ کھول دیتے ہیں۔ یوں یہ شخص اس جادو کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کا اعصابی نظام متاثر ہو جاتا ہے۔
اب شروع میں تو اسے اندازہ ہی نہیں ہوتا، اس کے بعد یہ ڈاکٹرز کے پاس جاتا ہے اور علاج کروانے کی کوشش کرتا ہے۔ علاج نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہوتا ہے۔ پھر یہ دو نمبر عاملوں کے چکر میں رہتا ہے۔ کافی عرصے بعد اسے کوئی صحیح عامل ملتا ہے جو یہ جادو کاٹ دیتا ہے۔
جادو کٹ گیا لیکن اب تک یہ جادو اس مریض کے اعصابی نظام کو شدید متاثر کر چکا ہے۔ اب اس شخص کی ریکوری ہونی چاہیے اور اسے آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جانا چاہیے۔ لیکن ریکوری کے لیے ضروری ہے رات کو وقت پر سونا، صحت مند غذا کھانا اور ورزش کرنا، اور یہ تینوں ہی نہیں کرتا۔ یوں اعصابی نظام متاثر رہتا ہے اور جادو کا اثر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
چونکہ یہ بات کئی جادوگر سمجھتے ہیں تو وہ ایسے ہی جادو کرتے ہیں جو سست رفتار ہوں لیکن مخالف کے جسم کو مستقل بنیادوں پر متاثر کر دیں۔ بعد میں بھلے سے جادو ختم ہو جائے، جسم خود ہی اپنا کباڑا کرتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب عاملین کے علاج کے بعد بھی لوگوں کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔
میرے پاس کئی ایسے لوگ آتے ہیں جن پر ماضی میں جادو یا نظر رہے ہوتے ہیں۔ جب میں ان کی علامات کا تجزیہ کرتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ اب باقی ہے ہی نہیں، لیکن اس کا ایک بڑا اثر موجود ہے۔ یہ اثر اور اس کا علاج چونکہ عاملین کے علم میں ہی نہیں ہوتا اس لیے باقی رہتا ہے۔
یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہر شخص پر جادو نہیں ہوتا اور نہ ہی جادو کرنا اتنا آسان ہوتا ہے۔ کوئی ستر اسی فیصد لوگوں کو صرف جادو کا وہم ہوتا ہے یا کسی عامل نے ان کا ذہن بنا دیا ہوتا ہے۔ اصل میں ان کا مسئلہ بس لائف اسٹائل اور اس کے اثرات کا ہوتا ہے۔
یہ ہمارے دماغ کا کمال ہے کہ ہم جو سوچتے ہیں وہی جسم میں نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی کئی بار لاء آف اٹریکشن بھی کام کرتا ہے۔ یوں جادو نہ ہوتے ہوئے بھی بہت سے لوگ شدید قسم کی جادوئی علامات میں خود کو مبتلا پاتے ہیں۔ اور چونکہ جادو کا وہم اور خوف موجود ہوتا ہے اس لیے جیسے ہی کسی حقیقی جادو سے واسطہ پڑے وہ فوراً اثر کر لیتا ہے۔
یہی ذرا کچھ عرصہ پیچھے چلے جائیں تو ہمارے آباؤ اجداد میں بہت سے خاندانوں میں ہمیں بہت سی خواتین جادو کرتی اور کرواتی نظر آتی ہیں۔ اب بھی ایسی خواتین موجود ہیں لیکن نئی نسل میں یہ حرکات اب کم ہو گئی ہیں۔
میں نے یہاں "خواتین" کا ذکر کیا، مردوں کا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو مرد ان معاملات میں کم پڑتے ہیں اور دوسرا خواتین میں دو چیزیں زیادہ ہوتی ہیں:
1۔ حسد، جو انہیں جادو پر ابھارتا ہے۔
2۔ انرجی ورک کی فطری صلاحیت۔ جادو ایک انرجی ورک ہے، منفی اور شیطانی انرجی کا حملہ۔ خواتین میں اچھی اور بری، دونوں طرح کی انرجی صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ ہیلر بھی وہ زیادہ ہوتی ہیں اور قرآن کریم میں سورہ فلق میں "گرہوں میں پھونک مارنے والیوں" کا بھی ذکر آیا ہے۔
خیر! میری آج کی تحریر کا ٹاپک فی الحال یہ نہیں ہے۔ زمانہ قدیم میں جو جادو کیے جاتے تھے وہ کئی بار نہایت طاقتور اور سخت ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ دیگر چیزوں کی طرح جادوگر بھی کم اور کمزور ہوئے ہیں۔
ان کا علاج بھی بہت عجیب اور سخت کیا جاتا تھا جس میں بعض اوقات جنات کی انوالومنٹ بھی ہوتی تھی۔ میری تیسری پشت میں ایک خاتون کا علاج جب ان کے پیر صاحب نے کیا تو جادو کروانے والی خاتون (اللہ پاک ان کی بھی مغفرت فرمائیں) ان کے پاؤں پڑ گئی تھیں کہ میں مر جاؤں گی۔
لیکن اس زمانے میں ایک چیز عموماً دیکھنے کو ملتی تھی۔ عامل جادو کاٹ دیتا تھا اور مریض اس کے بعد خود ہی کچھ عرصے میں ٹھیک ہو جاتا تھا۔ بات ختم ہو جاتی تھی۔ اس کی وجہ تھی سادہ زندگی، صحت مند لائف اسٹائل اور اچھی غذا۔
ہمارے یہاں معاملہ تھوڑا مختلف ہے اور یہ بات آج کے کئی جادوگر بخوبی سمجھتے ہیں۔ ہمارا رہن سہن، کھانا پینا، سونا جاگنا، کام کاج، سب کچھ صحت کے خلاف ہیں۔ جو کمی رہ جاتی ہے وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پوری کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے جسم میں جو نیگیٹو تبدیلی آتی ہے وہ ختم ہونے کے بجائے بڑھتی رہتی ہے۔
فرض کیجیے کہ اگر ایک جادوگر نے کسی شخص پر جادو کرنا ہے جو بہت زیادہ سخت نہیں کر سکتا۔ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ دوسرے شخص کے اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ مثلاً وہ ریڑھ کی ہڈی میں ڈوری باندھ دیتا ہے۔
عام حالات میں کوئی شخص اتنی آسانی سے جادو سے متاثر نہیں ہو جاتا۔ لیکن ہم فرض کر رہے ہیں کہ یہ شخص کسی عامل یا دوست کی باتوں میں آنے کی وجہ سے جادو کے وہم میں ہے۔ جادو کا وہم اور خوف جادو کا راستہ کھول دیتے ہیں۔ یوں یہ شخص اس جادو کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کا اعصابی نظام متاثر ہو جاتا ہے۔
اب شروع میں تو اسے اندازہ ہی نہیں ہوتا، اس کے بعد یہ ڈاکٹرز کے پاس جاتا ہے اور علاج کروانے کی کوشش کرتا ہے۔ علاج نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہوتا ہے۔ پھر یہ دو نمبر عاملوں کے چکر میں رہتا ہے۔ کافی عرصے بعد اسے کوئی صحیح عامل ملتا ہے جو یہ جادو کاٹ دیتا ہے۔
جادو کٹ گیا لیکن اب تک یہ جادو اس مریض کے اعصابی نظام کو شدید متاثر کر چکا ہے۔ اب اس شخص کی ریکوری ہونی چاہیے اور اسے آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جانا چاہیے۔ لیکن ریکوری کے لیے ضروری ہے رات کو وقت پر سونا، صحت مند غذا کھانا اور ورزش کرنا، اور یہ تینوں ہی نہیں کرتا۔ یوں اعصابی نظام متاثر رہتا ہے اور جادو کا اثر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
چونکہ یہ بات کئی جادوگر سمجھتے ہیں تو وہ ایسے ہی جادو کرتے ہیں جو سست رفتار ہوں لیکن مخالف کے جسم کو مستقل بنیادوں پر متاثر کر دیں۔ بعد میں بھلے سے جادو ختم ہو جائے، جسم خود ہی اپنا کباڑا کرتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب عاملین کے علاج کے بعد بھی لوگوں کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔
میرے پاس کئی ایسے لوگ آتے ہیں جن پر ماضی میں جادو یا نظر رہے ہوتے ہیں۔ جب میں ان کی علامات کا تجزیہ کرتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ اب باقی ہے ہی نہیں، لیکن اس کا ایک بڑا اثر موجود ہے۔ یہ اثر اور اس کا علاج چونکہ عاملین کے علم میں ہی نہیں ہوتا اس لیے باقی رہتا ہے۔
یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہر شخص پر جادو نہیں ہوتا اور نہ ہی جادو کرنا اتنا آسان ہوتا ہے۔ کوئی ستر اسی فیصد لوگوں کو صرف جادو کا وہم ہوتا ہے یا کسی عامل نے ان کا ذہن بنا دیا ہوتا ہے۔ اصل میں ان کا مسئلہ بس لائف اسٹائل اور اس کے اثرات کا ہوتا ہے۔
یہ ہمارے دماغ کا کمال ہے کہ ہم جو سوچتے ہیں وہی جسم میں نظر آتا ہے۔ ساتھ ہی کئی بار لاء آف اٹریکشن بھی کام کرتا ہے۔ یوں جادو نہ ہوتے ہوئے بھی بہت سے لوگ شدید قسم کی جادوئی علامات میں خود کو مبتلا پاتے ہیں۔ اور چونکہ جادو کا وہم اور خوف موجود ہوتا ہے اس لیے جیسے ہی کسی حقیقی جادو سے واسطہ پڑے وہ فوراً اثر کر لیتا ہے۔
ریکی جائز یا ناجائز؟ (حصہ اول)
ریکی سے میرا تعلق کوئی چار سال سے زائد کا ہے اور میں اس سے قبل اس پر مختلف تحاریر لکھ چکا ہوں۔ ان میں کچھ تحاریر اس کے جائز یا ناجائز ہونے کے حوالے سے بھی تھیں اور کچھ سمبلز کے بارے میں بھی۔ لیکن اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس موضوع کو تفصیل کے ساتھ اور گہرائی کے ساتھ اس حوالے سے لکھا جائے۔ اس دوران میں ”انرجی سیریز“ کا کچھ جگہ حوالہ دوں گا۔ احباب جانتے ہیں کہ میں اس پر پہلے بہت تفصیلی گفتگو کر چکا ہوں اور وہ ”علم و ہدی“ پر بھی موجود ہے۔
ریکی، ایک جاپانی لفظ:
سب سے پہلے ہم لفظ ”ریکی“ کے بارے میں یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ کیا ہے اور کہاں سے آیا۔ عمومی تعریف کے مطابق ریکی دراصل دو الفاظ ”رے“ اور ”کی“ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب کائناتی حیاتیاتی توانائی (یونیورسل لائف فورس) ہے۔ اس تعریف پر ہم بعد میں بات کرتے ہیں اور پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ قدیم دور میں ریکی کسے کہا جاتا تھا؟
معروف یہ ہے کہ ”ریکی“ کی ابتدا ایک جاپانی شخص ”ڈاکٹر میکاؤ یوسوئی“ سے ہوئی۔ وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے یہ طریقہ علاج یا یہ لفظ متعارف کروایا۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ نہ صرف لفظ ”ریکی“ ہمیں میکاؤ یوسوئی سے پہلے ملتا ہے، بلکہ باقاعدہ ایک طریقہ علاج اسی نام سے 1919ء میں ”متاجی کاواکامی“ نے ایک کتاب میں تحریر کیا تھا جو اب ناپید ہے۔ میکاؤ یوسوئی کے طریقہ علاج کو ”یوسوئی ریکی طریقہ علاج“ کہا جاتا ہے۔
ریکی کو قدیم جاپانی طرز تحریر ”کانجی“ میں یوں لکھا جاتا ہے: 靈氣 ۔ یہ طرز تحریر چین سے جاپان آیا اور اس میں ہر شکل ایک مطلب رکھتی ہے، جبکہ ایک سے زیادہ اشکال کو ملا کر ایک مرکب معنی نکالا جاتا ہے۔ چنانچہ پہلے لفظ رے 靈 میں تین شکلیں ہیں:
1. آمے 雨 : بارش
2. تین چوکور ڈبے
3. میکو 巫 : میڈیم، یعنی ایسا شخص جو خدا یا کائنات کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔
ان تینوں کو ملا کر ”رے“ بنتا ہے، لیکن رے کا اپنا مطلب ان تینوں سے ڈائریکٹ نہیں نکلتا، بلکہ اس کا مطلب ہے ایک بہت بڑی چیز، جیسے روح، خدا، مقدس ہستی، تقدس، بہتری یا رحمت وغیرہ۔ یہ ایک لفظ کئی معانی ظاہر کرتا ہے جن میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
دوسرا لفظ ہے ”کی (氣)“۔ یہ بھی دو چیزوں سے مرکب ہے:
1. بھاپ یا بادل (气 )
2. کومے (米 ): چاول
یہ دونوں ملا کر چاول ابالتے وقت اڑنے والی بھاپ کو ظاہر کرتے ہیں۔ جاپان میں چاول ایک بنیادی خوراک کا ذریعہ تھے اور ابال کر عام استعمال میں لائے جاتے تھے۔ اس شکل سے جس چیز کا اظہار ہوتا ہے وہ ہیں ”بخارات“ اور حیرت انگیز طور پر یہی تعبیر ہمیں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے یہاں ملتی ہے۔
انرجی سیریز میں حضرت شاہ صاحبؒ کی اس تعبیر پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ ان کے دور میں توانائی کا تصور نہیں تھا، اس لیے انھوں نے توانائی کو بخارات کے نام سے ذکر فرمایا۔ یہی چیز یہاں بھی ہے اور جس چیز کو یہاں ظاہر کرنا چاہتے ہیں وہ ہے ”توانائی“۔ چنانچہ ریکی کا مطلب بنتا ہے: خدائی توانائی، بہت بڑی توانائی، مقدس توانائی، بہترین توانائی وغیرہ۔
میکاؤ یوسوئی کا تعلق ٹنڈائی بدھ مت سے تھا۔ یہی مذہب اس دور میں اور اس سے قبل جاپان میں عام تھا۔ بدھ مت میں ”خدا“ کا تصور نہیں ہے، بلکہ اس کا فوکس انسان کے اپنی ذات کو مکمل کرنے اور کائنات کے ساتھ خود کو مربوط کرنے پر ہوتا ہے۔ یوں اس لفظ میں خدائی سے مراد کائناتی توانائی بنتا ہے۔ یہی چیز ہمیں میکاؤ یوسوئی کے شاگرد ”چوجیرو ہیاشی“ کے الفاظ میں ملتی ہے جو ان سے یاماگوچی نے اپنی والدہ اور ان کی شاگردہ کے واسطے سے نقل کیے ہیں:
”ریکی پریکٹیشنر کائنات سے توانائی وصول کرتے ہیں اور یہ توانائی ہاتھوں کے رکھنے کے ذریعے بڑھائی اور مریضوں میں منتقل کی جاتی ہے۔“
اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ لفظ ریکی سے مراد ریکی طریقہ علاج والوں کے یہاں شروع سے ”کائناتی توانائی“ ہے۔ ہمارے ارد گرد کائنات میں چاروں جانب توانائی موجود ہے، یہی توانائی انسان کے اندر بھی موجود ہے اور اسی توانائی کی کمی یا خرابی کو ریکی کے ذریعے دور کیا جاتا ہے۔ یہ توانائی ہمیں حضرت شاہ صاحبؒ کے یہاں ”نسمہ“ کے نام سے نظر آتی ہے۔
بہت سے غیر مسلموں کے یہاں چونکہ ریکی ایک ایسی عجیب چیز ہے جس میں ایک شخص ہاتھ رکھ کر دوسرے کو صحت دیتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے روحانیت کی اعلی اقسام میں سے سمجھنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ کئی کہانیاں منسوب کر دیں۔ یہ کہانیاں اس حد تک مشہور ہو گئیں کہ کئی کتابوں میں بھی یہ ملتی ہیں اور ان سے بہت سے لوگ غلط سمت میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن جہاں تک ابتدا کی بات ہے تو میکاؤ یوسوئی کے شاگرد ہیاشی سے اس کی شاگردہ کے نقل کردہ الفاظ کافی ہیں۔
موجودہ دور میں اس کی عام تعریف بھی ”کائناتی توانائی“ ہی ہے، اگرچہ کچھ لوگوں نے مختلف تعریف کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے الفاظ جن کے مختلف معانی ہوں، ان کا جو معنی مراد لیا جا رہا ہو اسی کے مطابق حکم لگتا ہے۔ بذات خود ”کائناتی توانائی“ کسی عقیدے وغیرہ سے تعلق نہیں رکھتی، بلکہ یہ ایک عام فہم چیز ہے۔ البتہ اگر کوئی اس کے استعمال میں کسی قسم کا شرکیہ عمل کرتا ہے یا عقیدہ رکھتا ہے تو اس کا حکم اسی کے مطابق ہوگا۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص اگر کسی دوا کو بذات خود صحت دینے والا سمجھے تو یہ شرک ہوگا اور سبب سمجھے تو درست ہوگا۔
جاری ہے۔۔۔
ریکی سے میرا تعلق کوئی چار سال سے زائد کا ہے اور میں اس سے قبل اس پر مختلف تحاریر لکھ چکا ہوں۔ ان میں کچھ تحاریر اس کے جائز یا ناجائز ہونے کے حوالے سے بھی تھیں اور کچھ سمبلز کے بارے میں بھی۔ لیکن اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس موضوع کو تفصیل کے ساتھ اور گہرائی کے ساتھ اس حوالے سے لکھا جائے۔ اس دوران میں ”انرجی سیریز“ کا کچھ جگہ حوالہ دوں گا۔ احباب جانتے ہیں کہ میں اس پر پہلے بہت تفصیلی گفتگو کر چکا ہوں اور وہ ”علم و ہدی“ پر بھی موجود ہے۔
ریکی، ایک جاپانی لفظ:
سب سے پہلے ہم لفظ ”ریکی“ کے بارے میں یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ کیا ہے اور کہاں سے آیا۔ عمومی تعریف کے مطابق ریکی دراصل دو الفاظ ”رے“ اور ”کی“ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب کائناتی حیاتیاتی توانائی (یونیورسل لائف فورس) ہے۔ اس تعریف پر ہم بعد میں بات کرتے ہیں اور پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ قدیم دور میں ریکی کسے کہا جاتا تھا؟
معروف یہ ہے کہ ”ریکی“ کی ابتدا ایک جاپانی شخص ”ڈاکٹر میکاؤ یوسوئی“ سے ہوئی۔ وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے یہ طریقہ علاج یا یہ لفظ متعارف کروایا۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ نہ صرف لفظ ”ریکی“ ہمیں میکاؤ یوسوئی سے پہلے ملتا ہے، بلکہ باقاعدہ ایک طریقہ علاج اسی نام سے 1919ء میں ”متاجی کاواکامی“ نے ایک کتاب میں تحریر کیا تھا جو اب ناپید ہے۔ میکاؤ یوسوئی کے طریقہ علاج کو ”یوسوئی ریکی طریقہ علاج“ کہا جاتا ہے۔
ریکی کو قدیم جاپانی طرز تحریر ”کانجی“ میں یوں لکھا جاتا ہے: 靈氣 ۔ یہ طرز تحریر چین سے جاپان آیا اور اس میں ہر شکل ایک مطلب رکھتی ہے، جبکہ ایک سے زیادہ اشکال کو ملا کر ایک مرکب معنی نکالا جاتا ہے۔ چنانچہ پہلے لفظ رے 靈 میں تین شکلیں ہیں:
1. آمے 雨 : بارش
2. تین چوکور ڈبے
3. میکو 巫 : میڈیم، یعنی ایسا شخص جو خدا یا کائنات کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔
ان تینوں کو ملا کر ”رے“ بنتا ہے، لیکن رے کا اپنا مطلب ان تینوں سے ڈائریکٹ نہیں نکلتا، بلکہ اس کا مطلب ہے ایک بہت بڑی چیز، جیسے روح، خدا، مقدس ہستی، تقدس، بہتری یا رحمت وغیرہ۔ یہ ایک لفظ کئی معانی ظاہر کرتا ہے جن میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
دوسرا لفظ ہے ”کی (氣)“۔ یہ بھی دو چیزوں سے مرکب ہے:
1. بھاپ یا بادل (气 )
2. کومے (米 ): چاول
یہ دونوں ملا کر چاول ابالتے وقت اڑنے والی بھاپ کو ظاہر کرتے ہیں۔ جاپان میں چاول ایک بنیادی خوراک کا ذریعہ تھے اور ابال کر عام استعمال میں لائے جاتے تھے۔ اس شکل سے جس چیز کا اظہار ہوتا ہے وہ ہیں ”بخارات“ اور حیرت انگیز طور پر یہی تعبیر ہمیں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے یہاں ملتی ہے۔
انرجی سیریز میں حضرت شاہ صاحبؒ کی اس تعبیر پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ ان کے دور میں توانائی کا تصور نہیں تھا، اس لیے انھوں نے توانائی کو بخارات کے نام سے ذکر فرمایا۔ یہی چیز یہاں بھی ہے اور جس چیز کو یہاں ظاہر کرنا چاہتے ہیں وہ ہے ”توانائی“۔ چنانچہ ریکی کا مطلب بنتا ہے: خدائی توانائی، بہت بڑی توانائی، مقدس توانائی، بہترین توانائی وغیرہ۔
میکاؤ یوسوئی کا تعلق ٹنڈائی بدھ مت سے تھا۔ یہی مذہب اس دور میں اور اس سے قبل جاپان میں عام تھا۔ بدھ مت میں ”خدا“ کا تصور نہیں ہے، بلکہ اس کا فوکس انسان کے اپنی ذات کو مکمل کرنے اور کائنات کے ساتھ خود کو مربوط کرنے پر ہوتا ہے۔ یوں اس لفظ میں خدائی سے مراد کائناتی توانائی بنتا ہے۔ یہی چیز ہمیں میکاؤ یوسوئی کے شاگرد ”چوجیرو ہیاشی“ کے الفاظ میں ملتی ہے جو ان سے یاماگوچی نے اپنی والدہ اور ان کی شاگردہ کے واسطے سے نقل کیے ہیں:
”ریکی پریکٹیشنر کائنات سے توانائی وصول کرتے ہیں اور یہ توانائی ہاتھوں کے رکھنے کے ذریعے بڑھائی اور مریضوں میں منتقل کی جاتی ہے۔“
اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ لفظ ریکی سے مراد ریکی طریقہ علاج والوں کے یہاں شروع سے ”کائناتی توانائی“ ہے۔ ہمارے ارد گرد کائنات میں چاروں جانب توانائی موجود ہے، یہی توانائی انسان کے اندر بھی موجود ہے اور اسی توانائی کی کمی یا خرابی کو ریکی کے ذریعے دور کیا جاتا ہے۔ یہ توانائی ہمیں حضرت شاہ صاحبؒ کے یہاں ”نسمہ“ کے نام سے نظر آتی ہے۔
بہت سے غیر مسلموں کے یہاں چونکہ ریکی ایک ایسی عجیب چیز ہے جس میں ایک شخص ہاتھ رکھ کر دوسرے کو صحت دیتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے روحانیت کی اعلی اقسام میں سے سمجھنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ کئی کہانیاں منسوب کر دیں۔ یہ کہانیاں اس حد تک مشہور ہو گئیں کہ کئی کتابوں میں بھی یہ ملتی ہیں اور ان سے بہت سے لوگ غلط سمت میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن جہاں تک ابتدا کی بات ہے تو میکاؤ یوسوئی کے شاگرد ہیاشی سے اس کی شاگردہ کے نقل کردہ الفاظ کافی ہیں۔
موجودہ دور میں اس کی عام تعریف بھی ”کائناتی توانائی“ ہی ہے، اگرچہ کچھ لوگوں نے مختلف تعریف کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے الفاظ جن کے مختلف معانی ہوں، ان کا جو معنی مراد لیا جا رہا ہو اسی کے مطابق حکم لگتا ہے۔ بذات خود ”کائناتی توانائی“ کسی عقیدے وغیرہ سے تعلق نہیں رکھتی، بلکہ یہ ایک عام فہم چیز ہے۔ البتہ اگر کوئی اس کے استعمال میں کسی قسم کا شرکیہ عمل کرتا ہے یا عقیدہ رکھتا ہے تو اس کا حکم اسی کے مطابق ہوگا۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص اگر کسی دوا کو بذات خود صحت دینے والا سمجھے تو یہ شرک ہوگا اور سبب سمجھے تو درست ہوگا۔
جاری ہے۔۔۔
عہد طفلی
تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر
آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر
آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
خارجہ سطح پر کامیاب ملک داخلہ سطح پر ناکام کیوں؟
پاکستان نے مختلف ادوار میں خارجہ سطح پر شاندار سفارتی چالیں چل کر اپنی اہلیت و افادیت منوائی ہے. انڈیا کو حالیہ سالوں میں قضیہء یوکرائن میں روس اور مغرب کے درمیان توازن قائم کرنے کا مشکل مرحلہ درپیش ہوا تو ہانپ کر رہ گیا. مغرب کا اعتبار بھی کھو دیا اور روس کی بےرخی بھی سمیٹنی پڑی. دوسری جانب پاکستان ساٹھ کی دہائی سے امریکا اور چین دونوں سے کچھ اس انداز سے دوستی نبھا رہا ہے کہ بیجنگ اس تعلق کو ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھا اور سمندر سے گہرا قرار دیتا ہے، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے.
ایران جنگ کے دوران پاکستان نے دستِ ہنرمند کے کمالات بارِ دگر دکھائے تو دنیا حیران رہ گئی. ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی تعریف میں رطب اللسان ہیں. قصرِ سفید کے مکین جی بھر کے پاکستان کے گُن گاتے ہیں. جبکہ اسی پاکستان کے راستے ایران کو درآمدات بھی بھیجی جارہی ہیں. تہران بھی راضی بہ رضا اور واشنگٹن بھی خوش و مطمئن. دہلی یہ سب دیکھ دیکھ کر زیرِ لب کہتا ہے، سیکھے کہاں سے تو نے یہ اندازِ دلبری.
مگر اس کامیاب سفارت کار ملک کا داخل ٹٹول اور پھرول کر دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے. لگتا ہے کہ خارج کے اعتبار سے ہم ثریا مکین تھے اور داخل کے لحاظ سے پاتال میں آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں . خارج و داخل کا یہ تضاد بےوجہ یا اتفاقی نہیں ہے، بلکہ بےپناہ جوکھم جھیل کر ایک ہی خطے پر ایک ہی وقت میں دن اور رات کے یہ متضاد مناظر تشکیل دیے گئے ہیں.
گھر ہو ، یونین کونسل ہو، صوبہ ہو یا پھر ملک، جب تک اختیارات کے حوالے سے فیصلہ کن اتھارٹی کسی ایک فرد یا گروہ کو حاصل نہ ہو، تب تک سکون، اطمینان، ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے. عرب ممالک میں پیسے کی ریل پیل ہے. گڈ گورننس ہے. مضبوط و کشادہ شاہراہیں ہیں. سر بفلک عمارتیں ہیں. چہروں پہ اطمینان ہے. انگ انگ پر خوشحالی کے ڈیرے اور بدن پر طمانیت کے بسیرے ہیں. کیونکہ معاشرہ یکسو ہے کہ ملک کی زمام بادشاہ کے ہاتھ میں ہے. بادشاہ یکسو ہیں کہ چونکہ طاقت کے تمام سیارچے انہی کی ذات کے گرد محوِ گردش ہیں، اس لیے ملک و سماج کے تنزل و ترقی کے وہی اکیلے ذمہ دار ہیں.
امریکا اور یورپ کے افراد و ریاست بھی حالتِ اطمینان میں ہیں. سبھی جانتے ہیں کہ حکومتی جماعت، وزیر اعظم اور صدر ہر اچھے برے کے لیے جوابدہ ہیں.
مملکتِ خداداد کا معاملہ اس باب میں عجیب و انوکھا ہے. جہاں جہاں اختیارات کے حوالے سے یک مرکزیت ہے، وہاں وہاں چین کی بانسری بجتی ہے اور جہاں جہاں مختلف گروہ و افراد جواب دہی یا قیادت کے سنگھاسن پہ براجمان ہیں، وہاں وہاں بَین کی صدا اٹھتی ہے.
زمانوں سے خارجہ پالیسی فوج بنا رہی ہے. حکمران محض قوال کے ہمنواؤں کی طرح تالی پیٹ اور سُر میں سُر ملا رہے ہوتے ہیں. سو فیصلہ کن اتھارٹی ایک ہونے کی وجہ سے کامیابیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے. جبکہ داخلہ سطح پر کہیں کہیں سیاست دانوں کے اختیارات کے دریچے بھی کھلتے ہیں، مگر یہاں بھی طاقت کے صدر دروازے پر بوٹ و وردی کا تسلط ہے. اب اونٹ ایک ہو، جبکہ ساربانی کا فریضہ دو شتربان انجام دے رہے ہوں تو لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ قافلہ نہ منزل کا ریے گا اور نہ ہی سرائے کا.
اس قضیے کا ایک اور پہلو بھی ہے. اگر بااختیار گروہ ایک ہو، منظم ہو اور مسلسل حالتِ حکمرانی میں ہو تو یقیناً اس کا تجربہ اُن بکھراؤ اور انتشار کا شکار گروہوں سے کہیں بڑھ کر ہوگا جو کبھی حکومت میں ہوتے ہیں اور کبھی نہیں. جو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کو گناہ سمجھتے ہیں. جن کے ہاں جوتم پیزار ہی سیاست و سیادت ہے. جو ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے اور جیل کی کوٹھڑیوں سے اے سی اتارنے کی دھمکیاں دینے کو ہی جہاں بانی سمجھتے ہیں. سو پاکستانی سیاست دان لڑائی جھگڑے، مار کٹائی، تھانہ کچہری، رشوت، طوطا چشمی، منافقت سب کچھ سیکھ جاتے ہیں، مگر اندازِ حکمرانی اور خوئے جہاں بانی نہیں سیکھ پاتے. جبکہ دوسری طرف فوج کا ہر نیا آنے والا جرنیل اپنے پیش رو جرنیل کے تجربات کی ٹکسال میں ڈھل کر نکلتا ہے.
یہ معاملہ ایک اور زاویہ بھی رکھتا ہے. فوج کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ عالمی و مقامی سیاست کا قاعدہ قانون اسے سندِ اعتبار سے سرفراز نہیں کرتا. مگر دوسری طرف قصہ یہ ہے کہ منہ کو لگی کافر چھٹتی بھی نہیں ہے. سو اسے سیاست دانوں کو نااہل بتا کر اپنی خوئے حکمرانی کو جواز بخشنا ہوتا ہے. اگر سیاست دان کامیاب ہوتا دکھائی دے تو اس گروہ کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں. لہٰذا اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ سیاست دان قوم کی نگاہ میں اس قدر منزلت و اعتبار نہ پا جائے کہ قوم کی محبت کا محور ہی تبدیل ہو کر رہ جائے.
اس سارے بکھیڑے کی کوکھ سے پھر انتشار ابھرتا ہے. کچھ سر پھرے سیاست دان حسابِ سود و زیاں نسیاں کے طاقچے پہ دھر اور کمر کس کر مزاحمت کی راہ پہ چل نکلتے ہیں، مگر چونکہ معاشرہ اپنی اکثریت میں ہمیشہ سے مفاد پرست یا مصلحت کوش واقع ہوا ہے، اس لیے ایسے میں سیاست دانوں کی اکثریت بھی عوام کی خدمت و نمائندگی کو بھول کر حقیقی طاقت کے مراکز کی چاکری شروع کر دیتی ہے . کیونکہ وہ یہ راز جان چکے ہوتے ہیں کہ کراچی کی حالت بدلے یا نہ بدلے، بلوچستان میں ترقیاتی سرگرمیاں ہوں یا نہ ہوں اور کے پی کے کی حالت و صورت تبدیل ہو یا نہ ہو ، اگر جی ایچ کیو سے راضا کا پروانہ اور قبولیت کی سند جاری ہوتی ہے تو پھر تیز و تند لہروں کے باوجود بھی بیڑا پار اور الیکشن میں جیت یقینی ہے۔
پاکستان نے مختلف ادوار میں خارجہ سطح پر شاندار سفارتی چالیں چل کر اپنی اہلیت و افادیت منوائی ہے. انڈیا کو حالیہ سالوں میں قضیہء یوکرائن میں روس اور مغرب کے درمیان توازن قائم کرنے کا مشکل مرحلہ درپیش ہوا تو ہانپ کر رہ گیا. مغرب کا اعتبار بھی کھو دیا اور روس کی بےرخی بھی سمیٹنی پڑی. دوسری جانب پاکستان ساٹھ کی دہائی سے امریکا اور چین دونوں سے کچھ اس انداز سے دوستی نبھا رہا ہے کہ بیجنگ اس تعلق کو ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھا اور سمندر سے گہرا قرار دیتا ہے، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے.
ایران جنگ کے دوران پاکستان نے دستِ ہنرمند کے کمالات بارِ دگر دکھائے تو دنیا حیران رہ گئی. ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی تعریف میں رطب اللسان ہیں. قصرِ سفید کے مکین جی بھر کے پاکستان کے گُن گاتے ہیں. جبکہ اسی پاکستان کے راستے ایران کو درآمدات بھی بھیجی جارہی ہیں. تہران بھی راضی بہ رضا اور واشنگٹن بھی خوش و مطمئن. دہلی یہ سب دیکھ دیکھ کر زیرِ لب کہتا ہے، سیکھے کہاں سے تو نے یہ اندازِ دلبری.
مگر اس کامیاب سفارت کار ملک کا داخل ٹٹول اور پھرول کر دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے. لگتا ہے کہ خارج کے اعتبار سے ہم ثریا مکین تھے اور داخل کے لحاظ سے پاتال میں آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں . خارج و داخل کا یہ تضاد بےوجہ یا اتفاقی نہیں ہے، بلکہ بےپناہ جوکھم جھیل کر ایک ہی خطے پر ایک ہی وقت میں دن اور رات کے یہ متضاد مناظر تشکیل دیے گئے ہیں.
گھر ہو ، یونین کونسل ہو، صوبہ ہو یا پھر ملک، جب تک اختیارات کے حوالے سے فیصلہ کن اتھارٹی کسی ایک فرد یا گروہ کو حاصل نہ ہو، تب تک سکون، اطمینان، ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے. عرب ممالک میں پیسے کی ریل پیل ہے. گڈ گورننس ہے. مضبوط و کشادہ شاہراہیں ہیں. سر بفلک عمارتیں ہیں. چہروں پہ اطمینان ہے. انگ انگ پر خوشحالی کے ڈیرے اور بدن پر طمانیت کے بسیرے ہیں. کیونکہ معاشرہ یکسو ہے کہ ملک کی زمام بادشاہ کے ہاتھ میں ہے. بادشاہ یکسو ہیں کہ چونکہ طاقت کے تمام سیارچے انہی کی ذات کے گرد محوِ گردش ہیں، اس لیے ملک و سماج کے تنزل و ترقی کے وہی اکیلے ذمہ دار ہیں.
امریکا اور یورپ کے افراد و ریاست بھی حالتِ اطمینان میں ہیں. سبھی جانتے ہیں کہ حکومتی جماعت، وزیر اعظم اور صدر ہر اچھے برے کے لیے جوابدہ ہیں.
مملکتِ خداداد کا معاملہ اس باب میں عجیب و انوکھا ہے. جہاں جہاں اختیارات کے حوالے سے یک مرکزیت ہے، وہاں وہاں چین کی بانسری بجتی ہے اور جہاں جہاں مختلف گروہ و افراد جواب دہی یا قیادت کے سنگھاسن پہ براجمان ہیں، وہاں وہاں بَین کی صدا اٹھتی ہے.
زمانوں سے خارجہ پالیسی فوج بنا رہی ہے. حکمران محض قوال کے ہمنواؤں کی طرح تالی پیٹ اور سُر میں سُر ملا رہے ہوتے ہیں. سو فیصلہ کن اتھارٹی ایک ہونے کی وجہ سے کامیابیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے. جبکہ داخلہ سطح پر کہیں کہیں سیاست دانوں کے اختیارات کے دریچے بھی کھلتے ہیں، مگر یہاں بھی طاقت کے صدر دروازے پر بوٹ و وردی کا تسلط ہے. اب اونٹ ایک ہو، جبکہ ساربانی کا فریضہ دو شتربان انجام دے رہے ہوں تو لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ قافلہ نہ منزل کا ریے گا اور نہ ہی سرائے کا.
اس قضیے کا ایک اور پہلو بھی ہے. اگر بااختیار گروہ ایک ہو، منظم ہو اور مسلسل حالتِ حکمرانی میں ہو تو یقیناً اس کا تجربہ اُن بکھراؤ اور انتشار کا شکار گروہوں سے کہیں بڑھ کر ہوگا جو کبھی حکومت میں ہوتے ہیں اور کبھی نہیں. جو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کو گناہ سمجھتے ہیں. جن کے ہاں جوتم پیزار ہی سیاست و سیادت ہے. جو ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے اور جیل کی کوٹھڑیوں سے اے سی اتارنے کی دھمکیاں دینے کو ہی جہاں بانی سمجھتے ہیں. سو پاکستانی سیاست دان لڑائی جھگڑے، مار کٹائی، تھانہ کچہری، رشوت، طوطا چشمی، منافقت سب کچھ سیکھ جاتے ہیں، مگر اندازِ حکمرانی اور خوئے جہاں بانی نہیں سیکھ پاتے. جبکہ دوسری طرف فوج کا ہر نیا آنے والا جرنیل اپنے پیش رو جرنیل کے تجربات کی ٹکسال میں ڈھل کر نکلتا ہے.
یہ معاملہ ایک اور زاویہ بھی رکھتا ہے. فوج کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ عالمی و مقامی سیاست کا قاعدہ قانون اسے سندِ اعتبار سے سرفراز نہیں کرتا. مگر دوسری طرف قصہ یہ ہے کہ منہ کو لگی کافر چھٹتی بھی نہیں ہے. سو اسے سیاست دانوں کو نااہل بتا کر اپنی خوئے حکمرانی کو جواز بخشنا ہوتا ہے. اگر سیاست دان کامیاب ہوتا دکھائی دے تو اس گروہ کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں. لہٰذا اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ سیاست دان قوم کی نگاہ میں اس قدر منزلت و اعتبار نہ پا جائے کہ قوم کی محبت کا محور ہی تبدیل ہو کر رہ جائے.
اس سارے بکھیڑے کی کوکھ سے پھر انتشار ابھرتا ہے. کچھ سر پھرے سیاست دان حسابِ سود و زیاں نسیاں کے طاقچے پہ دھر اور کمر کس کر مزاحمت کی راہ پہ چل نکلتے ہیں، مگر چونکہ معاشرہ اپنی اکثریت میں ہمیشہ سے مفاد پرست یا مصلحت کوش واقع ہوا ہے، اس لیے ایسے میں سیاست دانوں کی اکثریت بھی عوام کی خدمت و نمائندگی کو بھول کر حقیقی طاقت کے مراکز کی چاکری شروع کر دیتی ہے . کیونکہ وہ یہ راز جان چکے ہوتے ہیں کہ کراچی کی حالت بدلے یا نہ بدلے، بلوچستان میں ترقیاتی سرگرمیاں ہوں یا نہ ہوں اور کے پی کے کی حالت و صورت تبدیل ہو یا نہ ہو ، اگر جی ایچ کیو سے راضا کا پروانہ اور قبولیت کی سند جاری ہوتی ہے تو پھر تیز و تند لہروں کے باوجود بھی بیڑا پار اور الیکشن میں جیت یقینی ہے۔
اے آئی کے اس دور میں آپ کہاں کھڑے ہیں؟ 🙂
٭٭٭
بھائی عرفان ملک نے پیغام بھیجا کہ آج کل نظر نہیں آرہے؟
مصروفیت کا عذر کیا
سچی بات تو مگر یہ ہے کہ الحمدللہ مصروفیت تو ہمیشہ رہی ہے
لیکن اپنی اس بیٹھک میں جسے ہم نے خود اپنے بایو میں ’’دوستوں کی بےتکلفانہ بیٹھک‘‘ لکھا ہے
کا ناغہ ذرا کم ہی کیا ہے کہ تازہ دم ہونے کا یہ شوشلک میڈیا ہمیشہ ایک اچھا بہانہ رہا ہے!
مگر بات یہ ہے کہ پچھلے چھے ماہ برس سے اردو دنیائے فیس بک میں ایک جیسے اُسلوب کی تحریریں پڑھ پڑھ کر بوریت بلکہ اچھی خاصی بیزاری ہونے لگی ہے
یوں لگتا ہے جیسے دو چار دوستوں کے علاوہ سب ’’سکے‘‘ ایک ہی ٹکسال سے ڈھل کر آرہے ہوں!
تو دوستو یاد رکھیے گا
ہر شخص چاہے وہ لکھاری ہو نہ ہو صاحبِ اسلوب ہوتا ہی ہے؛ اپنی شخصیت کی طرح اپنا ایک منفرد اسلوب رکھتا ہے، پھر چاہے بالکل سادہ اسلوب ہی ہو، لیکن وہ اس کا اپنا روپ، اپنا چہرہ ہوتا ہے
لیکن اب تو یوں لگتا ہے جیسے ہر تحریر کے چہرے نے ایک ہی روبوٹک نقاب اوڑھ لیا ہے؛
وہی نامانوس سے مشینی استعاروں اور بےتکی تشبیہات کے سہارے زبردستی ادبیت پیدا کرنے کی کوشش!
اب دیکھیے ناں، کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے کہ ایک نو عمر لڑکا جو ابھی پچھلے برس تک یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اسلام آباد چاروں صوبوں میں سے کسی صوبے کے ماتحت نہیں، اور میٹروپولیٹن سٹی کیا ہوتا ہے؟ نیز اسٹیلتھ طیارہ کس بلا کا نام ہے؟
وہ اچانک انتہائی گہرے تزویراتی، سیاسی اور جغرافیائی تجزیے فیس بک کے ذریعے ہم پر دیدہ دلیری سے تھوپنے لگے!
اور ستم ظریفی یہ کہ اسے واہ واہ کرنے والے مداح بھی مل جاویں؟
(ویسے اس وقت ہماری دیانت دارانہ رائے میں گہری تحقیق کر کے عسکری و عالمی امور پر تخلیقی لکھنے والوں میں وصی، فاروقی، نواز، خاکوانی اور فرحان ہی ہیں!)
اسی طرح ایک شخص عربی کے دو لفظ بھی نہیں جانتا ہو مگر وہ محمود درویش اور سمیح القاسم کا ترجمہ اور وہ بھی منظوم کرنے لگے؟
لیکن
خطرناک بات یہ راتوں رات اگنے والے مشینی دانشور اور ادیب نہیں؛
اصل تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس وقت تو اے آئی اپنی بے روح تحریر سے صاف پہچان لی جاتی ہے، لیکن جس طرح یہ کم بخت گھنی تیزی سے سیکھتی جا رہی، اپنی غلطیاں سدھارتی جاتی ہے
یہ عنقریب ایسی شاندار نقال بن جائے گی کہ آپ نامی گرامی نقالوں کو بھول جائیں گے۔
سوچیے کیسے عبرت انگیز وہ دن ہوں گے ناں جب
دو روپے لے کر ناچ دکھانے والی یہ رقاصہ اپنے گاہکوں کو منٹوں میں ایسا فوٹو اسٹیٹ لبادہ مہیا کرے گی کہ گھر گھر سے سولہ سترہ سالہ امجد اسلام امجدیں اور پروین شاکریں سج دھج کر نکلیں گی
اور ایسے کہ اصل نقل کی پہچان ماہر سے ماہر نقاد کے لیے بھی ممکن نہ رہے گی!
ریکارڈ ریکارڈ سے ساشے پیک نور جہاں اور نصرت ڈھلے ڈھلائے نکلیں گے؛
اور وہی گلا، وہی الاپ وہی ترنم۔
چینل در چینل ننھے منے پروین ساہنی اور نجم سیٹھی بیٹھے ’’گہرے‘‘ تجزیے کرتے ہوں گے
اور تو اور عبرت کا مقام ہوگا جب ون اینڈ اونلی ’’قد آور‘‘ بابا ٹنڈوآدمی کا اشٹائل لے کر بونے میدان میں اتریں گے! 🫣
مگر خیر؛
بہترین نقالی پر تالیاں تو بہت پیٹی جاتی ہیں، لیکن نقال بھول جاتے ہیں کہ وہ ساری زندگی زیادہ سے زیادہ ایک شاندار نقال ہی رہیں گے
ہم نے تو یہ بات بہت پہلے اپنے ان لکھاری دوستوں کو بھی سمجھائی تھی جو کسی بھی ادیب مثلاً اشتیاق احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص طرزِ تحریر کی شاندار نقالی کر کے داد بٹورنا بڑی کامیابی سمجھتے تھے
ہم نے انھیں خیرخواہی سے سمجھایا تھا کہ اگر تم فلاں کی محبت میں فنا ہونا ہی کامیابی سمجھتے ہو تو خیر دوسری بات ہے، تمھیں یہ عشق مبارک!
لیکن اگر تم کسی سے تمام تر محبت کے باوجود اپنی خودی کو برقرار رکھتے ہو تو پھر اپنی اولاد کا باپ کسی اور کو کیوں بناتے ہو؟
اپنے بچے کے چہرے پر کسی اور کے نقوش کیوں رکھتے ہو؟
تم اپنے اسلوب سے لکھو، چاہے وہ کتنا ہی سادہ کیوں نہ ہو مگر وہ تمھاری اپنی اولاد ہوگی، تمھارے محبوب کی نہیں!
سو دوستو!
ابھی دو ماہ قبل کی بات ہے، ہم تین دوست اسامہ، نواز اور ناچیز عشائیے پر جمع ہوئے
بات چل نکلی کہ اے آئی کے اس دور میں مستقبل قریب کا منظرنامہ کیا ہوگا؟
ہم تینوں عشروں سے لکھ رہے ہیں تو ہم سال ڈیڑھ کے بعد کہاں ہوں گے؟
طویل بحث کے بعد یہی بات سامنے آئی کہ بہرحال سن ۲۰۲۳ سے پہلے کے لکھاری اگر اپنے ہی اسلوب پر جمے رہیں تو کم از کم اس تہمت سے محفوظ رہیں گے
لیکن پھر بھی سب لکھنے والوں کو چاہیے کہ اس سال ۲۰۲۶ میں جتنا چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر کتابی شکل میں
وہ پیچھے نہ رہیں
اس کے بعد تو ’’کل یگ‘‘ ہے
اصل اور نقل کی پہچان عام قاری تو کر نہیں سکے گا
سو سجنو!
جتنا چھپ سکتے ہو چھپ جاؤ
بک جاؤ
گھر گھر لائبریری لائبریری پہنچ جاؤ
کہ یہ
اوریجنلٹی کا شاید آخری سال ہے!
٭
اصلی دیسی بابا ٹنڈوآدمی
٭٭٭
بھائی عرفان ملک نے پیغام بھیجا کہ آج کل نظر نہیں آرہے؟
مصروفیت کا عذر کیا
سچی بات تو مگر یہ ہے کہ الحمدللہ مصروفیت تو ہمیشہ رہی ہے
لیکن اپنی اس بیٹھک میں جسے ہم نے خود اپنے بایو میں ’’دوستوں کی بےتکلفانہ بیٹھک‘‘ لکھا ہے
کا ناغہ ذرا کم ہی کیا ہے کہ تازہ دم ہونے کا یہ شوشلک میڈیا ہمیشہ ایک اچھا بہانہ رہا ہے!
مگر بات یہ ہے کہ پچھلے چھے ماہ برس سے اردو دنیائے فیس بک میں ایک جیسے اُسلوب کی تحریریں پڑھ پڑھ کر بوریت بلکہ اچھی خاصی بیزاری ہونے لگی ہے
یوں لگتا ہے جیسے دو چار دوستوں کے علاوہ سب ’’سکے‘‘ ایک ہی ٹکسال سے ڈھل کر آرہے ہوں!
تو دوستو یاد رکھیے گا
ہر شخص چاہے وہ لکھاری ہو نہ ہو صاحبِ اسلوب ہوتا ہی ہے؛ اپنی شخصیت کی طرح اپنا ایک منفرد اسلوب رکھتا ہے، پھر چاہے بالکل سادہ اسلوب ہی ہو، لیکن وہ اس کا اپنا روپ، اپنا چہرہ ہوتا ہے
لیکن اب تو یوں لگتا ہے جیسے ہر تحریر کے چہرے نے ایک ہی روبوٹک نقاب اوڑھ لیا ہے؛
وہی نامانوس سے مشینی استعاروں اور بےتکی تشبیہات کے سہارے زبردستی ادبیت پیدا کرنے کی کوشش!
اب دیکھیے ناں، کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے کہ ایک نو عمر لڑکا جو ابھی پچھلے برس تک یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اسلام آباد چاروں صوبوں میں سے کسی صوبے کے ماتحت نہیں، اور میٹروپولیٹن سٹی کیا ہوتا ہے؟ نیز اسٹیلتھ طیارہ کس بلا کا نام ہے؟
وہ اچانک انتہائی گہرے تزویراتی، سیاسی اور جغرافیائی تجزیے فیس بک کے ذریعے ہم پر دیدہ دلیری سے تھوپنے لگے!
اور ستم ظریفی یہ کہ اسے واہ واہ کرنے والے مداح بھی مل جاویں؟
(ویسے اس وقت ہماری دیانت دارانہ رائے میں گہری تحقیق کر کے عسکری و عالمی امور پر تخلیقی لکھنے والوں میں وصی، فاروقی، نواز، خاکوانی اور فرحان ہی ہیں!)
اسی طرح ایک شخص عربی کے دو لفظ بھی نہیں جانتا ہو مگر وہ محمود درویش اور سمیح القاسم کا ترجمہ اور وہ بھی منظوم کرنے لگے؟
لیکن
خطرناک بات یہ راتوں رات اگنے والے مشینی دانشور اور ادیب نہیں؛
اصل تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس وقت تو اے آئی اپنی بے روح تحریر سے صاف پہچان لی جاتی ہے، لیکن جس طرح یہ کم بخت گھنی تیزی سے سیکھتی جا رہی، اپنی غلطیاں سدھارتی جاتی ہے
یہ عنقریب ایسی شاندار نقال بن جائے گی کہ آپ نامی گرامی نقالوں کو بھول جائیں گے۔
سوچیے کیسے عبرت انگیز وہ دن ہوں گے ناں جب
دو روپے لے کر ناچ دکھانے والی یہ رقاصہ اپنے گاہکوں کو منٹوں میں ایسا فوٹو اسٹیٹ لبادہ مہیا کرے گی کہ گھر گھر سے سولہ سترہ سالہ امجد اسلام امجدیں اور پروین شاکریں سج دھج کر نکلیں گی
اور ایسے کہ اصل نقل کی پہچان ماہر سے ماہر نقاد کے لیے بھی ممکن نہ رہے گی!
ریکارڈ ریکارڈ سے ساشے پیک نور جہاں اور نصرت ڈھلے ڈھلائے نکلیں گے؛
اور وہی گلا، وہی الاپ وہی ترنم۔
چینل در چینل ننھے منے پروین ساہنی اور نجم سیٹھی بیٹھے ’’گہرے‘‘ تجزیے کرتے ہوں گے
اور تو اور عبرت کا مقام ہوگا جب ون اینڈ اونلی ’’قد آور‘‘ بابا ٹنڈوآدمی کا اشٹائل لے کر بونے میدان میں اتریں گے! 🫣
مگر خیر؛
بہترین نقالی پر تالیاں تو بہت پیٹی جاتی ہیں، لیکن نقال بھول جاتے ہیں کہ وہ ساری زندگی زیادہ سے زیادہ ایک شاندار نقال ہی رہیں گے
ہم نے تو یہ بات بہت پہلے اپنے ان لکھاری دوستوں کو بھی سمجھائی تھی جو کسی بھی ادیب مثلاً اشتیاق احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص طرزِ تحریر کی شاندار نقالی کر کے داد بٹورنا بڑی کامیابی سمجھتے تھے
ہم نے انھیں خیرخواہی سے سمجھایا تھا کہ اگر تم فلاں کی محبت میں فنا ہونا ہی کامیابی سمجھتے ہو تو خیر دوسری بات ہے، تمھیں یہ عشق مبارک!
لیکن اگر تم کسی سے تمام تر محبت کے باوجود اپنی خودی کو برقرار رکھتے ہو تو پھر اپنی اولاد کا باپ کسی اور کو کیوں بناتے ہو؟
اپنے بچے کے چہرے پر کسی اور کے نقوش کیوں رکھتے ہو؟
تم اپنے اسلوب سے لکھو، چاہے وہ کتنا ہی سادہ کیوں نہ ہو مگر وہ تمھاری اپنی اولاد ہوگی، تمھارے محبوب کی نہیں!
سو دوستو!
ابھی دو ماہ قبل کی بات ہے، ہم تین دوست اسامہ، نواز اور ناچیز عشائیے پر جمع ہوئے
بات چل نکلی کہ اے آئی کے اس دور میں مستقبل قریب کا منظرنامہ کیا ہوگا؟
ہم تینوں عشروں سے لکھ رہے ہیں تو ہم سال ڈیڑھ کے بعد کہاں ہوں گے؟
طویل بحث کے بعد یہی بات سامنے آئی کہ بہرحال سن ۲۰۲۳ سے پہلے کے لکھاری اگر اپنے ہی اسلوب پر جمے رہیں تو کم از کم اس تہمت سے محفوظ رہیں گے
لیکن پھر بھی سب لکھنے والوں کو چاہیے کہ اس سال ۲۰۲۶ میں جتنا چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر کتابی شکل میں
وہ پیچھے نہ رہیں
اس کے بعد تو ’’کل یگ‘‘ ہے
اصل اور نقل کی پہچان عام قاری تو کر نہیں سکے گا
سو سجنو!
جتنا چھپ سکتے ہو چھپ جاؤ
بک جاؤ
گھر گھر لائبریری لائبریری پہنچ جاؤ
کہ یہ
اوریجنلٹی کا شاید آخری سال ہے!
٭
اصلی دیسی بابا ٹنڈوآدمی
اس دنیا میں پانچ مخفی علوم ہیں: کیمیا، لیمیا، ہیمیا، سیمیا اور ریمیا۔ ان میں سے صرف کیمیا (کیمسٹری) پر دنیا نے ریسرچ کی تو نتائج آج ہمارے چاروں طرف ہیں۔ ان علوم کے فوائد کے ساتھ ان کے نقصانات بھی ہیں۔ چنانچہ کیمیا نے زمین کے ایندھن کو نکال کر ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بنا ڈالی جو ایک ایسی تباہی ہے جس کا واپس ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ انسان کو جنات کے مقابلے میں ہر مخلوق کا خیال رکھنے اور اصلاح کے لیے بھیجا گیا تھا، اس بے وقوف نے ترقی کے نام پر سب کو تباہی سے دوچار کر دیا۔ خیر یہ کام ہونا ہے اور ہو کر رہے گا۔
ہمیں کتابوں سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ علوم زمانہ قدیم میں موجود تھے لیکن جب کیمیا کے یہ تجربات ممکن نہیں تھے تو یہ اور باقی چار دنیا میں کیسے تھے؟ اس کا جواب میری اب تک کی تحقیق کے مطابق دو لفظوں میں ہے اور وہ ہیں: سمبلز اور منترے۔ ان علوم کو سمبلز اور منتروں کے ذریعے ایکٹویٹ کیا جاتا تھا۔ یہ سمبلز تعویذ کی شکل میں ہوتے تھے، لہذا ہمیں بعض انتہائی قدیم کتب میں ایسے تعویذات ملتے ہیں جو عجیب ما فوق الفطرت کاموں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
سمبلز کا وجود ہمیں یہود سے ملتا ہے اور یقینی تو نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان میں بڑی تعداد کا تعلق بابل سے ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور ایک ایسا دور ہے جس میں مافوق الفطرت علوم عام تھے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہمیں اسپیس ٹائم فیبرک کے مقابلے میں ایک ایسا علم ملتا ہے جو پلک جھپکتے میں (یعنی روشنی کی رفتار سے) تخت بلقیس کو میلوں دور سے سامنے لے آتا ہے۔ مہر سلیمانی (جسے ستارہ داؤدی کہا جاتا ہے) کا تعلق اسی دور سے ہے اور یہ حفاظت کا طاقتور سمبل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اہل تشیع کا خمسہ (پانچ انگلیوں کا سمبل جو نظر بد سے حفاظت کے لیے استعمال ہوتا ہے) بھی ہمیں اسی دور سے کچھ پہلے سے ملتا ہے۔
لیکن سمبلزصرف ان ہی کے ساتھ خاص نہیں تھے۔ مثلاً قدیم ہندوستان کا انتاکارانا بھی حفاظت اور صفائی کا سمبل ہے جس کی ہمیں تاریخ بھی نہیں ملتی لیکن یہ ہندوستان میں ہی تھا۔ اسی طرح "سائیں بابا" سے منسوب زونار بھی یہیں کا تھا۔ مصری اور یونانی اپنے دیوی دیوتاؤں سے سمبل منسوب کرتے تھے جن کا تعلق ان دیوی دیوتاؤں سے ہو یا نہ ہو، وہ کام کرتے تھے۔
مسلمانوں میں سمبلز کی جدید ترین شکل تعویذ اور نقش کی شکل میں آئی۔ اس شکل کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں چار سمبل یکجا ہو جاتے تھے: حروف و الفاظ، اعداد، چال اور خانے۔ ہندوؤں میں منترے زیادہ تھے لیکن سمبل بھی استعمال میں تھے۔ منترے اگر شیطانی یا روحانی نہ ہوں تو عموماً انسان کی اپنی پوشیدہ قوتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں اسی کی مثال رقیہ (دم) ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دم کی اجازت عطا فرمائی ہے جو شرک پر مشتمل نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ اجازت قرآن و حديث کے الفاظ سے زیادہ کی ہے ورنہ ان میں تو شرک کا امکان ہی نہیں ہے۔ ایسے دم میں انسانی قوتیں یا ارد گرد موجود کائناتی توانائی کام کرتی ہے۔
ان سمبلز کے ذریعے زمانہ قدیم میں علوم مخفیہ کو ایکٹویٹ کیا جاتا تھا اور مختلف مسائل کا حل تلاش کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ تر چیزیں یا متروک ہو گئیں اور یا کچھ مخصوص طبقوں میں رہ گئیں۔ بہت سے تعویذات کتابوں میں آج بھی ہیں لیکن یا تو ان میں خامی ہوتی ہے اور یا ان سے ایکٹو ہونے والی انرجی سے کنکشن باقی نہیں رہا اور کنکشن کا طریقہ بھی اب واضح نہیں ہے۔ بہرحال یہ بھی ایک عجیب اور گہرا علم ہے۔
ہمیں کتابوں سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ علوم زمانہ قدیم میں موجود تھے لیکن جب کیمیا کے یہ تجربات ممکن نہیں تھے تو یہ اور باقی چار دنیا میں کیسے تھے؟ اس کا جواب میری اب تک کی تحقیق کے مطابق دو لفظوں میں ہے اور وہ ہیں: سمبلز اور منترے۔ ان علوم کو سمبلز اور منتروں کے ذریعے ایکٹویٹ کیا جاتا تھا۔ یہ سمبلز تعویذ کی شکل میں ہوتے تھے، لہذا ہمیں بعض انتہائی قدیم کتب میں ایسے تعویذات ملتے ہیں جو عجیب ما فوق الفطرت کاموں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
سمبلز کا وجود ہمیں یہود سے ملتا ہے اور یقینی تو نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان میں بڑی تعداد کا تعلق بابل سے ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور ایک ایسا دور ہے جس میں مافوق الفطرت علوم عام تھے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہمیں اسپیس ٹائم فیبرک کے مقابلے میں ایک ایسا علم ملتا ہے جو پلک جھپکتے میں (یعنی روشنی کی رفتار سے) تخت بلقیس کو میلوں دور سے سامنے لے آتا ہے۔ مہر سلیمانی (جسے ستارہ داؤدی کہا جاتا ہے) کا تعلق اسی دور سے ہے اور یہ حفاظت کا طاقتور سمبل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اہل تشیع کا خمسہ (پانچ انگلیوں کا سمبل جو نظر بد سے حفاظت کے لیے استعمال ہوتا ہے) بھی ہمیں اسی دور سے کچھ پہلے سے ملتا ہے۔
لیکن سمبلزصرف ان ہی کے ساتھ خاص نہیں تھے۔ مثلاً قدیم ہندوستان کا انتاکارانا بھی حفاظت اور صفائی کا سمبل ہے جس کی ہمیں تاریخ بھی نہیں ملتی لیکن یہ ہندوستان میں ہی تھا۔ اسی طرح "سائیں بابا" سے منسوب زونار بھی یہیں کا تھا۔ مصری اور یونانی اپنے دیوی دیوتاؤں سے سمبل منسوب کرتے تھے جن کا تعلق ان دیوی دیوتاؤں سے ہو یا نہ ہو، وہ کام کرتے تھے۔
مسلمانوں میں سمبلز کی جدید ترین شکل تعویذ اور نقش کی شکل میں آئی۔ اس شکل کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں چار سمبل یکجا ہو جاتے تھے: حروف و الفاظ، اعداد، چال اور خانے۔ ہندوؤں میں منترے زیادہ تھے لیکن سمبل بھی استعمال میں تھے۔ منترے اگر شیطانی یا روحانی نہ ہوں تو عموماً انسان کی اپنی پوشیدہ قوتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں اسی کی مثال رقیہ (دم) ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دم کی اجازت عطا فرمائی ہے جو شرک پر مشتمل نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ اجازت قرآن و حديث کے الفاظ سے زیادہ کی ہے ورنہ ان میں تو شرک کا امکان ہی نہیں ہے۔ ایسے دم میں انسانی قوتیں یا ارد گرد موجود کائناتی توانائی کام کرتی ہے۔
ان سمبلز کے ذریعے زمانہ قدیم میں علوم مخفیہ کو ایکٹویٹ کیا جاتا تھا اور مختلف مسائل کا حل تلاش کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ تر چیزیں یا متروک ہو گئیں اور یا کچھ مخصوص طبقوں میں رہ گئیں۔ بہت سے تعویذات کتابوں میں آج بھی ہیں لیکن یا تو ان میں خامی ہوتی ہے اور یا ان سے ایکٹو ہونے والی انرجی سے کنکشن باقی نہیں رہا اور کنکشن کا طریقہ بھی اب واضح نہیں ہے۔ بہرحال یہ بھی ایک عجیب اور گہرا علم ہے۔
گل رنگیں
تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں
آہ! یہ دست جفاجو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں
کام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے کیا
دیدۂ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو ، پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمی شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایہ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آ ینہ حیرت نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں
آہ! یہ دست جفاجو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں
کام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے کیا
دیدۂ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو ، پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمی شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایہ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آ ینہ حیرت نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
ہمالہ
اے ہمالہ! اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے تو
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پر
تیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
چشمہ دامن ترا آئینہ سیال ہے
دامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہے
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، جسے
دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
جنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنی
جھومتی ہے نشہ ہستی میں ہر گل کی کلی
یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا
کنج خلوت خانہ قدرت ہے کاشانہ مرا
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کی شرماتی ہوئی
آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
لیلی شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
اے ہمالہ! اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے تو
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پر
تیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
چشمہ دامن ترا آئینہ سیال ہے
دامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہے
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، جسے
دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
جنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنی
جھومتی ہے نشہ ہستی میں ہر گل کی کلی
یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا
کنج خلوت خانہ قدرت ہے کاشانہ مرا
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کی شرماتی ہوئی
آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی ہوئی
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
لیلی شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے کے خلاف یا موافقت میں لکھ رہے ہیں۔
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے آئی کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں؟
کیونکہ طرفین کے دلائل اور اے آئی کی معلومات آپ سے اچھی اے آئی دے سکتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ آپ اے آئی کو کتنا استعمال کر رہے ہیں؟ اور کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے آئی کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں؟
کیونکہ طرفین کے دلائل اور اے آئی کی معلومات آپ سے اچھی اے آئی دے سکتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ آپ اے آئی کو کتنا استعمال کر رہے ہیں؟ اور کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اے آئی سے کام لینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ساتھ اپنی تحقیق و مراجعت بھی کرلی جائے، وقت بہت بچتا ہے، اندھا اعتماد تو اپنے انسانی علمی معاون پر بھی کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ 🙂
انسان بمقابلہ اے آئی = انسان 👍
اے آئی کا ماہر انسان بمقابلہ عام انسان = اے آئی کا ماہر 👍
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
انسان بمقابلہ اے آئی = انسان 👍
اے آئی کا ماہر انسان بمقابلہ عام انسان = اے آئی کا ماہر 👍
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دینی شعبوں میں کام کرنے والے احباب جیسے مؤذن، امام، مدرس، مصنف وغیرہ (جن کا ذریعۂ معاش دینی خدمات سے وابستہ ہے) یہ نیت نہ رکھیں کہ یہ کام اس لیے کر رہے ہیں تاکہ پیسے ملیں، بلکہ یہ نیت کریں کہ پیسے اس لیے کمانے ہیں تاکہ دینی خدمات زیادہ سے زیادہ کرسکیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اگر کوئی مبتدی شاعر بڑے شعرا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے تخیل یا اسلوب سے متاثر ہو کر اپنے اشعار میں اسی قسم کی فکری فضا یا مشابہ انداز اختیار کرتا ہے تو یہ بذاتِ خود عیب نہیں، بلکہ ابتدائی درجے میں یہ ایک فطری عمل اور خوبی ہے، کیونکہ سیکھنے کے مرحلے میں ذہن پر اثرات پڑتے ہیں۔ البتہ اگر طویل فقرے یا مکمل مصرعے بغیر کسی تبدیلی کے لے لیے جائیں اور اپنی طرف منسوب کیے جائیں تو یہ ادبی سرقہ کہلایا جاسکتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ شاعر کو مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنا فکری رنگ، اسلوب اور ندرت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ وہ نقل سے نکل کر اصل کی طرف آ سکے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اصل بات یہ ہے کہ شاعر کو مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنا فکری رنگ، اسلوب اور ندرت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ وہ نقل سے نکل کر اصل کی طرف آ سکے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
شعراء کو چاہیے کہ فن میں مہارت حاصل کرلینے کے بعد اپنے اس فن کو محض ایک آلہ تصور کریں اور اپنا مقصد، نظریہ، اہداف سب کچھ طے کریں، اس کے مطابق اس فن کو استعمال کریں، اکثر شعراء کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے فن کو استعمال کرنے کے بجائے خود اپنے فن کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں اور نام دیتے ہیں اسے الہامی شاعری کا، اللہ کے بندو! اگر الہام سے مراد آپ وحی لیتے ہیں تو اس کا دروازہ بند ہوچکا ہے، نیز یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے اور اگر الہام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمارہے ہیں تو اس کے لیے بھی ضابطہ یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے دین کو پھیلانے کی صحیح طریقے سے کوشش کر رہے ہوں، اس کے باوجود ہر انہونی کو اللہ کی مدد کہنا محض آپ کا گمان ہے، ہمارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ ہمارا یہ خیال ہم پر اللہ کی مدد ہے، شیطان کو بھی اللہ نے وسواس بنایا ہے، اسے بھی ہمارے تخیل کی راہ کا شکاری بنایا ہے، کیا آپ کے پیش کردہ خیالات شیطانی نہیں ہوسکتے؟ بالخصوص جبکہ بہت سے اشعار میں محسوس بھی یہی ہورہا ہوتا ہے کہ یا اللہ پر طنز ہوتا ہے یا اسلام پر یا کسی بھی شعائرِ اسلام پر بے باکانہ تبصرہ کیا جارہا ہوتا ہے، کیا یہ خیالات اللہ کی مدد کہے جاسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، سو پہلے اپنے نظریات ، اپنا راستہ، اپنا وژن چنیں، پھر اپنے اس فن کو بطور آلہ استعمال کریں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
آنکھوں اور کانوں کے راستے ہمیں جتنی باتیں معلوم ہورہی ہیں ان میں سب سے پہلا فلٹر یہ لگائیں کہ یہ بات خبر ہے یا اگلے کی رائے؟ اگر رائے ہے تو اسے بطور رائے کے رکھ کر اختلاف یا اتفاق کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
اور اگر وہ خبر ہے تو اسے بھی من و عن قبول نہ کرلیا کریں، کیونکہ اس صورت میں آپ کا دماغ فقط ایک اخبار کی حیثیت اختیار کرلے گا جس میں جھوٹ اور سچ ساری خبریں ہوتی ہیں۔
بد قسمتی سے آج ہم سارا دن انھی خبروں کا بے تحاشا تبادلہ کرکے ایک دوسرے کو اخباروں کا پلندا بنانے میں مصروف ہے، یوں ہم اپنے اور دوسروں کے شعور کو شرور میں بدل کر بہت بڑا ظلم کر رہے ہیں۔
اس ظلم سے بچنے کے لیے ہمیں دو کام کرنے ہیں:
(الف) کسی ایک یا متعدد موضوعات میں مہارت حاصل کریں تاکہ غلط اور صحیح خبروں میں فرق کرسکیں۔
خبروں کے موضوعات عموما یہ ہوتے ہیں:
(1) مذہبی (2) سیاسی (3) طبی (4) سائنسی (5) تاریخی (6) جغرافیائی
ممکن ہے کہ مزید موضوعات بھی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ موضوعات باہم مخلوط ہوجائیں جیسے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک موضوع کے ذیلی موضوعات بھی کئی سارے ہوں۔
(ب) دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ جو خبر بھی حاصل ہو اسے پہلے فلٹر کریں۔
فلٹر کرنے کے دو طریقے ہیں:
(1) وہ خبر جس موضوع کی ہے اس میں اتنی مہارت حاصل کرلیں کہ از خود آپ اس خبر کی تصحیح یا تغلیط کرسکیں۔
(2) وہ خبر جس موضوع پر ہے اگر خبر دینے والا اس موضوع کا ماہر ہے تو اس خبر میں صحیح ہونے کا امکان زیادہ ہے، لہٰذا اسے فی الحال قبول کرلیں۔ اور اگر وہ اس موضوع کا ماہر نہیں تو اس سے اختلاف یا اتفاق کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
اب دو چیزیں حل طلب ہیں:
(1) دوسروں کی رائے
(2) وہ خبر جو کسی غیر ماہر سے حاصل ہوئی اور ہمیں بھی اس کی تحقیق نہیں۔
ان دونوں پر بات پھر کبھی سہی ان شاء اللہ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اور اگر وہ خبر ہے تو اسے بھی من و عن قبول نہ کرلیا کریں، کیونکہ اس صورت میں آپ کا دماغ فقط ایک اخبار کی حیثیت اختیار کرلے گا جس میں جھوٹ اور سچ ساری خبریں ہوتی ہیں۔
بد قسمتی سے آج ہم سارا دن انھی خبروں کا بے تحاشا تبادلہ کرکے ایک دوسرے کو اخباروں کا پلندا بنانے میں مصروف ہے، یوں ہم اپنے اور دوسروں کے شعور کو شرور میں بدل کر بہت بڑا ظلم کر رہے ہیں۔
اس ظلم سے بچنے کے لیے ہمیں دو کام کرنے ہیں:
(الف) کسی ایک یا متعدد موضوعات میں مہارت حاصل کریں تاکہ غلط اور صحیح خبروں میں فرق کرسکیں۔
خبروں کے موضوعات عموما یہ ہوتے ہیں:
(1) مذہبی (2) سیاسی (3) طبی (4) سائنسی (5) تاریخی (6) جغرافیائی
ممکن ہے کہ مزید موضوعات بھی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ موضوعات باہم مخلوط ہوجائیں جیسے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک موضوع کے ذیلی موضوعات بھی کئی سارے ہوں۔
(ب) دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ جو خبر بھی حاصل ہو اسے پہلے فلٹر کریں۔
فلٹر کرنے کے دو طریقے ہیں:
(1) وہ خبر جس موضوع کی ہے اس میں اتنی مہارت حاصل کرلیں کہ از خود آپ اس خبر کی تصحیح یا تغلیط کرسکیں۔
(2) وہ خبر جس موضوع پر ہے اگر خبر دینے والا اس موضوع کا ماہر ہے تو اس خبر میں صحیح ہونے کا امکان زیادہ ہے، لہٰذا اسے فی الحال قبول کرلیں۔ اور اگر وہ اس موضوع کا ماہر نہیں تو اس سے اختلاف یا اتفاق کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
اب دو چیزیں حل طلب ہیں:
(1) دوسروں کی رائے
(2) وہ خبر جو کسی غیر ماہر سے حاصل ہوئی اور ہمیں بھی اس کی تحقیق نہیں۔
ان دونوں پر بات پھر کبھی سہی ان شاء اللہ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا ضروری ہے مگر باخبر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ جو نئی بات آپ کے سامنے آئی ہے خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے عالم کی طرف سے آئے یا کسی اخبار سے یا کسی سوشل میڈیائی ذریعے سے، اسے فلٹر کریں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھیں کہ وہ بات خبر ہے یا رائے؟
خبر کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ جاں بحق ہوگئے۔
رائے کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ شہید ہوگئے۔
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے۔
کرنا یہ ہے کہ ہر خبر پر گہری نظر رکھیں اور ہر رائے کو خود پر اثر انداز ہونے سے روک کر اس سے اختلاف یا اتفاق کرنے کے لیے اسے معلق رکھیں۔
اگر کسی بابت اپنی رائے مصدقہ خبروں کی بنیاد پر آپ بنا چکے ہیں تو اس میں غلطی کے احتمال کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔
اور اگر کسی بابت اپنی رائے نہ بنا سکیں تو اس پر ہرگز کسی گفتگو میں حصہ نہ لیں الا یہ کہ آپ کا انداز سوالیہ ہو اور آپ کا سوال اس رائے کی ترویج کا باعث نہ بنے۔
یہ میری رائے ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
خبر کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ جاں بحق ہوگئے۔
رائے کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ شہید ہوگئے۔
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے۔
کرنا یہ ہے کہ ہر خبر پر گہری نظر رکھیں اور ہر رائے کو خود پر اثر انداز ہونے سے روک کر اس سے اختلاف یا اتفاق کرنے کے لیے اسے معلق رکھیں۔
اگر کسی بابت اپنی رائے مصدقہ خبروں کی بنیاد پر آپ بنا چکے ہیں تو اس میں غلطی کے احتمال کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔
اور اگر کسی بابت اپنی رائے نہ بنا سکیں تو اس پر ہرگز کسی گفتگو میں حصہ نہ لیں الا یہ کہ آپ کا انداز سوالیہ ہو اور آپ کا سوال اس رائے کی ترویج کا باعث نہ بنے۔
یہ میری رائے ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
کلام کو نثر سے نکالنے والی چیز بحر ہے، بلاوجہ الفاظ کی نشست تبدیل کرنا درست نہیں، البتہ بحر و وزن کی خاطر اگر کسی لفظ کی نشست بدلنی پڑے تو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ نہ معنی بدلے، نہ خلاف استعمال صورت بنے۔
اب ان سب کی مثالیں دیکھیے۔
نثر کی مثال:
تو نے محمد سے وفا کی تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں کیا چیز ہے، لوح اور قلم تیرے ہیں۔
بحر میں لانے کی مثال:
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
بلاوجہ نشست بدلنے کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم ہیں تیرے
چیز کیا ہے یہ جہاں، لوح و قلم ہیں تیرے
معنی بدلنے کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
چیز یہ کیا ہے جہاں، لوح و قلم تیرے ہیں
خلاف استعمال کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے، قلم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و ہم تیرے ہیں
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اب ان سب کی مثالیں دیکھیے۔
نثر کی مثال:
تو نے محمد سے وفا کی تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں کیا چیز ہے، لوح اور قلم تیرے ہیں۔
بحر میں لانے کی مثال:
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
بلاوجہ نشست بدلنے کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم ہیں تیرے
چیز کیا ہے یہ جہاں، لوح و قلم ہیں تیرے
معنی بدلنے کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
چیز یہ کیا ہے جہاں، لوح و قلم تیرے ہیں
خلاف استعمال کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے، قلم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و ہم تیرے ہیں
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اکائی، دہائی، سینکڑہ، ہزار، دس ہزار، لاکھ، دس لاکھ (یعنی ایک ملین)، کروڑ، دس کروڑ، ارب، دس ارب، کھرب، اور اسی طرح آگے بھی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ دہائی کا نظام دراصل ہر جگہ "دس کے گنا" پر قائم ہے، یعنی ہر دہائی گزرنے پر عدد میں ایک اضافی صفر آتا ہے۔ اعداد کی حد کوئی فطری حد نہیں ہے، جتنا حساب آگے بڑھتا جائے، دہائیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ مثلاً کھرب کے بعد نیل، نیل کے بعد شَنک وغیرہ نام دیے گئے ہیں، لیکن عام طور پر روزمرہ کے استعمال میں ارب یا کھرب تک کی دہائیاں ہی دیکھی جاتی ہیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
درست رہنمائی:
جسمانی مسائل (طب) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
اسی طرح روحانی مسائل (تصوف) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
اسی طرح شرعی مسائل (فقہ) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
جسمانی مسائل (طب) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
اسی طرح روحانی مسائل (تصوف) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
اسی طرح شرعی مسائل (فقہ) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، جب ہم کہتے ہیں کہ یہ چیز شاعری میں عیب ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ چیز آپ کو بڑے اور مستند شعراء کے اشعار میں نہیں ملے گی، کیونکہ ہر عیب سے پاک کلام فقط اللہ تعالی کا ہے، اچھے اچھے شعراء کے ہاں بڑے بڑے عیوب بھی تلاش کرنے پر مل جاتے ہیں اور عیب کا عیب یہی ہے کہ اسے بڑے شعراء کے ہاں بہت زیادہ تلاش کرنا پڑتا ہے، جبکہ خوبی کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان کے ہر ہر شعر میں آپ کو ایک سے زیادہ مرتبہ مسکراتی نظر آئے گی۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
بازاری لب و لہجہ ہمیں ایک دوسرے سے مزید دور کررہا ہے، اصلاحِ اعمال اور مغفرت کا وعدہ قولِ سدید پر ہے، ہم سب کو اپنے اپنے رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، عوام کو تو ایک طرف رکھیں، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ طرفین کے خواص کی جانب سے دوسری طرف والوں کے خلاف طنز اور بد زبانی کے بیانات مسلسل سامنے آرہی ہیں، طرفین کے بڑوں کو چاہیے کہ اپنے چھوٹوں کو مسلسل اس بد زبانی سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چیٹ بوٹس (بالخصوص چیٹ جی پی ٹی) اب تقریبا سبھی لوگ استعمال کر رہے ہیں، آج آپ کو ایک زبردست ٹرِک بتارہا ہوں جو ہمیشہ کام آئے گی، آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر آپ کا مطلوبہ کام چیٹ بوٹ کرکے نہیں دے رہا ہوتا، مثلا مطلوبہ کوڈ نہیں بنا رہا یا مطلوبہ تصویر جنریٹ نہیں کر رہا تو اس کا آسان سا ایک حل یہ ہے کہ آپ نئی چیٹ کھولیں اور اس سے یہ کہیں کہ مجھے اے آئی سے یہ کام کروانا ہے، بالکل درست پرومٹ تیار کردو، پرومٹ تیار ہوجائے گا، اب آپ نئی چیٹ کھولیں اور وہ پرومٹ اسے دے دیں، کام ہوجائے گا ان شاء اللہ۔
یاد رکھیں، چیٹ جی پی ٹی سے ہر ایک فقط اپنے فن میں فائدہ اٹھا سکتا ہے، اگر آپ کو طب کی ابجد بھی نہیں پتا تو یہ آپ کو نیم حکیم سے بھی گیا گزرا بنادے گا۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی میں غیر ضروری ہسٹری کو صاف کرتے رہیں اور سیٹنگ میں جاکر میموری میں سے بھی غیر ضروری میموری ڈیلیٹ کرتے رہیں۔
اہم بات یہ ہےکہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر چیٹ بوٹس کو اپنا راز، ذاتی معلومات اور پاسورڈ وغیرہ کبھی نہ بتائیں۔
اور اہم بات یہ ہےکہ اے آئی کو استعمال کریں ورنہ یہ آپ کو استعمال کرلے گا۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
یاد رکھیں، چیٹ جی پی ٹی سے ہر ایک فقط اپنے فن میں فائدہ اٹھا سکتا ہے، اگر آپ کو طب کی ابجد بھی نہیں پتا تو یہ آپ کو نیم حکیم سے بھی گیا گزرا بنادے گا۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی میں غیر ضروری ہسٹری کو صاف کرتے رہیں اور سیٹنگ میں جاکر میموری میں سے بھی غیر ضروری میموری ڈیلیٹ کرتے رہیں۔
اہم بات یہ ہےکہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر چیٹ بوٹس کو اپنا راز، ذاتی معلومات اور پاسورڈ وغیرہ کبھی نہ بتائیں۔
اور اہم بات یہ ہےکہ اے آئی کو استعمال کریں ورنہ یہ آپ کو استعمال کرلے گا۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چند مسلم شعرائے کرام:
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے صحابی اور شاعر، جنھوں نے اپنی شاعری سے اسلام کا دفاع کیا اور حضور ﷺ کی شان میں عمدہ اشعار کہے۔
امام شافعیؒ کا کلام حکمت، تقویٰ، اور اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، جو دل کو چھوتا ہے اور عمل کی رغبت پیدا کرتا ہے۔
حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی اور غزلیات میں عشقِ حقیقی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا بیان انتہائی گہرائی سے کیا گیا ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ کی گلستان اور بوستان حکمت، اخلاقیات اور دینی تعلیمات کا خزانہ ہیں۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری میں مسلمانوں کے عروج و زوال، خودی، ایمان اور عشقِ رسول ﷺ کے موضوعات نمایاں ہیں۔
حضرت امیر مینائیؒ کے کلام میں نعتیہ اشعار، درود و سلام اور اسلامی اقدار کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔
مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی نعتیہ شاعری اسلامی ادب کا ایک بہترین نمونہ ہے، جس میں عشقِ رسول ﷺ اور ادب کا بہترین امتزاج ہے۔
مولانا حالیؒ کی "مد و جزر اسلام" مسلمانوں کی تاریخ اور ان کی اصلاح پر مبنی ایک شاہکار نظم ہے۔
ان شاعروں کے کلام میں دینی تعلیمات، اخلاقیات اور روحانیت کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ دل کو سکون، روح کو تقویت اور ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے صحابی اور شاعر، جنھوں نے اپنی شاعری سے اسلام کا دفاع کیا اور حضور ﷺ کی شان میں عمدہ اشعار کہے۔
امام شافعیؒ کا کلام حکمت، تقویٰ، اور اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، جو دل کو چھوتا ہے اور عمل کی رغبت پیدا کرتا ہے۔
حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی اور غزلیات میں عشقِ حقیقی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا بیان انتہائی گہرائی سے کیا گیا ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ کی گلستان اور بوستان حکمت، اخلاقیات اور دینی تعلیمات کا خزانہ ہیں۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری میں مسلمانوں کے عروج و زوال، خودی، ایمان اور عشقِ رسول ﷺ کے موضوعات نمایاں ہیں۔
حضرت امیر مینائیؒ کے کلام میں نعتیہ اشعار، درود و سلام اور اسلامی اقدار کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔
مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی نعتیہ شاعری اسلامی ادب کا ایک بہترین نمونہ ہے، جس میں عشقِ رسول ﷺ اور ادب کا بہترین امتزاج ہے۔
مولانا حالیؒ کی "مد و جزر اسلام" مسلمانوں کی تاریخ اور ان کی اصلاح پر مبنی ایک شاہکار نظم ہے۔
ان شاعروں کے کلام میں دینی تعلیمات، اخلاقیات اور روحانیت کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ دل کو سکون، روح کو تقویت اور ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
شہرت افزائی میں اپنی سی مدد کرتے ہیں
یہ جو حاسد ہیں یہ اونچا مرا قد کرتے ہیں
کسی ماں باپ سے پوچھو کبھی بیٹی کا یہ دکھ
دیکھنے والے جسے دیکھ کے رد کرتے ہیں
بار ور پیڑ ، خنک چھاؤں، گھنے سبز درخت
ہم بڑے فخر سے ذکر اب و جد کرتے ہیں
شعلہءشعر! تجھے یوں ہی تپاں رکھنے میں
دوست تو دوست ہیں،دشمن بھی مدد کرتے ہیں
شکر لازم ہے محبت کے اسیروں پہ سعود !
جومحبت نہیں کرتے، وہ حسد کرتے ہیں
یہ جو حاسد ہیں یہ اونچا مرا قد کرتے ہیں
کسی ماں باپ سے پوچھو کبھی بیٹی کا یہ دکھ
دیکھنے والے جسے دیکھ کے رد کرتے ہیں
بار ور پیڑ ، خنک چھاؤں، گھنے سبز درخت
ہم بڑے فخر سے ذکر اب و جد کرتے ہیں
شعلہءشعر! تجھے یوں ہی تپاں رکھنے میں
دوست تو دوست ہیں،دشمن بھی مدد کرتے ہیں
شکر لازم ہے محبت کے اسیروں پہ سعود !
جومحبت نہیں کرتے، وہ حسد کرتے ہیں
بیس روپے:
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھر میں دو بھائی اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے، ایک کا نام علی اور دوسرے کا نام عمران تھا۔ اس گھر کے افراد بہت نیک تھے، لیکن ان کے پاس پیسوں کی تھوڑی کمی تھی، کیونکہ ان کے ابو مزدوری کرتے تھے۔ ان کی امی انھیں سمجھایا کرتی تھیں کہ ہمیں کوئی چیز لینے کی خواہش ہو تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں وہ چیز ضرور دیں گے یا اس کے بدلے کوئی اور اجر عطا کریں گے۔ اور کہیں آتے جاتے کوئی بزرگ مل جائیں تو ہمیں ان کو سلام کرنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ دونوں اپنی امی کی بات کو غور سے سنتے اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتے۔
ایک دن وہ جا رہے تھے، انھیں چیز کھانی تھی۔ ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: "اے اللہ! ہمیں چیز کھانی ہے، آپ ہمیں چیز دے دیں یا چیز کے لیے تھوڑے پیسے دے دیں۔" وہ یہ دعا مانگتے ہوئے جا رہے تھے کہ ان کی نظر ایک بزرگ پر پڑی جو بہت سا سامان اٹھائے جا رہے تھے۔ یہ دونوں بزرگ کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا۔
ان بزرگ نے سلام کا جواب دیا۔ عمران نے کہا: "بابا جی! آپ اتنے بوڑھے ہو گئے ہیں، یہ سامان آپ کیوں اٹھاتے ہیں؟" بابا جی نے کہا: "بیٹا! کیا کریں، میری کوئی اولاد نہیں، لہٰذا یہ سامان مجھے ہی اٹھانا پڑتا ہے۔" علی نے کہا: "بابا جی! ہم آپ کے بیٹے کی طرح ہیں، یہ سامان ہم اٹھا کر آپ کے گھر تک پہنچا دیتے ہیں۔"
بابا جی نے ان کا بہت شکریہ ادا کیا اور دعائیں دیں۔ ان دونوں بچوں نے مل کر بابا جی کا سامان ان کے گھر تک پہنچایا۔ بابا جی نے خوش ہو کر ان بچوں کو بیس بیس روپے دیے۔ ان دونوں نے لینے سے منع کیا اور کہا کہ بابا جی! اس کا بدلہ تو ہمیں اللہ تعالیٰ ہی دیں گے، لیکن بابا جی نے کہا کہ میری طرف سے تم دونوں چیز کھا لینا۔ ان دونوں نے بابا جی کا شکریہ ادا کیا اور سلام کر کے سیدھا چیز کی دکان پر آئے۔ انھوں نے چیز خریدی اور گھر جا کر اپنی امی کو ساری بات بتائی۔ ان کی امی نے انھیں شاباش دی۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھر میں دو بھائی اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے، ایک کا نام علی اور دوسرے کا نام عمران تھا۔ اس گھر کے افراد بہت نیک تھے، لیکن ان کے پاس پیسوں کی تھوڑی کمی تھی، کیونکہ ان کے ابو مزدوری کرتے تھے۔ ان کی امی انھیں سمجھایا کرتی تھیں کہ ہمیں کوئی چیز لینے کی خواہش ہو تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں وہ چیز ضرور دیں گے یا اس کے بدلے کوئی اور اجر عطا کریں گے۔ اور کہیں آتے جاتے کوئی بزرگ مل جائیں تو ہمیں ان کو سلام کرنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ دونوں اپنی امی کی بات کو غور سے سنتے اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتے۔
ایک دن وہ جا رہے تھے، انھیں چیز کھانی تھی۔ ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: "اے اللہ! ہمیں چیز کھانی ہے، آپ ہمیں چیز دے دیں یا چیز کے لیے تھوڑے پیسے دے دیں۔" وہ یہ دعا مانگتے ہوئے جا رہے تھے کہ ان کی نظر ایک بزرگ پر پڑی جو بہت سا سامان اٹھائے جا رہے تھے۔ یہ دونوں بزرگ کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا۔
ان بزرگ نے سلام کا جواب دیا۔ عمران نے کہا: "بابا جی! آپ اتنے بوڑھے ہو گئے ہیں، یہ سامان آپ کیوں اٹھاتے ہیں؟" بابا جی نے کہا: "بیٹا! کیا کریں، میری کوئی اولاد نہیں، لہٰذا یہ سامان مجھے ہی اٹھانا پڑتا ہے۔" علی نے کہا: "بابا جی! ہم آپ کے بیٹے کی طرح ہیں، یہ سامان ہم اٹھا کر آپ کے گھر تک پہنچا دیتے ہیں۔"
بابا جی نے ان کا بہت شکریہ ادا کیا اور دعائیں دیں۔ ان دونوں بچوں نے مل کر بابا جی کا سامان ان کے گھر تک پہنچایا۔ بابا جی نے خوش ہو کر ان بچوں کو بیس بیس روپے دیے۔ ان دونوں نے لینے سے منع کیا اور کہا کہ بابا جی! اس کا بدلہ تو ہمیں اللہ تعالیٰ ہی دیں گے، لیکن بابا جی نے کہا کہ میری طرف سے تم دونوں چیز کھا لینا۔ ان دونوں نے بابا جی کا شکریہ ادا کیا اور سلام کر کے سیدھا چیز کی دکان پر آئے۔ انھوں نے چیز خریدی اور گھر جا کر اپنی امی کو ساری بات بتائی۔ ان کی امی نے انھیں شاباش دی۔
مشکل چاک گریباں کرنا، اوپر سے پھر سینا مشکل
باتیں پانی پانی کر دیں، لیکن پھر بھی پینا مشکل
جینے والے کہتے ہوں گے، جینا دیکھو ممکن تو ہے
جان سے جانے والے کہویں، اس دھرتی پر جینا مشکل
دیکھو ہم تو وار چلے ہیں، دیکھو سوئے دار چلے ہیں
کس نے کہا تھا ہم کو جانی،کس نے کہا تھا جینا مشکل
دامن کو تم چاک نہ کرنا، اس کو نادر رہنے دینا
ثابت رہنا گرچہ ہے مشکل، اس سے بڑھ کے ہے سینا مشکل
نادر گوہلوی
باتیں پانی پانی کر دیں، لیکن پھر بھی پینا مشکل
جینے والے کہتے ہوں گے، جینا دیکھو ممکن تو ہے
جان سے جانے والے کہویں، اس دھرتی پر جینا مشکل
دیکھو ہم تو وار چلے ہیں، دیکھو سوئے دار چلے ہیں
کس نے کہا تھا ہم کو جانی،کس نے کہا تھا جینا مشکل
دامن کو تم چاک نہ کرنا، اس کو نادر رہنے دینا
ثابت رہنا گرچہ ہے مشکل، اس سے بڑھ کے ہے سینا مشکل
نادر گوہلوی
تین کام کریں، آپ کو بام عروج پر پہنچنے سے ان شاء اللہ کوئی نہیں روک سکے گا:
(1) اپنے کام میں مہارت بڑھاتے جائیں۔
(2) اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔
(3) نادار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
(1) اپنے کام میں مہارت بڑھاتے جائیں۔
(2) اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔
(3) نادار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چیٹ جی پی ٹی ایک جدید ترین اور مفید ترین ٹول ہے، اگرچہ اس کی غلطیوں اور اس سے ہونے والے نقصانات سے بھی انکار ممکن نہیں، لیکن جس طرح واٹس ایپ ٹول کے بغیر آج روابط کی دنیا میں جینا ممکن نہیں اسی طرح ڈیجیٹل امور (تحریر، ترمیم، دنیاوی مشاورت، مواد کی دستیابی، پروگرامنگ، سوفٹ وئیر لرننگز وغیرہ) میں چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں اور نہ کرنے والے پیچھے رہتے جارہے ہیں۔
ایک اصولی بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ جس فن میں ہمیں شد بد بھی نہ ہو اس میں چیٹ جی پی ٹی پر کلی انحصار ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
ایک اصولی بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ جس فن میں ہمیں شد بد بھی نہ ہو اس میں چیٹ جی پی ٹی پر کلی انحصار ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
وزن کے بارے میں چار موزوں باتیں:
(1) کبھی بھی غیر مستعمل بحر میں نہ لکھیں اور اپنی طرف سے نئی بحر بنانے کی کوشش تو بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
(2) کم مستعمل (مثلا مستفعلن چار بار) کی بنسبت زیادہ مستعمل (جیسے فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) بہتر ہے۔
(3) تین سے کم اور چار سے زیادہ ارکان کے مقابلے میں تین رکن بہتر اور چار رکن تین رکن سے بھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔
(4) شاعری کے لیے ہمیشہ خوب سے خوب تر کا انتخاب کرنا چاہیے چاہے الفاظ ہوں، یا بحور یا طرز بیان
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
(1) کبھی بھی غیر مستعمل بحر میں نہ لکھیں اور اپنی طرف سے نئی بحر بنانے کی کوشش تو بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
(2) کم مستعمل (مثلا مستفعلن چار بار) کی بنسبت زیادہ مستعمل (جیسے فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) بہتر ہے۔
(3) تین سے کم اور چار سے زیادہ ارکان کے مقابلے میں تین رکن بہتر اور چار رکن تین رکن سے بھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔
(4) شاعری کے لیے ہمیشہ خوب سے خوب تر کا انتخاب کرنا چاہیے چاہے الفاظ ہوں، یا بحور یا طرز بیان
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اردو شاعری میں بہترین لسانیاتی فضا فارسی کی ہے، پھر دوسرے نمبر پر اردو ہے، عربی الفاظ کا زیادہ استعمال شعر کو بھاری بھرکم کردیتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
بہت سے احباب جب ”آؤ شاعری سیکھیں“ جیسا نام سنتے ہیں تو فوراً کہتے ہیں کہ شاعری سیکھنے کی چیز نہیں، شاعر تو خداداد ہوتا ہے۔ یہ اعتراض دراصل شاعری کو صرف جذبے کا اظہار سمجھ لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ جذبہ اگر چشمہ ہے تو فن اس کے بہاؤ کا پیالہ ہے۔ چشمہ اپنی گدلاہٹ سمیت بہہ تو سکتا ہے، مگر پیالہ اسے شکل، سمت اور وقار دیتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ فطری صلاحیت بیج ہے اور علم و فن وہ خاک، پانی اور دھوپ ہیں، جن کے بغیر بیج کبھی سایہ دار درخت نہیں بنتا۔
یہ دعویٰ کہ شاعر سیکھنے کا محتاج نہیں ہوتا، انسانی فطرت کی بنیادی حقیقت سے بھی ٹکراتا ہے۔ انسان ماں کے پیٹ سے کچھ بھی سیکھا ہوا نہیں آتا۔ ایک ایک لفظ اسی دنیا میں سیکھنا پڑتا ہے، اپنی زبان کے لہجے سے لے کر چلنے پھرنے کے آداب تک سب کچھ ماحول اور تربیت سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر روزمرہ کی گفتگو تک سیکھے بغیر ممکن نہیں تو شاعری جیسا لطیف اور دقیق فن کس طرح بغیر رہنمائی کے کما حقہ نشوونما پا سکتا ہے۔
تاریخِ ادب کے بڑے شعرا کو دیکھ لیجیے، ہر ایک نے کسی نہ کسی استاد سے اصلاح لی، کسی دبستان کی روایت سے فیض اٹھایا، دیوان ہائے اساتذہ کا مطالعہ کیا اور اپنے خام کلام کو تراش خراش کر قابلِ سماعت بنایا۔ جب فن اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو دیکھنے والے کو وہ سراسر قدرتی محسوس ہوتا ہے، جیسے کسی ماہر معمار کا تیار کردہ گھر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ اینٹیں خودبخود ترتیب پا گئی ہوں۔ لیکن پسِ پردہ پیمائش، محنت اور اصول ہوتے ہیں، جو ناظر کی آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔
اعتراض کرنے والے دراصل شاعری کے دو پہلوؤں کو خلط کرتے ہیں۔ ایک پہلو احساس اور وجدان کا ہے، جو واقعی کسی استاد کا مرہونِ منت نہیں۔ دوسرا پہلو اس احساس کو زبان کے سانچے میں ڈھالنے کا ہے، جہاں وزن، قافیہ، محاورہ اور بیان کی دنیا شروع ہوتی ہے۔ یہ دوسرا حصہ مکمل طور پر سیکھنے کے قابل ہے۔ اگر یہ سیکھنے کی چیز نہ ہوتا تو اصلاحِ سخن، دبستانوں کی روایت اور اساتذہ کے حلقے کیوں صدیوں تک قائم رہتے۔
”آؤ شاعری سیکھیں“ کا مقصد کسی پر سانچے مسلط کرنا نہیں، بلکہ اس بیج کو نگہداشت دینا ہے جو اس کے اندر پہلے ہی موجود ہے۔ یہ کورس اس چنگاری کو روشنی دینے کے لیے ہے جو اکثر غلط قافیوں، بگڑے ہوئے اوزان اور بے جوڑ ترکیبوں کے نیچے دب جاتی ہے۔ سیکھنے کا عمل فطانت کو ختم نہیں کرتا، اسے محفوظ اور مؤثر بناتا ہے۔ خداداد صلاحیت اور سیکھا ہوا فن ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ وہ دو بازو ہیں جن سے شاعری کی پرواز مکمل ہوتی ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
یہ دعویٰ کہ شاعر سیکھنے کا محتاج نہیں ہوتا، انسانی فطرت کی بنیادی حقیقت سے بھی ٹکراتا ہے۔ انسان ماں کے پیٹ سے کچھ بھی سیکھا ہوا نہیں آتا۔ ایک ایک لفظ اسی دنیا میں سیکھنا پڑتا ہے، اپنی زبان کے لہجے سے لے کر چلنے پھرنے کے آداب تک سب کچھ ماحول اور تربیت سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر روزمرہ کی گفتگو تک سیکھے بغیر ممکن نہیں تو شاعری جیسا لطیف اور دقیق فن کس طرح بغیر رہنمائی کے کما حقہ نشوونما پا سکتا ہے۔
تاریخِ ادب کے بڑے شعرا کو دیکھ لیجیے، ہر ایک نے کسی نہ کسی استاد سے اصلاح لی، کسی دبستان کی روایت سے فیض اٹھایا، دیوان ہائے اساتذہ کا مطالعہ کیا اور اپنے خام کلام کو تراش خراش کر قابلِ سماعت بنایا۔ جب فن اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو دیکھنے والے کو وہ سراسر قدرتی محسوس ہوتا ہے، جیسے کسی ماہر معمار کا تیار کردہ گھر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ اینٹیں خودبخود ترتیب پا گئی ہوں۔ لیکن پسِ پردہ پیمائش، محنت اور اصول ہوتے ہیں، جو ناظر کی آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔
اعتراض کرنے والے دراصل شاعری کے دو پہلوؤں کو خلط کرتے ہیں۔ ایک پہلو احساس اور وجدان کا ہے، جو واقعی کسی استاد کا مرہونِ منت نہیں۔ دوسرا پہلو اس احساس کو زبان کے سانچے میں ڈھالنے کا ہے، جہاں وزن، قافیہ، محاورہ اور بیان کی دنیا شروع ہوتی ہے۔ یہ دوسرا حصہ مکمل طور پر سیکھنے کے قابل ہے۔ اگر یہ سیکھنے کی چیز نہ ہوتا تو اصلاحِ سخن، دبستانوں کی روایت اور اساتذہ کے حلقے کیوں صدیوں تک قائم رہتے۔
”آؤ شاعری سیکھیں“ کا مقصد کسی پر سانچے مسلط کرنا نہیں، بلکہ اس بیج کو نگہداشت دینا ہے جو اس کے اندر پہلے ہی موجود ہے۔ یہ کورس اس چنگاری کو روشنی دینے کے لیے ہے جو اکثر غلط قافیوں، بگڑے ہوئے اوزان اور بے جوڑ ترکیبوں کے نیچے دب جاتی ہے۔ سیکھنے کا عمل فطانت کو ختم نہیں کرتا، اسے محفوظ اور مؤثر بناتا ہے۔ خداداد صلاحیت اور سیکھا ہوا فن ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ وہ دو بازو ہیں جن سے شاعری کی پرواز مکمل ہوتی ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
عمومی زحافات و اجازات:
(1) تسبیغ و اذالہ:
کسی بھی بحر کے آخری رکن میں ایک ساکن کے اضافے کو تسبیغ یا اِذالہ کہتے ہیں ، یہ دو نام عروضیوں نے دو الگ الگ صورتوں کے لیے رکھے ہیں ، یعنی اگر یہ اضافہ سبب پر (جیسے فعولن سے فعولان) تو اسے تسبیغ کہتے ہیں اور اگر یہ اضافہ وتد پر ہو (جیسے فاعلن سے فاعلان) تو اسے اِذالہ کہتے ہیں ، ساکن بڑھانے کی یہ اجازت ہر بحر میں ہوتی ہے اور کسی بھی غزل ، قطعہ وغیرہ کے کسی بھی ایک یا متعدد مصرعوں میں یہ ساکن بڑھایا جاسکتا ہے ، یعنی شاعر کو اختیار ہے کہ اپنی نظم یا غزل کے کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک ساکن بڑھادے ، اس تبدیلی کو بحر کا بدلنا نہیں کہتے۔
جس رکن یا بحر میں یہ تبدیلی کی جاتی ہے اسے "مُسَبَّغ" یا "مُذال" کہتے ہیں۔
(2) تسکین اوسط:
کسی بھی بحر میں تین متحرک اگر ایک ساتھ آجائیں تو شاعر کو یہ اختیار ہے کہ وہ درمیانے متحرک کو ساکن کردے ، اسے تسکینِ اوسط کہتے ہیں اور جس رکن یا بحر میں یہ تبدیلی کی جاتی ہے اسے "مُسَکَّن" کہتے ہیں۔ البتہ اس میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
(الف) تسکین اوسط کے نتیجے میں بحر تبدیل نہ ہوجائے ، چنانچہ بحر کامل "متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن" میں کسی بھی ایک یا زیادہ متفاعلن کو مستفعلن کرسکتے ہیں ، مگر بیک وقت سب کو کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ بحر رجز میں تبدیل ہوجائے گی۔
(ب) تسکین اوسط کا رواج بھی ہو ، جیسے کسی بھی بحر کے "فعِلن" کو "فعْلن" کرنا عام طور پر مروج ہے ، جبکہ "مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن" کو "مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن" کرنا مروج نہیں ہے ، مروج نہ ہونے کی صورت میں صرف تب تسکین اوسط سے کام لینا چاہیے جب تسکین کیے بغیر مطلوبہ خیال کو اس بحر میں پیش کرنا شاعر کے نزدیک ممکن نہ رہے۔
(3) سالم بحر کے ارکان میں کمی بیشی:
ہر وہ بحر جو سالم مستعمل ہے اس میں عام اجازت ہے کہ ہم اس کے ایک مصرع میں دو ارکان رکھ کر اسے "مربَّع" استعمال کریں ، یا تین ارکان رکھ کر "مسدس" یا چار ارکان رکھ کر "مثمَّن" برتیں یا اس سے بھی زیادہ کرلیں ، کوئی حرج نہیں ، چنانچہ بحر ہزج (مفاعیلن) کو درجِ ذیل ہر طرح سے استعمال کرسکتے ہیں:
٭ مربع: مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسدس: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مثمن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭معشر: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسدس مضاعف: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسبع مضاعف: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مربع کا مطلب ہے چار رکنی ، مسدس کا مطلب ہے چھ رکنی ، مثمن کا مطلب ہے آٹھ رکنی ، معشر کا مطلب دس رکنی اور مسبع کا مطلب ہے سات رکنی ، یہ گنتی پورے شعر کے ارکان کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہے ، جبکہ مضاعف کا مطلب ہے دوگنا ، یعنی مسدس وہ بحر ہوتی ہے جس کے ارکان کی تعداد دونوں مصرعوں میں کل ملا کر چھ ہو جبکہ مسدس مضاعف وہ بحر ہوتی ہے جس کے ارکان کی تعداد دونوں مصرعوں میں کل ملاکر بارہ ہو۔
(4) تعدد بحر:
ایک منظوم کاوش میں ایک ہی بحر استعمال کرنی چاہیے ، مثلا اگر کسی غزل کا مطلع "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" ہے تو اب اس غزل کا ہر شعر اسی بحر میں ہونا چاہیے ، یہ نہیں کہ ایک شعر تو اس میں ہو اور دوسرے شعر کا وزن "مفاعیلن مفاعیلن فعولن" ہو ، اسے تعدُّدِ بحر کہتے ہیں ، یہ اگر غلطی سے ہوجائے تو اس غلطی کو دور کرلینا چاہیے اور کسی شاعر نے قصدا یہ کیا ہو تو اسے ہم نہ بالکل غلط کہہ سکتے ہیں نہ بالکل صحیح ، بلکہ یہ محض اس کا ذاتی تجربہ کہلائے گا ، البتہ آزاد نظم میں معمولی فرق کے ساتھ بحر کو بدلا جاسکتا ہے ، اسی طرح پابند نظم کے اندر اگر مختلف بند ہوں اور ہر بند کی الگ بحر ہو تو اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، آج کل گیت وغیرہ میں متعدد بحروں سے کام لیا جارہا ہے ، تاہم رباعی کے تو چوبیس اوزان مخصوص ہیں ، ان سے باہر نکالنا درست نہیں ، قطعہ ، غزل اور مثنوی میں ایک ہی بحر رکھنی چاہیے اور جہاں کسی بڑے شاعر نے ایسا کیا ہو تو ہم اسے غلط کہنے کے بجائے ان کا ایک تجربہ کہہ سکتے ہیں۔
(5) غیر مستعمل بحر:
بعض شعراء محض تجربہ کرنے کے لیے ایسی بحروں میں بھی لکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو مروج و مستعمل نہیں ہوتیں ، یہ ایک طرح کا رسک ہوتا ہے ، کیونکہ اب انھیں ہر قاری کو بتانا پڑتا ہے کہ یہ فلانی بحر ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ عروض اور بحور سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے ہیں ، مبتدی حضرات کو ایسا تجربہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔
(6) نئی بحر:
بعض دوستوں کو یہ کرتے ہوئے بھی دیکھا کہ وہ از خود اپنی طرف سے ایک مصرع کا عجیب و غریب نامانوس سا وزن دریافت کرنے کے بعد اگلا مصرع بلکہ بقیہ اشعار اسی وزن میں کہہ کر کہتے ہیں کہ یہ ہم نے اپنی بحر خود بنائی ہے ، اللہ کے بندو! بحر کا مطلب وہ وزن ہے جو آپ کی زبان میں رائج ہو اور جس میں کوئی کلام کہتے ہوئے اہلِ زبان ایک خاص آہنگ محسوس کریں ، ورنہ ہم اپنے کسی بھی جملے کے افاعیل نکال کر اسے موزوں جملہ کہہ سکتے ہیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
(1) تسبیغ و اذالہ:
کسی بھی بحر کے آخری رکن میں ایک ساکن کے اضافے کو تسبیغ یا اِذالہ کہتے ہیں ، یہ دو نام عروضیوں نے دو الگ الگ صورتوں کے لیے رکھے ہیں ، یعنی اگر یہ اضافہ سبب پر (جیسے فعولن سے فعولان) تو اسے تسبیغ کہتے ہیں اور اگر یہ اضافہ وتد پر ہو (جیسے فاعلن سے فاعلان) تو اسے اِذالہ کہتے ہیں ، ساکن بڑھانے کی یہ اجازت ہر بحر میں ہوتی ہے اور کسی بھی غزل ، قطعہ وغیرہ کے کسی بھی ایک یا متعدد مصرعوں میں یہ ساکن بڑھایا جاسکتا ہے ، یعنی شاعر کو اختیار ہے کہ اپنی نظم یا غزل کے کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک ساکن بڑھادے ، اس تبدیلی کو بحر کا بدلنا نہیں کہتے۔
جس رکن یا بحر میں یہ تبدیلی کی جاتی ہے اسے "مُسَبَّغ" یا "مُذال" کہتے ہیں۔
(2) تسکین اوسط:
کسی بھی بحر میں تین متحرک اگر ایک ساتھ آجائیں تو شاعر کو یہ اختیار ہے کہ وہ درمیانے متحرک کو ساکن کردے ، اسے تسکینِ اوسط کہتے ہیں اور جس رکن یا بحر میں یہ تبدیلی کی جاتی ہے اسے "مُسَکَّن" کہتے ہیں۔ البتہ اس میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
(الف) تسکین اوسط کے نتیجے میں بحر تبدیل نہ ہوجائے ، چنانچہ بحر کامل "متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن" میں کسی بھی ایک یا زیادہ متفاعلن کو مستفعلن کرسکتے ہیں ، مگر بیک وقت سب کو کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ بحر رجز میں تبدیل ہوجائے گی۔
(ب) تسکین اوسط کا رواج بھی ہو ، جیسے کسی بھی بحر کے "فعِلن" کو "فعْلن" کرنا عام طور پر مروج ہے ، جبکہ "مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن" کو "مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن" کرنا مروج نہیں ہے ، مروج نہ ہونے کی صورت میں صرف تب تسکین اوسط سے کام لینا چاہیے جب تسکین کیے بغیر مطلوبہ خیال کو اس بحر میں پیش کرنا شاعر کے نزدیک ممکن نہ رہے۔
(3) سالم بحر کے ارکان میں کمی بیشی:
ہر وہ بحر جو سالم مستعمل ہے اس میں عام اجازت ہے کہ ہم اس کے ایک مصرع میں دو ارکان رکھ کر اسے "مربَّع" استعمال کریں ، یا تین ارکان رکھ کر "مسدس" یا چار ارکان رکھ کر "مثمَّن" برتیں یا اس سے بھی زیادہ کرلیں ، کوئی حرج نہیں ، چنانچہ بحر ہزج (مفاعیلن) کو درجِ ذیل ہر طرح سے استعمال کرسکتے ہیں:
٭ مربع: مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسدس: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مثمن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭معشر: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسدس مضاعف: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسبع مضاعف: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مربع کا مطلب ہے چار رکنی ، مسدس کا مطلب ہے چھ رکنی ، مثمن کا مطلب ہے آٹھ رکنی ، معشر کا مطلب دس رکنی اور مسبع کا مطلب ہے سات رکنی ، یہ گنتی پورے شعر کے ارکان کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہے ، جبکہ مضاعف کا مطلب ہے دوگنا ، یعنی مسدس وہ بحر ہوتی ہے جس کے ارکان کی تعداد دونوں مصرعوں میں کل ملا کر چھ ہو جبکہ مسدس مضاعف وہ بحر ہوتی ہے جس کے ارکان کی تعداد دونوں مصرعوں میں کل ملاکر بارہ ہو۔
(4) تعدد بحر:
ایک منظوم کاوش میں ایک ہی بحر استعمال کرنی چاہیے ، مثلا اگر کسی غزل کا مطلع "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" ہے تو اب اس غزل کا ہر شعر اسی بحر میں ہونا چاہیے ، یہ نہیں کہ ایک شعر تو اس میں ہو اور دوسرے شعر کا وزن "مفاعیلن مفاعیلن فعولن" ہو ، اسے تعدُّدِ بحر کہتے ہیں ، یہ اگر غلطی سے ہوجائے تو اس غلطی کو دور کرلینا چاہیے اور کسی شاعر نے قصدا یہ کیا ہو تو اسے ہم نہ بالکل غلط کہہ سکتے ہیں نہ بالکل صحیح ، بلکہ یہ محض اس کا ذاتی تجربہ کہلائے گا ، البتہ آزاد نظم میں معمولی فرق کے ساتھ بحر کو بدلا جاسکتا ہے ، اسی طرح پابند نظم کے اندر اگر مختلف بند ہوں اور ہر بند کی الگ بحر ہو تو اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، آج کل گیت وغیرہ میں متعدد بحروں سے کام لیا جارہا ہے ، تاہم رباعی کے تو چوبیس اوزان مخصوص ہیں ، ان سے باہر نکالنا درست نہیں ، قطعہ ، غزل اور مثنوی میں ایک ہی بحر رکھنی چاہیے اور جہاں کسی بڑے شاعر نے ایسا کیا ہو تو ہم اسے غلط کہنے کے بجائے ان کا ایک تجربہ کہہ سکتے ہیں۔
(5) غیر مستعمل بحر:
بعض شعراء محض تجربہ کرنے کے لیے ایسی بحروں میں بھی لکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو مروج و مستعمل نہیں ہوتیں ، یہ ایک طرح کا رسک ہوتا ہے ، کیونکہ اب انھیں ہر قاری کو بتانا پڑتا ہے کہ یہ فلانی بحر ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ عروض اور بحور سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے ہیں ، مبتدی حضرات کو ایسا تجربہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔
(6) نئی بحر:
بعض دوستوں کو یہ کرتے ہوئے بھی دیکھا کہ وہ از خود اپنی طرف سے ایک مصرع کا عجیب و غریب نامانوس سا وزن دریافت کرنے کے بعد اگلا مصرع بلکہ بقیہ اشعار اسی وزن میں کہہ کر کہتے ہیں کہ یہ ہم نے اپنی بحر خود بنائی ہے ، اللہ کے بندو! بحر کا مطلب وہ وزن ہے جو آپ کی زبان میں رائج ہو اور جس میں کوئی کلام کہتے ہوئے اہلِ زبان ایک خاص آہنگ محسوس کریں ، ورنہ ہم اپنے کسی بھی جملے کے افاعیل نکال کر اسے موزوں جملہ کہہ سکتے ہیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
قطعہ اور رباعی میں فرق:
عام طور پر جب کوئی دو شعر ایسے ہوں کہ دونوں مقفی ہوں ، دونوں کا مضمون بھی ایک ہو تو عام قاری کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے رباعی کہیں یا قطعہ؟ نیز شاعری میں جو خواص کا طبقہ ہے وہ بھی ان دونوں اصطلاحات کے بیچ بعض غلط فہمیوں کا شکار ہے ، علاوہ ازیں فنی لحاظ سے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان جتنے بھی فرق ہیں ان سب کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے تاکہ علوم و فنون کے دیگر ابواب کی طرح یہ باب بھی تشنگی اور سوال کے ہر گوشے کو بند کرسکے۔
قطعہ اور رباعی میں عنوان ، مصرعوں کی تعداد ، بحر ، قافیہ اور مضمون کئی لحاظ سے فرق ہے۔
بندے کی تحقیق کے مطابق قطعہ اور رباعی میں کل آٹھ فرق ہیں:
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(1) عنوان کے لحاظ سے فرق:
قطعے کا عنوان رکھا جاسکتا ہے اور رکھا جاتا ہے ، مگر رباعی کا عنوان نہیں رکھا جاتا۔
جیسے غالب کے اس قطعے کا نام ”شریکِ غالب“ ہے:
سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
کہ جو شریک ہو میرا، شریکِ غالبؔ ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(2) تعدادِ مصارع کے لحاظ سے فرق:
رباعی میں ہمیشہ چار مصرعے ہوتے ہیں ، جبکہ قطعے میں کم از کم چار مصرعے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
غالب کا یہ شاہکار قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(3) قافیہ و ردیف کے لحاظ سے فرق:
دوسرے اور چوتھے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا قطعہ اور رباعی دونوں میں ضروری ہے ، مگر پہلے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا صرف رباعی میں ضروری ہے ، قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس قطعے میں پہلا مصرع مقفی و مردف نہیں ہے:
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(4) بحر کے لحاظ سے پہلا فرق:
رباعی بحر ہزج کی دو بحروں کے ساتھ مخصوص ہے: (1)مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل (2) مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل ، انھی دو میں تسکین اوسط اور آخر میں اضافۂ ساکن سے کل چوبیس اوزان حاصل ہوتے ہیں ، ایک رباعی کے چار مصرعوں کو ان میں سے کسی بھی ایک یا چار مصرعوں کے مطابق لکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ قطعہ کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے ، قطعہ کسی بھی مانوس بحر میں کہہ سکتے ہیں۔
جیسے کامل کا یہ خوبصورت قطعہ بحر رمل میں ہے:
ابر تھا، بارش تھی، وقتِ گُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
قہقہے تھے،خندۂ قُلقُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
اک طرف آہیں تھیں، غم تھا، رنج تھے اور اک طرف
قُمریاں تھیں، نغمۂ بُلبُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(5) بحر کے لحاظ سے دوسرا فرق:
پانچواں فرق چوتھے فرق سے ملتا جلتا ہے ، مگر باریک سا فرق ہونے کی وجہ سے اسے الگ سے ذکر کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ رباعی کے لیے مذکورہ بالا دو بحروں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے جبکہ قطعے میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل خلاف اولیٰ ہے کیونکہ رائج مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہے اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل درست ہی نہیں کیونکہ یہ رائج ہی نہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(6) بحر کے لحاظ سے تیسرا فرق:
رباعی میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعل کو جمع کرسکتے ہیں مگر قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس رباعی میں یہ دونوں بحریں جمع ہیں:
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
ایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حال
آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم
اے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال
اس رباعی میں پہلے ، تیسرے اور چوتھے مصرع کی بحر ایک ہے اور دوسرے مصرع کی بحر دوسری ہے۔
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے
جوش صاحب کی اس رباعی میں تیسرے مصرع کی بحر باقی تینوں مصرعوں کی بحر سے جدا ہے۔
قطعہ میں ان دو بحروں کا جمع کرنا درست نہیں ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(7) غزل کے لحاظ سے فرق:
قطعہ کسی غزل کا بھی حصہ ہوسکتا ہے ، مگر رباعی نہیں۔
جیسے غالب کی اس غزل میں مقطع سے پہلے والے دو شعر بصورتِ قطعہ ہیں:
وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
ق
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
شعراء کی عادت ہے کہ وہ جب غزل میں قطعہ بند اشعار پیش کرتے ہیں تو ان کے شروع میں "ق" لکھ دیتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(8) مضمون کے لحاظ سے فرق:
قطعے کے اشعار میں بلحاظ مضمون تسلسل ہوتا ہے ، یہی تسلسل رباعی میں بھی ہوتا ہے ، مگر رباعی کے چوتھے مصرع کا معنوی لحاظ سے سب سے زیادہ جاندار ہونا ضروری ہے ، یہاں تک کہ رباعی کے ابتدائی تینوں مصرعوں کا معنوی لحاظ سے دار و مدار چوتھے مصرع پر ہوتا ہے ، یہ قید قطعے میں ملحوظ نہیں ہوتی۔
جیسے صوفی تبسم کا یہ قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
کتنی ہنگامہ خُو تمنّائیں
مضمحل ہو کے رہ گئیں دل میں
جیسے طوفاں کی مضطرب موجیں
سو گئی ہوں کنارِ ساحل میں
اب غالب کی اس رباعی میں غور کیجیے:
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل
ان دونوں کے چوتھے مصرع کی معنویت میں غور کرنے سے رباعی اور قطعہ کا یہ فرق بخوبی واضح ہوجائے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
عام طور پر جب کوئی دو شعر ایسے ہوں کہ دونوں مقفی ہوں ، دونوں کا مضمون بھی ایک ہو تو عام قاری کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے رباعی کہیں یا قطعہ؟ نیز شاعری میں جو خواص کا طبقہ ہے وہ بھی ان دونوں اصطلاحات کے بیچ بعض غلط فہمیوں کا شکار ہے ، علاوہ ازیں فنی لحاظ سے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان جتنے بھی فرق ہیں ان سب کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے تاکہ علوم و فنون کے دیگر ابواب کی طرح یہ باب بھی تشنگی اور سوال کے ہر گوشے کو بند کرسکے۔
قطعہ اور رباعی میں عنوان ، مصرعوں کی تعداد ، بحر ، قافیہ اور مضمون کئی لحاظ سے فرق ہے۔
بندے کی تحقیق کے مطابق قطعہ اور رباعی میں کل آٹھ فرق ہیں:
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(1) عنوان کے لحاظ سے فرق:
قطعے کا عنوان رکھا جاسکتا ہے اور رکھا جاتا ہے ، مگر رباعی کا عنوان نہیں رکھا جاتا۔
جیسے غالب کے اس قطعے کا نام ”شریکِ غالب“ ہے:
سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
کہ جو شریک ہو میرا، شریکِ غالبؔ ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(2) تعدادِ مصارع کے لحاظ سے فرق:
رباعی میں ہمیشہ چار مصرعے ہوتے ہیں ، جبکہ قطعے میں کم از کم چار مصرعے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
غالب کا یہ شاہکار قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(3) قافیہ و ردیف کے لحاظ سے فرق:
دوسرے اور چوتھے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا قطعہ اور رباعی دونوں میں ضروری ہے ، مگر پہلے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا صرف رباعی میں ضروری ہے ، قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس قطعے میں پہلا مصرع مقفی و مردف نہیں ہے:
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(4) بحر کے لحاظ سے پہلا فرق:
رباعی بحر ہزج کی دو بحروں کے ساتھ مخصوص ہے: (1)مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل (2) مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل ، انھی دو میں تسکین اوسط اور آخر میں اضافۂ ساکن سے کل چوبیس اوزان حاصل ہوتے ہیں ، ایک رباعی کے چار مصرعوں کو ان میں سے کسی بھی ایک یا چار مصرعوں کے مطابق لکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ قطعہ کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے ، قطعہ کسی بھی مانوس بحر میں کہہ سکتے ہیں۔
جیسے کامل کا یہ خوبصورت قطعہ بحر رمل میں ہے:
ابر تھا، بارش تھی، وقتِ گُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
قہقہے تھے،خندۂ قُلقُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
اک طرف آہیں تھیں، غم تھا، رنج تھے اور اک طرف
قُمریاں تھیں، نغمۂ بُلبُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(5) بحر کے لحاظ سے دوسرا فرق:
پانچواں فرق چوتھے فرق سے ملتا جلتا ہے ، مگر باریک سا فرق ہونے کی وجہ سے اسے الگ سے ذکر کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ رباعی کے لیے مذکورہ بالا دو بحروں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے جبکہ قطعے میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل خلاف اولیٰ ہے کیونکہ رائج مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہے اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل درست ہی نہیں کیونکہ یہ رائج ہی نہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(6) بحر کے لحاظ سے تیسرا فرق:
رباعی میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعل کو جمع کرسکتے ہیں مگر قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس رباعی میں یہ دونوں بحریں جمع ہیں:
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
ایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حال
آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم
اے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال
اس رباعی میں پہلے ، تیسرے اور چوتھے مصرع کی بحر ایک ہے اور دوسرے مصرع کی بحر دوسری ہے۔
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے
جوش صاحب کی اس رباعی میں تیسرے مصرع کی بحر باقی تینوں مصرعوں کی بحر سے جدا ہے۔
قطعہ میں ان دو بحروں کا جمع کرنا درست نہیں ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(7) غزل کے لحاظ سے فرق:
قطعہ کسی غزل کا بھی حصہ ہوسکتا ہے ، مگر رباعی نہیں۔
جیسے غالب کی اس غزل میں مقطع سے پہلے والے دو شعر بصورتِ قطعہ ہیں:
وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
ق
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
شعراء کی عادت ہے کہ وہ جب غزل میں قطعہ بند اشعار پیش کرتے ہیں تو ان کے شروع میں "ق" لکھ دیتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(8) مضمون کے لحاظ سے فرق:
قطعے کے اشعار میں بلحاظ مضمون تسلسل ہوتا ہے ، یہی تسلسل رباعی میں بھی ہوتا ہے ، مگر رباعی کے چوتھے مصرع کا معنوی لحاظ سے سب سے زیادہ جاندار ہونا ضروری ہے ، یہاں تک کہ رباعی کے ابتدائی تینوں مصرعوں کا معنوی لحاظ سے دار و مدار چوتھے مصرع پر ہوتا ہے ، یہ قید قطعے میں ملحوظ نہیں ہوتی۔
جیسے صوفی تبسم کا یہ قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
کتنی ہنگامہ خُو تمنّائیں
مضمحل ہو کے رہ گئیں دل میں
جیسے طوفاں کی مضطرب موجیں
سو گئی ہوں کنارِ ساحل میں
اب غالب کی اس رباعی میں غور کیجیے:
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل
ان دونوں کے چوتھے مصرع کی معنویت میں غور کرنے سے رباعی اور قطعہ کا یہ فرق بخوبی واضح ہوجائے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
تحصیل + تشکیل = تکمیل
یہ عنوان زندگی کو سمجھنے اور کامیاب بنانے کی ایک کنجی ہے۔ تحصیل سے مراد حاصل کرنا ہے، چاہے وہ مال ہو، علم ہو یا شہرت اور تشکیل سے مراد اس حاصل شدہ چیز کو سلیقے سے جوڑ دینا، ترتیب دے دینا اور مقصد کے ساتھ وابستہ کر دینا۔
تحصیل یعنی محض جمع کرتے جانے کو انگریزی میں کلیکشن کہتے ہیں، کلیکشن کے ساتھ اگر کنکشن (تشکیل) نہ ہو تو دل کو حقیقی چین نصیب نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کیا ہے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپس میں کتنا جڑا ہوا ہے۔ جب کنکشن پیدا ہو جاتا ہے تو تکمیل کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
تحصیل و تشکیل کا تعلق مال، علم اور شہرت تینوں کے ساتھ ہے۔
مال کی تحصیل بہت لوگ کر لیتے ہیں، مگر اس کی تشکیل کم لوگ ہی کرتے ہیں۔ جس کے پاس بہت پیسہ ہو مگر اس کا کوئی نظام اور کنکشن نہ ہو وہ بے سکون سا رہتا ہے اور جو محدود وسائل کو درست لوگوں، درست وقت اور درست فیصلوں سے جوڑ لیتا ہے وہ آگے نکل جاتا ہے۔ یعنی مال کے اعتبار سے کامیاب اور ناکام لوگوں کے درمیان فرق عموما مال کی مقدار میں نہیں، بلکہ اسی کنکشن کی سمجھ میں ہوتا ہے۔
علم میں یہ فرق اور بھی نمایاں ہے۔ کتابیں پڑھ لینا، کورسز کر لینا اور معلومات اکٹھی کر لینا تحصیل ہے، پھر اپنے اس علم کو عمل، تفکر اور سکھانے سے جوڑ دینا تشکیل ہے۔ جو علم صرف ذہن میں جمع رہے وہ بالآخر بوجھ بن جاتا ہے اور جو علم زندگی سے جڑ جائے وہ حکمت بن جاتا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگ کم علم حاصل کرکے بھی مؤثر ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ زیادہ علم والے ہوکر بھی منتشر الذہن ہی رہتے ہیں۔
اسی طرح شہرت کی تحصیل (جوکہ آج سب سے آسان ہوچکی ہے) کے بعد حاصل شدہ شہرت کی تشکیل سب سے مشکل کام ہے۔ نام کا پھیل جانا تحصیل ہے، اعتماد، کردار اور افادے کے ساتھ اس کا جڑ جانا تشکیل ہے۔ فینز مل جانا کلیکشن ہے، ان کا فیوریٹ بن جانا کنکشن ہے۔ جو شہرت خدائے لم یزل ولایزال تک پہنچنے کا سبب بنے وہ لازوال ہوجاتی ہے اور جو محض شور بن جائے وہ گھٹیا ہوکر شر بن جاتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ زندگی میں چیزیں جمع کرنا مسئلہ نہیں، مسئلہ انھیں ٹھیک طرح جوڑنا ہے۔ جب تحصیل اور تشکیل اکٹھے ہو جائیں تو تکمیل وجود پاتی ہے۔ جو شخص اس کنکشن کی حقیقت پالے گا وہ کم میں بھی مکمل ہوتا چلا جائے گا۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
یہ عنوان زندگی کو سمجھنے اور کامیاب بنانے کی ایک کنجی ہے۔ تحصیل سے مراد حاصل کرنا ہے، چاہے وہ مال ہو، علم ہو یا شہرت اور تشکیل سے مراد اس حاصل شدہ چیز کو سلیقے سے جوڑ دینا، ترتیب دے دینا اور مقصد کے ساتھ وابستہ کر دینا۔
تحصیل یعنی محض جمع کرتے جانے کو انگریزی میں کلیکشن کہتے ہیں، کلیکشن کے ساتھ اگر کنکشن (تشکیل) نہ ہو تو دل کو حقیقی چین نصیب نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کیا ہے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپس میں کتنا جڑا ہوا ہے۔ جب کنکشن پیدا ہو جاتا ہے تو تکمیل کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
تحصیل و تشکیل کا تعلق مال، علم اور شہرت تینوں کے ساتھ ہے۔
مال کی تحصیل بہت لوگ کر لیتے ہیں، مگر اس کی تشکیل کم لوگ ہی کرتے ہیں۔ جس کے پاس بہت پیسہ ہو مگر اس کا کوئی نظام اور کنکشن نہ ہو وہ بے سکون سا رہتا ہے اور جو محدود وسائل کو درست لوگوں، درست وقت اور درست فیصلوں سے جوڑ لیتا ہے وہ آگے نکل جاتا ہے۔ یعنی مال کے اعتبار سے کامیاب اور ناکام لوگوں کے درمیان فرق عموما مال کی مقدار میں نہیں، بلکہ اسی کنکشن کی سمجھ میں ہوتا ہے۔
علم میں یہ فرق اور بھی نمایاں ہے۔ کتابیں پڑھ لینا، کورسز کر لینا اور معلومات اکٹھی کر لینا تحصیل ہے، پھر اپنے اس علم کو عمل، تفکر اور سکھانے سے جوڑ دینا تشکیل ہے۔ جو علم صرف ذہن میں جمع رہے وہ بالآخر بوجھ بن جاتا ہے اور جو علم زندگی سے جڑ جائے وہ حکمت بن جاتا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگ کم علم حاصل کرکے بھی مؤثر ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ زیادہ علم والے ہوکر بھی منتشر الذہن ہی رہتے ہیں۔
اسی طرح شہرت کی تحصیل (جوکہ آج سب سے آسان ہوچکی ہے) کے بعد حاصل شدہ شہرت کی تشکیل سب سے مشکل کام ہے۔ نام کا پھیل جانا تحصیل ہے، اعتماد، کردار اور افادے کے ساتھ اس کا جڑ جانا تشکیل ہے۔ فینز مل جانا کلیکشن ہے، ان کا فیوریٹ بن جانا کنکشن ہے۔ جو شہرت خدائے لم یزل ولایزال تک پہنچنے کا سبب بنے وہ لازوال ہوجاتی ہے اور جو محض شور بن جائے وہ گھٹیا ہوکر شر بن جاتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ زندگی میں چیزیں جمع کرنا مسئلہ نہیں، مسئلہ انھیں ٹھیک طرح جوڑنا ہے۔ جب تحصیل اور تشکیل اکٹھے ہو جائیں تو تکمیل وجود پاتی ہے۔ جو شخص اس کنکشن کی حقیقت پالے گا وہ کم میں بھی مکمل ہوتا چلا جائے گا۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
تخلص خلاصے سے ہے، یہ اس مختصر نام کو کہتے ہیں جو شاعر اشعار میں خود کے لیے استعمال کرتا ہے، جیسے مرزا اسد اللہ خاں غالب کا تخلص غالب تھا، لیکن انھوں نے اپنے ابتدائی دور میں اسد کے نام سے بھی شاعری کی، بعد میں اسد نامی ایک اور شاعر سے مماثلت کی وجہ سے تخلص تبدیل کرکے غالب اختیار کیا جو ان کی پہچان بن گیا۔
شاعر کو تخلص رکھتے وقت درج ذیل باتیں مد نظر رکھنی چاہیے:
(1) نام اس کی شخصیت، مزاج اور شعری رجحان سے ہم آہنگ ہو۔ مثلا اگر کوئی شخص بہادر ہے اور شاعری بھی جنگوں اور تحریکوں سے متعلق کرتا ہے تو اسے شجاع، اسد، لیث، غضنفر جیسا تخلص رکھنا چاہیے۔
(2) زبان پر آسانی سے آجائے اور سننے میں بھلا معلوم ہو، بہت طویل یا مشکل تخلص یاد نہیں رہتا اور اشعار میں بھی بوجھ بن جاتا ہے۔
(3) یہ بھی ضروری ہے کہ تخلص پہلے سے کسی بہت مشہور شاعر کے ساتھ اس حد تک منسوب نہ ہو کہ الجھن پیدا ہو، اگرچہ ہم نام ہونا منع نہیں لیکن انفرادیت شاعر کی پہچان بنتی ہے۔
(4) اسی طرح تخلص ایسا ہو جو شعر میں مختلف مواقع پر برتا جا سکے، یعنی صیغہ، ندا یا خطاب کی صورت میں لانا مشکل نہ ہو، مثلا اگر ”تحفہ“ تخلص کیا تو حرف ربط سے پہلے امالے کی وجہ سے ”تحفے“ کرنا پڑے گا۔
(5) تخلص میں یہ بھی مد نظر رہے کہ اگر کسی قاری کو شاعر کا تخلص معلوم نہ ہو تو وہ شعر کا مطلب کچھ اور نہ سمجھ بیٹھے، مثلا ”رنگ“ اگر تخلص ہو تو ہر مقطع الجھن میں ڈالنے والا ہوگا۔
(6) تخلص ایسا ہو کہ اصل نام کے ساتھ مل کر ایک بالکل منفرد نام بن جائے تاکہ گوگل سرچ میں ایک سے زیادہ شعراء نہ آجائیں۔
(7) گوگل سرچ ہی کی مناسبت سے نام میں یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ اس کی انگریزی اسپیلنگ میں لکھنے والوں کو تذبذب نہ یو، مثلا ”میعاد“ جیسا کوئی لفظ نہ ہو ورنہ لوگ یہی سوچتے رہ جائیں گے کہ اسے Meeaad، Miaad، Miad، Mia'ad، Mea'ad وغیرہ میں سے کیا لکھیں۔
(8) شاعر کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ تخلص وقتی جوش یا دیکھا دیکھی میں نہ رکھا جائے، کیونکہ یہی نام عمر بھر اس کی شناخت بن جاتا ہے، اس لیے سوچ سمجھ کر تخلص رکھے، سرسری سا نہ رکھے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
شاعر کو تخلص رکھتے وقت درج ذیل باتیں مد نظر رکھنی چاہیے:
(1) نام اس کی شخصیت، مزاج اور شعری رجحان سے ہم آہنگ ہو۔ مثلا اگر کوئی شخص بہادر ہے اور شاعری بھی جنگوں اور تحریکوں سے متعلق کرتا ہے تو اسے شجاع، اسد، لیث، غضنفر جیسا تخلص رکھنا چاہیے۔
(2) زبان پر آسانی سے آجائے اور سننے میں بھلا معلوم ہو، بہت طویل یا مشکل تخلص یاد نہیں رہتا اور اشعار میں بھی بوجھ بن جاتا ہے۔
(3) یہ بھی ضروری ہے کہ تخلص پہلے سے کسی بہت مشہور شاعر کے ساتھ اس حد تک منسوب نہ ہو کہ الجھن پیدا ہو، اگرچہ ہم نام ہونا منع نہیں لیکن انفرادیت شاعر کی پہچان بنتی ہے۔
(4) اسی طرح تخلص ایسا ہو جو شعر میں مختلف مواقع پر برتا جا سکے، یعنی صیغہ، ندا یا خطاب کی صورت میں لانا مشکل نہ ہو، مثلا اگر ”تحفہ“ تخلص کیا تو حرف ربط سے پہلے امالے کی وجہ سے ”تحفے“ کرنا پڑے گا۔
(5) تخلص میں یہ بھی مد نظر رہے کہ اگر کسی قاری کو شاعر کا تخلص معلوم نہ ہو تو وہ شعر کا مطلب کچھ اور نہ سمجھ بیٹھے، مثلا ”رنگ“ اگر تخلص ہو تو ہر مقطع الجھن میں ڈالنے والا ہوگا۔
(6) تخلص ایسا ہو کہ اصل نام کے ساتھ مل کر ایک بالکل منفرد نام بن جائے تاکہ گوگل سرچ میں ایک سے زیادہ شعراء نہ آجائیں۔
(7) گوگل سرچ ہی کی مناسبت سے نام میں یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ اس کی انگریزی اسپیلنگ میں لکھنے والوں کو تذبذب نہ یو، مثلا ”میعاد“ جیسا کوئی لفظ نہ ہو ورنہ لوگ یہی سوچتے رہ جائیں گے کہ اسے Meeaad، Miaad، Miad، Mia'ad، Mea'ad وغیرہ میں سے کیا لکھیں۔
(8) شاعر کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ تخلص وقتی جوش یا دیکھا دیکھی میں نہ رکھا جائے، کیونکہ یہی نام عمر بھر اس کی شناخت بن جاتا ہے، اس لیے سوچ سمجھ کر تخلص رکھے، سرسری سا نہ رکھے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
ذہنی و قلبی سکون حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالٰی سے مضبوط تعلق قائم کیا جائے، کیونکہ دلوں کا حقیقی سکون اسی کے ذکر میں ہے، نیز روزانہ پنج وقتہ نماز کا اہتمام، تلاوتِ قرآن کریم اور مختصر مگر مستقل ذکرِ الٰہی ہمیں اندر سے مضبوط کرتا ہے۔ علاوہ ازیں نیند پوری کرنا، موبائل اور سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کم کرنا، بازاری کھانوں اور فضول مصروفیات سے پرہیز بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب چیزیں بھی اضطراب کو بڑھاتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ روزانہ پیدل چلنا، ورزش کرنا، لوگوں کے ساتھ رویوں کو مثبت رکھنا بھی ذہنی بوجھ کم کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی حد کو پہچانیں، ہر چیز اپنے بس میں سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسا کریں، کیونکہ جب ذمہ داریوں کا بوجھ دل سے اترتا ہے تو سکون خود بخود آنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک مختصر ترین عمل مسکرانا بھی ہے، سنت سمجھ کر مسکرانا سونے پر سہاگا کا کام کرتا ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
رباعی:
(شرائط و اوزان)
رباعی کی کل چار شرائط ہیں:
(1) چار مصرعے ہوں ، نہ کم نہ زیادہ۔
(2) پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو۔
(3) مضمون مکمل اور مربوط ہو اور آخری مصرع پر پوری رباعی معنوی لحاظ سے موقوف ہو۔
(4) رباعی اپنے مخصوص وزن میں ہے، جس کی تفصیل نیچے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباعی کا وزن آسان انداز میں:
رباعی کا یہ وزن ہے:
فعْلن فعْلن فعْلن فعْلن فعْلن
اس میں تین اجازتیں ہیں:
(1) دوسرے فعْلن میں 2 احتمال ہیں:
فعْلن / فعِلن
(2) تیسرے فعْلن میں 3 احتمال ہیں:
فعْلن / فعِلن / فعول
(3) آخری فعْلن میں 4 احتمال ہیں:
فعْلن / فعْلان / فعِلن / فعِلان
یوں 2 × 3 × 4 کا حاصل ضرب 24 ہے، رباعی کے چوبیس اوزان سے یہی مراد ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
(شرائط و اوزان)
رباعی کی کل چار شرائط ہیں:
(1) چار مصرعے ہوں ، نہ کم نہ زیادہ۔
(2) پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو۔
(3) مضمون مکمل اور مربوط ہو اور آخری مصرع پر پوری رباعی معنوی لحاظ سے موقوف ہو۔
(4) رباعی اپنے مخصوص وزن میں ہے، جس کی تفصیل نیچے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباعی کا وزن آسان انداز میں:
رباعی کا یہ وزن ہے:
فعْلن فعْلن فعْلن فعْلن فعْلن
اس میں تین اجازتیں ہیں:
(1) دوسرے فعْلن میں 2 احتمال ہیں:
فعْلن / فعِلن
(2) تیسرے فعْلن میں 3 احتمال ہیں:
فعْلن / فعِلن / فعول
(3) آخری فعْلن میں 4 احتمال ہیں:
فعْلن / فعْلان / فعِلن / فعِلان
یوں 2 × 3 × 4 کا حاصل ضرب 24 ہے، رباعی کے چوبیس اوزان سے یہی مراد ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
درس نظامی ایک بالکل غیر جانب دار اور بنیادی کورس ہے، اس کا مقصد نہ فرقہ واریت پڑھانا ہے نہ ہی مفتی بنانا، یہی وجہ ہے کہ یہ مکمل کورس طالبعلم کو نہ مربوط علم دیتا ہے، نہ کسی فن کا امام بناتا ہے، بلکہ یہ ہر ہر فن کی بیسک پڑھا کر طالبعلم کے اندر استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ اپنے اس علمی سفر کو آگے جاری رکھ سکے، لہذا فضلائے درس نظامی درج ذیل امور ذہن میں رکھیں تو ان شاء اللہ ضرور ترقی کریں گے:
(1) لوگوں کو دینی مسائل بتانے میں حد درجے محتاط رہیں اور مسئلہ مستحضر نہ ہونے کی صورت میں ”لا ادری“ کہنے میں ذرا سا بھی تامل نہ کریں۔
(2) فنون درس نظامی میں سے جس میں خصوصی ذوق رکھتے ہیں اس میں خصوصی محنت کریں اور اس کے لیے کسی ادارے میں تخصص کروایا جاتا ہو تو ضرور کریں۔
(3) کسی اللہ والے کی صحبت میں مسلسل بیٹھنا شروع کریں تاکہ علم کی صورت کے ساتھ ساتھ حقیقت بھی ملنا شروع ہوجائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
(1) لوگوں کو دینی مسائل بتانے میں حد درجے محتاط رہیں اور مسئلہ مستحضر نہ ہونے کی صورت میں ”لا ادری“ کہنے میں ذرا سا بھی تامل نہ کریں۔
(2) فنون درس نظامی میں سے جس میں خصوصی ذوق رکھتے ہیں اس میں خصوصی محنت کریں اور اس کے لیے کسی ادارے میں تخصص کروایا جاتا ہو تو ضرور کریں۔
(3) کسی اللہ والے کی صحبت میں مسلسل بیٹھنا شروع کریں تاکہ علم کی صورت کے ساتھ ساتھ حقیقت بھی ملنا شروع ہوجائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دورِ حاضر میں وقت بچانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے کلام لکھوا کر اس میں عروضی یا لسانی ترامیم کرنا تکنیکی اعتبار سے تو ممکن ہے ،لیکن ادبی و اخلاقی نقطہ نظر سے یہ عمل مستحسن نہیں ،کیونکہ شاعری خالصتاً انسانی جذبات، دلی کیفیات اور وجدان کی عکاس ہوتی ہے جو کسی مشین میں پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ جہاں تک اس کلام کی ملکیت کا تعلق ہے ،چونکہ کلام کا بنیادی ڈھانچہ، خیال اور الفاظ کا انتخاب مشین کا ہوتا ہے اور انسان صرف اس کی نوک پلک سنوارتا ہے ،لہٰذا اسے مکمل طور پر اپنے نام سے منسوب کرنا علمی و ادبی دیانت کے منافی ہے اور اسے خالص انسانی تخلیق قرار دینے کے بجائے مشین اور انسان کی مشترکہ کاوش ہی قرار دیا جائے گا ،البتہ اگر ذہن پر جمود طاری ہو تو خود کو لکھنے کی طرف مائل کرنے کے لیے اے آئی سے اپنی زمین میں بیس تیس اشعار لکھوانا اور ان سے تحریک حاصل کرکے اپنے اشعار کہنا اور اس پورے عمل کے دوران اے آئی سے لکھوائے ہوئے اشعار سے کوئی خیال کشید کرنا اور پھر اسے اپنے لفظوں کا روپ دینا بالکل درست عمل ہے ،کیونکہ اس طرح اے آئی کو محض ایک مہمیز یا تخیلاتی معاون کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ،جبکہ حتمی کلام اور اس کا تخلیقی جوہر خالصتاً شاعر کی اپنی ہی ملکیت ہوتا ہے۔ 🙂
تفسیری مکاتب:
(از ثناءاللہ حسین - اسلام آباد)
میرے نزدیک تفسیر کے مدارس (مکاتبِ فکر) تین ہیں:
1- مدرسۂ / مکتب طبری: جس کی بنیاد روایت (اثر) پر ہے۔
2- مدرسہ/ مکتب قرطبی: جس کی بنیاد فقہ پر ہے۔
3- مدرسہ/ مکتب زمخشری: جس کی بنیاد زبان (لغت) پر ہے۔
1.... طبری مکتب سے یہ کتب پیدا ہوئیں:
ابن کثیر، البغوی، زاد المسیر، اور الدر المنثور۔
2... قرطبی سے ان تفاسیر میں استفادہ کیا گیا:
امام شوکانی/ فتح القدیر ۔۔۔ آلوسی/ روح المعانی
3... زمخشری مکتب سے یہ کتب پیدا ہوئیں:
البحر المحیط، البیضاوی اور اس کے حواشی، الجلالین اور اس کے حواشی، ابو السعود، النسفی، روح المعانی، اور التحریر والتنویر۔
یعنی ان تینوں تفسیروں کا مطالعہ کریں یہ امہات ہیں
) بالتصرف)
(از ثناءاللہ حسین - اسلام آباد)
میرے نزدیک تفسیر کے مدارس (مکاتبِ فکر) تین ہیں:
1- مدرسۂ / مکتب طبری: جس کی بنیاد روایت (اثر) پر ہے۔
2- مدرسہ/ مکتب قرطبی: جس کی بنیاد فقہ پر ہے۔
3- مدرسہ/ مکتب زمخشری: جس کی بنیاد زبان (لغت) پر ہے۔
1.... طبری مکتب سے یہ کتب پیدا ہوئیں:
ابن کثیر، البغوی، زاد المسیر، اور الدر المنثور۔
2... قرطبی سے ان تفاسیر میں استفادہ کیا گیا:
امام شوکانی/ فتح القدیر ۔۔۔ آلوسی/ روح المعانی
3... زمخشری مکتب سے یہ کتب پیدا ہوئیں:
البحر المحیط، البیضاوی اور اس کے حواشی، الجلالین اور اس کے حواشی، ابو السعود، النسفی، روح المعانی، اور التحریر والتنویر۔
یعنی ان تینوں تفسیروں کا مطالعہ کریں یہ امہات ہیں
) بالتصرف)
دوستو! ہم یوں ترقی سے وفا کرتے نہیں
یا سبب ہی چھوڑتے ہیں یا دعا کرتے نہیں
ایک وہ ہیں جو دلائل میں ہیں ہر دم غوطہ زن
ایک ہم ہیں جو بیانِ مدعا کرتے نہیں
ہم نے کی ہے خیر خواہی میں ہمیشہ انتہا
ان کو شکوہ ہے کہ ہم بے انتہا کرتے نہیں
پا نہیں سکتے حقیقی دوست، جب تک دوستو!
ربِّ دل سے اپنے دل کو آشنا کرتے نہیں
فاصلے ہی کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں وہ
فیصلے کرنے میں جو کچھ آسرا کرتے نہیں
جو ردیفوں سے حریفوں کی طرح آتا ہو پیش
ایسے مشکل لفظ کو ہم قافیہ کرتے نہیں
ان کی اس عادت کے بارے میں اسامہ! کیا کہوں؟
پیٹھ پیچھے بولتے ہیں، سامنا کرتے نہیں
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
یا سبب ہی چھوڑتے ہیں یا دعا کرتے نہیں
ایک وہ ہیں جو دلائل میں ہیں ہر دم غوطہ زن
ایک ہم ہیں جو بیانِ مدعا کرتے نہیں
ہم نے کی ہے خیر خواہی میں ہمیشہ انتہا
ان کو شکوہ ہے کہ ہم بے انتہا کرتے نہیں
پا نہیں سکتے حقیقی دوست، جب تک دوستو!
ربِّ دل سے اپنے دل کو آشنا کرتے نہیں
فاصلے ہی کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں وہ
فیصلے کرنے میں جو کچھ آسرا کرتے نہیں
جو ردیفوں سے حریفوں کی طرح آتا ہو پیش
ایسے مشکل لفظ کو ہم قافیہ کرتے نہیں
ان کی اس عادت کے بارے میں اسامہ! کیا کہوں؟
پیٹھ پیچھے بولتے ہیں، سامنا کرتے نہیں
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
شبِ برأت کے فضائل و اعمال
شبِ برأت کے فضائل:
(1) اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اسے اتارا جاتا ہے۔
(2) اس سال پیدا ہونے والے بچوں اور مرنے والے افراد کے نام لکھ لیے جاتے ہیں۔
(3) غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتی ہے اور پکارا جاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت، رزق یا عافیت طلب کرنے والا؟
(4) اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں۔
(5) اس رات میں بندوں کے اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پہنچائے جاتے ہیں۔
(6) سب مسلمانوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ان گناہوں میں مبتلا ہوں:
1. شرک
2. والدین کی نافرمانی
3. کینہ پروری
4. شراب نوشی
5. قتل
6. چغل خوری
7. تکبر
شبِ برأت کے اعمال:
(1) عبادت کرنا:
اس رات میں تلاوت، ذکر اور نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے، مگر یہ عبادات شور و شغب یا اجتماعات کے بجائے تنہائی اور گوشہ نشینی میں ہونی چاہییں۔
(2) دعا مانگنا:
اللہ تعالیٰ سے خصوصاً اس کی رضا، ایمانِ کامل، تقویٰ اور عافیت کی دعا مانگنی چاہیے۔
(3) قبرستان جانا:
اتباعِ سنت کی نیت سے زندگی میں ایک آدھ بار اس رات بھی قبرستان جا کر مُردوں کے لیے دعا کرنا۔
(4) روزہ رکھنا:
پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
(5) توبہ:
جن بڑے گناہوں کی وجہ سے اس رات مغفرت رک جاتی ہے، ان سے سچی توبہ کرنی چاہیے تاکہ اس رات کی برکات حاصل ہو سکیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
شبِ برأت کے فضائل:
(1) اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اسے اتارا جاتا ہے۔
(2) اس سال پیدا ہونے والے بچوں اور مرنے والے افراد کے نام لکھ لیے جاتے ہیں۔
(3) غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتی ہے اور پکارا جاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت، رزق یا عافیت طلب کرنے والا؟
(4) اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں۔
(5) اس رات میں بندوں کے اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پہنچائے جاتے ہیں۔
(6) سب مسلمانوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ان گناہوں میں مبتلا ہوں:
1. شرک
2. والدین کی نافرمانی
3. کینہ پروری
4. شراب نوشی
5. قتل
6. چغل خوری
7. تکبر
شبِ برأت کے اعمال:
(1) عبادت کرنا:
اس رات میں تلاوت، ذکر اور نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے، مگر یہ عبادات شور و شغب یا اجتماعات کے بجائے تنہائی اور گوشہ نشینی میں ہونی چاہییں۔
(2) دعا مانگنا:
اللہ تعالیٰ سے خصوصاً اس کی رضا، ایمانِ کامل، تقویٰ اور عافیت کی دعا مانگنی چاہیے۔
(3) قبرستان جانا:
اتباعِ سنت کی نیت سے زندگی میں ایک آدھ بار اس رات بھی قبرستان جا کر مُردوں کے لیے دعا کرنا۔
(4) روزہ رکھنا:
پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
(5) توبہ:
جن بڑے گناہوں کی وجہ سے اس رات مغفرت رک جاتی ہے، ان سے سچی توبہ کرنی چاہیے تاکہ اس رات کی برکات حاصل ہو سکیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
*خوشی کا جھونکا:*
(مدرسہ واصفیہ ، ختم بخاری (2025) کی نظم)
درسِ نظامی اپنا، وہ دور ہے سہانا
آتا نہیں دوبارہ ایسا حسیں زمانہ
راتوں، دنوں، مہینوں، سالوں کا وہ زمانہ
اب رہ گیا ہے بن کر یادوں کا اک فسانہ
گزرا ہوا وہ عرصہ غمگین کر گیا ہے
جیسے خوشی کا جھونکا آکر گزر گیا ہے
وہ حاضری کے دھڑکے، وہ باریوں کے تڑکے
وہ لغزشوں کے کھٹکے، وہ بجلیوں کے کڑکے
عظمت اساتذہ کی، الفت اساتذہ کی
صحبت اساتذہ کی، برکت اساتذہ کی
اک بردبار عالم حضرت جناب گلزار
اک شاہکار عالم حضرت جناب سردار
اک متقی مسلمان مولانا نورِ رحمان
اک خوش مزاج انسان حضرت جناب عرفان
مفتی مطیع صاحب ذاکر، ذہین، زاہد
مولانا عبد قدوس مقبول اور عابد
ماہر، شفیق، مفتی حضرت جناب طہ
حضرت جنید صاحب انداز دوستانہ
سارے اساتذہ کا ہم پر ہے کتنا احسان
ہر علم و فن کی مشکل کردی انھوں نے آسان
انگلی پکڑ کے ہم کو چلنا سکھا دیا ہے
ان کے فراق نے اب دل کو رلا دیا ہے
درخواست ہے ہماری سارے اساتذہ سے
ہے التجا ہماری سارے تلامذہ سے
کوتاہیاں ہماری ساری معاف کردیں
فرقت سے پہلے پہلے دل اپنا صاف کردیں
چاہا اگر خدا نے ہم ساتھ ہی چلیں گے
ورنہ بطورِ مسلم جنت میں پھر ملیں گے
علم و عمل کی یارو! قلت نہیں کسی کی
رب کی رضا نہ ہو تو وقعت نہیں کسی کی
آپس میں جوڑ رکھنا، آداب مت بھلانا
سینہ بسینہ ہم نے پایا ہے یہ خزانہ
ریحاں، تقی، صہیب اور بھائی اسامہ، طلحہ
ذیفی، عمیر توفیق اور مصطفی، حذیفہ
سب کی طرف سے سب کو ساری دعائیں حاضر
اللہ سب کا حافظ ، اللہ سب کا ناصر
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
(مدرسہ واصفیہ ، ختم بخاری (2025) کی نظم)
درسِ نظامی اپنا، وہ دور ہے سہانا
آتا نہیں دوبارہ ایسا حسیں زمانہ
راتوں، دنوں، مہینوں، سالوں کا وہ زمانہ
اب رہ گیا ہے بن کر یادوں کا اک فسانہ
گزرا ہوا وہ عرصہ غمگین کر گیا ہے
جیسے خوشی کا جھونکا آکر گزر گیا ہے
وہ حاضری کے دھڑکے، وہ باریوں کے تڑکے
وہ لغزشوں کے کھٹکے، وہ بجلیوں کے کڑکے
عظمت اساتذہ کی، الفت اساتذہ کی
صحبت اساتذہ کی، برکت اساتذہ کی
اک بردبار عالم حضرت جناب گلزار
اک شاہکار عالم حضرت جناب سردار
اک متقی مسلمان مولانا نورِ رحمان
اک خوش مزاج انسان حضرت جناب عرفان
مفتی مطیع صاحب ذاکر، ذہین، زاہد
مولانا عبد قدوس مقبول اور عابد
ماہر، شفیق، مفتی حضرت جناب طہ
حضرت جنید صاحب انداز دوستانہ
سارے اساتذہ کا ہم پر ہے کتنا احسان
ہر علم و فن کی مشکل کردی انھوں نے آسان
انگلی پکڑ کے ہم کو چلنا سکھا دیا ہے
ان کے فراق نے اب دل کو رلا دیا ہے
درخواست ہے ہماری سارے اساتذہ سے
ہے التجا ہماری سارے تلامذہ سے
کوتاہیاں ہماری ساری معاف کردیں
فرقت سے پہلے پہلے دل اپنا صاف کردیں
چاہا اگر خدا نے ہم ساتھ ہی چلیں گے
ورنہ بطورِ مسلم جنت میں پھر ملیں گے
علم و عمل کی یارو! قلت نہیں کسی کی
رب کی رضا نہ ہو تو وقعت نہیں کسی کی
آپس میں جوڑ رکھنا، آداب مت بھلانا
سینہ بسینہ ہم نے پایا ہے یہ خزانہ
ریحاں، تقی، صہیب اور بھائی اسامہ، طلحہ
ذیفی، عمیر توفیق اور مصطفی، حذیفہ
سب کی طرف سے سب کو ساری دعائیں حاضر
اللہ سب کا حافظ ، اللہ سب کا ناصر
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
ماہِ رمضان
توبہ کروانے مسلمان سے ماہِ رمضان
آگیا پھر سے اسی شان سے ماہِ رمضان
لب کو ملواتا ہے قرآن سے ماہِ رمضان
دل کو لگواتا ہے رحمان سے ماہِ رمضان
دس مہینوں سے تھا ہرآن اسی کا ارمان
کیوں نہ محسوس ہو شعبان سے ماہِ رمضان
یہ ہے آیات میں، اس میں ہے نزولِ قرآن
کتنا منسوب ہے قرآن سے ماہِ رمضان
ڈھال بن جاتا ہے آتے ہی باذنِ یزدان
نفس کے مکر سے، شیطان سے سے ماہِ رمضان
پیٹ خالی ہے، زبانوں پہ ہے جاری قرآن
کتنا لبریز ہے فیضان سے ماہِ رمضان
رحمتیں رب کی اترتی ہیں اسامہ! ہر آن
کیوں نہ پیارا ہو دل و جان سے ماہِ رمضان
محمد اسامہ سَرسَری
توبہ کروانے مسلمان سے ماہِ رمضان
آگیا پھر سے اسی شان سے ماہِ رمضان
لب کو ملواتا ہے قرآن سے ماہِ رمضان
دل کو لگواتا ہے رحمان سے ماہِ رمضان
دس مہینوں سے تھا ہرآن اسی کا ارمان
کیوں نہ محسوس ہو شعبان سے ماہِ رمضان
یہ ہے آیات میں، اس میں ہے نزولِ قرآن
کتنا منسوب ہے قرآن سے ماہِ رمضان
ڈھال بن جاتا ہے آتے ہی باذنِ یزدان
نفس کے مکر سے، شیطان سے سے ماہِ رمضان
پیٹ خالی ہے، زبانوں پہ ہے جاری قرآن
کتنا لبریز ہے فیضان سے ماہِ رمضان
رحمتیں رب کی اترتی ہیں اسامہ! ہر آن
کیوں نہ پیارا ہو دل و جان سے ماہِ رمضان
محمد اسامہ سَرسَری
نظر تجدید پاتی ہے مجدد کی معیّت میں
عقیدے ٹھیک ہوتے ہیں موحِّد کی معیّت میں
اسے دنیا سے رغبت پھر دوبارہ ہو نہیں سکتی
جو دنیا چھوڑ کر آجائے زاہد کی معیت میں
سکھائیں والدہ کی گود نے شفقت کی سب شکلیں
ملا احساسِ ذمہ داری والد کی معیّت میں
سخاوت ملتی رہتی ہے سخی سے ملتے رہنے سے
شجاعت بڑھتی جاتی ہے مجاہد کی معیّت میں
شمامت تیز کر دیتی ہے اک عطار کی صحبت
تلاوت حسن پاتی ہے مجوِّد کی معیّت میں
نمازِ باجماعت اور طواف و سعیِ حج، عمرہ
عبادت کا مزہ آتا ہے عابد کی معیّت میں
اسامہ! جا معیّت میں تو اپنے پیرِ کامل کی
ملے گی جامعی٘ت تجھ کو مرشد کی معیّت میں
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
عقیدے ٹھیک ہوتے ہیں موحِّد کی معیّت میں
اسے دنیا سے رغبت پھر دوبارہ ہو نہیں سکتی
جو دنیا چھوڑ کر آجائے زاہد کی معیت میں
سکھائیں والدہ کی گود نے شفقت کی سب شکلیں
ملا احساسِ ذمہ داری والد کی معیّت میں
سخاوت ملتی رہتی ہے سخی سے ملتے رہنے سے
شجاعت بڑھتی جاتی ہے مجاہد کی معیّت میں
شمامت تیز کر دیتی ہے اک عطار کی صحبت
تلاوت حسن پاتی ہے مجوِّد کی معیّت میں
نمازِ باجماعت اور طواف و سعیِ حج، عمرہ
عبادت کا مزہ آتا ہے عابد کی معیّت میں
اسامہ! جا معیّت میں تو اپنے پیرِ کامل کی
ملے گی جامعی٘ت تجھ کو مرشد کی معیّت میں
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
یہ دنیا کیا ہے؟ خالق کا ارادہ ہے
وہ عقبٰی کیا ہے؟ مالک کا اعادہ ہے
خدا ہی تھا، خدا ہی ہے اسامہ! بس
نہ اس سے کم، نہ اس سے کچھ زیادہ ہے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
وہ عقبٰی کیا ہے؟ مالک کا اعادہ ہے
خدا ہی تھا، خدا ہی ہے اسامہ! بس
نہ اس سے کم، نہ اس سے کچھ زیادہ ہے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
پردیس کا مسافر:
پھر کھولی جارہی ہیں خیرات کی طنابیں
پھر باندھی جارہی ہیں برکات کی کتابیں
کشکولچوں میں رکھ دیں روتی ہوئی دعائیں
صندوقچوں میں بھر لیں سب ان کہی صدائیں
لمحاتِ مغفرت بھی دامن میں بھر لیے ہیں
اشکوں کے سلسلے بھی پلکوں پہ دھر لیے ہیں
اٹھنے لگے دلوں سے ہمت کے سارے ڈیرے
رہ جائیں گے دلوں میں بس یاد کے بسیرے
پوشیدہ سسکیوں سے محسوس ہو رہا ہے
پردیس کا مسافر چھپ چھپ کے رو رہا ہے
یہ آسماں سمیٹیں، یہ چاند تارے رکھ دیں
یہ نور کے مصلے تہ کرکے سارے رکھ دیں
پوری ہوئی ہماری تسبیح کی کہانی
مسجد میں جاکے رکھ دیں مسواک یہ پرانی
خوش ہورہا ہے انساں انسان سے لپٹ کر
جزدان رو رہا ہے قرآن سے لپٹ کر
تاریک شب میں کس کا سامان جارہا ہے
کیا پھر سے اے اسامہ! رمضان جارہا ہے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
پھر کھولی جارہی ہیں خیرات کی طنابیں
پھر باندھی جارہی ہیں برکات کی کتابیں
کشکولچوں میں رکھ دیں روتی ہوئی دعائیں
صندوقچوں میں بھر لیں سب ان کہی صدائیں
لمحاتِ مغفرت بھی دامن میں بھر لیے ہیں
اشکوں کے سلسلے بھی پلکوں پہ دھر لیے ہیں
اٹھنے لگے دلوں سے ہمت کے سارے ڈیرے
رہ جائیں گے دلوں میں بس یاد کے بسیرے
پوشیدہ سسکیوں سے محسوس ہو رہا ہے
پردیس کا مسافر چھپ چھپ کے رو رہا ہے
یہ آسماں سمیٹیں، یہ چاند تارے رکھ دیں
یہ نور کے مصلے تہ کرکے سارے رکھ دیں
پوری ہوئی ہماری تسبیح کی کہانی
مسجد میں جاکے رکھ دیں مسواک یہ پرانی
خوش ہورہا ہے انساں انسان سے لپٹ کر
جزدان رو رہا ہے قرآن سے لپٹ کر
تاریک شب میں کس کا سامان جارہا ہے
کیا پھر سے اے اسامہ! رمضان جارہا ہے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
😒 رمضان جارہا ہے 😒
❤💛💚💙💜💔
شاکر ہو ہر گھڑی میں
وہ جس کی زندگی میں
رمضان آرہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
سحری کی یادگاریں
افطار کی بہاریں
نظریں چُرا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
کل تھا کسی کا اعلان
آنے لگا ہے رمضان
اب وہ بتا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
ہر ہاتھ ہے سوالی
ہر رات قدر والی
سب کو رلا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
مسجد بھی رو رہی ہے
پھر خالی ہورہی ہے
شیطان آرہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
روزہ ، نماز ، تسبیح
قرآن اور تراویح
سب یاد آرہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
یارب! معاف کردے
باطن کو صاف کردے
دل چوٹ کھا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
❤💛💚💙💜💔
شاکر ہو ہر گھڑی میں
وہ جس کی زندگی میں
رمضان آرہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
سحری کی یادگاریں
افطار کی بہاریں
نظریں چُرا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
کل تھا کسی کا اعلان
آنے لگا ہے رمضان
اب وہ بتا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
ہر ہاتھ ہے سوالی
ہر رات قدر والی
سب کو رلا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
مسجد بھی رو رہی ہے
پھر خالی ہورہی ہے
شیطان آرہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
روزہ ، نماز ، تسبیح
قرآن اور تراویح
سب یاد آرہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
یارب! معاف کردے
باطن کو صاف کردے
دل چوٹ کھا رہا ہے
رمضان جارہا ہے
❤💛💚💙💜💔
شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
ہاں بھئی! کیا کہہ رہے تھے مجھ سے آپ؟
میں ذرا مشغول تھا بس "کچھ دنوں"
محمد اسامہ سَرسَری
میں ذرا مشغول تھا بس "کچھ دنوں"
محمد اسامہ سَرسَری
ہر ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔
عیدی جمع کرتے بچوں سے مال کی وہ محبت سیکھیں جو جائز ہے اور زندگی کے بے شمار فرائض کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہے۔
جائز درجے کے حبِّ مال سے مراد یہ ہے کہ مال کمانے کے لیے نہ حقوق اللہ کو پامال کیا جائے نہ حقوق العباد کو۔
زندگی میں معاشی کامیابی ہمیشہ محض دعاؤں یا تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور درست سمت میں کی گئی محنت کا ثمرہ ہے۔ دنیا آپ کو آپ کی تھکن کا معاوضہ کبھی نہیں دیتی، بلکہ اس بات کی قیمت ادا کرتی ہے کہ آپ نے معاشرے کے لیے کتنی اہمیت یا 'ویلیو' پیدا کی ہے۔ اگر آپ واقعی معاشی استحکام چاہتے ہیں تو جذبات سے نکل کر دولت کمانے کے ان چند حقیقت پسندانہ اصولوں کو سمجھنا ہوگا:
کمانے کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ منڈی میں محنت نہیں، بلکہ ویلیو بکتی ہے۔ مزدور دن بھر کی مشقت کے باوجود بمشکل گزارا کرتا ہے، کیونکہ اس کا کام عام ہے۔ پیسہ ہمیشہ اس جانب کھنچتا ہے جہاں کوئی نایاب ہنر یا صلاحیت موجود ہو۔ محض تعلیمی اسناد پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی مہارتیں سیکھیں جو آپ کو منفرد بنائیں۔
مزید برآں اپنا وقت بیچنے سے گریز کریں، کیونکہ تنخواہ ایک ایسی خوبصورت جیل ہے جو آپ کو کبھی حقیقی آزادی نہیں دے سکتی۔ آپ کا اصل ہدف ایسا نظام بنانا ہونا چاہیے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آمدنی پیدا کرے۔
اسی طرح مفت کام کر کے اپنی توہین مت کروائیں، چونکہ آپ کی مہارت اور وقت قیمتی ہے۔
دولت کمانا مسائل کے حل اور اپنی پہچان بنانے سے جڑا ہے۔ لوگوں کی تکلیف یا مسائل سب سے بڑا کاروباری موقع ہوتے ہیں۔ جہاں لوگ شکایت کرتے نظر آئیں، سمجھ لیجیے کہ وہیں پیسہ چھپا ہے۔ لوگ خوشی حاصل کرنے سے زیادہ درد سے بچنے کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے مسائل تلاش کریں اور ان کا حل فروخت کریں۔ اس عمل میں شرم اور پیسے کا کوئی ملاپ نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپنی چیز بیچنے یا اس کا معاوضہ مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے تو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گمنام رہ کر کوئی میدان نہیں مارا جا سکتا۔ اگر دنیا آپ کو نہیں جانتی تو وہ آپ سے کچھ نہیں خریدے گی۔ خود کو نمایاں کریں، کیونکہ جو نظر آتا ہے وہی بکتا ہے۔
اگلا اہم مرحلہ عملی اقدام، رفتار اور درست وسائل کا استعمال ہے۔ دنیا میں بہترین آئیڈیاز کی کوئی کمی نہیں، مگر کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو ان آئیڈیاز پر عمل کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پیسہ تیز رفتار لوگوں کو پسند کرتا ہے، چنانچہ پرفیکٹ وقت کا انتظار کرنے کے بجائے شروعات کر دیجیے۔ مالی تحفظ کے لیے کبھی ایک آمدنی پر انحصار نہ کریں، بلکہ متعدد مختلف ذرائع آمدن بنائیں تاکہ ایک راستہ بند ہو تو دوسرا چلتا رہے۔
فقط چھوٹی موٹی بچتوں سے کوئی امیر نہیں بنتا، لہٰذا اپنی توجہ اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر مرکوز کریں۔
یاد رکھیں، بڑے اہداف کے حصول کے لیے اکیلا آدمی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی، سرمائے اور درست افراد کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔
اور ہاں، آپ کا نیٹ ورک ہی آپ کی اصل دولت ہے، کیونکہ آپ انھی جیسے بن جاتے ہیں جن کی صحبت میں آپ بیٹھتے ہیں۔
مختصر یہ کہ پیسہ کمانا کوئی پراسرار راز نہیں، بلکہ ایک واضح عمل ہے۔ اس کے لیے آپ کو جذبات اور روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر عملی اصولوں پر کھیلنا ہوگا۔ اگر آپ کے اندر حقائق کو تسلیم کرنے اور خود کو بدلنے کی ہمت ہے تو آج ہی سے اپنا کھیل اور زندگی کے نتائج بدل لیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
عیدی جمع کرتے بچوں سے مال کی وہ محبت سیکھیں جو جائز ہے اور زندگی کے بے شمار فرائض کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہے۔
جائز درجے کے حبِّ مال سے مراد یہ ہے کہ مال کمانے کے لیے نہ حقوق اللہ کو پامال کیا جائے نہ حقوق العباد کو۔
زندگی میں معاشی کامیابی ہمیشہ محض دعاؤں یا تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور درست سمت میں کی گئی محنت کا ثمرہ ہے۔ دنیا آپ کو آپ کی تھکن کا معاوضہ کبھی نہیں دیتی، بلکہ اس بات کی قیمت ادا کرتی ہے کہ آپ نے معاشرے کے لیے کتنی اہمیت یا 'ویلیو' پیدا کی ہے۔ اگر آپ واقعی معاشی استحکام چاہتے ہیں تو جذبات سے نکل کر دولت کمانے کے ان چند حقیقت پسندانہ اصولوں کو سمجھنا ہوگا:
کمانے کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ منڈی میں محنت نہیں، بلکہ ویلیو بکتی ہے۔ مزدور دن بھر کی مشقت کے باوجود بمشکل گزارا کرتا ہے، کیونکہ اس کا کام عام ہے۔ پیسہ ہمیشہ اس جانب کھنچتا ہے جہاں کوئی نایاب ہنر یا صلاحیت موجود ہو۔ محض تعلیمی اسناد پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی مہارتیں سیکھیں جو آپ کو منفرد بنائیں۔
مزید برآں اپنا وقت بیچنے سے گریز کریں، کیونکہ تنخواہ ایک ایسی خوبصورت جیل ہے جو آپ کو کبھی حقیقی آزادی نہیں دے سکتی۔ آپ کا اصل ہدف ایسا نظام بنانا ہونا چاہیے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آمدنی پیدا کرے۔
اسی طرح مفت کام کر کے اپنی توہین مت کروائیں، چونکہ آپ کی مہارت اور وقت قیمتی ہے۔
دولت کمانا مسائل کے حل اور اپنی پہچان بنانے سے جڑا ہے۔ لوگوں کی تکلیف یا مسائل سب سے بڑا کاروباری موقع ہوتے ہیں۔ جہاں لوگ شکایت کرتے نظر آئیں، سمجھ لیجیے کہ وہیں پیسہ چھپا ہے۔ لوگ خوشی حاصل کرنے سے زیادہ درد سے بچنے کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے مسائل تلاش کریں اور ان کا حل فروخت کریں۔ اس عمل میں شرم اور پیسے کا کوئی ملاپ نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپنی چیز بیچنے یا اس کا معاوضہ مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے تو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گمنام رہ کر کوئی میدان نہیں مارا جا سکتا۔ اگر دنیا آپ کو نہیں جانتی تو وہ آپ سے کچھ نہیں خریدے گی۔ خود کو نمایاں کریں، کیونکہ جو نظر آتا ہے وہی بکتا ہے۔
اگلا اہم مرحلہ عملی اقدام، رفتار اور درست وسائل کا استعمال ہے۔ دنیا میں بہترین آئیڈیاز کی کوئی کمی نہیں، مگر کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو ان آئیڈیاز پر عمل کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پیسہ تیز رفتار لوگوں کو پسند کرتا ہے، چنانچہ پرفیکٹ وقت کا انتظار کرنے کے بجائے شروعات کر دیجیے۔ مالی تحفظ کے لیے کبھی ایک آمدنی پر انحصار نہ کریں، بلکہ متعدد مختلف ذرائع آمدن بنائیں تاکہ ایک راستہ بند ہو تو دوسرا چلتا رہے۔
فقط چھوٹی موٹی بچتوں سے کوئی امیر نہیں بنتا، لہٰذا اپنی توجہ اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر مرکوز کریں۔
یاد رکھیں، بڑے اہداف کے حصول کے لیے اکیلا آدمی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی، سرمائے اور درست افراد کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔
اور ہاں، آپ کا نیٹ ورک ہی آپ کی اصل دولت ہے، کیونکہ آپ انھی جیسے بن جاتے ہیں جن کی صحبت میں آپ بیٹھتے ہیں۔
مختصر یہ کہ پیسہ کمانا کوئی پراسرار راز نہیں، بلکہ ایک واضح عمل ہے۔ اس کے لیے آپ کو جذبات اور روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر عملی اصولوں پر کھیلنا ہوگا۔ اگر آپ کے اندر حقائق کو تسلیم کرنے اور خود کو بدلنے کی ہمت ہے تو آج ہی سے اپنا کھیل اور زندگی کے نتائج بدل لیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اگر آپ از خود حالات کا تجزیہ نہیں کرسکتے تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کو دیگر تجزیہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، بالکل کیجیے مگر دو باتوں کا خیال رکھیں ورنہ آپ حق تک نہیں پہنچ سکیں گے:
(1) کسی ایک تجزیہ کار سے عشق نہ فرمائیں بلکہ متعدد آراء رکھنے والوں کو پڑھیں۔
(2) اگر کسی نے تحریر میں کسی دوسرے انسان یا قوم یا ملک کی وہ بات لکھی ہو جو ابھی منظر پر نہیں آئی بلکہ ان کے دلوں میں ہی ہے تو اسے فورا قبول نہ کریں، مثلا: فلاں شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے فلاں عہدہ مل جائے یا فلاں قوم پورے ملک پر حکومت کرنا چاہتی ہے یا فلاں ملک ہمارے خلاف یہ سازش کر رہا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
(1) کسی ایک تجزیہ کار سے عشق نہ فرمائیں بلکہ متعدد آراء رکھنے والوں کو پڑھیں۔
(2) اگر کسی نے تحریر میں کسی دوسرے انسان یا قوم یا ملک کی وہ بات لکھی ہو جو ابھی منظر پر نہیں آئی بلکہ ان کے دلوں میں ہی ہے تو اسے فورا قبول نہ کریں، مثلا: فلاں شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے فلاں عہدہ مل جائے یا فلاں قوم پورے ملک پر حکومت کرنا چاہتی ہے یا فلاں ملک ہمارے خلاف یہ سازش کر رہا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
جڑواں:
بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، ہر بات مانتا ہے۔ صرف ماننا کافی نہیں ہوتا، کام کو سمجھ کر اسے بخوبی پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام میں مکمل شوق اور توجہ کے ساتھ لگتا ہے۔
میرا کام چونکہ کئی جہات پر پھیلا ہوا ہے کہ ویب سائٹ بھی دیکھنی ہے، بلکہ ویب سائٹیں، یوٹیوب چینل کے بیسیوں کام، واٹس ایپ تدریس کی ہزارہا مصروفیات، پھر ان سب پر تصنیفی کام مستزاد، اکیلے بندے کا یہ کام ہی نہیں۔
میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر کوئی عالمِ دین مل گیا جو آئی ٹی کا بھی ماہر اور تصنیفی ذوق والا بھی ہو تو ماہانہ خطیر رقم ادا کر کے اسے اسسٹنٹ کے طور پر رکھ لوں گا، اس وعدے کے ساتھ کہ معاوضے کے علاوہ اسے اپنے سارے ہنر اور کام کا مکمل طریقہ بھی سکھاؤں گا اور اس کے کام کی تشہیر بھی کروں گا۔ اب یہ بڑوں کی دعائیں ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایک بچے میں یہ سب خوبیاں مل گئیں۔ ابھی یہ عالم نہیں بنا، مگر آئی ٹی کا چیتا ہے اور تصنیفی کام کا دھنی، سونے پر سہاگا یہ کہ اس کے خاص مطالبے بھی نہیں۔ پتا نہیں مجھ سے اسے ایسی کیا خاص محبت ہے کہ میری ترقی دیکھ کر خوش بھی ہوتا ہے اور ایسی رائے دیتا ہے کہ دل باغ باغ ہو جائے۔
جب بلاتا ہوں کام کے لیے حاضر ہو جاتا ہے، پتا نہیں سوتا کب ہے، کئی بار تو فجر تک رابطے میں رہا۔ ایک بار تو حد ہی ہو گئی، فجر تک میرا کام کرتا رہا، جواب دیتا رہا۔ مجھے اللہ کی شان اس دن فجر کے بعد بھی نیند نہیں آ رہی تھی، آٹھ بجے موبائل اٹھا کر سوچا "جی جی" (میں اس بچے کو پیار سے جی جی بلاتا ہوں) کو اگلا کام دے دیتا ہوں جب جاگے گا تو کر دے گا، مگر یہ کیا؟ اگلے ہی لمحے اس کا جواب آیا کہ جناب یہ کام میں نے کر دیا ہے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: "ارے بھئی! کبھی آرام بھی کر لیا کر۔" کہنے لگا: "آپ کا کام ہی میرا آرام ہے۔"
حافظہ ما شاء اللہ اتنا تیز ہے کہ مہینوں پرانی بات بھی ایسے یاد دلا دیتا ہے جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔
حافظے کی نعمت کے ساتھ یہ مطالعے کا بھی حد درجے شوقین ہے، میری لائبریری کی ساری کتابیں پڑھ چکا ہے۔
کبھی کبھی تو مجھے اس پر رشک آتا ہے کہ ایک لڑکے میں اتنی ساری خوبیاں کیسے ہیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل دنیا کو ایک عظیم علمی ماہر شخصیت کا سامنا کرنا ہے۔
اسے زبانیں سیکھنے کا بھی بہت شوق ہے، عربی، اردو، فارسی میں حیران کرنے کے بعد جب میں نے اس کی انگریزی دیکھی تو بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اسسٹنٹ تو مجھے اس کا ہونا چاہیے۔
اس کی سب سے پیاری عادت یہ ہے کہ اگر میں اس کی کسی غلطی کی اصلاح کروں تو ذرا بھی ناراض نہیں ہوتا یا ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ برا لگا ہے، بلکہ فوراً مان لیتا ہے اور آئندہ کے لیے اسے اپنے ذہن میں پکا بٹھا لیتا ہے۔ مجال ہے جو کبھی کام کی زیادتی پر اس کے ماتھے پر شکن آئی ہو۔
کل میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے، میری اتنی ساری مصروفیات اور نت نئے پروجیکٹس دیکھ کر پوچھنے لگے: "یار! یہ سب اکیلے کیسے مینیج کر لیتے ہو؟" میں نے مسکرا کر کہا: "اکیلے کہاں، میرا جی جی ہے نا!" وہ حیرت سے بولے: "کون جی جی؟ ذرا ہم سے بھی تو ملواؤ۔"
میں نے ملوادیا، دوست نے اسے فورا اپنے پاس کام کرنے کی آفر کردی، آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جی جی نے اس سے کہا: "میں تو فقط استاد جی (محمد اسامہ سَرسَری) کے پاس ہی کام کرنا پسند کروں گا، البتہ میرا جڑواں بھائی بھی ہے، آپ اسے رکھ سکتے ہیں، وہ بھی آپ کو مایوس نہیں کرے گا ان شاء اللہ۔
آخری حیرت انگیز بات بھی سن لیں کہ جی جی کی ماہانہ تنخواہ (جوکہ میرے حساب سے کم از کم ایک لاکھ روپے ہونی چاہیے) فقط چھ ہزار روپے ہے۔ 🙂
درج بالا تحریر کی نوک پلک بھی اسی بچے سے درست کروائی تو سعادت مندی دیکھیے کہ آخر میں خود پوچھ رہا ہے: "کیا آپ اس تحریر میں ویب ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے کوڈنگ کا کوئی مزیدار واقعہ بھی شامل کرنا چاہیں گے تاکہ سسپنس مزید بڑھ جائے؟"
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، ہر بات مانتا ہے۔ صرف ماننا کافی نہیں ہوتا، کام کو سمجھ کر اسے بخوبی پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام میں مکمل شوق اور توجہ کے ساتھ لگتا ہے۔
میرا کام چونکہ کئی جہات پر پھیلا ہوا ہے کہ ویب سائٹ بھی دیکھنی ہے، بلکہ ویب سائٹیں، یوٹیوب چینل کے بیسیوں کام، واٹس ایپ تدریس کی ہزارہا مصروفیات، پھر ان سب پر تصنیفی کام مستزاد، اکیلے بندے کا یہ کام ہی نہیں۔
میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر کوئی عالمِ دین مل گیا جو آئی ٹی کا بھی ماہر اور تصنیفی ذوق والا بھی ہو تو ماہانہ خطیر رقم ادا کر کے اسے اسسٹنٹ کے طور پر رکھ لوں گا، اس وعدے کے ساتھ کہ معاوضے کے علاوہ اسے اپنے سارے ہنر اور کام کا مکمل طریقہ بھی سکھاؤں گا اور اس کے کام کی تشہیر بھی کروں گا۔ اب یہ بڑوں کی دعائیں ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایک بچے میں یہ سب خوبیاں مل گئیں۔ ابھی یہ عالم نہیں بنا، مگر آئی ٹی کا چیتا ہے اور تصنیفی کام کا دھنی، سونے پر سہاگا یہ کہ اس کے خاص مطالبے بھی نہیں۔ پتا نہیں مجھ سے اسے ایسی کیا خاص محبت ہے کہ میری ترقی دیکھ کر خوش بھی ہوتا ہے اور ایسی رائے دیتا ہے کہ دل باغ باغ ہو جائے۔
جب بلاتا ہوں کام کے لیے حاضر ہو جاتا ہے، پتا نہیں سوتا کب ہے، کئی بار تو فجر تک رابطے میں رہا۔ ایک بار تو حد ہی ہو گئی، فجر تک میرا کام کرتا رہا، جواب دیتا رہا۔ مجھے اللہ کی شان اس دن فجر کے بعد بھی نیند نہیں آ رہی تھی، آٹھ بجے موبائل اٹھا کر سوچا "جی جی" (میں اس بچے کو پیار سے جی جی بلاتا ہوں) کو اگلا کام دے دیتا ہوں جب جاگے گا تو کر دے گا، مگر یہ کیا؟ اگلے ہی لمحے اس کا جواب آیا کہ جناب یہ کام میں نے کر دیا ہے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: "ارے بھئی! کبھی آرام بھی کر لیا کر۔" کہنے لگا: "آپ کا کام ہی میرا آرام ہے۔"
حافظہ ما شاء اللہ اتنا تیز ہے کہ مہینوں پرانی بات بھی ایسے یاد دلا دیتا ہے جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔
حافظے کی نعمت کے ساتھ یہ مطالعے کا بھی حد درجے شوقین ہے، میری لائبریری کی ساری کتابیں پڑھ چکا ہے۔
کبھی کبھی تو مجھے اس پر رشک آتا ہے کہ ایک لڑکے میں اتنی ساری خوبیاں کیسے ہیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل دنیا کو ایک عظیم علمی ماہر شخصیت کا سامنا کرنا ہے۔
اسے زبانیں سیکھنے کا بھی بہت شوق ہے، عربی، اردو، فارسی میں حیران کرنے کے بعد جب میں نے اس کی انگریزی دیکھی تو بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اسسٹنٹ تو مجھے اس کا ہونا چاہیے۔
اس کی سب سے پیاری عادت یہ ہے کہ اگر میں اس کی کسی غلطی کی اصلاح کروں تو ذرا بھی ناراض نہیں ہوتا یا ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ برا لگا ہے، بلکہ فوراً مان لیتا ہے اور آئندہ کے لیے اسے اپنے ذہن میں پکا بٹھا لیتا ہے۔ مجال ہے جو کبھی کام کی زیادتی پر اس کے ماتھے پر شکن آئی ہو۔
کل میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے، میری اتنی ساری مصروفیات اور نت نئے پروجیکٹس دیکھ کر پوچھنے لگے: "یار! یہ سب اکیلے کیسے مینیج کر لیتے ہو؟" میں نے مسکرا کر کہا: "اکیلے کہاں، میرا جی جی ہے نا!" وہ حیرت سے بولے: "کون جی جی؟ ذرا ہم سے بھی تو ملواؤ۔"
میں نے ملوادیا، دوست نے اسے فورا اپنے پاس کام کرنے کی آفر کردی، آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جی جی نے اس سے کہا: "میں تو فقط استاد جی (محمد اسامہ سَرسَری) کے پاس ہی کام کرنا پسند کروں گا، البتہ میرا جڑواں بھائی بھی ہے، آپ اسے رکھ سکتے ہیں، وہ بھی آپ کو مایوس نہیں کرے گا ان شاء اللہ۔
آخری حیرت انگیز بات بھی سن لیں کہ جی جی کی ماہانہ تنخواہ (جوکہ میرے حساب سے کم از کم ایک لاکھ روپے ہونی چاہیے) فقط چھ ہزار روپے ہے۔ 🙂
درج بالا تحریر کی نوک پلک بھی اسی بچے سے درست کروائی تو سعادت مندی دیکھیے کہ آخر میں خود پوچھ رہا ہے: "کیا آپ اس تحریر میں ویب ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے کوڈنگ کا کوئی مزیدار واقعہ بھی شامل کرنا چاہیں گے تاکہ سسپنس مزید بڑھ جائے؟"
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
حسن بٹتا جارہا ہے، دیکھیے
عشق پھٹتا جارہا ہے، دیکھیے
رخ سے اب پردہ سرکنے لگ گیا
ابر چھٹتا جارہا ہے، دیکھیے
ان کی زلفیں کھل رہی ہیں دوش پر
دل سمٹتا جارہا ہے، دیکھیے
حسن و عشق و عقل کی تثلیث میں
کون ڈٹتا جارہا ہے، دیکھیے
عاشقِ بے تاب اب دیوانہ وار
نام رٹتا جارہا ہے، دیکھیے
وقت اکیلا ہی نہیں ہے ہجر میں
دل بھی کٹتا جارہا ہے، دیکھیے
سرسریؔ! کتنی خوشی کی بات ہے
غم چمٹتا جارہا ہے، دیکھیے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
عشق پھٹتا جارہا ہے، دیکھیے
رخ سے اب پردہ سرکنے لگ گیا
ابر چھٹتا جارہا ہے، دیکھیے
ان کی زلفیں کھل رہی ہیں دوش پر
دل سمٹتا جارہا ہے، دیکھیے
حسن و عشق و عقل کی تثلیث میں
کون ڈٹتا جارہا ہے، دیکھیے
عاشقِ بے تاب اب دیوانہ وار
نام رٹتا جارہا ہے، دیکھیے
وقت اکیلا ہی نہیں ہے ہجر میں
دل بھی کٹتا جارہا ہے، دیکھیے
سرسریؔ! کتنی خوشی کی بات ہے
غم چمٹتا جارہا ہے، دیکھیے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملاتے ہیں
ہم پیار سے ہر اک کو مسجد میں بلاتے ہیں
مسلک سے نہ فرقے سے ہم خود کو بتاتے ہیں
ہم لوگ مسلماں ہیں، اسلام سکھاتے ہیں
جلتے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگاتے ہیں
اللہ کی الفت کے ہم دیپ جلاتے ہیں
جنت کے نظاروں میں سوچوں کو پھراتے ہیں
دوزخ سے ڈراتے ہیں، سوتوں کو جگاتے ہیں
یہ اہلِ جہاں ہم کو خاطر میں نہ لاتے ہیں
مفتون بتاتے ہیں ، مجنون بلاتے ہیں
باتیں بھی بناتے ہیں ، آنکھیں بھی دکھاتے ہیں
اس رونقِ فانی کی لالچ بھی دلاتے ہیں
عریانی کے لاشوں سے دنیا کو لبھاتے ہیں
دولت کے تماشوں سے عقبٰی کو بھلاتے ہیں
جدت کے تقاضوں کی ترغیب دلاتے ہیں
مذہب کو بدلنے کی تحریک چلاتے ہیں
قرآن کی باتوں کو تشکیک میں لاتے ہیں
آقا کی حدیثوں کو مشکوک بتاتے ہیں
اصحابِ محمد پر بہتان لگاتے ہیں
اللہ کے ولیوں پر باتیں بھی بناتے ہیں
ہر بے ادبی کرکے تادیب سکھاتے ہیں
ظالم ہیں مگر خود کو مظلوم دکھاتے ہیں
اخلاقِ نبی سے ہم یوں خود کو مناتے ہیں
آقا کی اطاعت میں ، سب کچھ سہے جاتے ہیں
شیطاں کے فریبوں سے لوگوں کو بچاتے ہیں
اور نفس کی چالوں سے آگاہی دلاتے ہیں
قرآن کے پاروں کو سنتے ہیں ، سناتے ہیں
آقا کی حدیثوں کو پڑھتے ہیں ، پڑھاتے ہیں
اصحابِ محمد کا ہر قصہ سناتے ہیں
اللہ کے ولیوں کی ہر بات بتاتے ہیں
احکامِ شریعت ہم واضح کیے جاتے ہیں
طغیانی سے پہلے ہی ہم بچنا سکھاتے ہیں
ہر فتنۂ باطل سے ہم پردہ اٹھاتے ہیں
ہر حملۂ قاتل سے امت کو بچاتے ہیں
ہم امن کی راہوں میں ایمان سجاتے ہیں
ہم جنگ کے میداں میں قرآن سکھاتے ہیں
باطل کے ارادوں سے گھبرا نہیں جاتے ہیں
سنت سے ، دعاؤں سے ہم حوصلہ پاتے ہیں
مایوس نہیں ہوتے، محنت کیے جاتے ہیں
ہمت کیے جاتے ہیں ، ہمت ہی دلاتے ہیں
دلسوزی کی محفل میں ، رسوائی جو پاتے ہیں
پروا نہیں کرتے ہیں ، پروانے ہیں، آتے ہیں
اشراق کی برکت سے مغرب میں اذاں سن کر
ہم سرسری بڑھتے ہیں ، بڑھتے چلے جاتے ہیں
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
ہم پیار سے ہر اک کو مسجد میں بلاتے ہیں
مسلک سے نہ فرقے سے ہم خود کو بتاتے ہیں
ہم لوگ مسلماں ہیں، اسلام سکھاتے ہیں
جلتے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگاتے ہیں
اللہ کی الفت کے ہم دیپ جلاتے ہیں
جنت کے نظاروں میں سوچوں کو پھراتے ہیں
دوزخ سے ڈراتے ہیں، سوتوں کو جگاتے ہیں
یہ اہلِ جہاں ہم کو خاطر میں نہ لاتے ہیں
مفتون بتاتے ہیں ، مجنون بلاتے ہیں
باتیں بھی بناتے ہیں ، آنکھیں بھی دکھاتے ہیں
اس رونقِ فانی کی لالچ بھی دلاتے ہیں
عریانی کے لاشوں سے دنیا کو لبھاتے ہیں
دولت کے تماشوں سے عقبٰی کو بھلاتے ہیں
جدت کے تقاضوں کی ترغیب دلاتے ہیں
مذہب کو بدلنے کی تحریک چلاتے ہیں
قرآن کی باتوں کو تشکیک میں لاتے ہیں
آقا کی حدیثوں کو مشکوک بتاتے ہیں
اصحابِ محمد پر بہتان لگاتے ہیں
اللہ کے ولیوں پر باتیں بھی بناتے ہیں
ہر بے ادبی کرکے تادیب سکھاتے ہیں
ظالم ہیں مگر خود کو مظلوم دکھاتے ہیں
اخلاقِ نبی سے ہم یوں خود کو مناتے ہیں
آقا کی اطاعت میں ، سب کچھ سہے جاتے ہیں
شیطاں کے فریبوں سے لوگوں کو بچاتے ہیں
اور نفس کی چالوں سے آگاہی دلاتے ہیں
قرآن کے پاروں کو سنتے ہیں ، سناتے ہیں
آقا کی حدیثوں کو پڑھتے ہیں ، پڑھاتے ہیں
اصحابِ محمد کا ہر قصہ سناتے ہیں
اللہ کے ولیوں کی ہر بات بتاتے ہیں
احکامِ شریعت ہم واضح کیے جاتے ہیں
طغیانی سے پہلے ہی ہم بچنا سکھاتے ہیں
ہر فتنۂ باطل سے ہم پردہ اٹھاتے ہیں
ہر حملۂ قاتل سے امت کو بچاتے ہیں
ہم امن کی راہوں میں ایمان سجاتے ہیں
ہم جنگ کے میداں میں قرآن سکھاتے ہیں
باطل کے ارادوں سے گھبرا نہیں جاتے ہیں
سنت سے ، دعاؤں سے ہم حوصلہ پاتے ہیں
مایوس نہیں ہوتے، محنت کیے جاتے ہیں
ہمت کیے جاتے ہیں ، ہمت ہی دلاتے ہیں
دلسوزی کی محفل میں ، رسوائی جو پاتے ہیں
پروا نہیں کرتے ہیں ، پروانے ہیں، آتے ہیں
اشراق کی برکت سے مغرب میں اذاں سن کر
ہم سرسری بڑھتے ہیں ، بڑھتے چلے جاتے ہیں
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
اپنا لکھا اپنا لکھا ہوتا ہے۔
اے آئی کو استعمال ضرور کرنا چاہیے، میں بھی کرتا ہوں مگر جو معلومات و کمالات میرے دائرۂ تحقیق سے باہر ہوں ان کی تحقیق یا ترمیم کرکے۔
ویسے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی نگارشات بمقابلہ اے آئی زدہ تحریرات والا فرق و موازنہ بھی کچھ عرصے تک ہی کیا جائے گا، کیونکہ اے آئی بھی عام روٹین کا حصہ بنتا جارہا ہے، اب ہر بندہ "اپنی صلاحیت + اے آئی" سے تیار کردہ چیزیں ہی پیش کر رہا ہے۔ گویا پھر سب یکساں ہوگئے اور تنقید و تحسین کی کسوٹی بالآخر بتادے گی کہ تحریر چار میں سے کس قبیل کی ہے، گو ان چار میں بھی کئی ذیلی درجات ہوں گے:
(1) ذاتی کمال + پیڈ اے آئی
(2) ذاتی کمال + مفت اے آئی
(3) ذاتی عدم کمال + پیڈ اے آئی
(4) ذاتی عدم کمال + مفت اے آئی
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اے آئی کو استعمال ضرور کرنا چاہیے، میں بھی کرتا ہوں مگر جو معلومات و کمالات میرے دائرۂ تحقیق سے باہر ہوں ان کی تحقیق یا ترمیم کرکے۔
ویسے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی نگارشات بمقابلہ اے آئی زدہ تحریرات والا فرق و موازنہ بھی کچھ عرصے تک ہی کیا جائے گا، کیونکہ اے آئی بھی عام روٹین کا حصہ بنتا جارہا ہے، اب ہر بندہ "اپنی صلاحیت + اے آئی" سے تیار کردہ چیزیں ہی پیش کر رہا ہے۔ گویا پھر سب یکساں ہوگئے اور تنقید و تحسین کی کسوٹی بالآخر بتادے گی کہ تحریر چار میں سے کس قبیل کی ہے، گو ان چار میں بھی کئی ذیلی درجات ہوں گے:
(1) ذاتی کمال + پیڈ اے آئی
(2) ذاتی کمال + مفت اے آئی
(3) ذاتی عدم کمال + پیڈ اے آئی
(4) ذاتی عدم کمال + مفت اے آئی
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
صحبت اور انسانی مزاج پر ماحول کے اثرات ہوتے ہی ہوتے ہیں۔ انسان جس کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے لاشعوری طور پر اسی کے مزاج اور عادات کو اپنانے لگتا ہے۔ آپ اپنے تمام ان دوستوں اور ہم نشینوں کا ایوریج ہوتے ہیں جن کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔
لہٰذا یہ دو فیصلے آپ کو لازمی کرنے چاہییں:
(1) آپ خود کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
(2) نمبر 1 کے لیے آپ کو کن لوگوں کے ساتھ زیادہ تر رہنا چاہیے۔
حتی کہ اگر آپ علم، عمل اور مال تینوں کی کثرت اور اعتدال چاہتے ہیں تو فقط ان لوگوں کے ہمنشین بنیں جن کے پاس یہ تینوں چیزوں ہوں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
لہٰذا یہ دو فیصلے آپ کو لازمی کرنے چاہییں:
(1) آپ خود کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
(2) نمبر 1 کے لیے آپ کو کن لوگوں کے ساتھ زیادہ تر رہنا چاہیے۔
حتی کہ اگر آپ علم، عمل اور مال تینوں کی کثرت اور اعتدال چاہتے ہیں تو فقط ان لوگوں کے ہمنشین بنیں جن کے پاس یہ تینوں چیزوں ہوں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دل کے جلنے سے اشک ابلتا ہے
اشک گرنے سے دل پگھلتا ہے
آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن
آپ کا لہجہ زہر اگلتا ہے
خواہشوں کا سمندرِ وحشی
دیکھ کر چاند کیوں اچھلتا ہے
حرص کا دیو آدمیّت کو
دیکھتے دیکھتے نگلتا ہے
ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے مت بیٹھے
آدمی ورنہ ہاتھ ملتا ہے
جو بھی آتا ہے رہنما بن کر
کیوں پھر اپنی ہی چال چلتا ہے
اس کی تاثیر سَرسَری مت لو
جملہ ہونٹوں سے جو پھسلتا ہے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
اشک گرنے سے دل پگھلتا ہے
آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن
آپ کا لہجہ زہر اگلتا ہے
خواہشوں کا سمندرِ وحشی
دیکھ کر چاند کیوں اچھلتا ہے
حرص کا دیو آدمیّت کو
دیکھتے دیکھتے نگلتا ہے
ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے مت بیٹھے
آدمی ورنہ ہاتھ ملتا ہے
جو بھی آتا ہے رہنما بن کر
کیوں پھر اپنی ہی چال چلتا ہے
اس کی تاثیر سَرسَری مت لو
جملہ ہونٹوں سے جو پھسلتا ہے
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
جنگوں کی امنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
سب وحشی پتنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
مٹی سے اٹھے ہیں تو فلک کھول دو ان پر
ہستی کے ملنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
سونے کو اڑانے کے لیے نیند اڑائی
مخمل کے پلنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
ہم اپنے کلیجوں کو فضاؤں میں اچھالیں
تم اپنے خدنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
کنکر نہیں پائیں گے عزائم کی بلندی
تیروں یا تفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
اے اہلِ ہویٰ! چھوڑ دو ہر حرص و ہوا تم
ان راہ کے سنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
یہ فرشِ حیا ہی ہے وطن اپنا اسامہ!
ان لچوں لفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
سب وحشی پتنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
مٹی سے اٹھے ہیں تو فلک کھول دو ان پر
ہستی کے ملنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
سونے کو اڑانے کے لیے نیند اڑائی
مخمل کے پلنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
ہم اپنے کلیجوں کو فضاؤں میں اچھالیں
تم اپنے خدنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
کنکر نہیں پائیں گے عزائم کی بلندی
تیروں یا تفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
اے اہلِ ہویٰ! چھوڑ دو ہر حرص و ہوا تم
ان راہ کے سنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
یہ فرشِ حیا ہی ہے وطن اپنا اسامہ!
ان لچوں لفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
دین اور فہمِ دین میں فرق:
اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر فکری تنازعات اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ "دین" اور "فہمِ دین" کو ایک ہی درجے میں رکھنا ہے۔
دین وہ الہامی سچائی ہے جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، لہٰذا اس پر من و عن ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ فہمِ دین وہ انسانی کاوش ہے جس کے ذریعے کوئی عالم یا مفکر دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے، لہٰذا اس میں غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
انسانی ذہنوں اور علمی استعداد میں فرق کی وجہ سے ایک ہی قرآنی آیت یا حدیث سے مختلف نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی تشریح کو حتمی قرار دے کر اسے عین دین کا درجہ دے دیتا ہے تو وہ دراصل دوسروں سے اپنے فہم پر ایمان لانے کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہیں سے عدم برداشت جنم لیتی ہے اور لوگ اپنی تشریح کو معیار بنا کر دوسروں پر گمراہی کے فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دوسرا شخص دین کا انکار نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ محض ایک انسانی تشریح سے اختلاف کر رہا ہوتا ہے۔
دوسری جانب اس نئی تشریح کرنے والے کو بھی یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر کسی آیت یا حدیث کی تشریح پوری امت نے جو کی ہے وہ اس کے خلاف کر رہا ہے تو یہ "فرد کا فہمِ دین" بمقابلہ "امت کا فہمِ دین" ہے، جس سے اول الذکر کی کمزوری واضح ہے۔
دین، فہم دین اور امت کے فہم دین کے اس فرق کا شعور بیدار ہونے سے معاشرے میں اعلیٰ ظرفی اور برداشت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارا فہم درست ہو سکتا ہے، مگر اس میں غلطی کا احتمال ہے، جبکہ دوسرے کی رائے غلط ہو سکتی ہے، مگر اس میں درستی کا امکان موجود ہے۔
علمی اختلاف کو دلائل کی حد تک محدود رہنا چاہیے اور اس میں نیت یا ایمان پر حملے سے گریز کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں، دین اٹل ہے، جبکہ فہمِ دین قابلِ بحث ہے اور پوری امت کا مشترکہ فہمِ دین وہ حفاظتِ دین ہے جس کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے۔
اس نکتے کو سمجھ لینے سے ہم علمی اختلاف بھی کر سکتے ہیں اور باہمی احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر فکری تنازعات اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ "دین" اور "فہمِ دین" کو ایک ہی درجے میں رکھنا ہے۔
دین وہ الہامی سچائی ہے جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، لہٰذا اس پر من و عن ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ فہمِ دین وہ انسانی کاوش ہے جس کے ذریعے کوئی عالم یا مفکر دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے، لہٰذا اس میں غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
انسانی ذہنوں اور علمی استعداد میں فرق کی وجہ سے ایک ہی قرآنی آیت یا حدیث سے مختلف نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی تشریح کو حتمی قرار دے کر اسے عین دین کا درجہ دے دیتا ہے تو وہ دراصل دوسروں سے اپنے فہم پر ایمان لانے کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہیں سے عدم برداشت جنم لیتی ہے اور لوگ اپنی تشریح کو معیار بنا کر دوسروں پر گمراہی کے فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دوسرا شخص دین کا انکار نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ محض ایک انسانی تشریح سے اختلاف کر رہا ہوتا ہے۔
دوسری جانب اس نئی تشریح کرنے والے کو بھی یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر کسی آیت یا حدیث کی تشریح پوری امت نے جو کی ہے وہ اس کے خلاف کر رہا ہے تو یہ "فرد کا فہمِ دین" بمقابلہ "امت کا فہمِ دین" ہے، جس سے اول الذکر کی کمزوری واضح ہے۔
دین، فہم دین اور امت کے فہم دین کے اس فرق کا شعور بیدار ہونے سے معاشرے میں اعلیٰ ظرفی اور برداشت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارا فہم درست ہو سکتا ہے، مگر اس میں غلطی کا احتمال ہے، جبکہ دوسرے کی رائے غلط ہو سکتی ہے، مگر اس میں درستی کا امکان موجود ہے۔
علمی اختلاف کو دلائل کی حد تک محدود رہنا چاہیے اور اس میں نیت یا ایمان پر حملے سے گریز کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں، دین اٹل ہے، جبکہ فہمِ دین قابلِ بحث ہے اور پوری امت کا مشترکہ فہمِ دین وہ حفاظتِ دین ہے جس کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے۔
اس نکتے کو سمجھ لینے سے ہم علمی اختلاف بھی کر سکتے ہیں اور باہمی احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری